The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Qasas • Ayah 9

Para 20 Surah 28 : 9
وَقَالَتِ ٱمْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّى وَلَكَ ۖ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَقَالَتِ
ٱمْرَأَتُ
فِرْعَوْنَ
قُرَّتُ
عَيْنٍ
لِّى
وَلَكَ
ۖ
لَا
تَقْتُلُوهُ
عَسَىٰٓ
أَن
يَنفَعَنَآ
أَوْ
نَتَّخِذَهُۥ
وَلَدًا
وَهُمْ
لَا
يَشْعُرُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

How Musa's Mother was inspired and shown what to doIt was mentioned that when Fir`awn killed so many of the males of the Children of Israel, the Copts were scared that the Children of Israel would die out, and they themselves would have to do the heavy labor that the Children of Israel used to do. So they said to Fir`awn, "If this continues, and their old men die and the young men are killed, their women will not be able to do the work that the men are doing, and we will end up having to do it." So Fir`awn issued orders that the boys should be killed one year, and left alone the following year. Harun, peace be upon him, was born in a year when the boys were not killed, and Musa was born in a year when the boys were being killed. Fir`awn had people who were entrusted with this task. There were midwives who would go around and check on the women, and if they noticed that any woman was pregnant, they would write her name down. When the time came for her to give birth, no one was allowed to attend her except for Coptic women. If the woman gave birth to a girl, they would leave her alone and go away, but if she gave birth to a boy, the killers would come in with their sharp knives and kill the child, then they would go away; may Allah curse them. When the mother of Musa became pregnant with him, she did not show any signs of pregnancy as other women did, and none of the midwives noticed. But when she gave birth to a boy, she became very distressed and did not know what to do with him. She was extremely scared for him, because she loved him very much. No one ever saw Musa, peace be upon him, but they loved him, and the blessed ones were those who loved him both as a natural feeling and because he was a Prophet. Allah says:وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّى(And I endued you with love from Me) (20:39).Musa, peace be upon him, in the House of Fir`awnWhen Musa's mother became so worried and confused, it was inspired into her heart and mind what she should do, as Allah says:وَأَوْحَيْنَآ إِلَى أُمِّ مُوسَى أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِى اليَمِّ وَلاَ تَخَافِى وَلاَ تَحْزَنِى إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَجَـعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ (And We inspired the mother of Musa (telling): "Suckle him, but when you fear for him, then cast him into the river and fear not, nor grieve. Verily, We shall bring him back to you, and shall make him one of (Our) Messengers.") Her house was on the banks of the Nile, so she took a box and made it into a cradle, and started to nurse her child. When someone came to her that she was afraid of, she would go and put him in that box and put it in the river, and she would tie it with a rope. One day someone that she was afraid of came to the house, so she went and put the child in that box and put it in the river, but she forgot to tie it. The water carried him away, past the house of Fir`awn, where some servant women picked the box up and took it to Fir`awn's wife. They did not know what was inside, and they were afraid that they would be in trouble if they opened it without her. When the box was opened, they saw it was a child with the most beautiful features. Allah filled her heart with love for him when she saw him; this was because she was blessed and because Allah wanted to honor her and cause her husband's doom. Allah says:فَالْتَقَطَهُ ءَالُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوّاً وَحَزَناً(Then the household of Fir`awn picked him up, that he might become for them an enemy and a (cause of) grief.) Allah says:إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَـمَـنَ وَجُنُودَهُمَا كَانُواْ خَـطِئِينَ(Verily, Fir`awn, Haman and their armies were sinners.)وَقَالَتِ امْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّةُ عَيْنٍ لِّى وَلَكَ(And the wife of Fir`awn said: "A comfort of the eye for me and for you...") means, when Fir`awn saw him, he wanted to kill him, fearing that he was one of the Children of Israel. But his wife Asiyah bint Muzahim came to the child's defence and tried to endear him to Fir`awn, saying,قُرَّةُ عَيْنٍ لِّى وَلَكَ(A comfort of the eye for me and for you.) Fir`awn said: "For you he may be, but not for me. And this was indeed the case: Allah guided her because of him, and destroyed him at his hands.عَسَى أَن يَنفَعَنَآ(perhaps he may be of benefit to us,) This is indeed what happened in her case, for Allah guided her through him and caused her to dwell in Paradise because of him.أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا(or we may adopt him as a son.) She wanted to take him and adopt him as a son, because she had no children from Fir`awn.وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ(And they perceived not.) means, they did not know what Allah planned for them when they picked him up, by His great wisdom and definitive proof.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل ٭٭مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزار ہا بچے قتل ہو چکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہو گئے توجتنے ذلیل کام اور بے ہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسرے سال قتل نہ کئے جائیں۔ ہارون علیہ السلام اس سال تولد ہوئے جس سال بچوں کو قتل نہ کیا جاتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام اس سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے لڑکے عام طور پر تہ تیغ ہو رہے تھے۔ عورتیں گشت کرتی رہتی تھی اور حاملہ عورتوں کا خیال رکھتی تھی۔ ان کے نام لکھ لیے جاتے تھے۔ وضع حمل کے وقت یہ عورتیں پہنچ جاتی تھی اگر لڑکی ہوئی تو واپس چلی جاتی تھی اور اگر لڑکا ہوا تو فوراً جلادوں کو خبر کر دیتی تھی۔ یہ لوگ تیز چھرے لیے اسی وقت آ جاتے تھے اور ماں باپ کے سامنے اسی وقت ان کے بچوں کوٹکڑے ٹکڑے کر کے چلے جاتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا جب حمل ہوا تو عام حمل کی طرح اس کا پتا نہ چلا اور جو عورتیں اس کام پر مامور تھی اور جتنی دائیاں آتی تھی کسی کو حمل کا پتہ نہ چلا۔ یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام تولد بھی ہو گئے آپ علیہ السلام کی والدہ سخت پریشان ہونے لگی اور ہر وقت خوفزدہ رہنے لگیں اور اپنے بچے سے محبت بھی اتنی تھی کہ کسی ماں کو اپنے بچے سے اتنی نہ ہو گی۔ ایک ماں پر ہی کیا موقوف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا چہرہ ہی ایسا بنایا تھا۔ کہ جس کی نظر پڑ جاتی تھی اس کے دل میں ان کی محبت بیٹھ جاتی تھی۔ جیسے جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت «أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّي وَعَدُوٌّ لَّهُ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي» [20-طه:39] ‏ ” میں نے اپنی خصوصی محبت سے تمہیں نوازا “۔ پس جب کہ والدہ موسیٰ علیہ السلام ہر وقت کبیدہ خاطر، خوفزدہ اور رنجیدہ رہنے لگیں تو اللہ نے ان کے دل میں خیال ڈالا کہ اسے دودھ پلاتی رہ اور خوف کے موقعہ پر انہیں دریائے نیل میں بہادے جس کے کنارے پر ہی آپ کا مکان تھا۔ چنانچہ یہی کیا کہ ایک پیٹی کی وضع کا صندوق بنا لیا اس میں موسیٰ کو رکھ دیا دودھ پلا دیا کرتیں اور اس میں سلادیا کرتیں۔ جہاں کوئی ایسا ڈراؤنا موقعہ آیا تو اس صندوق کو دریا میں بہادیتیں اور ایک ڈوری سے اسے باندھ رکھا تھا خوف ٹل جانے کے بعد اسے کھینچ لیتیں۔صفحہ نمبر6533ایک مرتبہ ایک ایسا شخص گھر میں آنے لگا جس سے آپ علیہ السلام کی والدہ صاحبہ کو بہت دہشت ہوئی دوڑ کر بچے کو صندوق میں لٹاکر دریا میں بہادیا اور جلدی اور گھبراہٹ میں ڈوری باندھنی بھول گئیں صندوق پانی کی موجوں کے ساتھ زور سے بہنے لگا اور فرعون کے محل کے پاس گزرا تو لونڈیوں نے اسے اٹھا لیا اور فرعون کی بیوی کے پاس لے گئیں راستے میں انہوں نے اسے ڈر کے مارے کھولا نہ تھا کہ کہیں تہمت ان پر نہ لگ جائے جب فرعون کی بیوی کے پاس اسے کھولا گیا تو دیکھا کہ اس میں تو ایک نہایت خوبصورت نورانی چہرے والا صحیح سالم بچہ لیٹا ہوا ہے جسے دیکھتے ہی ان کا دل مہر محبت سے بھر گیا اور اس بچہ کی پیاری شکل دل میں گھر کر گئی۔ اس میں بھی رب کی مصلحت تھی کہ فرعون کی بیوی کو راہ راست دکھائے اور فرعون کے سامنے اس کا ڈر لائے اور اسے اور اس کے غرور کو ڈھائے تو فرماتا ہے کہ ” آل فرعون نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور انجام کار وہ ان کی دشمنی اور ان کے رنج وملال کا باعث ہوا “۔ محمد بن اسحاق وغیرہ فرماتے ہیں «لِیکُوْنَ» کا لام لام عاقبت ہے لام تعلیل نہیں۔ اس لیے کہ ان کا ارادہ نہ تھا بظاہر یہ ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے لیکن معنی کو دیکھتے ہوئے لام کو لام تعلیل سمجھنے میں بھی کوئی حرج نہیں آتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس صندوقچے کا اٹھانے والا اس لیے بنایا تھا کہ اللہ اسے ان کے لیے دشمن بنا دے اور ان کے رنج و غم کا باعث بنائے بلکہ اس میں ایک لطف یہ بھی ہے کہ جس سے وہ بچنا چاہتے تھے وہ ان کے سر چڑھ گیا۔ اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا گیا کہ ” فرعون ہامان اور ان کے ساتھی خطا کار تھے “۔ روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے قدریہ کو جو لوگ کہ تقدیر کے منکر ہیں ایک خط میں لکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے سابق علم میں فرعون کے دشمن اور اس کے لیے باعث رنج و غم تھے جیسے قرآن کی اس آیت سے ثابت ہے لیکن تم کہتے ہو کہ فرعون چاہتا تو موسیٰ علیہ السلام اس کے مددگار اور دوست ہوتے۔صفحہ نمبر6534پھر فرماتا ہے کہ ” اس بچے کو دیکھتے ہی فرعون بدکا کہ ایسا نہ ہو کسی اسرائیلی عورت نے اسے پھینک دیا ہو اور کہیں یہ وہی نہ ہو جس کے قتل کرنے کے لیے ہزاروں بچوں کو فنا کر چکا ہوں “۔ یہ سوچ کر اس نے انہیں بھی قتل کرنا چاہا لیکن اس کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہا نے ان کی سفارش کی۔ فرعون کو اس کے ارادے سے روکا اور کہا اسے قتل نہ کیجیئے بہت ممکن ہے کہ یہ آپ کی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو مگر فرعون نے جواب دیا کہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو لیکن مجھے تو آنکھوں کی ٹھنڈک کی ضروت نہیں۔ اللہ کی شان دیکھئیے کہ یہی ہوا کہ آسیہ کو اللہ نے اپنا دین نصیب فرمایا اور موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے انہوں نے ہدایت پائی اور اس متکبر کو اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک کیا۔ نسائی وغیرہ کے حوالے سے سورۃ طہٰ کی تفسیر میں حدیث فتون میں یہ قصہ پورا بیان ہو چکا ہے۔صفحہ نمبر6535حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے شاید ہمیں نفع پہنچائے۔ ان کی امید اللہ نے پوری کی دنیا میں موسیٰ علیہ السلام ان کی ہدایت کا ذریعہ بنے اور آخرت میں جنت میں جانے کا۔ اور کہتی ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اسے اپنا بچہ بنا لیں۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی تو چاہا کہ موسیٰ علیہ السلام کو متبنٰی بنا لیں۔ ان میں سے کسی کو شعور نہ تھا کہ قدرت کس طرح پوشیدہ اپنا ارادہ پوراکر رہی ہے۔صفحہ نمبر6536

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

لَا تَقْتُلُوْہُق عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا ”یہ بالکل وہی الفاظ ہیں جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں عزیز مصر کی بیوی نے کہے تھے یوسف : 21۔وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ”انہیں اس وقت کوئی اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے تھے اور ان کے اس فیصلے کا کیا نتیجہ نکلنے والا تھا۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ (28:7) The word Wahy (inspiration) is used here in its literal meaning. It does not mean the Wahy that is peculiar to prophets. This point has already been explained under Surah Taha.

Historical Context: Birth of Musa — Hidden in the Basket on the Nile c. 1450–1200 BCE

Pharaoh ordered all male Israelite infants killed. Allah inspired Musa's mother to place him in a basket on the Nile (28:7). The basket was found by Pharaoh's household, and Pharaoh's wife pleaded to adopt the infant. Musa's sister followed and arranged for him to be nursed by his own mother — paid by Pharaoh's household. This divine orchestration, preserved in Quran 28:7-13, shows Allah's ability to protect the destined prophet within the enemy's own palace.

🏛️ Civilization: Ancient Egypt (New Kingdom)
📍 Region: Egypt (Nile Delta region)
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.