The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Nisa • Ayah 108

Para 5 Surah 4 : 108
يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ ٱلْقَوْلِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

يَسْتَخْفُونَ
مِنَ
ٱلنَّاسِ
وَلَا
يَسْتَخْفُونَ
مِنَ
ٱللَّهِ
وَهُوَ
مَعَهُمْ
إِذْ
يُبَيِّتُونَ
مَا
لَا
يَرْضَىٰ
مِنَ
ٱلْقَوْلِ
ۚ
وَكَانَ
ٱللَّهُ
بِمَا
يَعْمَلُونَ
مُحِيطًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Necessity of Referring to What Allah has Revealed for JudgementAllah says to His Messenger, Muhammad ﷺ,إِنَّآ أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَـبَ بِالْحَقِّ(Surely, We have sent down to you the Book in truth) meaning, it truly came from Allah and its narrations and commandments are true. Allah then said,لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ أَرَاكَ اللَّهُ(that you might judge between men by that which Allah has shown you,) In the Two Sahihs, it is recorded that Zaynab bint Umm Salamah said that Umm Salamah said that the Messenger of Allah ﷺ heard the noise of disputing people close to the door of his room, and he went out to them saying,«أَلَا إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّمَا أَقْضِي بِنَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ، وَلَعَلَّ أَحَدَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ، فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنْ نَارٍ، فَلْيَحْمِلْهَا أَوْ لِيَذَرْهَا»(Verily, I am only human and I judge based on what I hear. Some of you might be more eloquent in presenting his case than others, so that I judge in his favor. If I judge in one's favor concerning the right of another Muslim, then it is a piece of the Fire. So let one take it or leave it.) Imam Ahmad recorded that Umm Salamah said, "Two men from the Ansar came to the Messenger of Allah ﷺ with a dispute regarding some old inheritance, but they did not have evidence. The Messenger of Allah ﷺ said,«إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّما أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلى نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ، يَأْتِي بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَة»(You bring your disputes to me, but I am only human. Some of you might be more persuasive in their arguments than others. I only judge between you according to what I hear. Therefore, whomever I judge in his favor and give him a part of his brother's right, let him not take it, for it is a part of the Fire that I am giving him and it will be tied around his neck on the Day of Resurrection.) The two men cried and each one of them said, `I forfeit my right to my brother.' The Messenger of Allah ﷺ said,«أَمَا إِذْ قُلْتُمَا فَاذْهَبَا فَاْقَتَسِمَا، ثُمَّ تَوَخَّيَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَهِمَا، ثُم لِيُحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَه»(Since you said that, then go and divide the inheritance, and try to be just in your division. Then draw lots, and each one of you should forgive his brother thereafter (regardless of who got the best share).)" Allah's statement,يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ(They may hide (their crimes) from men, but they cannot hide (them) from Allah;) chastises the hypocrites because they hide their evil works from the people so that they will not criticize them. Yet, the hypocrites disclose this evil with Allah, Who has perfect watch over their secrets and knows what is in their hearts. This is why Allah said,وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لاَ يَرْضَى مِنَ الْقَوْلِ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطاً(for He is with them (by His knowledge), when they plot by night in words that He does not approve. And Allah ever encompasses what they do) threatening and warning them. Allah then said,هَـأَنْتُمْ هَـؤُلاءِ جَـدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا(Lo! You are those who have argued for them in the life of this world,) meaning, suppose these people gain the verdict from the rulers in their favor in this life, since the rulers judge according to what is apparent to them. However, what will their condition be on the Day of Resurrection before Allah, Who knows the secret and what is even more hidden Who will be his advocate on that Day Verily, none will support them that Day. Hence, Allah's statement,أَمْ مَّن يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلاً(or who will then be their defender)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

بابیہ قصہ مطلول ترمذی کتاب التفسیر میں بزبانی قتادہ رحمہ اللہ اس طرح مروی ہے کہ ہمارے گھرانے کے بنوابیرق قبیلے کا ایک گھر تھا جس میں بشر، بشیر اور مبشر تھے، بشیر ایک منافق شخص تھا اشعار کو کسی اور کی طرف منسوب کر کے خوب مزے لے لے کر پڑھا کرتا تھا۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جاتنے تھے کہ یہی خبیث ان اشعار کا کہنے والا ہے، یہ لوگ جاہلیت کے زمانے سے ہی فاقہ مست چلے آتھے مدینے کے لوگوں کا اکثر کھانا جو اور کھجوریں تھیں، ہاں تونگر لوگ شام کے آئے ہوئے قافلے والوں سے میدہ خرید لیتے جسے وہ خود اپنے لیے مخصوص کر لیتے، باقی گھر والے عموماً جو اور کھجوریں ہی کھاتے۔ میرے چچا رفاعہ یزید نے بھی شام کے آئے ہوئے قافلے سے ایک بورا میدہ کا خریدا اور اپنے بالاخانے میں اسے محفوظ کر دیا جہاں ہتھیار زرہیں تلواریں وغیرہ بھی رکھی ہوئی تھیں رات کو چوروں نے نیچے سے نقب لگا کر اناج بھی نکال لیا اور ہتھیار بھی چرالے گئے۔ صبح میرے چچا میرے پاس آئے اور سارا واقعہ بیان کیا، اب ہم تجسس کرنے لگے تو پتہ چلا کہ آج رات کو بنو ابیرق کے گھر میں آگ جل رہی تھی اور کچھ کھا پکار رہے تھے غالباً وہ تمہارے ہاں سے چوری کر گئے ہیں، اس سے پہلے جب اپنے گھرانے والوں سے پوچھ گچھ کر رہے تھے تو اس قبیلے کے لوگوں نے ہم سے کہا تھا کہ تمہارا چور سیدنا لبید بن سہل رضی اللہ عنہ ہے، ہم جانتے تھے کہ سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کا یہ کام نہیں وہ ایک دیانتدار سچا مسلمان شخص تھا۔ سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر ملی تو وہ آپے سے باہر ہو گئے تلوار تانے بنوابیرق کے پاس آئے اور کہنے لگے یا تو تم میری چوری ثابت کر ورنہ میں تمہیں قتل کر دونگا ان لوگوں نے ان کی برات کی اور معافی چاہ لی وہ چلے گئے۔ ہم سب کے سب پوری تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ چوری بنوابیرق نے کی ہے، میرے چچا نے مجھے کہا کہ تم جا کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر تو دو، میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا اور یہ بھی کہا کہ آپ ہمیں ہمارے ہتھیار دلوا دیجئیے غلہ کی واپسی کی ضرورت نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اطمینان دلایا کہ اچھا میں اس کی تحقیق کروں گا۔صفحہ نمبر1929یہ خبر جب بنوابیرق کو ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک آدمی آپ کے پاس بھیجا جن کا نام اسیر بن عمرو تھا انہوں نے آ کر کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ظلم ہو رہا ہے، بنوابیرق تو صلاحیت اور اسلام والے لوگ ہیں انہیں قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا چور کہتے ہیں اور بغیر کسی ثوب اور دلیل کے چور کا بدنما الزام ان پر رکھتے ہیں وغیرہ۔ پھر جب میں خدمت نبوی میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا یہ تو تم بہت برا کرتے ہو کہ دیندار اور بھلے لوگوں کے ذمے چوری چپکاتے ہو جب کہ تمہارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں، میں چپ چاپ واپس چلا آیا اور دل میں سخت پشیمان اور پریشان تھا خیال آتا تھا کہ کاش کہ میں اس مال سے چپ چاپ دست بردار ہو جاتا اور آپ سے اس کا ذکر ہی نہ کرتا تو اچھا تھا۔ اتنے میں میرے چچا آئے اور مجھ سے پوچھا تم نے کیا کیا؟ میں نے سارا واقعہ ان سے بیان کیا جسے سن کر انہوں نے کہا «واَللهُ اْلمـُسـَتعَانُ» اللہ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں، ان کا جانا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی میں یہ آیتیں اتریں پس «خائنین» سے مراد بنو ابیرق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کا حکم ہوا یہ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا، پھر ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ اگر یہ لوگ استفغار کریں تو اللہ انہیں بخش دے گا۔ [سنن ترمذي:3036،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏صفحہ نمبر1930پھر فرمایا ناکردہ گناہ کے ذمہ گناہ تھوپنا بدترین جرم ہے، «أَجْرًا عَظِيمًا» تک یعنی انہوں نے جو سیدنا لبید رضی اللہ عنہ کی نسبت کہا کہ چور یہ ہیں جب یہ آیتیں اتریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوابیرق سے ہمارے ہتھیار دلوائے میں انہیں لے کر اپنے چچا کے پاس آیا یہ بیچارے بوڑھے تھے آنکھوں سے بھی کم نظر آتا تھا مجھ سے فرمانے لگے بیٹا جاؤ یہ سب ہتھیار اللہ کے نام خیرات کر دو، میں آج تک اپنے چچا کی نسبت قدرے بدگمان تھا کہ یہ دل سے اسلام میں پورے طور پر داخل نہیں ہوئے لیکن اس واقعہ نے بدگمانی میرے دل سے دور کر دی اور میں ان کے سچے اسلام کا قائل ہو گیا۔ بشیر یہ آیتیں سن کر مشرکین میں جا ملا اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے ہاں جا کر اپنا قیام کیا، اس کے بارے میں اس کے بعد کی آیتیں «‏وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ» [4-النساء:115] ‏ سے «ضَلَالًا بَعِيدًا» ‏ [4-النساء:116] ‏ تک نازل ہوئیں اور سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے اس کے اس فعل کی مذمت اور اس کی ہجو اپنے شعروں میں کی، ان اشعار کو سن کر ایک کی عورت کو بڑی غیرت آئی اور بشیر کا سب اسباب اپنے سر پر رکھ کر ابطح میدان میں پھینک آئی اور کہا تو کوئی بھلائی لے کر میرے پاس نہیں آیا بلکہ حسان کی ہجو کے اشعار لے کر آیا ہے میں تجھے اپنے ہاں نہیں ٹھہراؤں گی۔ یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مطول اور مختصر مروی ہے۔ ان منافقوں کی کم عقلی کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جو اپنی سیاہ کاریوں کو لوگوں سے چھپاتے ہیں بھلا ان سے کیا نتیجہ؟ اللہ تعالیٰ سے تو پوشیدہ نہیں رکھ سکتے، پھر انہیں خبردار کیا جا رہا ہے کہ تمہارے پوشیدہ راز بھی اللہ سے چھپ نہیں سکتے،۔صفحہ نمبر1931پھر فرماتا ہے مانا کہ دنیوی حاکموں کے ہاں جو ظاہر داری پر فیصلے کرتے ہیں تم نے غلبہ حاصل کر لیا، لیکن قیامت کے دن اللہ کے سامنے جو ظاہر وباطن کا عالم ہے تم کیا کر سکو گے؟ وہاں کسے وکیل بنا کر پیش کرو گے جو تمہارے جھوٹے دعوے کی تائید کرے، مطلب یہ ہے کہ اس دن تمہاری کچھ نہیں چلے گی۔صفحہ نمبر1932

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 108 یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتے۔وَہُوَ مَعَہُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لاَ یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ ط یہ منافقین کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ جب وہ مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف چوری چھپے سازشیں کر رہے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اگر اللہ پر ان کا ایمان ہو تو انہیں معلوم ہو کہ اللہ ہماری باتیں سن رہا ہے۔ یہ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں ‘ ان سے اپنی باتوں کو خفیہ رکھتے ہیں ‘ مگر ان بد بختوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ہمارے پاس موجود ہے ‘ اس سے تو کچھ نہیں چھپ سکتا۔وَکَان اللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا یعنی اس کی پکڑ سے یہ کہیں باہر نہیں نکل سکتے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The fourth verse (108) describes the condition of people who betray trust and act treacherously. It is strange that these people feel shy before other people like them and conceal their theft from them while they do not feel shy before Allah who is with them all the time and watches over everything they do, specially the occasion when they mutually conspired to put the blame on the Jew, went to the Holy Prophet ﷺ complained against Rifa` ah and Qatadah ؓ ، charged them of false accusation and appealed to the Holy Prophet for support against the Jew.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.