Surah Fatir • Ayah 33
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤاً(therein will they be adorned with bracelets of gold and pearls,) It was recorded in the Sahih from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah ﷺ said:«تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوء»(The ornaments of the believer will reach as far as his Wudu'.)وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ(and their garments therein will be of silk.) For this reason it is forbidden for them (the males) in this world, but Allah will permit it for them in the Hereafter. It was recorded in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said:«مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْاخِرَة»(Whoever wears silk in this world, will not wear it in the Hereafter.) And he said:«هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَكُمْ فِي الْاخِرَة»(It is for them in this world, and for you in the Hereafter.)وَقَالُواْ الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِى أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ(And they will say: "All the praises and thanks be to Allah, Who has removed from us (all) grief...") which means fear of everything that is feared; it has been lifted from us and we have been relieved of all that we used to fear of the anxieties of the world and the Hereafter. Ibn `Abbas, may Allah be pleased with him, and others said, "He forgives them for their major sins, and appreciates even the smallest of their good deeds."الَّذِى أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِن فَضْلِهِ(Who, out of His grace, has lodged us in a home that will last forever,) means, `Who has given us this position and status out of His grace and blessing and mercy, for our good deeds are not equivalent to this.' It was reported in the Sahih that the Messenger of Allah ﷺ said: -«لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّة»(None of you will enter Paradise by virtue of his good deeds.) They said, "Not even you, O Messenger of Allah" He said,«وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ تَعَالَى بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْل»(Not even me, unless Allah encompasses me with His mercy and grace.)لاَ يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلاَ يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ(where toil will touch us not nor weariness will touch us.) means, neither hardship nor exhaustion will touch us. The words translated here as "toil" and "weariness" both mean exhaustion, as if what is meant by the negation of both is that neither their bodies nor their souls will become exhausted; and Allah knows best. They used to exhaust themselves in worshipping this world, but their obligations will come to an end when they enter Paradise, where they will enjoy eternal rest and repose. Allah says:كُلُواْ وَاشْرَبُواْ هَنِيئَاً بِمَآ أَسْلَفْتُمْ فِى الاٌّيَّامِ الْخَالِيَةِ(Eat and drink at ease for that which you have sent on before you in days past!) (69:24)
عظمت قرآن کریم اور ملت بیضا ٭٭جس کتاب کا اوپر ذکر ہوا تھا اس بزرگ کتاب یعنی قرآن کریم کو ہم نے اپنے چیدہ بندوں کے ہاتھوں میں دیا ہے یعنی اس امت کے ہاتھوں۔ پھر حرمت والے کام بھی اس سے سرزد ہو گئے۔ بعض درمیانہ درجے کے رہے جنہوں نے محرمات سے تو اجتناب کیا واجبات بجا لاتے رہے لیکن کبھی کبھی کوئی مستحب کام ان سے چھوٹ بھی گیا اور کبھی کوئی ہلکی پھلکی نافرمانی بھی سرزد ہو گئی۔ بعض درجوں میں بہت ہی آگے نکل گئے۔ واجبات چھوڑ کر مستحباب کو بھی انہوں نے نہ چھوڑا اور محرمات چھوڑ کر مکروہات سے بھی یکسر الگ رہے۔ بلکہ بعض مرتبہ مباح چیزوں کو بھی ڈر کر چھوڑ دیا۔ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پسندیدہ بندوں سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو اللہ کی ہر کتاب کی وارث بنائی گئی ہے۔ ان میں جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں انہیں بخشا جائے گا اور ان میں جو درمیانہ لوگ ہیں ان سے آسانی سے حساب لیا جائے گا اور ان میں جو نیکیوں میں بڑھ جانے والے ہیں انہیں بیحساب جنت میں پہنچایا جائے گا۔ طبرانی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہے۔ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سابق لوگ تو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے اور میانہ رو رحمت رب سے داخل جنت ہوں گے اور اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے اور اصحاب اعراف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے جنت میں آئیں گے۔ الغرض اس امت کے ہلکے پھلکے گنہگار بھی اللہ کے پسندیدہ بندوں میں داخل ہیں [طبرانی کبیر:11454:موضوع] «فالحمدللہ» صفحہ نمبر7282گو اکثر سلف کا قول یہی ہے۔ لیکن بعض سلف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ لوگ نہ تو اس امت میں داخل ہیں نہ چیدہ اور پسندیدہ ہیں نہ وارثین کتاب ہیں۔ بلکہ مراد اس سے کافر منافق اور بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیئے جانے والے ہیں پس یہ تین قسمیں وہی ہیں جن کا بیان سورۃ الواقعہ کے اول و آخر میں ہے۔ لیکن صحیح قول یہی ہے کہ یہ اسی امت میں ہیں۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور آیت کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ احادیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ یہ تینوں گویا ایک ہیں اور تینوں ہی جنتی ہیں۔ [مسند احمد::78/3صحیح] صفحہ نمبر7283یہ حدیث غریب ہے اور اس کے راویوں میں ایک راوی ہیں جن کا نام مذکور نہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس امت میں ہونے کے اعتبار سے اور اس اعتبار سے کہ وہ جنتی ہیں گویا ایک ہی ہیں۔ ہاں مرتبوں میں فرق ہونا لازمی ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا سابقین تو بیحساب جنت میں جائیں گے اور درمیانہ لوگوں سے آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا اور اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے طول محشر میں روکے جائیں گے۔ پھر اللہ کی رحمتوں سے تلافی ہو جائے گی اور یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا ہمارا رب بڑا ہی غفور و شکور ہے۔ جس نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے رہائش کی ایسی جگہ عطا فرمائی جہاں ہمیں کوئی درد دکھ نہیں۔ [مسند احمد: 198/5:ضعیف] صفحہ نمبر7284ابن ابی حاتم کی اس روایت میں الفاظ کی کچھ کمی بیشی ہے۔ ابن جریر نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ ابوثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں آتے ہیں اور ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ! میری وحشت کا انیس میرے لیے مہیا کر دے اور میری غربت پر رحم کر اور مجھے کوئی اچھا رفیق عطا فرما۔ یہ سن کر صحابی ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں میں تیرا ساتھی ہوں سن میں آج تجھے وہ حدیث رسول سناتا ہوں جو میں نے آج تک کسی کو نہیں سنائی پھر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا «سابق بالخیرات» تو جنت میں بیحساب جائیں گے اور مقتصد لوگوں سے آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا اور «ظالم لنفسہ» کو اس مکان میں غم و رنج پہنچے گا۔ جس سے نجات پا کر وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف] صفحہ نمبر7285تیسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کی نسبت فرمایا کہ یہ سب اسی امت میں سے ہیں۔ [طبرانی کبیر:410:ضعیف] چوتھی حدیث:میری امت کے تین حصے ہیں ایک بیحساب و بےعذاب جنت میں جانے والا۔ دوسرا آسانی سے حساب لیا جانے والا اور پھر بہشت نشیں ہونے والا۔ تیسری وہ جماعت ہو گی جن سے تفتیش و تلاش ہو گی لیکن پھرفرشتے حاضر ہو کر کہیں گے کہ ہم نے انہیں «لا الہٰ الا اللہ وحدہ» کہتے ہوئے پایا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا سچ ہے میرے سوا کوئی معبود نہیں اچھا انہیں میں نے ان کے اس قول کی وجہ سے چھوڑا جاؤ انہیں جنت میں لے جاؤ اور ان کی خطائیں دوزخیوں پر لاد دو اسی کا ذکر آیت «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [29-العنكبوت:13] میں ہے یعنی وہ ان کے بوجھ اپنے بوجھ کے ساتھ اٹھائیں گے اس کی تصدیق اس میں ہے جس میں فرشتوں کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے جنہیں وارثین کتاب بنایا ہے ان کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تین قسمیں بتائی ہیں پس ان میں جو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں وہ بازپرس کئے جائیں گے۔ [طبرانی کبیر:79/18:ضعیف] [ابن ابی حاتم] صفحہ نمبر7286ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس امت کی قیات کے دن تین جماعتیں ہوں گی۔ ایک بیحساب جنت میں جانے والی ایک آسانی سے حساب لیے جانے والی ایک گنہگار جن کی نسبت اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ کون ہیں؟ فرشتے کہیں گے اللہ ان کے پاس بڑے بڑے گناہ ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا۔ رب عزوجل فرمائے گا انہیں میری وسیع رحمت میں داخل کر دو پھر عبداللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر] صفحہ نمبر7287دوسرا اثر۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ فرماتی ہیں بیٹا یہ سب جنتی لوگ ہیں سابق بالخیرات تو وہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہیں خود آپ نے جنت کی بشارت دی۔ مقتصد وہ ہیں جنہوں نے آپ کے نقش قدم کی پیروی کی یہاں تک کہ ان سے مل گئے۔ اور ظالم لنفسہ مجھ تجھ جیسے ہیں [ابوداؤد طیالسی] خیال فرمایئے کہ صدیقہ رضی اللہ عنہا باوجودیکہ سابق بالخیرات میں سے بلکہ ان میں سے بھی بہترین درجے والوں میں سے ہیں لیکن کس طرح اپنے تئیں متواضع بناتی ہیں حالانکہ حدیث میں آ چکا ہے کہ تمام عورتوں پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہی فضیلت ہے جو فضیلت ثرید کو ہر قسم کے طعام پر ہے۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ظالم لنفسہ تو ہمارے بدوی لوگ ہیں اور مقتصد ہمارے شہری لوگ ہیں اور سابق ہمارے مجاہد ہیں۔ [ابن ابی حاتم] [صحیح بخاری:3770] صفحہ نمبر7288کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تینوں قسم کے لوگ اسی امت میں سے ہیں اور سب جنتی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں قسم کے لوگوں کے ذکر کے بعد جنت کا ذکر کر کے پھر فرمایا «وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ ۚ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ» [35-فاطر:36] پس یہ لوگ دوزخی ہیں۔ [ابن جریررحمہ اللہ] سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما نے کعب سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کعب کے اللہ کی قسم یہ سب ایک ہی زمرے میں ہیں ہاں اعمال کے مطابق ان کے درجات کم و بیش ہیں۔ ابواسحاق سیعی بھی اس آیت میں فرماتے ہیں کہ یہ تینوں جماعتیں ناجی ہیں۔ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ امت مرحومہ ہے۔ ان کے گنہگاروں کو بخش دیا جائے گا اور ان کے مقصد اللہ کے پاس جنت میں ہوں گے۔ اور ان کے سابق بلند درجوں میں ہوں گے۔ محمد بن علی باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں جن لوگوں کو ظالم لنفسہ کہا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گناہ بھی کئے تھے اور نیکیاں بھی۔ ان احادیث اور آثار کو سامنے رکھ کر یہ تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں عموم ہے اور اس امت کی ان تینوں قسموں کو یہ شامل ہے۔ پس علماء کرام اس نعمت کے ساتھ سب سے زیادہ رشک کے قابل ہیں اور اس رحمت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ جیسے کہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص مدینے سے دمشق میں ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا ہے اور آپ سے ملاقات کرتا ہے تو آپ دریافت فرماتے ہیں کہ پیارے بھائی یہاں کیسے آنا ہوا؟ وہ کہتے ہیں اس حدیث کے سننے کے لیے آیا ہوں جو آپ بیان کرتے ہیں۔ پوچھا کیا کسی تجارت کی غرض سے نہیں آئے؟ جواب دیا نہیں۔ پوچھا پھر کوئی اور مطلب بھی ہو گا؟ فرمایا کوئی مقصد نہیں۔ پوچھا پھر کیا صرف حدیث کی طلب کے لیے یہ سفر کیا ہے؟ جواب دیا کہ ہاں۔ فرمایا سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص علم کی تلاشی میں کسی راستے کو قطع کرے اللہ اسے جنت کے راستوں میں چلائے گا۔ اللہ کی رحمت کے فرشتے طالب علموں کے لیے پر بچھا دیتے ہیں کیونکہ وہ ان سے بہت خوش ہیں اور ان کی خوشی کے خواہاں ہیں۔ عالم کے لیے آسمان و زمین کی ہرچیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔ عابد و عالم کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسی چاند کی فضیلت ستاروں پر، علماء نبیوں کے وارث ہیں۔ انبیاء علیہم السلام نے اپنے ورثے میں درہم و دینار نہیں چھوڑے ان کا ورثہ علم دین ہے۔ جس نے اسے لیا اس نے بڑی دولت حاصل کر لی۔ [سنن ابوداود:3641،قال الشيخ ا لألباني:صحیح] [ابوداؤد، ترمذی وغیرہ] اس حدیث کے تمام طریق اور الفاظ اور شرح میں نے صحیح بخاری کتاب العلم کی شرح میں مفصلاً بیان کر دی ہے فالحمداللہ۔ سورۃ طہٰ کے شروع میں وہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ علماء سے فرمائے گا۔ میں نے اپنا علم و حکمت تمہیں اس لیے ہی دیا تھا کہ تمہیں بخش دوں گو تم کیسے ہی ہو مجھے اس کی کچھ پرواہ ہی نہیں۔ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف] صفحہ نمبر7289
آیت 33{ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَہَا } ”ان کے لیے باغات ہوں گے رہنے کے جن میں وہ داخل ہوں گے“ ”جَنّٰتُ عَدْنٍ“ کا ترجمہ ”ہمیشگی کے باغات“ بھی کیا گیا ہے اور ”رہنے کے باغات“ residential gardens بھی۔ { یُحَلَّوْنَ فِیْہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَّلُؤْلُؤًاج وَلِبَاسُہُمْ فِیْہَا حَرِیْرٌ} ”ان میں انہیں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی ‘ اور ان میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔“ سورة الحج کی آیت 23 میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں۔
A close look at the last sentence of verse 32 and the statement in verse ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ (That is the great bounty, gardens of eternity they enter. They will be ornamented with bracelets of gold and with pearls, and their dress therein will be (of) silk. - 35:32, 33) shows that in the beginning of verse 32, Allah Ta’ ala has pointed out to three kinds of His chosen servants following which it was said: ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ: That is, 'this counting of all these three among His chosen servants is the great bounty.' Next comes the statement relating to their recompense - that they will go to Jannah, that they will be given bracelets of gold and ornaments of pearls to wear and that their dress shall be of silk.For men, in this mortal world, it is حَرَام haram to wear ornaments of gold, and dresses made of silk too. To compensate, they will have these in Jannah. Let there be no doubt about it, something like: Ornaments are for women, not for men in whose case these do not suit. The reason is simple. Taking the conditions prevailing in the 'Akhirah (Hereafter) and Jannah (Paradise) on the analogy of conditions prevailing in the mortal world is unreasonable, even dumb.According to a narration of Sayyidna Abu Said al-Khudri ؓ ، the Holy Prophet ﷺ said, 'Crowns on the heads of the people of Jannah will be studded with pearls. Light emitted by the smallest of its pearls will fill the entire horizon from the East to the West.' (Reported by at-Tirmidhi and al-Hakim, who has authenticated it, and by al-Baihaqi - from Mazhari)Imam al-Qurtubi (رح) Ta’ ala said: Commentators explain that every inmate of Jannah will have bracelets to wear on their hands - of gold, silver, and pearls. About this celestial bracelet, a verse mentions 'of silver' (76:21) while others, 'of gold' (18:31; 22:23; 35:33; 43:53). The present explanation brings both verses in correspondence.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.