The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-'Ankabut (The Spider) • Ayah 26

Para 20 Surah 29 : 26
۞ فَـَٔامَنَ لَهُۥ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّى مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

BY

And Lot believed him. [Abraham] said, "Indeed, I will emigrate to [the service of] my Lord. Indeed, He is the Exalted in Might, the Wise."

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

۞
فَـَٔامَنَ
لَهُۥ
لُوطٌ
ۘ
وَقَالَ
إِنِّى
مُهَاجِرٌ
إِلَىٰ
رَبِّىٓ
ۖ
إِنَّهُۥ
هُوَ
ٱلْعَزِيزُ
ٱلْحَكِيمُ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Faith of Lut and His Emigration with IbrahimAllah tells us that Lut believed in Ibrahim. It was said that he was the son of Ibrahim's brother, and that his name was Lut bin Haran bin Azar. None of Ibrahim's people believed in Ibrahim besides Lut and Sarah the wife of Ibrahim. But if it is asked how we may reconcile this Ayah with the Hadith narrated in the Sahih which says that when Ibrahim passed by that tyrant and he asked about Sarah and what her relationship was to him, Ibrahim said, "My sister." Then he went to her and said, "I told him that you are my sister, so do not let him think I am lying, for there are no believers on earth except for you and I, and you are my sister in faith." It seems -- and Allah knows best -- that the meaning here is, there is no other Muslim couple on earth apart from you and I. Among his people, only Lut believed in him and migrated with him to Syria, then during Ibrahim's lifetime he was sent as a Messenger to the people of Sadum (Sodom) where he settled. We have already discussed their story and more is to come.وَقَالَ إِنِّى مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّى(He (Ibrahim) said: "I will emigrate for the sake of my Lord.") It may be that the pronoun in the verb "he said" refers to Lut, because he was the last person mentioned before this phrase; or it may refer to Ibrahim. Ibn `Abbas and Ad-Dahhak said that Ibrahim is the one who is referred in the phrase.فَـَامَنَ لَهُ لُوطٌ(So, Lut believed in him.) i.e., out of all his people. Then Allah tells us that he chose to leave them so that he might be able to follow his religion openly. So he said:إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ(Verily, He is the All-Mighty, the All-Wise.) Power belongs to Him and to His Messenger and to those who believe in him, and He is Wise in all that He says and does, and in all His rulings and decrees, both universal and legislative. Qatadah said, "They migrated together from Kutha, which is on the outskirts of Kufa, and went to Syria." Allah gave Ibrahim, Ishaq and Ya`qub, and ordained Prophethood in His Offspringوَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ(And We bestowed on him, Ishaq and Ya`qub,) This is like the Ayah,فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلاًّ جَعَلْنَا نَبِيّاً (So, when he had turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya`qub, and each one of them We made a Prophet.) (19:49) That is, when he left his people, Allah gave him joy in a righteous son who was also a Prophet, to whom in turn was born, in his grandfather's lifetime, a righteous son who was also a Prophet. Allah also says:وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً(And We bestowed upon him Ishaq, and Ya`qub in addition) (21:72) meaning, as an additional gift. This is like the Ayah,فَبَشَّرْنَـهَا بِإِسْحَـقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ(But We gave her glad tidings of Ishaq, and after Ishaq, of Ya`qub.) (11:71) meaning, to this son would be born a son during their lives, who would be a delight to them.وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ(and We ordained among his offspring prophethood and the Book,) This is a tremendous blessing. Not only did Allah take him as a close friend and make him an Imam for mankind, but He also ordained prophethood and the Book among his offspring. After the time of Ibrahim there was no Prophet who was not from among his descendants. All of the Prophets of the Children of Israel were from among his descendants, from Ya`qub bin Ishaq bin Ibrahim to the last of them, `Isa bin Maryam, who stood in the midst of his people and announced the good news of the Hashimi Qurashi Arab Prophet, the last of all the Messengers, the leader of the sons of Adam in this world and the next, whom Allah chose from the heart of the Arab nation, from the descendants of Isma`il bin Ibrahim, may peace be upon them. There is no Prophet from the line of Isma`il besides him, may the best of blessings and peace be upon him.وَءَاتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِى الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِى لاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ(and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous.) Allah granted him happiness in this world that was connected to happiness in the Hereafter, for in this world he had plentiful provision, a splendid home, a beautiful and righteous wife, and he was and still is spoken of highly, for everyone loves him and regards him as a friend. Ibn `Abbas, Mujahid, Qatadah and others said: "He obeyed Allah in all ways." This is like the Ayah,وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى (And of Ibrahim who fulfilled all.) (53:37) He did all that he was commanded to do and obeyed his Lord to the utmost. Allah says:وَءَاتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِى الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِى لاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ(and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous.) And He says:إِنَّ إِبْرَهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَـنِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (Verily, Ibrahim was an Ummah, Qanit to Allah, a Hanif, and he was not one of the idolators) until:وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ(and in the Hereafter he shall be of the righteous) (16:120-122).

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

لوط علیہ السلام اور سارہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ٭٭ کہا جاتا ہے کہ لوط علیہ السلام ابرہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ لوط بن ہاران بن آزر۔ آپ کی ساری قوم میں سے ایک تو لوط ایمان لائے تھے اور ایک سارہ رضی اللہ عنہا جو آپ کی بیوی تھیں۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کی بیوی صاحبہ کو اس ظالم بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ اپنے پاس بلوایا تو ابراہیم نے کہا تھا کہ دیکھو میں نے اپنا رشتہ تم سے بھائی بہن کا بنایا ہے تم بھی یہی کہنا کیونکہ اس وقت دنیا پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی میاں بیوی ہمارے سوا ایماندار نہیں۔ لوط علیہ السلام آپ پر ایمان تو لائے مگر اسی وقت ہجرت کر کے شام چلے گئے تھے پھر اہل سدوم کی طرف نبی بنا کر بھیج دئے گئے تھے جیسا کہ بیان گزرا اور آئے گا۔ ہجرت کا ارادہ یا تو لوط علیہ السلام نے ظاہر فرمایا کیونکہ ضمیر کا مرجع اقرب تو یہی ہے۔ یا ابراہیم نے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ضحاک رحمہ اللہ کا بیان ہے۔ تو گویا لوط علیہ السلام کے ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنی قوم سے دست برداری کر لی اور اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ اور کسی جگہ جاؤں شاید وہاں والے اللہ والے بن جائیں۔ عزت اللہ کی اس کے رسول کی اور مومنوں کی ہے۔ حکمت والے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت اللہ کی ہے۔صفحہ نمبر6684قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ کوفے سے ہجرت کر کے شام کے ملک کی طرف گئے۔ حدیث میں ہے کہ ہجرت کے بعد کی ہجرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف ہو گی۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں زمین تھوک دے گی اور اللہ ان سے نفرت کرے گا انہیں آگ سورؤں اور بندروں کے ساتھ ہنکاتی پھرے گی۔ راتوں کو دنوں کو انہی کے ساتھ رہے گی اور ان کی جھڑن کھاتی رہے گی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:27730:مرسل] ‏ اور روایت میں ہے جو ان میں سے پیچھے رہ جائے گا اسے یہ آگ کھا جائے گی اور مشرق کی طرف سے کچھ لوگ میری امت میں ایسے نکلیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ان کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ کھڑا ہو گا۔ یہاں تک کہ آپ نے بیس سے بھی زیادہ بار اسے دہرایا۔ یہاں تک کہ انہی کے آخری گروہ میں سے دجال نکلے گا۔ [مسند احمد:199/2:ضعیف] ‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک زمانہ تو ہم پر وہ تھا کہ ہم ایک مسلمان بھائی کے لیے درہم ودینار کو کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے اپنی دولت اپنے بھائی کی ہی سمجھتے تھے پھر وہ زمانہ آیا کہ دولت ہمیں اپنے مسلم بھائی سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اگر تم بیلوں کی دموں کے پیچھے لگ جاؤ گے اور تجارت میں مشغول ہوجاؤ گے اور اللہ کی راہ کا جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گردنوں میں ذلت کے پٹے ڈال دے گا جو اس وقت تک تم سے الگ نہ ہوں گے جب تک کہ تم پھر سے وہیں نہ آ جاؤ جہاں تھے اور تم توبہ نہ کر لو۔ پھر وہی حدیث بیان کی جو اوپر گزری اور فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگے جو قرآن پڑھیں گے اور بدعملیاں کریں گے قرآن ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا۔ ان کے علم کو دیکھ کر تم اپنے علموں کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے پس جب یہ لوگ ظاہر ہوں تو انہیں قتل کر دینا، پھر نکلیں پھر مار ڈالنا، پھر ظاہر ہوں پھر قتل کر دینا۔ وہ بھی خوش نصیب ہے جو انھیں قتل کرے اور وہ بھی خوش نصیب ہے جو انکے ہاتھوں قتل کیا جائے جب ان کے گروہ نکلیں گے اللہ انہیں برباد کر دے گا پھر نکلیں گے پھر برباد ہو جائیں گے۔صفحہ نمبر6685 اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بیس مرتبہ بلکہ اس سے بھی زیادہ بار یہی فرمایا۔ [مسند احمد:84/2:ضعیف] ‏ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام نامی بیٹا دیا اور اسحاق علیہ السلام کو یعقوب علیہ السلام نامی۔ جیسے فرمان ہے کہ جب خلیل اللہ نے اپنی قوم کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اللہ نے آپ کو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی بنایا۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ پوتا بھی آپ کی موجودگی میں ہو جائے گا اسحاق علیہ السلام بیٹے تھے اور یعقوب علیہ السلام پوتے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو اسحٰق کی اور اسحاق علیہ السلام کے پیچھے یعقوب علیہ السلام کی بشارت دی۔ اور فرمایا کہ قوم کو چھوڑنے کے بدلے اللہ تمہارے گھر کی بستی یہ دے گا جس سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ پس ثابت ہوا کی یعقوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کے فرزند تھے۔ یہی سنت سے بھی ثابت ہے قرآن کی اور آیت میں ہے کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنے لڑکوں سے کہنے لگے تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے کہا آپ کی اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام، اسحاق علیہ السلام کے الہ کی جو یکتا ہے اور واحد لا شریک ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابرہیم علیہم السلام ہیں۔ [صحیح بخاری:3382_3390] ‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جو مروی ہے کہ اسحاق ویعقوب علیہم السلام ابراہیم علیہ السلام کے فرزند تھے اس سے مراد فرزند کے فرزند کو فرزند کہہ دینا ہے۔ یہ نہیں کہ صلبی فرزند دونوں تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما تو کہاں ادنی آدمی بھی ایسی ٹھوکر نہیں کھا سکتا۔صفحہ نمبر6686ہم نے انہی کی اولاد میں کتاب و نبوت رکھ دی۔ خلیل کا خطاب انہیں کو ملا انہیں کہا گیا پھر ان کے بعد انہی کی نسل میں نبوت وحکمت رہی بنی اسرائیل کے تمام انبیاء یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کی نسل سے ہیں۔ عیسیٰ تک تو یہ سلسلہ یوں ہی چلا۔ بنی اسرائیل کے اس آخری پیغمبر نے اپنی امت کو صاف کہہ دیا کہ میں نے تمہیں نبی عربی قریشی ہاشمی خاتم المرسلین اور سیدالرسل اولادِ آدم کی بشارت دیتا ہوں جنہیں اللہ نے چن لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آپ کے سوائے اور نبی نہیں ہوا۔ «علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم» ۔ ہم نے انہیں دنیا کے ثواب بھی دئیے اور آخرت کی نیکیاں بھی عطا فرمائیں۔ دنیا میں رزق وسیع، جگہ پاک، بیوی نیک، سیرت جمیل اور ذکر حسن دیا ساری دنیا کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی۔ باوجودیکہ اپنی اطاعت کی توفیق روز بروز اور زیادہ دی۔ کامل اطاعت گزاری کی توفیق کے ساتھ دنیاکی بھلائیاں بھی عطا فرمائیں۔ اور آخرت میں بھی صالحین میں رکھا۔ جیسے فرمان ہے ابراہیم علیہ السلام مکمل فرماں بردار تھے موحد تھے مشرکوں میں سے نہ تھے آخرت میں بھلے لوگوں کا ساتھی ہوا۔صفحہ نمبر6687

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 26 فَاٰمَنَ لَہٗ لُوْطٌ 7 ”حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔وَقَالَ اِنِّیْ مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیْط اِنَّہٗ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ”اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کو چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ آپ علیہ السلام کے پیچھے آپ علیہ السلام کی قوم کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟ اس بارے میں قرآن سے ہمیں کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ واللہ اعلم !

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Commentaryفَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ‌ إِلَىٰ رَ‌بِّي (So Lut believed in him and he (Ibrahim علیہ السلام) said, "I am going to leave my homeland towards my Lord. - 29:2, 6). Sayyidna Lut (علیہ السلام) was the nephew of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . He was the very first one to accept faith after watching the miracle of Ibrahim (علیہ السلام) in the fire of Namrild. When Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) planned to migrate from his hometown, Kutha - a township of Kufah - along with his wife Sayyidah Sarah, who was his cousin and had accepted Islam, and Sayyidna Lut (علیہ السلام) he said إِنِّي مُهَاجِرٌ‌ إِلَىٰ رَ‌بِّي . That is ` I am going to leave my homeland toward my Lord' It meant that he wanted to go to some place where there was no obstacle in worshipping Allah.Ibrahim An-Nakha'i and Qatadah رحمۃ اللہ علیہما are of the opinion that this sentence was said by Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ،

Historical Context: Ibrahim's Migration to the Holy Land c. 2000–1800 BCE

After surviving the fire, Ibrahim migrated from Mesopotamia to the land of Palestine (the Blessed Land). The Quran (21:71) records: 'And We delivered him and Lot to the land which We had blessed for the worlds.' This migration is one of the earliest recorded voluntary hijrahs (migration for the sake of Allah) and established the pattern of prophetic migration that would be replicated by the Prophet Muhammad's Hijra to Madinah.

🏛️ Civilization: Ancient Canaanite / Patriarchal period
📍 Region: Canaan / Palestine
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.