Surah Al-Hajj • Ayah 52
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
How the Shaytan threw some Falsehood into the Words of the Messengers, and how Allah abolishedAt this point many of the scholars of Tafsir mentioned the story of the Gharaniq and how many of those who had migrated to Ethiopia came back when they thought that the idolators of the Quraysh had become Muslims, but these reports all come through Mursal chains of narration and I do not think that any of them may be regarded as Sahih. And Allah knows best. Al-Bukhari said, "Ibn `Abbas said,فِى أُمْنِيَّتِهِ(in his recitation (of the revelation).) "When he spoke, the Shaytan threw (some falsehood) into his speech, but Allah abolished that which the Shaytan threw in."ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ ءَايَـتِهِ(Then Allah establishes His revelations.) `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said,إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَـنُ فِى أُمْنِيَّتِهِ(when he did recite (the revelation), Shaytan threw (some falsehood) in it) "When he spoke, the Shaytan threw (some falsehood) into his speech." Mujahid said:إِذَا تُمْنَى(when he did recite) "When he spoke." It was said that it refers to his recitation, whereas,إِلاَّ أَمَانِىَّ(but they trust upon Amani) means they speak but they do not write. Al-Baghawi and the majority of the scholars of Tafsir said:تَمَنَّى(he did recite) "Reciting the Book of Allah."أَلْقَى الشَّيْطَـنُ فِى أُمْنِيَّتِهِ(Shaytan threw (some falsehood) in it) "In his recitation." Ad-Dahhak said:إِذَا تُمْنَى(when he did recite) "When he recited." Ibn Jarir said, "This comment is more akin to interpretation."فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِى الشَّيْطَـنُ(But Yansakh Allah that which Shaytan throws in.) The meaning of the word Naskh in Arabic is to remove or lift away. `Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said, "This means, Allah cancels out that which the Shaytan throws in."وَاللَّهُ عَلِيمٌ(And Allah is All-Knower,) means, He knows all matters and events that will happen, and nothing whatsoever is hidden from Him.حَكِيمٌ(All-Wise.) means, in His decree, creation and command, He has perfect wisdom and absolute proof, hence He says:لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِى الشَّيْطَـنُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ(That He (Allah) may make what is thrown in by Shaytan a trial for those in whose hearts is a disease) meaning, doubt, Shirk, disbelief and hypocrisy. Ibn Jurayj said:الَّذِينَ فِى قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ(those in whose hearts is a disease) "The hypocrites, andوَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ(and whose hearts are hardened.) means the idolators."وَإِنَّ الظَّـلِمِينَ لَفِى شِقَاقٍ بَعِيدٍ(And certainly, the wrongdoers are in an opposition far-off.) means, far away in misguidance, resistance and stubbornness, i.e., far from the truth and the correct way.وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُواْ بِهِ(And that those who have been given knowledge may know that it is the truth from your Lord, so that they may believe therein,) means, `so that those who have been given beneficial knowledge with which they may differentiate between truth and falsehood, those who believe in Allah and His Messenger, may know that what We have revealed to you is the truth from your Lord, Who has revealed it by His knowledge and under His protection, and He will guard it from being mixed with anything else.' Indeed, it is the Wise Book which,لاَّ يَأْتِيهِ الْبَـطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلاَ مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ (Falsehood cannot come to it from before it or behind it, (it is) sent down by the All-Wise, Worthy of all praise (Allah).) 41:42فَيُؤْمِنُواْ بِهِ(so that they may believe therein,) means, that they may believe that it is true and act upon it.فَتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ(and their hearts may submit to it with humility.) means, that their hearts may humble themselves and accept it.وَإِنَّ اللَّهَ لَهَادِ الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ(And verily, Allah is the Guide of those who believe, to the straight path.) means, in this world and in the Hereafter. In this world, He guides them to the truth and helps them to follow it and to resist and avoid falsehood; in the Hereafter, He will guide them to the straight path which leads to the degrees of Paradise, and He will save them from the painful torment and the dismal levels of Hell.
شیطان کا تصرف غلط ہے ٭٭یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہو گئے واپس مکے آ گئے۔ لیکن یہ روایت ہر سند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے آیت «أَفَرَأَيْتُمْ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاة الثَّالِثَة الْأُخْرَى» [53-النجم:19] تو شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ ( «تِلْكَ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ تُرْتَجَى») پس مشرکین خوش ہو گئے کہ آج تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کی۔ چنانچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گر پڑے اس پر یہ آیت اتری «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» [22-الحج:52] الخ، اسے ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:25331:مرسل و ضعیف] مسند بزار میں بھی اس کے ذکر کے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلاً مروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے۔ [ضعیف] ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں، ابن جریر میں بھی مرسل ہے۔صفحہ نمبر5641قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آ گئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا ( «وَإِنَّ شَفَاعَتهَا لَتُرْتَجَى وَإِنَّهَا لَمَعَ الْغَرَانِيق الْعُلَى») نکلوادیا۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی۔ اس پر یہ آیت «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ» [22-الحج:52] اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سورۃ النجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود ونصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورۃ النجم کی تلاوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کی اور «أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ» [53-النجم:21] تک پڑھا تو، شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے ( «وَإِنَّهُنَّ لَهُنَّ الْغَرَانِيق الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتهنَّ لَهِيَ الَّتِي تُرْتَجَى») یہ شیطان کی مقفی عبارت تھی۔ ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہو گئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گر پڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لیے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔ اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا؟ شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کر سکتے تھے ۔صفحہ نمبر5642وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کر چکا تھا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا۔ شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں بلکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکے پہنچے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کر دیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے یہ روایت بھی مرسل ہے۔ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر5643امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی۔“ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز۔ [نصب المجانيق لنسف قصة الغرانيق الألباني:0000،قال الشيخ الألباني:باطل] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں۔ قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شفاء میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ناممکن ہے۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں علیہم السلام پر بھی ایسے اتفاقات آئے “۔ بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کر دیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کر کے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے ۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کا معنی «قَالَ» کے ہیں «أُمْنِيَّتِهِ» کے معنی «قَرَائَتِهِ» کے ہیں «إِلَّا أَمَانِيَّ» کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں۔ بغوی رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں «تَمَنَّىٰ» کے معنی «تَلَا» کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے۔ شعر «تَمَنَّى كِتَابَ اللَّهِ أَوَّلَ لَيْلَةٍ وَآخِرَهَا لَاقَى حِمَامَ الْمَقَادِرِ» ۔ یہاں بھی لفظ «تَمَنَّىٰ» پڑھنے کے معنی میں ہے۔صفحہ نمبر5644ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے۔ نسخ کے حقیقی معنی لغتاً ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کر دیتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام بحکم الٰہی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، وہ حکیم ہے اس کا کام الحکمت سے خالی نہیں۔ یہ اس لیے کہ جن کے دلوں میں شک، شرک، کفر اور نفاق ہے، ان کے لیے یہ فتنہ بن جائے۔ چنانچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے۔ لہٰذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔ ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہو گئے ہیں اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہو جائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے پس ان کے دل تصدیق سے پر ہو جاتے ہیں، جھک کر رغبت سے متوجہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے۔صفحہ نمبر5645
آیت 52 وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّآ اِذَا تَمَنّٰیٓ اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِہٖ ج ”لفظ ”تمنا“ اردو میں بھی مستعمل ہے۔ لغوی اعتبار سے اس مادہ میں آرزو اور خواہش کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی جس طرح ایک عام آدمی سوچتا ہے ‘ خواہش کرتا ہے اور مختلف امور میں منصوبہ بندی کرتا ہے اسی طرح نبی علیہ السلام اور رسول علیہ السلام بھی سوچتا ہے اور منصوبہ بندی کرتا ہے۔ مثلاً ابو طالب کی وفات کے بعد جب ابو لہب بنو ہاشم کا سردار بن گیا اور اس کی ذاتی دشمنی کے باعث آپ ﷺ کو اپنے قبیلے کی پشت پناہی حاصل نہ رہی تو آپ ﷺ نے سوچا کہ اب کیا کروں ؟ ع ”کس طرف جاؤں ‘ کدھر دیکھوں ‘ کسے آواز دوں !“ چناچہ ان حالات میں آپ ﷺ نے طائف کا سفر کرنے کا منصوبہ بنایا ‘ لیکن وہاں سے کوئی مثبت جواب نہ ملا اور آپ ﷺ کو بظاہر ناکام لوٹنا پڑا۔ بلکہ حضرت عائشہ رض کی روایت کے مطابق وہ دن آپ ﷺ کی زندگی کا سخت ترین دن یوم احد سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوا۔ بہر حال آپ ﷺ نے منصوبہ بندی بھی کی اور اس کے مطابق کوشش بھی کی۔ یہ الگ بات تھی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں یہ سعادت اہل طائف کے بجائے اہل یثرب کی قسمت میں لکھی گئی تھی۔ تو جب کوئی نبی اپنی منصوبہ بندی کرتا ہے تو شیطان اپنی طرف سے ان کے خیال میں کچھ نہ کچھ خلل ضرور ڈالتا ہے۔عصمت انبیاء کے بارے میں تمام اہل ایمان چونکہ بہت حساس ہیں اس لیے آیت زیر مطالعہ کے الفاظ سے جو مفہوم بظاہر سامنے آتا ہے وہ گویا ہر مسلمان کے حلق میں پھنس جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کی تفسیر و تشریح میں بہت سی دور ازکار تاویلات بھی لائی گئی ہیں۔ بہر حال میرے خیال میں یہ بالکل سیدھا سادہ مسئلہ ہے۔ اس کو یوں سمجھیں کہ کسی رسول یا نبی کی شخصیت اور خواہشات وتعلیمات کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو تو وہ ہے جو براہ راست وحی الٰہی کے تابع ہے۔ اس پہلو سے متعلق معاملات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی جلی یا وحی خفی کے ذریعے سے براہ راست واضح ہدایات ملتی رہتی ہیں۔ ان ہدایات یا احکام میں کسی خطا یا غلطی کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی اس میں شیطان یا شیطانی قوتیں کسی قسم کی در اندازی کرسکتی ہیں۔ دوسری طرف نبی علیہ السلام کی شخصیت کا ایک ذاتی اور نجی پہلو بھی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ نبی علیہ السلام کی کوئی ذاتی شخصیت یا سوچ ہوتی ہی نہیں ‘ بلکہ بہت سے معاملات میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کو ایک حکم دے دیا جاتا ہے اور اس حکم پر عمل کرنے کے بارے میں نبی علیہ السلام خود سوچتا ہے ‘ خود منصوبہ بندی کرتا ہے اور خود فیصلہ کرتا ہے۔ مثلاً حضور ﷺ کو ایک حکم دے دیا گیا : وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ الشعراء کہ آپ ﷺ تبلیغ شروع کیجیے اور اس سلسلے میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کیجیے۔ اس حکم کی تعمیل کے لیے حضور ﷺ نے حضرت علی رض کو ایک ضیافت کا انتظام کرنے کا حکم دیا۔ آپ ﷺ نے بنو ہاشم کے تمام مردوں کو مدعو کیا اور سب کو کھانا کھلایا۔ آپ ﷺ نے ان تک اپنا دعوتی پیغام پہنچانے کے لیے یہی طریقہ مناسب خیال کیا۔ گویا ایسے کسی حکم پر عمل کے لیے جزئیات کی منصوبہ بندی کرنے کا تعلق نبی علیہ السلام کے ذاتی اجتہاد سے ہے۔ چناچہ ان تدبیری معاملات کا وہ درجہ نہیں ہوتا جو براہ راست وحی کی ہدایت کا ہوتا ہے۔ اس فرق کو صحابہ کرام رض بہت اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس کی بہت سی عملی مثالیں بھی ہمیں سیرت سے ملتی ہیں۔ مثلاً غزوۂ بدر کے موقع پر آپ ﷺ نے ایک جگہ کی تخصیص فرما کر حکم دیا کہ لشکر کا کیمپ اس جگہ پر لگایا جائے۔ اس پر کچھ صحابہ رض نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر اس جگہ کے انتخاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص حکم ہے تو سر تسلیم خم ہے ! لیکن اگر یہ آپ ﷺ کی رائے ہے تو ہمیں بھی اپنی رائے پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف انہیں رائے دینے کی اجازت دی بلکہ ان کی رائے کو قبول بھی فرمایا اور لگے لگائے کیمپ کو اکھاڑ کر ان کی تجویز کردہ جگہ پر لگانے کا حکم دیا۔ یہ چونکہ حضور ﷺ کی ذاتی تدبیر تھی اس لیے صحابہ رض کو بھی اس میں اختلاف کی گنجائش محسوس ہوئی اور انہوں نے اپنے عملی تجربات کی روشنی میں رائے دی۔ دوسری طرف اگر یہ فیصلہ وحی کی روشنی میں کیا گیا ہوتا تو کیمپ کے اکھاڑے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔اسی طرح ”تابیر نخل“ کے معاملے کی مثال بھی بہت واضح ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہاں پر کھجور کے درختوں کو بار آور کرنے کے لیے زیرہ پوشی کا مصنوعی طریقہ artificial pollination اختیار کیا جاتا تھا ‘ یعنی نر درخت کے پھولوں کو مادہ درخت کے پھولوں پر جھاڑا جاتا تھا۔ آپ ﷺ نے کچھ لوگوں کو یہ عمل کرتے دیکھا تو فرمایا کہ اگر تم لوگ ایسا نہ کرو تو شایدبہتر ہو ! آپ ﷺ کے ایسا فرمانے پر لوگوں نے اس سال وہ عمل نہ کیا تو اس کے نتیجے میں فصل واضح طور پر کم ہوئی۔ اس پر ان لوگوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اس سال ہم نے تابیر نخل کے مروّجہ طریقے پر عمل نہیں کیا تو ہماری فصل کم ہوئی ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاَمْرِ دُنْیَاکُمْ 1 یعنی آپ لوگ اپنے دنیوی امور کے بارے میں مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ محدثین عظام پر اپنی خصوصی رحمتیں ‘ برکتیں اور نعمتیں نازل فرمائے۔ ان لوگوں کی محنتوں اور کوششوں سے حضور ﷺ کی احادیث محفوظ ہوئیں اور پھر ہم تک پہنچ کر ہماری راہنمائی کا ذریعہ بنیں۔ حضور ﷺ کے اس فرمان کا مقصد اور مفہوم یہی ہے کہ دنیوی معاملات کے مختلف شعبوں میں تم لوگوں کو ایسے تجربات حاصل ہیں جو مجھے حاصل نہیں اور میں تم لوگوں کو ان معاملات میں تعلیم دینے کے لیے مبعوث بھی نہیں ہوا۔ میں تم لوگوں کو زراعت کے اصول سکھانے کے لیے نہیں آیا۔ میں تو تم لوگوں کو ہدایت دینے کے لیے آیا ہوں اور یہی میری رسالت کا بنیادی مقصد اور موضوع ہے۔ چناچہ رسالت سے متعلق امور میں آپ لوگوں کے لیے میرا اتباع لازمی ہے ‘ لیکن دنیوی معاملات تم لوگ اپنے تجرباتی علم کی بنیاد پر ہی انجام دو۔ اگر دیکھا جائے تو اہل مدینہ کا تابیر نخل سے متعلق مذکورہ عمل سائنسی اصولوں پر مبنی تھا۔ سائنس کی بنیاد تجربات پر رکھی گئی ہے اور سائنسی علوم کا ارتقاء development بھی تجربات کے ذریعے سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ چناچہ یہ فرما کر حضور ﷺ نے تجرباتی یا سائنسی علوم کی گویا حوصلہ افزائی فرمائی کہ اپنے دنیوی معاملات کو تم لوگ مجھ سے بہتر جانتے ہو اور یہ کہ ان امور کو تم لوگ اپنے تجرباتی علم کی بنیاد پر ہی انجام دیا کرو۔اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی علیہ السلام یا رسول علیہ السلام کی وہ تعلیمات اور وہ ہدایات جو براہ راست وحی الٰہی کے تابع ہوں ان میں نہ تو کسی قسم کی خطا کا امکان ہے اور نہ ہی ان کے اندر شیطانی قوتوں کی در اندازی کا کوئی احتمال ہے ‘ لیکن عام دنیوی امور اور ان کی جزئیات کے بارے میں فیصلے کرتے ہوئے جہاں ایک نبی یا رسول اپنے ذاتی اجتہاد سے کام لے رہا ہو وہاں پر کسی خطا یا شیطانی خلل اندازی کا امکان موجود رہتا ہے۔ میری یہ توجیہہ ”موضح القرآن“ میں بیان کردہ شاہ عبدالقادر رح کی رائے کے قریب ترین ہے ‘ لہٰذا مجھے اس پر پورا اطمینان ہے۔
Commentaryمِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ (any messenger and any prophet - 22:52) This shows that the words Rasul رَّسُولٍ and Nabi carry different meanings, though there is no consensus as to the precise nature of the difference. For our purpose it is enough to understand that Nabi نَبِيٍّ is a person whom Allah Ta’ ala designates with a mission to reform his people and who receives revelations from Him. He may receive a Scripture and a code of laws or he may be commanded to convey the message of an earlier Book and code of laws. Sayyidna Musa (علیہ السلام) and ` Isa' (علیہ السلام) belong to the first category, whereas Sayyidna Harun (علیہ السلام) ، who was directed to propagate the teachings of Torah and the Mosaic Laws, falls in the second category. On the other hand a Rasul رَّسُولٍ is a person who receives from Allah Ta’ ala a Scripture and a code of laws. Thus every رَّسُولٍ Rasul is necessarily a Nabi also, but every Nabi is not a Rasul. These distinctions are applicable to human beings only. That an angel who carries wahy from Allah Ta’ ala is also named as Rasul does not contradict this position. This subject has already been discussed in detail in Surah Maryam in the beginning of this volume.أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ (The Shaitan cast (doubts) about what he recited - 22:52) In this verse the word تَمَنَّىٰ has been used as a synonym for قَرَأَ thus أُمْنِيَّتِهِ would mean قِرَأت (recitation). This verse explains that the disputes raised by the disbelievers in regard to Allah's message is not something new as similar doubts were raised by earlier people as well when their prophets presented to them the message of Truth, and the Shaitan cast doubts about it in the hearts of disbelievers. This explanation of the verse is quite clear and straight-forward, and has been adopted by many commentators including Abu Hayyan in his Bahr-ul-Muhit. However, some books of traditions have reported here an incident which is not proved by authentic sources. The incident is known as حَدِیث الٖغرانیق (hadith-ulgharaniq). Some scholars have held that it is invented by some heretics and enemies of Islam. But even those who believe this tradition to be worthwhile have taken pains to remove the doubts, which the words raise about the categorical and undisputed laws of Qur'an and Sunnah. The plain and simple meaning of the verse has been explained above and the alleged incident in no way affects this meaning. Making this incident as a part and parcel of the commentary on this verse, thereby creating unnecessary doubts, and then attempting to answer those doubts is an exercise in futility and absolutely undesirable وَاللہُ سبحانَہُ و تعالیٰ اَعلَم .
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.