The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Nur • Ayah 53

Para 18 Surah 24 : 53
۞ وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـٰنِهِمْ لَئِنْ أَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ ۖ قُل لَّا تُقْسِمُوا۟ ۖ طَاعَةٌ مَّعْرُوفَةٌ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

۞
وَأَقْسَمُوا۟
بِٱللَّهِ
جَهْدَ
أَيْمَـٰنِهِمْ
لَئِنْ
أَمَرْتَهُمْ
لَيَخْرُجُنَّ
ۖ
قُل
لَّا
تُقْسِمُوا۟
ۖ
طَاعَةٌ
مَّعْرُوفَةٌ
ۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
خَبِيرٌۢ
بِمَا
تَعْمَلُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

قُل لاَّ تُقْسِمُواْ(Say: "Swear you not...") meaning, do not swear this oath.طَاعَةٌ مَّعْرُوفَةٌ(obedience is known.) It was said that the meaning is, your obedience is known, i.e., it is known that your obedience is merely verbal and is not accompanied by action. Every time you swear an oath you lie. This is like the Ayah:يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْاْ عَنْهُمْ(They swear to you that you may be pleased with them...) 9:96 And Allah says:اتَّخَذْواْ أَيْمَـنَهُمْ جُنَّةً(They have made their oaths a screen (for their evil actions).) 58:16 It is part of their nature to tell lies, even in the issues they choose, as Allah says:أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نَـفَقُواْ يَقُولُونَ لإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلاَ نُطِيعُ فيكُمْ أَحَداً أَبَداً وَإِن قُوتِلْتُمْ لَنَنصُرَنَّكُمْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَـذِبُونَ - لَئِنْ أُخْرِجُواْ لاَ يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُواْ لاَ يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ الاٌّدْبَـرَ ثُمَّ لاَ يُنصَرُونَ (Have you not observed the hypocrites who say to their friends among the people of the Scripture who disbelieve: "If you are expelled, we indeed will go out with you, and we shall never obey any one against you; and if you are attacked, we shall indeed help you." But Allah is Witness that they verily are liars. Surely, if they are expelled, never will they go out with them; and if they are attacked, they will never help them. And if they do help them, they will turn their backs, and they will not be victorious.) 59:11-12 Then Allah says:قُلْ أَطِيعُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ(Say: "Obey Allah and obey the Messenger...) meaning, follow the Book of Allah and the Sunnah of His Messenger .فَإِن تَوَلَّوْاْ(but if you turn away,) if you ignore what he has brought to you,فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ(he is only responsible for the duty placed on him), conveying the Message and fulfilling the trust.وَعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ(and you for that placed on you.) accepting that, and venerating it and doing as it commanded.وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُواْ(If you obey him, you shall be on the right guidance.) because he calls to the straight path,صِرَطِ اللَّهِ الَّذِى لَهُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ(The path of Allah to Whom belongs all that is in the heavens and all that is in the earth. ..) 42:53وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ(The Messenger's duty is only to convey in a clear way.) This is like the Ayat:فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ(your duty is only to convey and on Us is the reckoning.) 13:40فَذَكِّرْ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌ - لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُسَيْطِرٍ (So remind them -- you are only one who reminds. You are not a dictator over them.) 88:21-22

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

مکار منافق ٭٭اہل نفاق کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنی ایمانداری اور خیر خواہی جتاتے ہوئے قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم جہاد کیلئے تیار بیٹھے ہیں بلکہ بے قرار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی دیر ہے فرمان ہوتے ہی گھربار بال بچے چھوڑ کر میدان جنگ میں پہنچ جائیں گے “۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے «يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِن تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ» [9-التوبة:96] ‏ ” ان سے کہہ دو کہ قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت کی حقیقت تو روشن ہے “، زبانی ڈینگیں بہت ہیں، عملی حصہ صفر ہے۔ «اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [63-المنافقون:2] ‏ ” تمہاری قسموں کی حقیقت بھی معلوم ہے، دل میں کچھ ہے، زبان پر کچھ ہے، جتنی زبان مومن ہے اتنا ہی دل کافر ہے۔ یہ قسمیں صرف مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ہیں “۔ «لَئِنْ أُخْرِجُوا لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا لَا يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ» [59-الحشر:12] ‏ ” ان قسموں کو تو یہ لوگ ڈھال بنائے ہوئے ہیں تم سے ہی نہیں بلکہ کافروں کے سامنے بھی ان کی موافقت اور ان کی امداد کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن اتنے بزدل ہیں کہ ان کا ساتھ خاک بھی نہیں دے سکتے “۔ اس جملے کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ” تمہیں تو معقول اور پسندیدہ اطاعت کاشیوہ چاہے نہ کہ قسمیں کھانے اور ڈینگیں مارنے کا، تمہارے سامنے مسلمان موجود ہیں دیکھو نہ وہ قسمیں کھاتے ہیں نہ بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے ہیں، ہاں کام کے وقت سب سے آگے نکل آتے ہیں اور فعلی حصہ بڑھ چڑھ کر لیتے ہیں۔ اللہ پر کسی کا کوئی عمل مخفی نہیں وہ اپنے بندوں کے ایک ایک عمل سے باخبر ہے۔ ہر عاصی اور مطیع اس پر ظاہر ہے۔ ہر ایک باطن پر بھی اس کی نگاہیں ویسی ہی ہیں جیسی ظاہر پر، گو تم ظاہر کچھ کرو لیکن وہ باطن پر بھی اگاہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یعنی قرآن اور حدیث کی اتباع کرو اگر تم اس سے منہ موڑ لو، اسے چھوڑ دو تو تمہارے اس گناہ کا وبال میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں۔ اس کے ذمے تو صرف پیغام الٰہی پہنچانا اور ادائے امانت کر دینا ہے۔ تم پر وہ ہے جس کے ذمے دار تم ہو یعنی قبول کرنا، عمل کرنا وغیرہ “۔ ہدایت صرف اطاعت رسول میں ہے، اس لیے کہ «صِرَاطِ اللَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ أَلَا إِلَى اللَّـهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ» [42-الشورى:53] ‏ ” صراط مستقیم کا داعی وہی ہے جو صراط مستقیم اس اللہ تک پہنچاتی ہے جس کی سلطنت تمام زمین آسمان ہے “۔ «وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [13-الرعد:40] ‏ ” رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے صرف پہنچادینا ہی ہے، سب کا حساب ہمارے ذمے ہے “۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-الغاشية:22،21] ‏، ” تو صرف ناصح و واعظ ہے۔ انہیں نصیحت کر دیا کر، تو ان کا وکیل یا داروغہ نہیں “۔صفحہ نمبر5968وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شعیاء علیہ السلام کی طرف وحی الٰہی آئی کہ ” تو بنی اسرائیل کے مجمع میں کھڑا ہوجا، میں تیری زبان سے جو چاہوں گا نکلواؤں گا “، چنانچہ آپ علیہ السلام کھڑے ہوئے تو آپ علیہ السلام کی زبان سے بہ حکم الٰہی یہ خطبہ بیان ہوا: ”اے آسمان سن، اے زمین خاموش رہ، اللہ تعالیٰ ایک شان پوری کرنا اور ایک امر کی تدبیر کرنے والا ہے وہ چاہتا ہے کہ جنگلوں کو آباد کردے، ویرانے کو بسا دے، صحراوں کو سرسبز بنا دے، فقیروں کو غنی کر دے، چرواہوں کو سلطان بنا دے، ان پڑھوں میں سے ایک امی کو نبی بنا کر بھیجے جو نہ بدگو ہو نہ بد اخلاق ہو، نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا ہو، اتنا مسکین صفت ہو اور متواضع ہو کہ اس کے دامن کی ہوا سے چراغ بھی نہ بجھے، جس کے پاس سے وہ گزرا ہو۔ اگر وہ سوکھے بانسوں پر پیر رکھ کر چلے تو بھی چراچراہٹ کسی کے کان میں نہ پہنچے۔ میں اسے بشیر و نذیر بنا کر بھیجوں گا، وہ زبان کا پاک ہو گا، اندھی آنکھیں اس کی وجہ سے روشن ہو جائیں گی، بہرے کان اس کے باعث سننے لگیں گے، غلاف والے دل اس کی برکت سے کھل جائیں گے۔ ہر ایک بھلے کام سے میں اسے سنواردوں گا۔ حکمت اس کی باتیں ہوں گی، صدق و وفا کی کی طبیعت ہوگی، عفو ودرگزر کرنا اور عمدگی و بھلائی چاہنا اس کی خصلت ہو گی۔ حق اس کی شریعت ہوگی، عدل اس کی سیرت ہو گی، ہدایت اس کی امام ہوگی۔ اسلام اس کی ملت ہو گا۔ احمد اس کا نام ہوگا (‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) گمراہی کے بعد اس کی وجہ سے میں ہدایت پھیلاوں گا، جہالت کے بعد علم چمک اٹھے گا، پستی کے بعد اس کی وجہ سے ترقی ہو گی۔ نادانی اس کی ذات سے دانائی میں بدل جائے گی۔ کمی زیادتی سے بدل جائے گی، فقیری کو اس کی وجہ سے میں امیری سے بدل دوں گا۔ اس کی ذات سے جدا جدا لوگوں کو میں ملا دوں گا، فرقت کے بعد الفت ہوگی، انتشار کے بعد اتحاد ہوگا، اختلاف کے بعد اتفاق ہوگا، مختلف دل، جداگانہ خواہشیں ایک ہو جائیں گی۔ بے شمار بندگان رب ہلاکت سے بچ جائیں گے، اس کی امت کو میں تمام امتوں سے بہتر کر دوں گا جو لوگوں کے نفع کے لیے ہوگی، بھلائیوں کا حکم کرنے والی برائیوں سے روکنے والی ہوگی، موحد مومن مخلص ہوں گے، اللہ کے جتنے رسول اللہ کی طرف سے جو لائے ہیں یہ سب کو مانیں گے، کسی کے منکر نہ ہوں گے۔‏“صفحہ نمبر5969

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 53 وَاَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَءِنْ اَمَرْتَہُمْ لَیَخْرُجُنَّ ط ”منافقین سے جب بھی کسی قربانی کا تقاضا کیا جاتا یا جہاد کے لیے نکلنے کا مرحلہ آتا تو وہ بہانے تراشتے ہوئے قسمیں کھاتے کہ ہمیں فلاں مجبوری ہے ‘ فلاں مسئلہ درپیش ہے ‘ لیکن اگر آپ ﷺ حکم دیں گے تو ہم بہرحال آپ ﷺ کے ساتھ ضرور نکلیں گے۔ جماعتی زندگی میں یہ نمونہ آج بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ امیر کی طرف سے ایک واضح حکم آجانے کے بعد بھی کچھ لوگ بہانے بناتے ہیں ‘ اپنی معذوری کا اظہار کرتے ہیں اور مجبوریاں گنوانے کے بعد یوں بھی کہتے ہیں کہ ”ویسے اگر آپ حکم دیں تو ہم حاضر ہیں !“ گویا جو پہلے حکم دیا گیا ہے وہ حکم نہیں ہے ؟ امیر کی بات کو آپ حکم کیوں نہیں سمجھ رہے ؟تو کیا جہاد کے لیے ایک واضح حکم کے بعد منافقین یہ توقع رکھتے ہیں کہ حضور ﷺ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ خوشامد کر کے اسے راضی کریں کہ اجی ! آپ ضرور جہاد کے لیے تشریف لے جائیں !قُلْ لَّا تُقْسِمُوْاج طاعَۃٌ مَّعْرُوْفَۃٌ ط ”جب تم لوگ مجھے اللہ کا رسول تسلیم کرنے اور مجھ پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو تو باقی تمام اہل ایمان کی طرح میری اطاعت اختیار کرو۔ میری طرف سے جو حکم تمہیں دیا جاتا ہے اسے قبول کرو۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Four conditions for success and victoryوَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ وَيَخْشَ اللَّـهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿52﴾And whoever obeys, Allah and His messenger and has awe of Him and observes Tagwa of Him, then such people are the victorious. [ 52]In this verse it is declared that those who bind themselves to follow these four things are the ones who are successful and victorious in this world and the Hereafter.An astonishing incidentAn incident of Sayyidna ` Umar ؓ is reported in Tafsir Qurtubi, which explains the difference between these four things and puts them in right perspective. It so happened that one day Sayyidna ` Umar ؓ was standing in the Prophet's mosque, when suddenly a Roman villager appeared and stood beside him, and said انا اَشھَدُ اَنَّ لا إله إلا اللہ و اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدَاً رَّسُولُ اَلله . Sayyidna ` Umar ؓ inquired ` What is the matter?' He replied ` I have accepted Islam for Allah's sake'. Then Sayyidna Umar ؓ asked if there was any reason for that, to which he replied in the affirmative, and elaborated that he had read Torah, Injil, Zabur and a number of other books brought by past messengers. But lately he had heard a verse of the Holy Qur'an recited by a Muslim prisoner and realized that in that small verse all the older books have been condensed. So, he was convinced that it was Allah's revelation. Then Sayyidna ` Umar ؓ enquired from him about the verse he was referring to, and he recited this very verse. That Roman villager also gave a very astonishing commentary of the verse, which goes like this:وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ وَيَخْشَ اللَّـهَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿52﴾And whoever obeys Allah and His messenger and has awe of Him and observes Tagwa of Him, then such people are the victorious. [ 52]This مَن يُطِعِ اللَّـهَ relates to the obligations toward Allah and وَرَ‌سُولَهُ refers to Prophet's traditions, and يَخْشَ اللَّـهَ alludes toward past life and وَيَتَّقْهِ is purported for the remaining life. When someone acts upon these fourthings he is given the good tiding of فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (that such people are the victorious). And Fa'iz is that person who gets deliverance from Jahannam and earns a place in the Paradise. After hearing this explanation Sayyidna ` Umar ؓ said the endorsement of this is available in the utterance of the Holy Prophet ﷺ ، who had said that اُوتیت جوامع الکلم Allah has graced me with such comprehensive expressions in which words are few but the meanings are vast'. (Qurtubi)

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.