Surah Al-'Ankabut • Ayah 57
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Advice to migrate and the Promise of Provision and a Goodly RewardAllah commands His believing servants to migrate from a land in which they are not able to establish Islam, to the spacious earth of Allah where they can do so, by declaring Allah to be One and worshipping Him as He has commanded. Allah says:يَعِبَادِىَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِنَّ أَرْضِى وَاسِعَةٌ فَإِيَّاىَ فَاعْبُدُونِ(O My servants who believe! Certainly, spacious is My earth. Therefore worship Me.) When things became too difficult for the believers in Makkah who were in a weak position and were oppressed, they left and migrated to Ethiopia, where they were able to practice their religion. The Muslims found Ethiopia the best place for guest; where Ashamah, the Negus or king, may Allah have mercy on him, gave them refuge, helped them, supported them, and honored them in his land. Later, the Messenger of Allah ﷺ and his remaining Companions migrated to Al-Madinah, formerly known as Yathrib, may Allah protect it. Then Allah says:كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ(Everyone shall taste death. Then unto Us you shall be returned.) meaning, `wherever you are, death with catch up with you, so always obey Allah and be where Allah commands you to be, for this is better for you. Death is inevitable and there is no escape from it, and then you will return to Allah, and whoever was obedient to Him will have the best reward.' Allah says:وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَـتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفَاً تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الاٌّنْهَـرُ(And those who believe and do righteous good deeds, to them We shall surely give lofty dwellings in Paradise, underneath which rivers flow,) meaning, `We shall cause them to dwell in lofty homes in Paradise under which various kinds of rivers flow -- water, wine, honey and milk -- which they can direct and cause to flow wherever they wish.'خَـلِدِينَ فِيهَآ(to live therein forever.) means, they will remain there forever, never wanting to leave.نِعْمَ أَجْرُ الْعَـمِلِينَ(Excellent is the reward for the workers.) these rooms will be a blessed reward for the good deeds of the believers,الَّذِينَ صَبَرُواْ(Those who are patient,) in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise. Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu`aniq Al-Ash`ari that Abu Malik Al-Ash`ari told him that the Messenger of Allah ﷺ told him:«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَطَابَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَام»(In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep.)وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ(and put their trust in their Lord.) in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٍ لاَّ تَحْمِلُ رِزْقَهَا(And so many a moving creature carries not its own provision!) meaning, it does not have the ability to gather its provision and save it for tomorrow.اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ(Allah provides for it and for you.) means, Allah allots its provision to it even though it is weak, and makes it easy for it. He sends provision to every creature in the appropriate manner, even the ants in the depths of the earth, the birds in the air and the fish in the sea. Allah says:وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الاٌّرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِى كِتَابٍ مُّبِينٍ(And no moving creature is there on earth but its provision is due from Allah. And He knows its dwelling place and its deposit. All is in a Clear Book.) (11:6)وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ(And He is the All-Hearer, the All-Knower.) means, He hears all that His servants say and He knows their every movements.
مہاجرین کے لیے انعامات الٰہی ٭٭اللہ تبارک و تعالیٰ اس آیت میں ایمان والوں کو ہجرت کا حکم دیتا ہے کہ جہاں وہ دین کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں وہاں سے اس جگہ چلے جائیں جہاں ان کے دین میں انہیں آزادی رہے۔ اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے جہاں وہ فرمان اللہ کے ماتحت اللہ کی عبادت و توحید بجا لا سکیں، وہاں چلے جائیں۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تمام شہر اللہ کے شہر ہیں اور کل بندے اللہ کے غلام ہیں۔ جہاں تو بھلائی پا سکتا ہو، وہیں قیام کر۔ [مسند احمد:166/1:ضعیف] چنانچہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم پر جب مکہ مکرمہ کی رہائش مشکل ہو گئی تو وہ ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تاکہ امن و امان کے ساتھ اللہ کے دین پر قیام کر سکیں۔ وہاں کے سمجھدار، دیندار بادشاہ اصحمہ نجاشی رحمہ اللہ نے ان کی پوری تائید و نصرت کی اور وہاں بہت عزت اور خوشی سے رہے سہے۔ پھر اس کے بعد بااجازت الٰہی دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ بعد ازاں فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرنے والا اور میرے سامنے حاضر ہونے والا ہے۔ تم خواہ کہیں ہو، موت کے پنجے سے نجات نہیں پا سکتے۔ پس تمہیں زندگی بھر اللہ کی اطاعت میں اور اس کے راضی کرنے میں رہنا چاہیئے تاکہ مرنے کے بعد اللہ کے ہاں جا کر عذاب میں نہ پھنسو۔ ایمان دار، نیک اعمال لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت عدن کی بلند و بالا منزلوں میں پہنچائے گا۔ جن کے نیچے قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کہیں صاف شفاف پانی کی، کہیں شراب طہور کی، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی۔ یہ چشمے خودبخود جہاں جتنے چاہیں، بہنے لگیں گے۔ یہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ نہ وہاں سے نکالے جائیں گے، نہ ہٹائے جائیں گے، نہ وہ نعمتیں ختم ہونگی، نہ ان میں گھاٹا آئے گا۔ مومنوں کے نیک اعمال پر جنتی بالاخانے انہیں مبارک ہوں۔ جنہوں نے اپنے سچے دین پر صبر کیا اور اللہ کی طرف ہجرت کی، اس کے دشمنوں کو ترک کیا اور اپنے اقرباء اور اپنے گھر والوں کو راہ اللہ میں چھوڑا اور اس کی نعمتوں اور اس کے انعامات کی امید پر دنیا کے عیش و عشرت پر لات مار دی۔ ابن ابی حاتم میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بنائے ہیں جو کھانا کھلائیں، خوش کلام، نرم گو ہوں، روزے، نماز کے پابند ہوں اور راتوں کو جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، یہ نمازیں پڑھتے ہوں اور اپنے کل احوال میں دینی ہو یا دنیوی۔ اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھتے ہوں۔ [مسند احمد:343/5:حسن] صفحہ نمبر6727پھر فرمایا کہ رزق کسی جگہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا تقسیم کیا ہوا رزق عام ہے اور ہر جگہ جو جہاں ہو، اسے وہیں پہنچ جاتا ہے۔ مہاجرین کے رزق میں ہجرت کے بعد اللہ نے وہ برکتیں دیں کہ یہ دنیا کے کناروں کے مالک ہو گئے اور بادشاہ بن گئے۔ فرمایا کہ بہت سے جانور ہیں جو اپنے رزق کے جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اللہ کے ذمہ ان کی روزیاں ہیں۔ پروردگار انہیں ان کے رزق پہنچا دیتا ہے۔ تمہارا رازق بھی وہی ہے، وہ کسی مخلوق کو کسی حالت میں کسی وقت نہیں بھولتا۔ چیونٹیوں کو ان کے سوراخوں میں، پرندوں کو آسمان و زمین کے خلا میں، مچھلیوں کو پانی میں وہی رزق پہنچاتا ہے۔ جیسے فرمایا: «وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ» [11-هود:6] یعنی ” کوئی جانور روئے زمین پر ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمے نہ ہو۔ وہی ان کے ٹھہرنے اور رہنے سہنے کی جگہ کو بخوبی جانتا ہے۔ یہ سب اس کی روشن کتاب میں موجود ہے۔ “ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ مدینے کے باغات میں سے ایک باغ میں گئے۔ اور گری پڑی ردی کھجوریں کھول کھول کر صاف کر کے کھانے لگے۔ مجھ سے بھی کھانے کو فرمایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے تو یہ ردی کھجوریں نہیں کھائی جائیں گی۔ آپ نے فرمایا: لیکن مجھے تو یہ بہت اچھی معلوم ہوتی ہیں، اس لیے کہ چوتھے دن کی صبح ہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا اور نہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ ملا ہی نہیں۔ سنو! اگر میں چاہتا تو اللہ سے دعا کرتا اور اللہ مجھے قیصر و کسریٰ کا ملک دے دیتا۔ اے ابن عمر رضی اللہ عنہما! تیرا کیا حال ہو گا جبکہ تو ایسے لوگوں میں ہو گا جو سال سال بھر کے غلے وغیرہ جمع کر لیا کریں گے اور ان کا یقین اور توکل بالکل بودہ ہو جائے گا۔ ہم ابھی تو وہیں اسی حالت میں تھے کہ جو آیت «وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» نازل ہوئی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کے خزانے جمع کرنے کا اور خواہشوں کے پیچھے لگ جانے کا حکم نہیں کیا۔ جو شخص دنیا کے خزانے جمع کرے اور اس سے باقی والی زندگی چاہے وہ سمجھ لے کہ باقی رہنے والی حیات تو اللہ کے ہاتھ ہے۔ دیکھو میں تو نہ دینار درہم جمع کروں، نہ کل کے لیے آج روزی کا ذخیرہ جمع کر رکھوں۔ [بغوی فی التفسیر:253/6:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے اور اس کا راوی ابوالعطوف جزی ضعیف ہے۔ یہ مشہور ہے کہ کوے کے بچے جب نکلتے ہیں تو ان کے پر و بال سفید ہوتے ہیں، یہ دیکھ کر کوا ان سے نفرت کر کے بھاگ جاتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد ان کے پروں کی رنگت سیاہ پڑ جاتی ہے تب ان کے ماں باپ آتے ہیں اور انہیں دانہ وغیرہ کھلاتے ہیں۔ ابتدائی ایام میں جبکہ ماں باپ ان چھوٹے بچوں سے متنفر ہو کر بھاگ جاتے ہیں اور ان کے پاس بھی نہیں آتے، اس وقت اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے مچھر ان کے پاس بھیج دیتا ہے، وہی ان کی غذا بن جاتے ہیں۔ عرب کے شعراء نے اسے نظم بھی کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ سفر کرو تاکہ صحت اور روزی پاؤ۔ [بیھقی فی السنن الکبری:102/7:ضعیف] اور حدیث میں ہے: سفر کرو تاکہ صحت و غنیمت ملے۔ اور حدیث میں ہے: سفر کرو، نفع اٹھاؤ گے۔ روزے رکھو، تندرست رہو گے۔ جہاد کرو، غنیمت ملے گی۔ [مسند احمد:380/2:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے: جد والوں اور آسانی والوں کے ساتھ سفر کرو۔ [الدیلمی فی مسند الفردوس:3387:ضعیف] پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا اور ان کی حرکات و سکنات کو جاننے والا ہے۔صفحہ نمبر6728
آیت 57 کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِقف ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ”دیکھو ! موت تو ایک دن آنی ہی ہے۔ اس دنیا میں نہ کوئی ہمیشہ رہا ہے اور نہ ہی آئندہ کوئی ہمیشہ رہے گا۔ فرض کرو اگر یاسر اور ان کی اہلیہ سمیہ رض ابوجہل کے ہاتھوں شہید نہ بھی ہوتے تو کیا ہوتا ؟ بس یہی نا کہ چند برس اور جی لیتے۔ موت تو پھر بھی انہیں آنی ہی تھی۔ راہ حق کے مسافروں کے لیے یہ بہت قیمتی نصیحت ہے۔ اگر یہ اٹل حقیقت انسان کے دل و دماغ میں مستحضر رہے تو انتہائی مشکل اور نامساعد حالات میں بھی اس کی ہمت قائم رہتی ہے اور وہ زندگی بچانے کے لیے حق کا ساتھ چھوڑنے اور باطل کے ساتھ مصالحت کرلینے کی سوچ جیسے شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہتا ہے۔۔ اور اب پانچویں نصیحت :
The answer to this problem is given in the next verse: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (Every person has to taste death - 29:57) that is, no one has any escape from death anywhere in any situation. Therefore, it should not be the trait of a Muslim to be afraid of death, because despite all possible defenses one may arrange for himself, death will overcome him. And it is also part of a believer's faith that death cannot come before the time Allah has determined. Therefore, fear of death should not be an impediment in one's decision about his staying at a certain place or leaving it. If death comes during the course of following a command from Allah Ta’ ala, it would bring eternal blessings and comforts, which one will get in the Hereafter, as stated in the next two verses:
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.