Surah Ya-Sin (Ya Sin) • Ayah 19
BY
They said, "Your omen [i.e., fate] is with yourselves. Is it1 because you were reminded? Rather, you are a transgressing people."
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ(For us, we see an evil omen from you;) meaning, `we do not see in your faces any sign of good for our lives.' Qatadah said, "They were saying, `if something bad befalls us, it will be because of you."' Mujahid said, "They were saying: People like you never enter a town, but its people are punished."لَئِن لَّمْ تَنتَهُواْ لَنَرْجُمَنَّكُمْ(if you cease not, we will surely stone you,) Qatadah said, "By throwing stones at you."وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ(and a painful torment will touch you from us.) means, a severe punishment. Their Messengers said to them:طَـئِرُكُم مَّعَكُمْ(Your evil omens be with you!) meaning, `they are thrown back at you.' This is like the Ayah where Allah describes the people of Fir`awn:فَإِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُواْ لَنَا هَـذِهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُواْ بِمُوسَى وَمَن مَّعَهُ أَلاَ إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ(But whenever good came to them, they said: "Ours is this." And if evil afflicted them, they ascribed it to evil omens connected with Musa and those with him. Be informed! Verily, their evil omens are with Allah) (7:131). And the people of Salih said:اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ قَالَ طَائِرُكُمْ عِندَ اللَّهِ("We augur ill omen from you and those with you." He said: "Your ill omen is with Allah.") (27:47) And Allah said:وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِكَ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ فَمَا لِهَـؤُلاءِ الْقَوْمِ لاَ يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً(And if some good reaches them, they say, "This is from Allah," but if some evil befalls them, they say, "This is from you." Say: "All things are from Allah," so what is wrong with these people that they fail to understand any word) (4:78)أَءِن ذُكِّرْتُم بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ((Do you call it "evil omen") because you are admonished Nay, but you are a people mischievous.) means, `because of us, because we admonished you and told you to worship Allah Alone and with all sincerity, and in return you said what you said and threatened us. Nay, but you are a mischievous people.' Qatadah said, "This means, `Because we reminded you about Allah, you saw an evil omen in us. Nay, but you are a mischievous people'. "
رسولوں کا جواب ٭٭رسولوں نے جواب دیا کہ تم خود بدفطرت ہو۔ تمہارے اعمال ہی برے ہیں اور اسی وجہ سے تم پر مصیبتیں آتی ہیں۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ یہی بات فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے مومنوں سے کہی تھی۔ جب انہیں کوئی راحت ملتی توکہتے ہم تو اس کے مستحق ہی تھے۔ اور اگر کوئی رنج پہنچتا تو موسیٰعلیہ السلام اور مومنوں کی بدشگونی پر اسے محمول کرتے۔ جس کے جواب میں جناب باری نے فرمایا «أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّـهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» [ 7-سورة الأعراف: 31 ] یعنی ان کی مصیبتوں کی وجہ ان کے بد اعمال ہیں جن کا وبال ہماری جانب سے انہیں پہنچ رہا ہے۔ قوم صالح نے بھی اپنے نبی سے یہی کہا تھا اور یہی جواب پایا تھا۔ خود جناب پیغمبر آخر الزمان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی کہا گیا ہے جیسا کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے «وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا» [ 4-سورة النساء: 78 ] یعنی اگر ان کافروں کو کوئی نفع ہوتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی نقصان ہوتا ہے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے۔ کہدیجئیے کہ سب کچھ اللہ کی جانب سے ہے۔ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ ان سے یہ بات بھی نہیں سمجھی جاتی؟ پھر فرماتا ہے کہ صرف اس وجہ سے کہ ہم نے تمہیں نصیحت کی، تمہاری خیر خواہی کی، تمہیں بھلی راہ سمجھائی۔ تمہیں اللہ کی توحید کی طرف رہنمائی کی تمہیں اخلاص و عبادت کے طریقے سکھائے تم ہمیں منحوس سمجھنے لگے؟ اور ہمیں اس طرح ڈرانے دھمکانے لگے؟ اور خوفزدہ کرنے لگے؟ اور مقابلہ پر اتر آئے؟ حقیقت یہ ہے کہ تم فضول خرچ لوگ ہو۔ حدود الہیہ سے تجاوز کر جاتے ہو۔ ہمیں دیکھو کہ ہم تمہاری بھلائی چاہیں۔ تمہیں دیکھو کہ تم ہم سے برائی سمجھو۔ بتاؤ تو بھلا یہ کوئی انصاف کی بات ہے؟ افسوس تم انصاف کے دائرے سے نکل گئے۔صفحہ نمبر7337
آیت 19 { قَالُوْا طَآئِرُکُمْ مَّعَکُمْ ”انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے ساتھ ہے۔“ { اَئِنْ ذُکِّرْتُمْ } ”کیا اس لیے کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے ؟“ کیا تم یہ باتیں اس لیے بنا رہے ہو کہ تمہیں نصیحت اور یاد دہانی کرائی گئی ہے ؟ جبکہ یہ نصیحت بھی کوئی نئی اور انوکھی بات سے متعلق نہیں ہے۔ اللہ کی معرفت تو پہلے سے تمہارے دلوں کے اندر موجود ہے۔ ہم تو تم لوگوں کو صرف اس کی یاد دہانی کرانے کے لیے آئے ہیں۔ اسی حقیقت کو سورة الذاریات میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : { وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ } ”اور تمہارے اپنے اندر بھی اللہ کی نشانیاں ہیں ‘ کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟“ { بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ } ”بلکہ تم حد سے بڑھ جانے والے لوگ ہو۔“
The sense of the statement: قَالُوا طَائِرُكُم مَّعَكُمْ (They said, "Your bad omen deeds.' The word: طَایٔر (ta'ir) essentially denotes bad omen or misfortune and, on occasions, it is also used to refer to the effects of misfortune, that is, wretchedness. Here, this is what it means. (Ibn Kathir, Qurtubi)
Surah Ya-Sin (36:13-30) narrates the story of a city to which Allah sent two messengers, then reinforced them with a third. The people called them liars. A man came running from the far end of the city urging the people to follow the messengers. He was killed ('It was said, Enter Paradise' — indicating immediate martyrdom). The city was destroyed. Classical commentators identify this city as Antioch (Antakiya, modern Turkey), and the three messengers as disciples of Isa (Jesus). This narrative is cited for its account of solitary moral courage.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.