The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Fatir • Ayah 40

Para 22 Surah 35 : 40
قُلْ أَرَءَيْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِى مَاذَا خَلَقُوا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ أَمْ ءَاتَيْنَـٰهُمْ كِتَـٰبًا فَهُمْ عَلَىٰ بَيِّنَتٍ مِّنْهُ ۚ بَلْ إِن يَعِدُ ٱلظَّـٰلِمُونَ بَعْضُهُم بَعْضًا إِلَّا غُرُورًا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

قُلْ
أَرَءَيْتُمْ
شُرَكَآءَكُمُ
ٱلَّذِينَ
تَدْعُونَ
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
أَرُونِى
مَاذَا
خَلَقُوا۟
مِنَ
ٱلْأَرْضِ
أَمْ
لَهُمْ
شِرْكٌ
فِى
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ
أَمْ
ءَاتَيْنَـٰهُمْ
كِتَـٰبًا
فَهُمْ
عَلَىٰ
بَيِّنَتٍ
مِّنْهُ
ۚ
بَلْ
إِن
يَعِدُ
ٱلظَّـٰلِمُونَ
بَعْضُهُم
بَعْضًا
إِلَّا
غُرُورًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Helplessness of the false gods and the Power of AllahAllah tells His Messenger to say to the idolators:أَرَءَيْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ(Have you considered your partners whom you call upon besides Allah) the idols and rivals.أَرُونِى مَاذَا خَلَقُواْ مِنَ الاٌّرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِى السَّمَـوَتِ(Show Me what they have created of the earth. Or have they any share in the heavens) meaning, they have nothing at all of that, they do not possess even the membrane covering the stone of a date.أَمْ ءَاتَيْنَـهُمْ كِتَـباً فَهُمْ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّنْهُ(Or have We given them a Book, so that they act on clear proof therefrom) meaning, `have We revealed to them a Book on which they base their Shirk and disbelief' This is not the case at all.بَلْ إِن يَعِدُ الظَّـلِمُونَ بَعْضُهُم بَعْضاً إِلاَّ غُرُوراً(Nay, the wrongdoers promise one another nothing but delusions.) means, they are merely following their own whims, opinions and wishes which are their personal desires, and they are no more than misguidance and falsehood. Then Allah tells us of His mighty power, by which the heavens and the earth stand by His command, and the forces that He has placed between them to hold them. He says:إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ أَن تَزُولاَ(Verily, Allah grasps the heavens and the earth lest they should move away from their places,) means, lest they should shift from where they are. This is like the Ayat:وَيُمْسِكُ السَّمَآءَ أَن تَقَعَ عَلَى الاٌّرْضِ إِلاَّ بِإِذْنِهِ(He withholds the heaven from falling on the earth except by His leave) (22:65), andوَمِنْ ءَايَـتِهِ أَن تَقُومَ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ بِأَمْرِهِ(And among His signs is that the heaven and the earth stand by His command) (30:25).وَلَئِن زَالَتَآ إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ(and if they were to move away from their places, there is not one that could grasp them after Him.) means, no one can make them stay and preserve them except Him. He is Ever Most Forbearing and Oft-Forgiving because He sees His servants disbelieving in Him and disobeying Him, yet He is patient and gives them time, He waits and does not hasten the punishment, and He conceals the faults of others and forgives them. He says:إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا(Truly, He is Ever Most Forbearing, Oft-Forgiving.)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

مدلل پیغام ٭٭اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ آپ مشرکوں سے فرمایئے کہ اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارا کرتے ہو تم مجھے بھی تو ذرا دکھاؤ کہ انہوں نے کس چیز کو پیدا کیا ہے؟ یا یہی ثابت کر دو کہ آسمانوں میں ان کا کون سا حصہ ہے؟ جب کہ نہ وہ خالق نہ ساجھی پھر تم مجھے چھوڑ کر انہیں کیوں پکارتے ہو؟ وہ تو ایک ذرے کے بھی مالک نہیں۔ اچھا یہ بھی نہیں تو کم از کم اپنے کفر و شرک کی کوئی کتابی دلیل ہی پیش کر دو۔ لیکن تم یہ بھی نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم صرف اپنی نفسانی خواہشوں اور اپنی رائے کے پیچھے لگ گئے ہو دلیل کچھ بھی نہیں۔ باطل جھوٹ اور دھوکے بازی میں مبتلا ہو۔ ایک دوسرے کو فریب دے رہے ہو، اپنے ان جھوٹے معبودوں کی کمزوری اپنے سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی جو سچا معبود ہے قدرت و طاقت دیکھو کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ ہر ایک اپنی جگہ رکا اور تھما ہوا ہے۔ ادھر ادھر جنبش بھی تو نہیں کر سکتا۔ آسمان کو زمین پر گر پڑنے سے اللہ تعالیٰ رکے ہوئے ہے۔ یہ دونوں اس کے فرمان سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اس کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھام سکے، روک سکے، نظام پر قائم رکھ سکے۔ اس حلیم و غفور اللہ کو دیکھو کہ مخلوق و مملوک، نافرمانی و سرکشی، کفر و شرک دیکھتے ہوئے بھی بربادی اور بخشش سے کام لے رہا ہے، ڈھیل اور مہلت دیئے ہوئے ہے۔ گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔صفحہ نمبر7302ابن ابی حاتم میں اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب بلکہ منکر حدیث ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا ایک واقعہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ منبر پر بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خیال گزرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی سوتا بھی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیج دیا جس نے انہیں تین دن تک سونے نہ دیا۔ پھر ان کے ایک ایک ہاتھ میں ایک ایک بوتل دے دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو یہ گریں نہیں، ٹوٹیں نہیں۔ موسیٰ علیہ السلام انہیں ہاتھوں میں لے کر حفاظت کرنے لگے لیکن نیند کا غلبہ ہونے لگا اونگھ آنے گی۔ کچھ جھکولے تو ایسے آئے کہ آپ ہوشیار ہو گئے اور بوتل گرنے نہ دی لیکن آخر نیند غالب آ گئی اور بوتلیں ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گئیں اور چورا چور ہو گئیں۔ مقصد یہ تھا کہ سونے والا دو بوتلیں بھی تھام نہیں سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ سوتا تو زمین و آسمان کی حفاظت کیسے ہوتی؟ [تفسیر ابن جریر الطبری:5782] ‏ لیکن بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں بلکہ بنی اسرائیل کی گھڑنت ہے۔صفحہ نمبر7303بھلا موسیٰ علیہ السلام جیسا جلیل القدر پیغمبر یہ تصور بھی کر سکتا ہے؟ کہ اللہ تعالیٰ سو جاتا ہے۔ باوجود یکہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں فرما چکا ہے کہ اسے نہ تو اونگھ آئے نہ نیند۔ زمین و آسمان کی کل چیزوں کا مالک صرف وہی ہے۔ بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو سوتا ہے نہ سونا اس کی شایان شان ہے۔ وہ ترازو کو اونچا نیچا کرتا رہتا ہے۔ دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے اعمال دن سے پہلے اس کی طرف چڑھ جاتے ہیں۔ اس کا حجاب نور ہے۔ یا آگ ہے۔ اگر اسے کھول دے تو اس کے چہرے کی تجلیاں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے سب مخلوق کو جلا دیں۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا شام سے۔ پوچھا وہاں کس سے ملے؟ کہا کعب رحمہ اللہ سے۔ پوچھا کعب نے کیا بات بیان کی؟ کہا یہ کہ آسمان ایک فرشتے کے کندھے تک گھوم رہے ہیں۔ پوچھا تم نے اسے سچ جانا یا جھٹلا دیا؟ جواب دیا کچھ بھی نہیں۔ فرمایا پھر تو تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔ سنو کعب نے غلط کہا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس کی اسناد صحیح ہے۔صفحہ نمبر7304دوسری سند میں آنے والے کا نام ہے کہ وہ جندب بجلی رضی اللہ عنہ تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ بھی اس کی تردید کرتے تھے کہ آسمان گردش میں ہیں اور اسی آیت سے دلیل لیتے تھے اور اس حدیث سے بھی جس میں ہے مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کا دروازہ ہے وہ بند نہ ہو گا جب تک کہ آفتاب مغرب سے طلوع نہ ہو۔ [سنن ترمذي:3536،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ حدیث بالکل صحیح ہے۔ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم» صفحہ نمبر7305

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 40{ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ شُرَکَآئَ کُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم نے اپنے ان شریکوں کے بارے میں کبھی غور کیا جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟“ { اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ } ”ذرا مجھے دکھائو کہ انہوں نے زمین میں کونسی چیز پیدا کی ہے یا ان کی کوئی شراکت ہے آسمانوں میں !“ { اَمْ اٰتَیْنٰہُمْ کِتٰبًا فَہُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ } ”یا ہم نے انہیں کوئی کتاب عطا کی تھی اور وہ اس کی کسی واضح دلیل پر ہیں !“ کیا ان کے پاس ہماری نازل کردہ کوئی کتاب موجود ہے جس کی کسی واضح دلیل کی بنیاد پر انہوں نے اپنے اعتقادات اخذ کیے ہیں ؟ { بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا } ”بلکہ یہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کو وعدے نہیں دے رہے مگر فریب کے۔“ یہ ظالم ایک دوسرے سے محض ُ پرفریب وعدے کر رہے ہیں۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

CommentaryThe word: خَلَائِفَ (khala'if) in verse 39: هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْ‌ضِ (He is the One who has made you successors (of the past generations) in the earth.) is the plural of: خَلِیفَہ (khalifah) which means deputy or vice-regent. The general sense is that Allah Ta’ ala has let human beings have lands and houses that keep passing on from one to the other. In this phenomena, there is a great lesson - turn to Allah. Then, the statement could also be taken to have been addressed to the ummah of the Holy Prophet t saying, 'After past communities, We made you take their place with authority to make life better around you, so it is your duty that you learn your lesson from what happened to people earlier than you, and hence you, on your part, do not while away precious moments of your life in negligence.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.