Surah Ali 'Imran • Ayah 166
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Reason and Wisdom Behind the Defeat at UhudAllah said,أَوَ لَمَّا أَصَـبَتْكُمْ مُّصِيبَةٌ(When a single disaster smites you), in reference to when the Muslims suffered seventy fatalities during the battle of Uhud,قَدْ أَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَا(although you smote (your enemies) with one twice as great,) during Badr, when the Muslims killed seventy Mushriks and captured seventy others,قُلْتُمْ أَنَّى هَـذَا(you say: "From where does this come to us") why did this defeat happen to usقُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ(Say, "It is from yourselves.") Ibn Abi Hatim recorded that `Umar bin Al-Khattab said, "When Uhud occurred, a year after Badr, Muslims were punished for taking ransom from the disbelievers at Badr in return for releasing the Mushriks whom they captured in that battle. Thus, they suffered the loss of seventy fatalities and the Companions of the Messenger of Allah gave flight and abandoned him. The Messenger suffered a broken tooth, the helmet was smashed on his head and blood flowed onto his face. Allah then revealed,أَوَ لَمَّا أَصَـبَتْكُمْ مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَـذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ(When a single disaster smites you, although you smote (your enemies) with one twice as great, you say: "From where does this come to us" Say, "It is from yourselves".), because you took the ransom." Furthermore, Muhammad bin Ishaq, Ibn Jurayj, Ar-Rabi` bin Anas and As-Suddi said that the Ayah,قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنْفُسِكُمْ(Say, "It is from yourselves.") means, because you, the archers, disobeyed the Messenger's command to not abandon your positions.إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ(And Allah has power over all things.) and He does what He wills and decides what He wills, and there is none who can resist His decision.Allah then said,وَمَآ أَصَـبَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ(And what you suffered on the day the two armies met, was by the leave of Allah), for when you ran away from your enemy, who killed many of you and injured many others, all this occurred by Allah's will and decree out of His perfect wisdom,وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ(in order that He might test the believers.) who were patient, firm and were not shaken,وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُواْ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ قَاتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُواْ قَالُواْ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ(And that He might test the hypocrites, it was said to them: "Come, fight in the way of Allah or defend yourselves." They said: "Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.") 3:167,This refers to the Companions of `Abdullah bin Ubayy bin Salul who went back (to Al-Madinah) with him before the battle. Some believers followed them and encouraged them to come back and fight, saying,أَوِ ادْفَعُواْ(or defend), so that the number of Muslims increases, as Ibn `Abbas, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Ad-Dahhak, Abu Salih, Al-Hasan and As-Suddi stated. Al-Hasan bin Salih said that this part of the Ayah means, help by supplicating for us, while others said it means, man the posts. However, they refused, saying,لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ("Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.") meaning, according to Mujahid, if we knew that you would fight today, we would join you, but we think you will not fight. Allah said,هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَـنِ(They were that day, nearer to disbelief than to faith,)This Ayah indicates that a person passes through various stages, sometimes being closer to Kufr and sometimes closer to faith, as evident by,هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَـنِ(They were that day, nearer to disbelief than to faith,)Allah then said,يَقُولُونَ بِأَفْوَهِهِم مَّا لَيْسَ فِى قُلُوبِهِمْ(saying with their mouths what was not in their hearts.) for they utter what they do not truly believe in, such as,لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً لاَّتَّبَعْنَـكُمْ("Had we known that fighting will take place, we would certainly have followed you.")They knew that there was an army of idolators that came from a far land raging against the Muslims, to avenge their noble men whom the Muslims killed in Badr. These idolators came in larger numbers than the Muslims, so it was clear that a battle will certainly occur. Allah said;وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ(And Allah has full knowledge of what they conceal.)الَّذِينَ قَالُواْ لإِخْوَنِهِمْ وَقَعَدُواْ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا((They are) the ones who said about their killed brethren while they themselves sat (at home): "If only they had listened to us, they would not have been killed.") had they listened to our advice and not gone out, they would not have met their demise. Allah said,قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ(Say: "Avert death from your own selves, if you speak the truth.") meaning, if staying at home saves one from being killed or from death, then you should not die. However death will come to you even if you were hiding in fortified castles. Therefore, fend death off of yourselves, if you are right.Mujahid said that Jabir bin `Abdullah said, "This Ayah 3:168 was revealed about `Abdullah bin Ubayy bin Salul (the chief hypocrite)."
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے ٭٭یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے اور اس سے دوگنی مصیبت مسلمانوں نے کافروں کو پہنچائی تھے بدر والے ستر کافر قتل کیے گئے تھے اور ستر قید کیے گئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آ گئی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑ گئی، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ [مسند احمد: 1 /31-30] [ ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل ] صفحہ نمبر1376سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کر لینے کا حکم دیجئیے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہو گی حضور علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت، قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے؟ چنانچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8190:صحیح] [ ترمذی نسائی ] صفحہ نمبر1377پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہرچیز قادر ہے جو چاہے کرے، جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔ دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہو جائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے۔صفحہ نمبر1378ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنونِ جنگ سے بے خبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں؟ لوگو کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بنو سلمہ کے بھائی ہر چند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو، اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنا دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آ گئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مددگار ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8192] صفحہ نمبر1379جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہو جاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقیناً جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے۔صفحہ نمبر1380پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہیئے کہ تم مرو ہی نہیں اس لیے کہ تم گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہو جاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:383/7] صفحہ نمبر1381
آیت 166 وَمَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ اللہ کے اذن کے بغیر تو یہ تکلیف نہیں آسکتی تھی۔وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔یہ ظاہر ہوجائے کہ کون ہیں اصل مؤمن ‘ حقیقی مؤمن جو صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ‘ ہیں۔
Immediately later, in verse 166, the words fa bi idhnillahi: فَبِإِذْنِ اللَّـه indicate that whatever happened there was with the leave and will of Allah Almighty operating behind which are many wise divine arrangements, some of them having been explained earlier. One such wise arrangement is that Allah will 'see' His true believers, and the hypocrites too, that is, the sincerity of Muslims and the hypocrisy of the hypocrites will become so clear that everybody could see it for himself. Here, the reference to Allah's knowing or seeing means seeing in the perspective of our own sense-experience in the mortal world. Otherwise, as far as Allah is concerned, He knows and sees everything, all the time. So, the wise arrangement became all the more clear when, at the time of the trial, the hypocrites bowed out of the harm's way while true Muslims stood undaunted' in the middle of the battle front.
In 3 AH (625 CE), the Quraysh returned with 3,000 fighters to avenge Badr. The Muslim archers on Mount Uhud left their positions after initial victory (disobeying the Prophet's clear order) to collect booty. The Qurayshi cavalry under Khalid ibn Walid attacked from the exposed flank, turning victory into a reversal. Seventy Muslims were martyred including Hamzah ibn Abd al-Muttalib. The Quran (3:139-180) extensively analyzes the lessons: don't disobey commanders, don't be deceived by worldly gain, and reversal is sometimes a divine teaching.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.