Surah Sad (The Letter "Saad") • Ayah 29
BY
[This is] a blessed Book which We have revealed to you, [O Muḥammad], that they might reflect upon its verses and that those of understanding would be reminded.
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Wisdom behind the Creation of This WorldAllah tells us that He did not create the creatures in vain; He created them to worship Him Alone, then He will gather them on the Day of Gathering and will reward the obedient and punish the disbelievers. Allah says: وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالاٌّرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَـطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ(And We created not the heaven and the earth and all that is between them without purpose! That is the consideration of those who disbelieve!) meaning, those who do not think that the resurrection and the place of return will occur, but they think that there is nothing after this world. فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ النَّارِ(Then woe to those who disbelieve from the Fire!) means, woe to them on the Day when they will be resurrected, from the Fire that is prepared for them. Then Allah explains that because of His justice and wisdom, He does not treat the believers and the disbelievers equally. Allah says: أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِى الاٌّرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ (Shall We treat those who believe and do righteous good deeds as those who do mischief on the earth Or shall We treat Those who have Taqwa as the evildoers) meaning, `We shall not do that.' They are not equal before Allah, and since this is the case, there must inevitably be another realm in which those who obey Allah will be rewarded and the wicked will be punished. This teaching indicates to those of a sound mind and upright nature that there must inevitably be a resurrection and recompense. We see evildoers and criminals are prospering and increasing in wealth, children and luxury, until they die in that state. We see oppressed believers dying of grief and distress, so by the wisdom of the All-Wise, All-Knowing, All-Just who does not do even a speck of dust's weight of injustice, there should be a time when the rights of the oppressed are restored with due justice. If this does not happen in this world, there must be another realm where recompense may be made and consolation may be found. The Qur'an teaches sound aims based on a rational way of thinking, so Allah says: كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ ((This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember.) meaning, those who are possessed of wisdom and reason.
مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں ٭٭ارشاد ہے کہ مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں یہ سب عبادتِ خالق کے لیے پیدا کی گئی ہے پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ ماننے والے کی سربلندی کی جائے اور نہ ماننے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ کافروں کا خیال ہے کہ ہم نے انہیں یونہی پیدا کر دیا ہے؟ اور آخرت اور دوسری زندگی کوئی چیز نہیں یہ غلط ہے۔ ان کافروں کو قیامت کے دن بڑی خرابی ہو گی کیونکہ اس آگ میں انہیں جلنا پڑے گا جو ان کے لیے اللہ کے فرشتوں نے بڑھکا رکھی ہے۔ یہ ناممکن ہے اور ان ہونی بات ہے کہ مومن و مفسد کو اور پرہیزگار اور بدکار کو ایک جیسا کر دیں۔ اگر قیامت آنے والی ہی نہ ہو تو یہ دونوں انجام کے لحاظ سے یکساں ہی رہے۔ حالانکہ یہ خلاف انصاف ہے قیامت ضرور آئے گی نیک کار جنت میں اور گنہگار جہنم میں جائیں گے۔ پس عقلی اقتضا بھی دار آخرت کے ثبوت کو ہی چاہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ظالم پاپی اللہ کی درگاہ سے راندہ ہوا دنیا میں خوش وقت ہے مال اولاد فراغت تندرستی سب کچھ اس کے پاس ہے اور ایک مومن متقی پاک دامن ایک ایک پیسے سے تنگ ایک ایک راحت سے دور رہے تو حکمت علیم و حکیم و عادل کا اقتضاء یہ تھا کہ کوئی ایسا وقت بھی آئے کہ اس نمک حرام سے اس کی نمک حرامی کا بدلہ لیا جائے اور اس صابر و شاکر فرمانبردار کی نیکیوں کا اسے بدلہ دیا جائے اور یہی دار آخرت میں ہونا ہے۔صفحہ نمبر7697پس ثابت ہوا کہ اس جہان کے بعد ایک جہاں یقیناً ہے۔ چونکہ یہ پاک تعلیم قرآن سے ہی حاصل ہوئی ہے اور اس نیکی کا رہبر یہی ہے اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ مبارک کتاب ہم نے تیری طرف نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اسے سمجھیں اور ذی عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کر سکیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس نے قرآن کے الفاظ حفظ کر لیے اور قرآن پر عمل نہیں کیا اس نے قرآن میں تدبر و غور بھی نہیں کیا لوگ کہتے ہیں ہم نے پورا قرآن پڑھ لیا لیکن قرآن کی ایک نصیحت یا قرآن کے ایک حکم کا نمونہ ان میں نظر نہیں آتا ایسا نہ چاہیئے۔ اصل غور و خوض اور نصیحت و عبرت عمل ہے۔صفحہ نمبر7698
آیت 29 { کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ} ”اے نبی ﷺ ! یہ کتاب جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے بہت بابرکت ہے“ عربی میں اَلْـبَرَکَۃ کسی چیز میں سے اس کے خیر کو نکالنے والے عامل کو کہتے ہیں۔ اسے سمجھنے کے لیے ایک ایسے شخص کی مثال لیں جس کے اندربالقوۃ ُ potentially کوئی مثبت صلاحیت یا اہلیت موجود ہے مگر چونکہ اس کی وہ صلاحیت غیر فعال dormant ہے اس لیے نہ تو اسے اس کا شعور ہے اور نہ ہی وہ اس سے کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ چناچہ اگر کوئی واقعہ یا کسی دوسرے شخص کا کوئی عمل یا کسی کی کوئی نصیحت اسے اس صلاحیت کا احساس دلا دے اور وہ اسے بروئے کار لانا شروع کر دے تو وہ واقعہ یا عمل گویا اس کے لیے برکت کا باعث بن گیا۔ اسی مفہوم میں بارش کے پانی کو قرآن میں مآئً مُبٰرَکاً قٓ: 9 کہا گیا ہے۔ اس پانی کی برکت کا مشاہدہ ہم اپنی آنکھوں سے کرتے ہیں۔ زمین میں روئیدگی کی صلاحیت تو بالقوہ potentially موجود ہے مگر خشک اور بےآب وگیاہ زمین میں مختلف قسم کے بیشمار بیج ُ خفتہ dormant حالت میں بیکار پڑے رہتے ہیں۔ جب بارش کا پانی اس زمین کو سیراب کرتا ہے تو اس کے اندر جذب کا عمل osmosis شروع ہوتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے اس کے اندر موجود بیجوں کی قوت نمو کو انگیخت ملتی ہے ‘ زمین کی خفتہ قوت یا صلاحیت بھی فعال ہوجاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں طرح طرح کے نباتات اگنے لگتے ہیں۔ تو اس طرح گویا خشک زمین کے لیے بارش کا پانی مبارک یا باعث برکت ثابت ہوا۔ لفظ بَرَکۃ سے متعلق اس وضاحت کی روشنی میں آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یوں ہوگا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو انسانی روح کی نشوونما کے لیے غذا فراہم کرتی ہے اور روح کے اندر موجود خیر اور نیکی کی غیرفعال dormant صلاحیت کو انگیخت دے کر اسے عمل صالح کے صدور کے قابل بناتی ہے۔ علامہ اقبالؔ نے انسان کو اس کی روح کی اہمیت کا احساس ان الفاظ میں دلایا ہے : ؎ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں غافل تو نرا صاحب ِادراک نہیں ہے ! { لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰـتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ } ”تاکہ وہ اس کی آیات پر تدبر کریں اور ہوش مند لوگ اس سے سبق حاصل کریں۔“
In verse 28, it was said: أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ (Shall We make those who believe and do righteous deeds equal to those who commit mischief on the earth? Or shall We make the God-fearing equal to the sinners?) - that is, this can never be. In fact, the end of both will be totally different. Right from here, we learn that this difference between a believer and disbeliever is there in terms of the injunctions of the Hereafter. While living in the present world, it is quite possible that a disbeliever has a lot more comforts than a believer. Likewise, it cannot be deduced thereby that the material rights of the disbeliever cannot be equal to the rights of the believer, instead, the truth of the matter is that a disbeliever could be allowed human rights equal to a believer. Accordingly, non-Muslim minorities who live in an Islamic state under mutual pledges shall be given all human rights that will be but equal to those of Muslim.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.