Surah An-Nur • Ayah 46
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
وَاللَّهُ يَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ(And Allah guides whom He wills to the Straight Path.)
بابیہ حکمت بھرے احکام، یہ روشن، اس قرآن کریم میں اللہ ہی نے بیان فرمائی ہیں۔ عقلمندوں کو ان کے سمجھنے کی توفیق دی ہے، رب جسے چاہے اپنی سیدھی راہ پر لگائے۔صفحہ نمبر5960
آیت 45 وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍج فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہٖ ج ”یہ وہ جاندار ہیں جنہیں ہم reptiles کہتے ہیں۔ ان کی ٹانگیں وغیرہ نہیں ہوتیں اور وہ پیٹ کے بل رینگتے ہیں۔وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ ج ”خود ہم انسان بھی اسی مخلوق میں شامل ہیں۔ انسانوں کے علاوہ پرندے ‘ بن مانس champanzies اور گوریلے بھی دو ٹانگوں پر چلتے ہیں۔ کوئی اور مخلوق بھی ایسی ہوسکتی ہے جو دو ٹانگوں پر چلتی ہو۔وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ ط ”زمینی حیوانات میں سے چار ٹانگوں والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔یَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ”آئندہ آیات میں منافقین کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة یونس سے لے کر سورة المؤمنون تک چودہ سورتیں مسلسل مکیات تھیں۔ مکہ میں منافقین تو تھے نہیں لہٰذا ان تمام مکی سورتوں میں نہ تو نفاق کا ذکر آیا اور نہ ہی منافقین کا تذکرہ ہوا۔ ان مکی سورتوں میں گفتگو کا رخ زیادہ تر مشرکین مکہ کی طرف ہی رہا ہے۔ کہیں کہیں اہل کتاب کا ذکر بھی آیا ہے ‘ لیکن انہیں براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ان سورتوں میں حضور ﷺ کو اور آپ ﷺ کی وساطت سے اہل ایمان کو بھی مخاطب کیا جاتا رہا ہے۔ سورة النور کا نزول مدنی دور کے عین وسط یعنی 6 ہجری میں ہوا تھا اور اس وقت مدینہ کے اندر اچھی خاصی تعداد میں منافقین موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کردار کا تذکرہ اس سورت میں آیا ہے۔
مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَاFrom the sky mountains (of clouds) having hail in them - 43.Here the word سَمَاء is purported for clouds, and Jibal جِبَالٍ (mountains) for big masses of clouds, while hails are called Barad.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.