Surah Fatir • Ayah 5
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Consolation in the fact that the previous Messengers were denied, and a reminder of the ResurrectionAllah says: `Even if these idolators who associate others with Allah disbelieve in you, O Muhammad, and go against the Message of Tawhid that you have brought, you have an example in the Messengers who came before you.' They also brought a clear Message to their people and told them to worship Allah alone, but their people denied them and went against them.وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأُمُورُ(And to Allah return all matters (for decision).) means, `We will requite them for that in full.' Then Allah says:يأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ(O mankind! Verily, the promise of Allah is true.) meaning the Resurrection will undoubtedy come to pass.فَلاَ تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا(So, let not this present life deceive you,) means, `this life is as nothing in compare to the great good that Allah has promised to His close friends and the followers of His Messengers, so do not let these transient attractions distract you from that which is lasting.'وَلاَ يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ(and let not the chief deceiver deceive you about Allah.) This refers to Shaytan, as stated by Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him. Meaning, do not let the Shaytan tempt you and divert you away from following the Messengers of Allah ﷺ and believing what they say, for he is the chief deceiver and arch-liar. This Ayah is like the Ayah that appears at the end of Surah Luqman:فَلاَ تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا وَلاَ يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ(let not then this (worldly) present life deceive you, nor let the chief deceiver deceive you about Allah) (31:33). Then Allah tells us of the enmity of Iblis towards the sons of Adam:إِنَّ الشَّيْطَـنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوّاً(Surely, Shaytan is an enemy to you, so take (treat) him as an enemy.) meaning, `he has declared his enmity towards you, so be even more hostile towards him, oppose him and do not believe the things with which he tries to tempt you.'إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُواْ مِنْ أَصْحَـبِ السَّعِيرِ(He only invites his followers that they may become the dwellers of the blazing Fire.) means, `he only wants to misguide you so that you will enter the blazing Fire with him.' This is a manifest enemy, and we ask Allah, the All-Powerful and Almighty to make us enemies of Shaytan and to make us followers of the Book of Allah and of the way of His Messengers. For He is able to do whatever He wills and He will respond to all supplication. This is like the Ayah:وَإِذَا قُلْنَا لِلْمَلَـئِكَةِ اسْجُدُواْ لآِدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِى وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظَّـلِمِينَ بَدَلاً(And (remember) when We said to the angels: "Prostrate yourselves unto Adam." So they prostrated themselves except Iblis. He was one of the Jinn; he disobeyed the command of his Lord. Will you then take him (Iblis) and his offspring as protectors and helpers rather than Me while they are enemies to you What an evil is the exchange for the wrongdoers.) (18:50)
مایوسی کی ممانعت ٭٭اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ کے زمانے کے کفار آپ کی مخالفت کریں اور آپ کی بتائی ہوئی توحید اور خود آپ کی سچی رسالت کو جھٹلائیں۔ تو آپ شکستہ دل نہ ہو جایا کریں۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا۔ سب کاموں کا مرجع اللہ کی طرف ہے۔ وہ سب کو ان کے تمام کاموں کے بدلا دے گا اور سزا جزا سب کچھ ہو گی، لوگو قیامت کا دن حق ہے وہ یقیناً آنے والا ہے وہ وعدہ اٹل ہے۔ وہاں کی نعمتوں کے بدلے یہاں کے فانی عیش پر الجھ نہ جاؤ۔ دنیا کی ظاہری عیش کہیں تمہیں وہاں کی حقیقی خوشی سے محروم نہ کر دے۔ اسی طرح شیطان مکار سے بھی ہوشیار رہنا۔ اس کے چلتے پھرتے جادو میں نہ پھنس جانا۔ اس کی جھوٹی اور چکنی چپڑی باتوں میں آ کر اللہ رسول کے حق کلام کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ سورۃ لقمان کے آخر میں بھی یہی فرمایا ہے۔ پس غرور یعنی دھوکے باز یہاں شیطان کو کہا گیا ہے۔ جب مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان قیامت کے دن دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں دروازہ ہو گا۔ جس کے اندرونی حصے میں رحمت ہو گی اور ظاہری حصے میں عذاب ہو گا اس وقت منافقین مومنین سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہ تھے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں ساتھ تو تھے لیکن تم نے تو اپنے تئیں فتنے میں ڈال دیا تھا اور سوچتے ہی رہے شک شبہ دور ہی نہ کیا خواہشوں کو پورا کرنے میں ڈوبے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچا اور دھوکے باز شیطان نے تمہیں بہلا وے میں ہی رکھا۔ اس آیت میں بھی شیطان کو غرور کہا گیا ہے، پھر شیطانی دشمنی کو بیان کیا کہ وہ تو تمہیں مطلع کر کے تمہاری دشمنی اور بربادی کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔ پھر تم کیوں اس کی باتوں میں آ جاتے ہو؟ اور اس کے دھوکے میں پھنس جاتے ہو؟ اس کی اور اس کی فوج کی تو عین تمنا ہے کہ وہ تمہیں بھی اپنے ساتھ گھسیٹ کر جہنم میں لے جائے۔ اللہ تعالیٰ قوی و عزیز سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں شیطان کا دشمن ہی رکھے اور اس کے مکر سے ہمیں محفوظ رکھے اور اپنی کتاب اور اپنے نبی کی سنتوں کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ ہرچیز پر قادر ہے اور دعاؤں کا قبول فرمانے والا ہے۔ جسطرح اس آیت میں شیطان کی دشمنی کا بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورۃ الکہف کی آیت «وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖۭ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗوَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا» ، [18-الكهف:50] میں بھی اس کی دشمنی کا ذکر ہے۔صفحہ نمبر7243
آیت 5 { یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاوقفۃ } ”اے لوگو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ تو دیکھو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے“ { وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ } ”اور نہ ہی تمہیں دھوکے میں ڈالے اللہ کے بارے میں وہ بڑا دھوکے باز۔“ اس سے پہلے ہم یہی الفاظ سورة لقمان کی آیت 33 میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ لفظ ”غرور“ اگر ”غ“ کی پیش کے ساتھ ہو تو مصدر ہے ‘ اور اگر ”غ“ کی زبر کے ساتھ فَعول کے وزن پر ہوتویہ مبالغے کا صیغہ ہوگا۔ چناچہ ”الـغَرُور“ کے معنی ہیں بہت بڑا دھوکے باز ‘ یعنی ابلیس لعین جو اکثر لوگوں کو اللہ کے بارے میں اس طرح بھی ورغلاتا ہے کہ اللہ بڑا رحیم ‘ کریم ‘ شفیق اور مغفرت کرنے والا ہے۔ تمہیں کا ہے کی فکر ہے ؟ تم نے کون سے ایسے بڑے گناہ کیے ہیں۔ اور یہ سودی کاروبار ! اس کا کیا ہے ؟ یہ تو سب کرتے ہیں۔ اور وہ فلاں غلط کام اگر تم سے ہوگیا ہے تو کیا ہوا ؟ اللہ غفورٌ رحیم ہے ‘ وہ تو بڑے بڑے گناہگاروں کو بخش دیتا ہے ‘ چناچہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ‘ تم جو کچھ کر رہے ہو کرتے جائو اور جس راستے پر چل رہے ہو چلتے جائو ! اللہ کی شان کریمی اور صفت ِغفاری کے نام پر انسان کو دھوکے میں ڈالنے کا یہ ایک ابلیسی حربہ ہے جس سے یہاں خبردار کیا گیا ہے کہ دیکھو ! یہ ابلیس بہت بڑا دھوکے باز ہے ‘ یہ کہیں تمہیں اللہ کی رحمت کے حوالے سے ہی دھوکے میں نہ ڈال دے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے بہلاوے میں آکر تم دنیوی زندگی کی رنگینیوں میں گم ہو کر اللہ کو بھول جائو اور اس طرح تمہاری یہ زندگی تمہارے لیے ایک بہت بڑا دھوکہ بن جائے۔ اور دیکھو ! دُنیوی زندگی کے بارے میں یہ حقیقت کبھی تمہاری نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے : { وَما الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ } آل عمران ”اور دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔“
CommentaryThe word: غَرُورُ (gharur) is an emphatic form of an adjective that means one who is very deceiving (hence, rendered here as 'big deceiver' ). It refers to the Shaitan (Satan) whose sole job is to deceive people and throw them into disbelief and sin. And the expression لَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّـهِ الْغَرُورُ (5) means 'nor should you be deceived about Allah'. To explain this deception, it can be said that the Shaitan may not, by showing your evil deeds as good, cause you to become so involved with these that you reach the stage when you go on committing a sin and, at the same time, keep thinking that you are of those accepted in the sight of Allah, and that you will not have to undergo any punishment.' (Qurtubi)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.