The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Luqman • Ayah 15

Para 21 Surah 31 : 15
وَإِن جَـٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِى ٱلدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَٱتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ ۚ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَإِن
جَـٰهَدَاكَ
عَلَىٰٓ
أَن
تُشْرِكَ
بِى
مَا
لَيْسَ
لَكَ
بِهِۦ
عِلْمٌ
فَلَا
تُطِعْهُمَا
ۖ
وَصَاحِبْهُمَا
فِى
ٱلدُّنْيَا
مَعْرُوفًا
ۖ
وَٱتَّبِعْ
سَبِيلَ
مَنْ
أَنَابَ
إِلَىَّ
ۚ
ثُمَّ
إِلَىَّ
مَرْجِعُكُمْ
فَأُنَبِّئُكُم
بِمَا
كُنتُمْ
تَعْمَلُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Luqman's Advice to His SonAllah tells us how Luqman advised his son. His full name was Luqman bin `Anqa' bin Sadun, and his son's name was Tharan, according to a saying quoted by As-Suhayli. Allah describes him in the best terms, and states that he granted him wisdom. Luqman advised his son, the closest and most beloved of all people to him, who deserved to be given the best of his knowledge. So, Luqman started by advising him to worship Allah Alone, and not to associate anything with Him. Then he warned him:إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ(Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed.) meaning, it is the greatest wrong. Al-Bukhari recorded that `Abdullah said: "When the Ayahالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَـنَهُمْ بِظُلْمٍ(It is those who believe and confuse not their belief with Zulm)(6:82) was revealed, the Companions of the Messenger of Allah ﷺ were distressed by this, and said, `Who among us does not confuse his belief with Zulm' The Messenger of Allah ﷺ said:«إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ:يَبُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ»(That is not what it means. Have you not heard what Luqman said: (O my son! Join not in worship others with Allah. Verily, joining others in worship with Allah is a great Zulm (wrong) indeed))" It was recorded by Muslim. When Luqman advised his son to worship Allah Alone, he also told him to honor his parents. This is like the Ayah,وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّـهُ وَبِالْوَلِدَيْنِ إِحْسَـناً(And your Lord has decreed that you worship none but Him. And that you be dutiful to your parents) (17:23). These two things are often mentioned together in the Qur'an. Allah says here:وَوَصَّيْنَا الإِنْسَـنَ بِوَلِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلَى وَهْنٍ(And We have enjoined on man (to be dutiful and good) to his parents. His mother bore him in weakness and hardship upon weakness and hardship,) Mujahid said: "The hardship of bearing the child." Qatadah said: "Exhaustion upon exhaustion." `Ata' Al-Khurasani said: "Weakness upon weakness."وَفِصَالُهُ فِى عَامَيْنِ(and his weaning is in two years) means, after he is born, he is breastfed and weaned within two years. This is like the Ayah,وَالْوَلِدَتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَـدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ(The mothers shall give suck to their children for two whole years, for those who desire to complete the term of suckling)(2:233). On this basis, Ibn `Abbas and other Imams understood that the shortest possible period of pregnancy was six months, because Allah says elsewhere:وَحَمْلُهُ وَفِصَـلُهُ ثَلاَثُونَ شَهْراً(and the bearing of him, and the weaning of him is thirty months) (46:15). Allah mentions how the mother brings the child up, and how she gets tired and suffers stress from staying up with the child night and day, to remind the son of her previous kind treatment of him. This is like the Ayah,وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًا(and say: "My Lord! Bestow on them Your mercy as they did bring me up when I was young.") (17:24). Allah says here:أَنِ اشْكُرْ لِى وَلِوَلِدَيْكَ إِلَىَّ الْمَصِيرُ(give thanks to Me and to your parents. Unto Me is the final destination.) means, `I will reward you most generously for that.'وَإِن جَـهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا(But if they strive with you to make you join in worship with Me others that of which you have no knowledge, then obey them not;) means, if they try hard to make you follow them in their religion, then do not accept that from them, but do not let that stop you from behaving with them in the world kindly, i.e. treating them with respect.وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَىَّ(and follow the path of him who turns to Me in repentance and in obedience.) means, the believers.ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ(Then to Me will be your return, and I shall tell you what you used to do.) At-Tabarani recorded in Al-`Ishrah that Sa`d bin Malik said, "This Ayah,وَإِن جَـهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْهُمَا(But if they strive with you to make you join in worship with Me others that of which you have no knowledge, then obey them not;) was revealed concerning me. I was a man who honored his mother, but when I became Muslim, she said: `O Sa`d! What is this new thing I see you doing Leave this religion of yours, or I will not eat or drink until I die, and people will say: Shame on you, for what you have done to me, and they will say that you have killed your mother.' I said, `Do not do that, O mother, for I will not give up this religion of mine for anything.' She stayed without eating for one day and one night, and she became exhausted; then she stayed for another day and night without eating, and she became utterly exhausted. When I saw that, I said: `O my mother, by Allah, even if you had one hundred souls and they were to depart one by one, I would not give up this religion of mine for anything, so if you want to, eat, and if you want to, do not eat.' So she ate."

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت و وصیت ٭٭حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا ہے کہ ” انکو حکمت عنایت فرمائی گئی تھی “۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ ”صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بے حیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔‏“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ جب آیت «ااَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» [6-الأنعام:82] ‏ اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو؟ اور آیت میں ہے کہ ” ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں “۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے ۔ [صحیح بخاری:4629] ‏صفحہ نمبر6851اس پہلی وصیت کے بعد لقمان دوسری وصیت کرتے ہیں اور وہ بھی درجے اور تاکید کے لحاظ سے واقعی ایسی ہی ہے کہ اس پہلی وصیت سے ملائی جائے، یعنی ”ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرنا۔‏“ جیسے فرمان جناب باری ہے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» [17-الإسراء:23] ‏، یعنی ” تیرا رب یہ فیصلہ فرما چکا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک و احسان کرتے رہو “۔ عموماً قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے «وَھْنٌ» کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» [2-البقرة:233] ‏ الخ، یعنی ” جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لیے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں “۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» [46-الأحقاف:15] ‏ یعنی ” مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے “۔ اس لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ ”حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔‏“ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لیے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کر کے شکر گزاری، اطاعت اور احسان کرے۔ جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت «وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا» [17-الإسراء:24] ‏ ” ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم و کرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے “۔ یہاں فرمایا ” تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا “۔صفحہ نمبر6852ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر بنا کر بھیجا آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ پیغام لے کر تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو میری باتیں مانتے رہو میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہ کرونگا۔ سب کو لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے۔ پھر یا تو جنت مکان بنے گی یا جہنم ٹھکانا ہو گا۔ پھر وہاں سے نہ اخراج ہو گا نہ موت آئے گی“ ۔ [مستدرک حاکم:83/1] ‏صفحہ نمبر6853پھر فرماتا ہے کہ ” اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں، گو وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں خبردار! تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تم ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنا چھوڑ دو نہیں دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ ان کے ہیں ادا کرتے رہو۔ ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع ہو چکے ہیں۔ سن لو! تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا “۔ طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ”میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو! میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی۔ میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کر دیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوازہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لیے اپنی ضد سے باز آ جاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گزر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو! تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ! ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کر کے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کر دیا۔‏“صفحہ نمبر6854

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 15 وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌلا فَلَا تُطِعْہُمَا ”یہاں والدین کے اپنی اولاد کو شرک پر مجبور کرنے کے حوالے سے ”جہاد“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ جس کے معنی انتہائی کوشش کے ہیں۔ چناچہ اس لفظ میں والدین کی طرف سے اپنا موقف منوانے کے لیے لڑنے جھگڑنے اور ہر طرح سے دباؤ ڈالنے کا مفہوم موجود ہے۔ البتہ یہاں بہت واضح انداز میں بتادیا گیا ہے کہ والدین کے تمام تر تقدس اور احترام کے باوجود انہیں اپنی حدود سے تجاوز کرنے اور اللہ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت کسی صورت میں نہیں دی جائے گی۔ چناچہ اگر والدین اپنی اولاد کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے پر مجبور کرنے لگیں تو اولاد ان کے اس حکم کی تعمیل کسی قیمت پر نہیں کرے گی۔ اس حوالے سے یہ اہم نکتہ بھی ذہن نشین کرلیجیے کہ یہ حکم صرف بت پرستی کی ممانعت تک محدود نہیں بلکہ لَا تُشْرِکْ باللّٰہِ کے الفاظ میں ہر قسم کے شرک کی مطلق ممانعت ہے ‘ بلکہ یوں سمجھنا چاہیے کہ اگر والدین اللہ تعالیٰ کے کسی بھی حکم کو توڑنے کا کہہ رہے ہوں تو گویا وہ شرک ہی کا حکم دے رہے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کے مقابلے میں کسی دوسرے کو مطاع ماننا گویا اسے معبود بنا لینے کے مترادف ہے۔ جیسے اگر کوئی شخص اپنے نفس کے اکسانے پر حرام میں منہ مارتا ہے یعنی اللہ کے حکم کو چھوڑ کر اپنے نفس کی بات مانتا ہے تو گویا اس نے حرام دولت کو اور اپنے نفس کو معبود کا درجہ دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن حکیم کا حکم بہت واضح ہے : اَرَءَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰٹہُط اَفَاَنْتَ تَکُوْنُ عَلَیْہِ وَکِیْلًا الفرقان ”کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے ! تو اے نبی ﷺ ! کیا آپ ایسے شخص کی ذمہ داری لے سکتے ہیں ؟“ شرک جیسے حساس مسئلے کو بہت زیادہ احتیاط اور اہتمام کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شرک کا محدود مفہوم سامنے رکھ کر اس کے بہت سے دوسرے پہلوؤں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ الحمد للہ ! اس موضوع پر میں نے تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے۔ ”حقیقت و اقسام شرک“ کے موضوع پر میری چھ گھنٹے کی تقاریر کی ریکارڈنگ موجود ہے۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ان تقاریر سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ان تقاریر کو اسی موضوع کے تحت کتابی صورت میں شائع بھی کیا جا چکا ہے۔ وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًاز ”ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے احکام کے اندر کس قدر خوبصورت توازن پایا جاتا ہے۔ ایک طرف والدین کے حقوق ادا کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے ‘ جبکہ دوسری طرف ان کے حقوق کی حد بھی مقرر کردی گئی ہے۔ پھر ایسا بھی نہیں کہ اگر والدین کافر یا مشرک ہیں تو ان کے تمام حقوق ہی ساقط ہوجائیں ‘ بلکہ ایسی صورت میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ یعنی اگر والدین مشرک ہیں تو بھی ان کی خدمت کرو ‘ ان کی ضروریات کا خیال رکھو اور ان کے مؤدّب بن کر رہو۔ البتہ اگر وہ شرک پر مجبور کریں یا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کا حکم دیں تو ان کا یہ مطالبہ نہ مانا جائے اور اس حوالے سے بھی انکار کرتے ہوئے ان کے ساتھ بد تمیزی نہ کی جائے۔ وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ج ”قرآن مجید میں جہاں بھی والدین کے حقوق کی بات ہوئی ہے وہاں ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے جبکہ ان کی اطاعت کرنے کا حکم کہیں بھی نہیں دیا گیا۔ بہر حال اگر والدین کی اطاعت ہوگی بھی تو اللہ کی اطاعت کے دائرے کے اندر رہ کر ہی ہوگی۔ البتہ جہاں تک اتباع اور پیروی کا تعلق ہے تو وہ صرف اسی شخص کی جائز ہے جو ہر طرف سے منہ موڑ کر کلیّ طور پر اللہ کی اطاعت میں آچکا ہو۔ جب تک نبوت کا تسلسل قائم تھا تو یہ بات انبیاء کرام علیہ السلام پر صادق آتی تھی۔ اب ختم نبوت کے بعد امت میں سے جو شخص بھی اللہ کی اطاعت اور حضور ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے لوگوں کو دین کی طرف بلائے اس آیت کی رو سے اس کا اتباع کرنا اور اس کا ساتھ دینا ضروری ہے۔ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ”آخر کار تم سب نے میرے پاس ہی آنا ہے ‘ والدین کو بھی میرے حضور حاضر ہونا ہے اور ان کی اولاد کو بھی۔ ان میں سے جس نے جو کیا ہوگا ‘ وہ سب کچھ اسے دکھا دیا جائے گا۔اب اگلی آیت میں حضرت لقمان کی دوسری نصیحت کا ذکر ہے۔ ان کی پہلی نصیحت آیت 13 میں بیان ہوئی ہے۔ اس کے بعد دو آیات میں والدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

صَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُ‌وفًا (And be with them, in this world, with due fairness - 15).It means: 'In the matter of the contravention of your faith and religion, do not obey parents. But, when it comes to worldly matters, such as serving parents physically or financially or in any other way necessary, do not fall short about it. Instead, deal with them in mundane matters according to recognized custom. Show no disrespect to them. Do not respond to what they say in a manner that hurts them unnecessarily. In other words, the pain you cause them by not accepting their insistence on Shirk and Kufr is something you will have to bear by, since you have no choice there. But, let this necessity stay within its functional limits and keep abstaining from causing any pain to them in other matters.'Special NoteAs for the weaning period of two years for a child mentioned in the verse, it is in accordance with customary practice. It carries no clarification concerning the injunction relevant to any additional period of suckling the child. A detailed explanation of this issue will, insha'Allah, appear under the commentary on the verse: وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرً‌ا (And his carrying and weaning is (in) thirty months - A1-Ahgaf, 46:15).

Historical Context: Luqman the Wise — Wisdom Beyond Prophecy Ancient (exact period disputed)

Luqman is the subject of an entire Surah (31) of the Quran. He was a man given divine wisdom — not a prophet but a wise man whose counsel to his son is preserved in the Quran as universal ethical guidance: do not associate partners with Allah, be dutiful to parents, know that even a mustard seed of good or evil will be brought forth, establish prayer, command good and forbid evil, and do not be arrogant in your walk. Luqman is associated by many scholars with an Ethiopian or Sudanese sage, or identified with the biblical figure of Balaam.

🏛️ Civilization: Ancient African / Near Eastern
📍 Region: Africa (Ethiopia/Sudan region) or Ancient Near East
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.