Surah Ar-Rum • Ayah 31
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Command to adhere to TawhidAllah says: `so set your face and persevere in the religion which Allah has prescribed for you, the worship of Allah Alone, the religion of Ibrahim, to which Allah has guided you and which He has perfected for you with the utmost perfection. In this manner, you will also adhere to the sound Fitrah with which He created His creation.' Allah created His creation to recognize Him and know His Tawhid, and that there is no God except Him, as we have already seen when discussing the Ayah,وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَلَسْتَ بِرَبِّكُمْ قَالُواْ بَلَى(and made them testify as to themselves (saying): "Am I not your Lord" They said: "Yes!...") (7:172). And according to a Hadith, Allah said,«إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ، فَاجْتَالَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ عَنْ دِينِهِم»("I created my servants Hunafa (i.e., monotheists), then the Shayatin misled them from their religion.") We will see in the Hadiths that Allah created His creation with the Fitrah of Islam, then among some of them there emerged corrupt religions such as Judaism, Christianity and Zoroastrianism.لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ(No change let there be in Allah's Khalq,) Some of them said that this means, `do not change the creation of Allah, for if you do, you will divert the people away from the Fitrah with which He created them.' So it is instructive; just as His saying:وَمَن دَخَلَهُ كَانَ ءَامِناً(And whoever enters it, he is safe) This is a good and correct interpretation. Others said that this means, Allah made all of His creation equal, all of them have the same sound Fitrah and are by nature upright; they are all born with this nature and there is no disparity among people in this regard. Ibn `Abbas, Ibrahim An-Nakha`i, Sa`id bin Jubayr, Mujahid, `Ikrimah, Qatadah, Ad-Dahhak and Ibn Zayd said that the Ayah:لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ(No change let there be in Allah's Khalq) means, the religion of Allah. Al-Bukhari said:لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ(No change let there be in Allah's Khalq,) "It means, the religion of Allah, and the religion, and the Fitrah is Islam." Then he reported that Abu Hurayrah said, "The Messenger of Allah ﷺ said:«مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ،كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟»(No child is born except in a state of Fitrah, then his parents make him a Jew or a Christian or a Zoroastrian, just as each animal produces a perfect animal like itself -- do you see any among them that are born mutilated) then the narrator (Abu Hurayrah) said (recite this Ayah),فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِى فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لاَ تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ(Allah's Fitrah with which He has created mankind. No change let there be in Allah's Khalq, that is the straight religion.)" This was also recorded by Muslim.ذلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ(that is the straight religion,) means, adherence to the Shari`ah and the sound Fitrah is the true, straight religion.وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ(but most men know not.) means, most people do not know this and they deviate far astray from it, as Allah says:وَمَآ أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ(And most of mankind will not believe even if you desire it eagerly.) (12:103)وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى الاٌّرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ(And if you obey most of those on the earth, they will mislead you far away from Allah's path) (6:116).مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ(turning in repentance to Him) Ibn Zayd and Ibn Jurayj said, "This means, returning to Him."وَاتَّقُوهُ(and have Taqwa of Him;) means, fear Him and remember that He is always watching.وَأَقِيمُواْ الصَّلَوةَ(and perform the Salah), which is the greatest act of worship.)وَلاَ تَكُونُواْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ(and be not of the idolators.) Be of those who single out Allah, devoting their worship sincerely for Him alone, not anyone or anything other than Him. Ibn Jarir recorded that Yazid bin Abi Maryam said: "`Umar, may Allah be pleased with him, passed by Mu`adh bin Jabal and asked, `What is the foundation of this Ummah' Mu`adh said, `Three things, and they are the things that will bring salvation: Al-Ikhlas (doing a deed for Allah alone), which is the Fitrah with which Allah created mankind; Salah, which is the thing that tells a believer apart from a disbeliever; and obedience, which is protection.' `Umar said: `You have spoken the truth.Splitting into Sects and the Saved SectHis saying:مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعاً كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ(Of those who Farraqu Dinahum (split up their religion), and became sects, each sect rejoicing in that which is with it.) means, do not be of the idolators who split up their religion, i.e., changed it by believing in parts of it and rejecting other parts. Some scholars read this as Faraqu Dinahum, meaning "neglected their religion and left it behind them." These are like the Jews, Christians, Zoroastrians, idol worshippers and all the followers of false religions, besides the followers of Islam, as Allah says:إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ إِنَّمَآ أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ(Verily, those who divide their religion and break up into sects, you have no concern in them in the least. Their affair is only with Allah) (6:159). The followers of the religions before us had differences of opinions and split into false sects, each group claiming to be following the truth. This Ummah too has split into sects, all of which are misguided apart from one, which is Ahlus-Sunnah Wal-Jama`ah, those who adhere to the Book of Allah and the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ and what was followed by the first generations, the Companions, their followers, and the Imams of the Muslims of earlier and later times. In his Mustadrak, Al-Hakim recorded that the Messenger of Allah ﷺ was asked which of the sects was the saved sect and he said:«مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي»(What I and my Companions are upon.)
بچہ اور ماں باپ ٭٭” ملت ابراہیم حنیف پر جم جاؤ جس دین کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مقرر کر دیا ہے اور جسے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہاتھ پر اللہ نے کمال کو پہنچایا ہے “۔ رب کی فطرت سلیمہ پر وہی قائم ہے جو اس دین اسلام کا پابند ہے۔ اسی پر یعنی توحید پر رب نے تمام انسانوں کو بنایا ہے۔ روز اول میں اسی کا سب سے اقرار کرا لیا گیا تھا کہ «وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى» ” کیا میں سب کا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے اقرار کیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے “۔ [7-الأعراف:172] وہ حدیثیں عنقریب ان شاءاللہ بیان ہونگی جن سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جملہ مخلوق کو اپنے سچے دین پر پیدا کیا ہے گو اس کے بعد لوگ یہودیت نصرانیت وغیرہ پر چلے گئے۔ ” لوگو! اللہ کی اس فطرت کو نہ بدلو۔ لوگوں کو اس راہ راست سے نہ ہٹاؤ “۔ تو یہ خبر معنی میں امر ہوگی جیسے آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» ۔ [3-آل عمران:97] میں یہ معنی نہایت عمدہ اور صحیح ہیں۔ دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو فطرت سلیمہ پر یعنی دین اسلام پر پیدا کیا۔ رب کے اس دین میں کوئی تبدل و تغیر نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہی معنی کئے ہیں کہ ”یہاں خلق اللہ سے مراد دین اور فطرت اسلام ہے۔“ [صحیح بخاری:تفسیر سورۃ الروم] ۔صفحہ نمبر6789بخاری شریف میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ ہوتا ہے جس کے کان لوگ کتر دیتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» [صحیح بخاری:4775] مسند احمد میں ہے اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے۔ اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے ۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا، نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنا لیتے ہیں ۔ [مسند احمد:435/3:صحیح] صفحہ نمبر6790سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آ جائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر ۔ [مسند احمد:353/3:ضعیف] ۔ مسند میں بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضور علیہ السلام سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کیا اعمال کرنے والے ہیں ۔ [صحیح بخاری:1383] ۔ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک زمانہ میں میں کہتا تھا مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ ہے اور مشرکوں کی اولاد مشرکوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ فلاں شخص نے فلاں سے روایت کر کے مجھے سنایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ خوب عالم ہے اس چیز سے جو وہ کرتے ۔ اس حدیث کو سن کر میں نے اپنا فتویٰ چھوڑ دیا [مسند احمد:73/5:صحیح] ۔ عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ مجھے جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ جو اس نے مجھے آج سکھایا ہے اور اس سے تم جاہل ہو وہ میں تمہیں سکھا دوں ۔ فرمایا کہ ” جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے میں نے ان کے لیے حلال کیا ہے میں نے اپنے سب بندوں کو یک طرفہ خالص دین والا بنایا ہے،ان کے پاس شیطان پہنچتا ہے اور انہیں دین سے گمراہ کرتا ہے اور حلال کو ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں میرے ساتھ شریک کرنے کو کہتا ہے جس کی کوئی دلیل نہیں “ ۔صفحہ نمبر6791 اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نگاہ ڈالی اور عرب وعجم سب کو ناپسند فرمایا سوائے چند اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے۔ وہ فرماتا ہے کہ ” میں نے تجھے صرف آزمائش کے لیے بھیجا ہے تیری اپنی بھی آزمائش ہوگی اور تیری وجہ سے اور سب کی بھی میں تو تجھ پر وہ کتاب اتارونگا جسے پانی دھو نہ سکے تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا “۔ پھر مجھ سے جناب باری عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ میں قریش کو ہوشیار کر دوں میں نے اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ میرا سر کچل کر روٹی جیسا نہ بنادیں؟ تو فرمایا ” سن جیسے یہ تجھے نکالیں گے میں انہیں نکالونگا تو ان سے جہاد کر میں تیرا ساتھ دونگا تو خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ تو لشکر بھیج میں اس سے پانچ حصے زیادہ لشکر بھیجوں گا فرمانبرداروں کو لیکر اپنے نافرمانوں پر چڑھائی کر دے “ ۔ اہل جنت تین قسم کے ہیں عادل بادشاہ توفیق خیر والا سخی۔ نرم دل ہر مسلمان کے ساتھ سلوک احسان کرنے والا پاک دامن، سوال اور حرام سے بچنے والا عیالدار آدمی،۔ اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں وہ بے وقعت،کمینے لوگ جو بے زر اور بے گھر ہیں جو تمہارے دامنوں میں لپٹے رہتے ہیں۔ وہ خائن جو حقیر چیزوں میں بھی خیانت کئے بغیر نہیں رہتا۔ وہ لوگ جو ہر وقت لوگوں کو ان کی جان مال اور اہل و عیال میں دھوکے دیتے رہتے ہیں صبح شام چالبازیوں اور مکر و فریب میں لگے رہتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیلی یا کذاب کا ذکر کیا اور فرمایا پانچوں قسم کے لوگ بدزبان بدگو ہیں ۔ [صحیح مسلم:2765] صفحہ نمبر6792یہی فطرت سلیمہ یہی شریعت کو مضبوطی سے تھامے رہنا ہی سچا اور سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں۔ اور اپنی اسی جہالت کی وجہ سے اللہ کے ایسے پاک دین سے دور بلکہ محروم رہ جاتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ” گو تیری حرص ہو لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے “۔ [12-يوسف:103] ایک اور آیت میں ہے «وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ» [6-الأنعام:116] ” اگر تو اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے راہ اللہ سے بہکا دیں گے “۔ ” تم سب اللہ کی طرف راغب رہو، اسی کی جانب جھکے رہو، اسی کا ڈر خوف رکھو اور اسی کا لحاظ رکھو۔ نمازوں کی پابندی کرو جو سب سے بڑی عبادت اور اطاعت ہے۔ تم مشرک نہ بنو بلکہ موحد اور خالص بن جاؤ اس کے سوا کسی اور سے کوئی مراد وابستہ نہ رکھو “۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ تین چیزیں ہیں اور یہی نجات کی جڑیں ہیں اول اخلاص جو فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے دوسرے نماز جو دراصل دین ہے تیسرے اطاعت جو عصمت اور بچاؤ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:183/10:] تمہیں مشرکوں میں نہ ملنا چاہیئے تمہیں ان کا ساتھ نہ دینا چاہیئے اور نہ ان جیسے فعل کرنا چاہیئے جنہوں نے دین اللہ کو بدل دیا بعض باتوں کو مان لیا اور بعض سے انکار کر گئے «فَرَّقُوا» کی دوسری قرأت «فَارَقُوْا» ہے یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑ دیا۔ جیسے یہود، نصاری، مجوسی، بت پرست اور دوسرے باطل مذاہب والے۔ جیسے ارشاد ہے «إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُون» [6-الأنعام:159] ” جن لوگوں نے اپنے دین میں تفریق کی اور گروہ بندی کر لی تو ان میں شامل ہی نہیں ان کا انجام سپرد اللہ ہے “۔ ” تم سے پہلے والی قومیں گروہ گروہ ہو گئیں تھی “۔ سب کی سب باطل پر جم گئیں اور ہر فرقہ یہی دعویٰ کر تا رہا کہ وہ سچا ہے دراصل حقانیت ان سب سے گم ہوگئی تھی اس امت میں بھی تفرقہ پڑا لیکن ان میں ایک حق پر ہے ہاں باقی سب گمراہی پر ہیں۔ یہ حق والی جماعت اہل سنت والجماعت ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مضبوط تھامنے والی ہے۔ جس پر سابقہ زمانے کے صحابہ، تابعین اور ائمہ مسلمین تھے گزشتہ زمانے میں بھی اور اب بھی۔ جیسے مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ان سب میں نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ وَأَصْحَابِي» یعنی وہ لوگ جو اس پر ہوں جس پر آج میں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں ۔ [سنن ترمذي:2641] (برادران غور فرمائیے کہ وہ چیز جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے وہ وحی اللہ یعنی قرآن و حدیث ہی تھی یا کسی امام کی تقلید؟)صفحہ نمبر6793
آیت 31 مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ”یہاں مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ کے الفاظ میں گویا پچھلی آیت کے مضمون فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًا ط کا ہی تسلسل ہے۔ پچھلی آیت میں صیغہ واحد میں حضور ﷺ سے خطاب تھا اور اب جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے اس حکم میں امت کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ قرآن کے اس اسلوب کا قبل ازیں کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ مکی سورتوں میں اکثر مقامات پر حضور ﷺ سے صیغہ واحد کے پردے میں اصل خطاب امت سے ہی ہوتا ہے۔
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (And establish Salah, and do not be among those who associate partners with Allah - 30:31). In the previous verse it was mentioned that the human nature is designed in a manner that it has an inherent capability to accept the Truth. Now in this verse it is emphasized that establishment of prayer is the first requisite for the acceptance of Truth, because it is the manifestation of submission to Truth and practical affirmation of Faith in Islam. After that, it is said وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (30:31), that is, ` Do not join those indulging in shirk (associating others with Allah), because they did not avail of their natural capability to accept the Truth. Their misdeeds are mentioned in the next verse which says,
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.