Surah Ar-Rum • Ayah 26
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
وَلَهُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ(To Him belongs whatever is in the heavens and the earth.) means, He owns it and it is enslaved to Him.كُلٌّ لَّهُ قَـنِتُونَ(All are obedient to Him.) they are humble before Him and submit to Him, whether willingly or unwillingly.Repeating the Creation is easier for AllahAllah's saying:وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ(And He it is Who originates the creation, then He will repeat it; and this is easier for Him.) Ibn Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said, "This means it is easier for Him." Mujahid said: "Repeating it is easier for Him than originating it, and originating it is easy for Him." This was also the view of `Ikrimah and others. Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said that the Prophet said:«قَالَ اللهُ: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي وَلَيْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا، وَأَنَا الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَد»(Allah says; "The son of Adam denied Me, and he had no right to do so. And he reviled Me, and he had no right to do so. As for his denying Me, it is his saying: `He will not remake me as He originated me' -- while originating the creation is not easier for Me than re-creating him. As for his reviling Me, it is his saying: `Allah has taken to Himself a son,' while I am the One, the Self-Sufficient Master; I beget not, nor was I begotten, and there is none comparable to Me.") This was recorded only by Al-Bukhari.وَلَهُ الْمَثَلُ الأَعْلَى فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ(His is the highest description in the heavens and in the earth. ) `Ali bin Abi Talhah reported Ibn `Abbas said, "This is like the Ayah:لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَىْءٌ(There is nothing like Him) (42:11)." Qatadah said: "His description is La ilaha illallah, and there is no Lord but He."
جس کا کوئی ہمسر نہیں ٭٭فرماتا ہے کہ ” تمام آسمانوں اور ساری زمینوں کی مخلوق اللہ ہی کی ہے، سب اس کے لونڈی غلام ہیں۔ سب اسی کی ملکیت ہیں، ہر ایک اس کے سامنے عاجز ولاچار مجبور و بے بس ہیں “۔ ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں قنوت کا ذکر ہے وہاں مراد اطاعت وفرمانبردای ہے ۔ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ابتدائی پیدائش بھی اسی نے کی اور وہی اعادہ بھی کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے عادتاً آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اور اسے یہ چاہیئے نہیں تھا۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اور یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اس نے مجھے اولاً پیدا کیا اس طرح دوبارہ پیدا کر نہیں سکتا؟ حالانکہ دوسری مرتبہ کی پیدائش پہلی دفعہ کی پیدائش سے بالکل آسان ہوا کرتی ہے۔ اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں احد اور صمد ہوں۔ جس کی نہ اولاد نہ ماں باپ اور جس کا کوئی ہمسر نہیں۔ “ [صحیح بخاری:4974] ۔ الغرض دونوں پیدائشیں اس مالک کی قدر کی مظہر ہیں نہ اس پر کوئی کام بھاری نہ بوجھل۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ «ھُوَ» کی ضمیر کا مرجع «خَلْقُ» ہو۔ «مَثَلُ» سے مراد یہاں اس کی توحید الوہیت اور توحید ربوبیت ہے نہ کہ مثال۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مثال سے پاک ہے فرمان ہے آیت «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» [42-الشورى:11] ” اس کی مثال کوئی اور نہیں “۔ بعض اہل ذوق نے کہا ہے کہ جب صاف شفاف پانی کا ستھرا پاک صاف حوض ٹھہرا ہوا ہو اور باد صبا کے تھپیڑے اسے ہلاتے جلاتے نہ ہوں اس وقت اس میں آسمان صاف نظر آتا ہے سورج اور چاند ستارے بالکل دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح بزرگوں کے دل ہیں جن میں وہ اللہ کی عظمت وجلال کو ہمیشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس پر کسی کا بس نہیں نہ اس کے سامنے کسی کی کچھ چل سکے ہرچیز اس کی ماتحتی میں اور اس کے سامنے پست و لاچار عاجز و بے بس ہے۔ اس کی قدرت، سطوت، سلطنت ہرچیز محیط ہے۔ وہ حکیم ہے اپنے اقوال، افعال، شریعت، تقدیر، غرض ہر ہر امر میں۔ محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «مَثَلُ الْاَعْلی» سے مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔صفحہ نمبر6784
آیت 25 وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ ط ”ہماری زمین ‘ سورج ‘ نظام شمسی اور چھوٹے بڑے بیشمار ستاروں اور سیاروں کا ایک عظیم الشان اور لامتناہی نظام بھی اس کی قدرت کے مظاہر میں سے ہے۔ آج کا انسان جانتا ہے کہ اس نظام کے اندر ایسے ایسے ستارے بھی ہیں جن کے مقابلے میں ہمارے سورج کی جسامت کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ یہ اتنے بڑے بڑے اجرام سماویہ اللہ ہی کے حکم سے اپنے اپنے مدار پر قائم ہیں اور یوں اس کی مشیت سے کائنات کا یہ مجموعی نظام چل رہا ہے۔ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمْ دَعْوَۃً ق مِّنَ الْاَرْضِق اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ ”قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ کی شان ”کُن فیکُون“ کا ظہور ہوگا اور اس کے ایک ہی حکم سے پوری نسل انسانی زمین سے باہر نکل کر اس کے حضور حاضر ہوجائے گی۔
Sixth sign of divine omnipotenceExistence of the sky and earth is by the command of Allah. When He will command the breakup of this system, this strong arrangement, which is working since thousands of years perfectly without a slight depreciation, will end up in no time. Then by the command of Allah all the dead will assemble in the plain for reckoning.The sixth sign of divine omnipotence is in fact the sum and substance of the previous five signs, and they were in fact revealed to explain and elaborate this verse. The subject of this verse continues in the next few verses.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.