The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Az-Zumar • Ayah 47

Para 24 Surah 39 : 47
وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفْتَدَوْا۟ بِهِۦ مِن سُوٓءِ ٱلْعَذَابِ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ وَبَدَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا۟ يَحْتَسِبُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَلَوْ
أَنَّ
لِلَّذِينَ
ظَلَمُوا۟
مَا
فِى
ٱلْأَرْضِ
جَمِيعًا
وَمِثْلَهُۥ
مَعَهُۥ
لَٱفْتَدَوْا۟
بِهِۦ
مِن
سُوٓءِ
ٱلْعَذَابِ
يَوْمَ
ٱلْقِيَـٰمَةِ
ۚ
وَبَدَا
لَهُم
مِّنَ
ٱللَّهِ
مَا
لَمْ
يَكُونُوا۟
يَحْتَسِبُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

How to supplicate After condemning the idolators for their love of Shirk and their hatred of TawhidAllah then says:قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ(Say: "O Allah! Creator of the heavens and the earth! All-Knower of the unseen and the seen!...") meaning, `call you upon Allah Alone with no partner or associate, Who has created the heavens and the earth and originated them,' i.e., made them like nothing that ever before existed.عَـلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ(All-Knower of the unseen and the seen!) means, what is secret and what is open.أَنتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِى مَا كَانُواْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ(You will judge between your servants about that wherein they used to differ.) means, in this world; `You will judge between them on the Day when they are resurrected and brought forth from their graves.' In his Sahih, Muslim recorded that Abu Salamah bin `Abdur-Rahman said, "I asked `A'ishah, may Allah be pleased with her, how the Messenger of Allah ﷺ started his prayer when he stood up to pray at night. She said, may Allah be pleased with her: `When the Messenger of Allah ﷺ stood up to pray at night, he would start his prayer with the words: ؟«اللْهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلى صِرَاطٍ مُسْتَقِيم»(O Allah, Lord of Jibril, Mika'il and Israfil, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, You will judge between Your servants concerning that wherein they differ. Guide me with regard to that wherein there is dispute concerning the truth by Your leave, for You guide whomsoever You will to the straight path.)"No Ransom will be accepted on the Day of Resurrectionوَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ(And those who did wrong,) means, the idolators.مَّا فِى الاٌّرْضِ جَمِيعاً وَمِثْلَهُ مَعَهُ(if they had all that is in earth and therewith as much again,)لاَفْتَدَوْاْ بِهِ مِن سُوءِ الْعَذَابِ(they verily, would offer it to ransom themselves therewith from the evil torment;) means, that which Allah has decreed for them on the Day of Resurrection. But the ransom will not be accepted from them, even if it were to be an earth-full of gold as He mentioned elswhere (3:91). Then Allah says:وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُواْ يَحْتَسِبُونَ(and there will become apparent to them from Allah what they had not been reckoning.) which means, when they come to realize what Allah's punishment for them will be, which they had never before imagined.وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَـسَبُواْ(And the evils of that which they earned will become apparent to them,) means, they will see the punishment for the forbidden actions and sins which they committed in this world.وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ(and that which they used to mock at will encircle them.) means, the punishment which they used to make fun of in this world will encompass them.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

صبح و شام کے بعض و ظائف ٭٭مشرکین کو جو نفرت توحید سے ہے اور جو محبت شرک سے ہے اسے بیان فرما کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» فرماتا ہے کہ ” تو صرف اللہ تعالیٰ واحد کو ہی پکار جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور اس وقت اس نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ نہ یہ کچھ تھے نہ ان کا کوئی نمونہ تھا۔ وہ ظاہر و باطن چھپے کھلے کا عالم ہے۔ یہ لوگ جو جو اختلافات اپنے آپس میں کرتے تھے سب کا فیصلہ اس دن ہو گا جب یہ قبروں سے نکلیں اور میدان قیامت میں آئیں گے “۔صفحہ نمبر7839 ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس دعا سے «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» “ یعنی اللہ اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اسے حاضر و غائب کئے جانے والے تو ہی اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ کرنے والا ہے جس جس چیز میں اختلاف کیا گیا ہے تو مجھے ان سب میں اپنے فضل سے حق راہ دکھا تو جسے چاہے سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے ۔ [صحیح مسلم:770] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو بندہ اس دعا کو پڑھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اس بندے نے مجھ سے عہد لیا ہے اس عہد کو پورا کرو۔ چنانچہ اسے جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ وہ دعا یہ ہے، «‏اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنْ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنْ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ‏ یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اے غائب و حاضر کے جاننے والے میں اس دنیا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میری گواہی ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور میری یہ بھی شہادت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ تو اگر مجھے میری ہی طرف سونپ دے گا تو میں برائی سے قریب اور بھلائی سے دور پڑ جاؤں گا۔ اللہ مجھے صرف تیری رحمت ہی کا سہارا اور بھروسہ ہے پس تو بھی مجھ سے عہد کر جسے تو قیامت کے دن پورا کرے یقیناً تو عہد شکن نہیں ۔ اس حدیث کے راوی سہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے جب کہا کہ عون اس طرح یہ حدیث بیان کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ہماری تو پردہ نشین بچیوں کو بھی یہ حدیث یاد ہے۔ [مسند احمد:412/1:ضعیف و منقطع] ‏صفحہ نمبر7840عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک کاغذ نکالا اور فرمایا کہ یہ دعا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونہ پیدا کرنے والے چھپی کھلی کے جاننے والے تو ہرچیز کا رب ہے اور ہرچیز کا معبود ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں اور فرشتے بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔ میں شیطان سے اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں اپنی جان پر کوئی گناہ کروں یا کسی اور مسلمان کی طرف کسی گناہ کو لے جاؤں۔ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اس دعا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سکھایا تھا اسے سونے کے وقت پڑھا کرتے تھے ۔ [مسند احمد:171/2:صحیح لغیره] ‏ اور روایت میں ہے کہ ابو راشد حبرائی رحمہ اللہ نے کوئی حدیث سننے کی خواہش سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب نکال کر ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا یہ ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے میں نے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صبح و شام کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پڑھو، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَہہ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوء‬ أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» ؎ [سنن ترمذي:3529،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس دعا کے پڑھنے کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح شام اور سوتے وقت حکم دیا ہے ۔ [سنن ترمذي:3592،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ دوسری آیت میں ظالموں سے مراد مشرکین ہیں۔ فرماتا ہے کہ ” اگر ان کے پاس روئے زمین کے خزانے اتنے ہی اور ہوں تو بھی یہ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلے انہیں اپنے فدیئے میں اور اپنی جان کے بدلے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن اس دن کوئی فدیہ اور بدلہ قبول نہ کیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں “۔ جیسے کہ اور آیت میں بیان فرما دیا ہے، ” آج اللہ کے وہ عذاب ان کے سامنے آئیں گے کہ کبھی انہیں ان کا خیال بھی نہ گذرا تھا جو جو حرام کاریاں بدکاریاں گناہ اور برائیاں انہوں نے دنیا میں کی تھیں اب سب کی سب اپنے آگے موجود پائیں گے دنیا میں جس سزا کا ذکر سن کر مذاق کرتے تھے آج وہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی “۔صفحہ نمبر7841

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 47 { وَلَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّمِثْلَہٗ مَعَہٗ لَافْتَدَوْا بِہٖ مِنْ سُوْٓئِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”اور اگر ان ظالموں کے پاس وہ سب کچھ ہوتا جو بھی زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہوتا تو وہ قیامت کے دن ُ برے عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب فدیہ میں دے دیتے۔“ روزِ محشر اگر ان کے پاس تمام روئے زمین کی دولت ہو بلکہ اتنی اور بھی ہو تو وہ چاہیں گے کہ وہ سب کچھ دے دیں اور انہیں کسی طرح جہنم کے عذاب سے بچالیا جائے۔ انسان کی اس کیفیت کا مشاہدہ تو یہاں دنیا میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ جب کبھی انسان کی جان پر بن جاتی ہے تو وہ ایک گھونٹ پانی کے لیے اپنا سب کچھ دینے کو تیار ہوجاتا ہے۔ بہر حال یہاں یہ اسلوب صرف انسانوں کے سمجھانے کے لیے آیا ہے ‘ ورنہ اس دن نہ تو کسی کے پاس کچھ دینے کو ہوگا اور نہ ہی کوئی کسی کو کچھ دے سکے گا۔ { وَبَدَا لَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ مَا لَمْ یَکُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ } ”اور اُس روز ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وہ کچھ آجائے گا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا۔“ آج وہ سمجھتے ہیں کہ جہنم اور اس کے عذابوں کی حقیقت کچھ بھی نہیں ‘ بلکہ ان کا خیال ہے کہ جس طرح بچوں کو کوئی بات منوانے کے لیے فرضی چیزوں سے ڈرایا جاتا ہے اسی طرح ہمیں بھی خالی ڈراوے دیے جا رہے ہیں اور جہنم کا ’ ہوا ‘ دکھایا جا رہا ہے۔ لیکن اس دن جہنم کو اس کے تمام تر عذابوں اور سختیوں کے ساتھ ان کے سامنے لایا جائے گا اور پھر ان سے پوچھا جائے گا : { اَلَیْسَ ہٰذَا بِالْحَقِّط قَالُوْا بَلٰی وَرَبِّنَاط } الانعام : 30 کہ جو کچھ اب تم اپنے سامنے دیکھ رہے ہو کیا یہ حقیقت نہیں ؟ تو اس وقت وہ تسلیم کریں گے کہ ہاں کیوں نہیں ‘ ہمارے پروردگار کی قسم ! واقعی یہ تو ایک حقیقت ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

In verse 47, it was said: وَبَدَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ (And there will appear to them from Allah what they have never imagined.) The famous tabi` i, Sufyan Thawri recited this verse and said, 'Ruined are those who did good deeds only to pretend their piety before people. (He repeated this sentence twice) This verse is about them. They did good deeds in their mortal life to impress people, who took them to be good people. Even they themselves used to deceive themselves by thinking that these deeds will become a source of salvation for them in the Hereafter. But, as these were never performed with unalloyed sincerity ('ikhlas), they deserve no reward in the sight of Allah. So, once they are in the life after death, the punishment would come upon them suddenly against their expectation.' (Qurtubi)An important instruction concerning 'mushajarat' (disagreements among Sahabah)Someone asked Rabi' Ibn-u1_-Khaitham about the shahadah (martyrdom) of Sayyidna Husain ؓ . He sighed and recited the verse (46): قُلِ اللَّـهُمَّ فَاطِرَ‌ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ ( O Allah, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, You will judge between Your servants...) and said, 'whenever you have a doubt in your heart about the mutual difference of the noble Sahabah, do recite this verse.' Tafsir Ruh-ul-Ma’ ani reports this statement and then says: This teaches us the best etiquette in regard to this issue, and is something one should always bear in mind.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.