Surah Al-Qasas • Ayah 11
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The intense Grief of Musa's Mother, and how He was returned to HerAllah tells us how, when her child was lost in the river, the heart of Musa's mother became empty, i.e., she could not think of any matter in this world except Musa. This was the view of Ibn `Abbas, Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Abu `Ubaydah, Ad-Dahhak, Al-Hasan Al-Basri, Qatadah and others.إِن كَادَتْ لَتُبْدِى بِهِ(She was very near to disclose his (case),) means, because of the intensity of her grief, she almost told people that she had lost a son. She would have disclosed her situation, if Allah had not given her strength and patience. Allah says:لَوْلا أَن رَّبَطْنَا عَلَى قَلْبِهَا لِتَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَوَقَالَتْ لأُخْتِهِ قُصِّيهِ(had We not strengthened her heart, so that she might remain as one of the believers. And she said to his sister: "Follow him.") means, she told her daughter, who was older and was of an age to understand things,قُصِّيهِ(Follow him.) means, follow his traces and look for information about him, try to find out about him around the city. So she went out to do that.فَبَصُرَتْ بِهِ عَن جُنُبٍ(So she watched him from a far place (secretly),) Ibn `Abbas said, "Off to the side." Mujahid said, "It means she looked from afar. Qatadah said: "She started to look at him as if she was not really interested." When Musa had settled into the house of Fir`awn, after the king's wife had begun to love him and asked Fir`awn not to kill him, they brought to him the wet nurses who were to be found in their household, and he did not accept any of them, refusing to take milk from them. So they took him out to the marketplace, hoping to find a woman who would be suitable to nurse him. When (his sister) saw him in their arms, she recognized him, but she did not give any indication nor did they suspect her. Allah says:وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ(And We had already forbidden foster suckling mothers for him,) Because of his honored status with Allah, it was forbidden by divine decree. It was decreed that no one should nurse him except his own mother, and Allah caused this to be the means reuniting him with his mother so that she could nurse him and feel safe after having felt such fear. When his sister saw that they were confused over who should nurse the child,فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ يَكْفُلُونَهُ لَكُمْ وَهُمْ لَهُ نَـصِحُونَ(she said: "Shall I direct you to a household who will rear him for you, and look after him in a good manner") Ibn `Abbas said: When she said that, they had some doubts about her, so they seized her and asked her, How do you know these people will be sincere and will care for him" She said to them, "They will be sincere and will care for him because they want the king to be happy and because they hope for some reward." So they let her go. After what she said, being safe from their harm, they took her to their house and brought the baby to his mother. She gave him her breast and he accepted it, so they rejoiced and sent the glad tidings to the wife of Fir`awn. She called for Musa's mother, treating her kindly and rewarding her generously. She did not realize that she was his real mother, but she saw that the baby accepted her breast. Then Asiyah asked her to stay with her and nurse the baby, but she refused, saying, "I have a husband and children, and I cannot stay with you, but if you would like me to nurse him in my own home, I will do that." The wife of Fir`awn agreed to that, and paid her a regular salary and gave her extra gifts and clothing and treated her kindly. The mother of Musa came back with her child, happy that after a time of fear Allah granted her security, prestige, and ongoing provision. There was only a short time between the distress and the way out, a day and night, or thereabouts -- and Allah knows best. Glory be to the One in Whose hands are all things; what He wills happens and what He does not will does not happen. He is the One Who grants those who fear Him, a way out from every worry and distress, Allah said:فَرَدَدْنَـهُ إِلَى أُمِّهِ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا(So We restored him to his mother, that her eye might be comforted,) means, by him,وَلاَ تَحْزَنْ(and that she might not grieve, ) means, for him.وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ(and that she might know that the promise of Allah is true.) meaning, `We had promised her to return him to her and to make him one of the Messengers.' When he was returned to her, she realized that he was one of the Messengers, so as she brought him up, she treated him both as a child (with kindness) and as a Messenger (with respect).وَلَـكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ(But most of them know not.) means, they do not know the wisdom of Allah in His actions and their good consequences, for which He is to be praised in this world and the Hereafter. For a thing may happen that people do not like, but its consequences are good, as Allah says:وَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ(and it may be that you dislike a thing which is good for you and that you like a thing which is bad for you) (2:216).فَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئاً وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْراً كَثِيراً(it may be that you dislike a thing and Allah brings through it a great deal of good) (4:19).
جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؟ ٭٭موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب ان کو صندوقچہ میں ڈال کر دریا میں بہادیا تو بہت پریشان ہوئیں اور سوائے اللہ کے سچے رسول اور اپنے لخت جگر موسیٰ علیہ السلام کے آپ کو کسی اور چیز کا خیال ہی نہ رہا۔ صبر وسکون جاتا رہا دل میں بجز موسیٰ علیہ السلام کی یاد کے اور کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا۔ اگر اللہ کی طرف سے ان کی دلجمعی نہ کر دی جاتی تو وہ تو بے صبری میں راز فاش کر دیتیں لوگوں سے کہہ دیتیں کہ اس طرح میرا بچہ ضائع ہو گیا۔ لیکن اللہ نے اس کا دل ٹھہرا دیا ڈھارس دی اور تسکین دے دی کہ تیرا بچہ تجھے ضرور ملے گا۔ والدہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی بڑی بچی سے جو ذرا سمجھ دار تھیں فرمایا کہ بیٹی تم اس صندوق پر نظر جماکر کنارے کنارے چلی جاؤ دیکھو کیا انجام ہوتا ہے؟ مجھے بھی خبر کرنا تو یہ دور سے اسے دیکھتی ہوئی چلیں لیکن اس انجان پن سے کہ کوئی اور نہ سمجھ سکے کہ یہ اس کا خیال رکھتی ہوئی اس کے ساتھ جا رہی ہے۔ فرعون کے محل تک پہنچتے ہوئے اور وہاں اس کی لونڈیوں کو اٹھاتے ہوئے تو آپ کی ہمشیرہ نے دیکھا پھر وہیں باہر کھڑی رہ گئیں کہ شاید کچھ معلوم ہو سکے کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ وہاں یہ ہوا کہ جب آسیہ نے فرعون کو اس کے خونی ارادے سے باز رکھا اور بچے کو اپنی پرورش میں لے لیا تو شاہی محل میں جتنی دایاں تھیں سب کو بچہ دیا گیا۔ ہر ایک نے بشری محبت وپیار سے انہیں دودھ پلانا چاہا لیکن بحکم الٰہی موسیٰ علیہ السلام نے کسی کے دودھ کا ایک گھونٹ بھی نہ پیا۔ آخر اپنی لونڈیوں کے ہاتھوں اسے باہر بھیجا کہ کسی دایہ کو تلاش کرو جس کا دودھ یہ پئے اس کو لے آؤ۔ چونکہ رب العلمین کو یہ منظور نہ تھا کہ اس کا اپنی والدہ کے سوا کسی اور کا دودھ پئے اور اس میں سب سے بڑی مصلحت یہ تھی کہ اس بہانے موسیٰ علیہ السلام اپنی ماں تک پہنچ جائیں۔صفحہ نمبر6539لونڈیاں آپ علیہ السلام کو لے کر جب باہر نکلیں تو آپ علیہ السلام کی بہن نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا، لیکن ان پر ظاہر نہ کیا اور نہ خود انہیں کوئی پتہ چل سکا آپ کی بہن تو پہلے بہت پریشان تھی لیکن اس کے بعد اللہ نے انہیں صبر وسکون دے دیا اور وہ خاموش اور مطمئن تھیں۔ بہن نے انکو کہا کہ تم اس قدر پریشان کیوں ہو؟ انہوں نے کہا یہ بچہ کسی دائیہ کا دودھ نہیں پیتا اور ہم اس کے لیے دایہ کی تلاش میں ہیں۔ یہ سن کر ہمشیرہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ”اگر تم کہو تو تمہیں ایک دائی کا پتہ دوں؟ ممکن ہے بچہ ان کا دودھ پی لیے اور اس کی پرورش کریں اور اس کی خیر خواہی کریں۔“ یہ سن کر انہیں کچھ شک گزرا کہ یہ لڑکی اس لڑکے کی اصلیت ہے اور اس کے ماں باپ سے واقف ہے اسے گرفتار کر لیا اور پوچھا تمہیں کیا معلوم کہ وہ عورت اس کی کفالت اور خیر خواہی کرے گی؟ اس نے فوراً جواب دیا سبحان اللہ۔ کون نہ چاہے گا کہ شاہی دربار میں اس کی عزت ہو۔ انعام واکرام کی خاطر کون اس سے ہمدردی نہ کرے گا۔ ان کی سمجھ میں بھی آ گیا کہ ہمارا پہلا گمان غلط تھا یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہے اسے چھوڑ دیا اور کہا اچھاچل اس کا مکان دکھا یہ انہیں لے کر اپنے گھر لے آئیں اور اپنی والدہ کی طرف اشارہ کر کے کہا انہیں دیجئیے۔ سرکاری آدمیوں نے انہیں دیا تو بچہ دودھ پینے لگا۔ فوراً یہ خبر آسیہ رضی اللہ عنہا کو دی گئی وہ یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور انہیں اپنے محل میں بلوایا اور بہت کچھ انعام واکرام کیا لیکن یہ علم نہ تھا کہ فی الواقع یہی اس بچے کی والدہ ہیں۔ فقط اس وجہ سے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان کا دودھ پیا تھا وہ ان سے بہت خوش ہوئیں۔ کچھ دنوں تک تو یونہی کام چلتارہا۔ آخرکار ایک روز آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میری خوشی ہے کہ تم محل میں آ جاؤ یہیں رہو سہو اور اسے دودھ پلاتی رہو۔ ام موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ تو مجھ سے نہیں ہوسکتا میں بال بچوں والی ہوں میرے میاں بھی ہیں میں انہیں دودھ پلادیا کرونگی پھر آپ کے ہاں بھیج دیا کرونگی۔ یہ طے ہوا اور اس پر فرعون کی بیوی بھی رضامند ہو گئیں ام موسیٰ علیہ السلام کا خوف امن سے، فقیری امیری سے، بھوک آسودگی سے، دولت وعزت میں بدل گئی۔ روزانہ انعام واکرام پاتیں۔ کھانا، کپڑا، شاہی طریق پر ملتا اور اپنے پیارے بچے کو اپنی گود میں پالتیں۔ ایک ہی رات یا ایک ہی دن یا ایک دن ایک رات کے بعد ہی اللہ نے اس کی مصیبت کو راحت سے بدل دیا۔صفحہ نمبر6540حدیث شریف میں ہے جو شخص اپنا کام دھندا کرے اور اس میں اللہ کا خوف اور میری سنتوں کا لحاظ کرے اس کی مثال ام موسیٰ علیہ السلام کی مثال ہے کہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلائے اور اجرت بھی لے ۔ اللہ کی ذات پاک ہے اسی کے ہاتھ میں تمام کام ہے اسی کا چاہا ہوا ہوتا ہے اور جس کام کو وہ نہ چاہے ہرگز نہیں ہوتا۔ یقیناً وہ ہر اس شخص کی مدد کرتا ہے جو اس پر توکل کرے۔ اس کی فرمانبردای کرنے والے کا دستگیر وہی ہے۔ وہ اپنے نیک بندوں کے آڑے وقت کام آتا ہے اور ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان کی تنگی کو فراخی سے بدلتا ہے۔ اور ہر رنج کے بعد راحت عطا فرماتا ہے۔ «فسبحانه ما اعظم شانه» ۔صفحہ نمبر6541پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس لوٹادیا تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور اسے اپنے بچے کا صدمہ نہ رہے، اور وہ اللہ کے وعدوں کو بھی سچا سمجھے اور یقین مان لے کہ وہ ضرور نبی اور رسول بھی ہونے والا ہے “۔ اب آپ علیہ السلام کی والدہ اطمینان سے آپ علیہ السلام کی پرورش میں مشغول ہو گئیں اور اسی طرح پرورش کی جس طرح ایک بلند درجہ نبی علیہ السلام کی ہونی چاہیئے۔ ہاں رب کی حکمتیں بےعلموں کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہیں۔ وہ اللہ کے احکام کی غایت کو اور فرمانبردای کے نیک انجام کو نہیں سوچتے۔ ظاہری نفع نقصان کے پابند رہتے ہیں۔ اور دنیا پر ریجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں سوجھتا کہ ممکن ہے جسے وہ برا سمجھ رہے ہیں اچھاہو اور بہت ممکن ہے کہ جسے وہ اچھاسمجھ رہے ہیں وہ برا ہو یعنی ایک کام برا جانتے ہوں مگر کیا خبر کہ اس میں قدرت نے کیا فوائد پوشیدہ رکھیں ہیں۔صفحہ نمبر6542
فَبَصُرَتْ بِہٖ عَنْ جُنُبٍ وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن اپنی والدہ کے کہنے پر دریا کے کنارے کنارے صندوق پر دھیان رکھے اس انداز سے چلتی رہی جیسے صندوق سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ اس طرح وہ بچے کے پیچھے پیچھے بڑی ہوشیاری سے فرعون کے محل میں پہنچ گئی۔ لیکن اس نے اپنے انداز سے وہاں بھی یہی ظاہر کیا جیسے وہ ایک راہ چلتی بچی ہے جو دریا میں تیرتے ہوئے صندوق کو دیکھنے کے لیے ادھر تک پہنچ گئی ہے اور یوں وہاں کسی کو اس کی اصل منصوبہ بندی کے بارے میں گمان تک نہ ہوا۔
وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ (28:7) The word Wahy (inspiration) is used here in its literal meaning. It does not mean the Wahy that is peculiar to prophets. This point has already been explained under Surah Taha.
Pharaoh ordered all male Israelite infants killed. Allah inspired Musa's mother to place him in a basket on the Nile (28:7). The basket was found by Pharaoh's household, and Pharaoh's wife pleaded to adopt the infant. Musa's sister followed and arranged for him to be nursed by his own mother — paid by Pharaoh's household. This divine orchestration, preserved in Quran 28:7-13, shows Allah's ability to protect the destined prophet within the enemy's own palace.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.