The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Hajj • Ayah 37

Para 17 Surah 22 : 37
لَن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُحْسِنِينَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

لَن
يَنَالَ
ٱللَّهَ
لُحُومُهَا
وَلَا
دِمَآؤُهَا
وَلَـٰكِن
يَنَالُهُ
ٱلتَّقْوَىٰ
مِنكُمْ
ۚ
كَذَٰلِكَ
سَخَّرَهَا
لَكُمْ
لِتُكَبِّرُوا۟
ٱللَّهَ
عَلَىٰ
مَا
هَدَىٰكُمْ
ۗ
وَبَشِّرِ
ٱلْمُحْسِنِينَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Goal of the Udhiyyah (Sacrifice) according to Allah is the Sincerity and Taqwa of His ServantAllah says: this sacrifice is prescribed for you so that you will remember Him at the time of slaughter, for He is the Creator and Provider. Nothing of its flesh or blood reaches Him, for He has no need of anything other than Himself. During the time of Jahiliyyah, when they offered sacrifices to their gods, they would put some of the meat of their sacrifices on their idols, and sprinkle the blood over them. But Allah says:لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلاَ دِمَآؤُهَا(It is neither their meat nor their blood that reaches Allah,) Ibn Abi Hatim recorded that Ibn Jurayj said, "The people of the Jahiliyyah used to put the meat of their sacrifices and sprinkle the blood on the House, and the Companions of the Messenger of Allah ﷺ said, "We have more right to do that." Then Allah revealed the words:لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلاَ دِمَآؤُهَا وَلَـكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ(It is neither their meat nor their blood that reaches Allah, but it is Taqwa from you that reaches Him.) That is what He will accept and reward for, as mentioned in the Sahih,«إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَلْوَانِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُم»(Allah does not look to your appearance or your colors, but He looks to your hearts and deeds.) And in the Hadith; (Indeed charity falls in the Hand of Ar-Rahman before it falls in the hand of the one asking.)كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ(Thus have We made them subject to you) meaning, `for this purpose We have subjugated the Budn for you,'لِتُكَبِّرُواْ اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ(that you may proclaim Allah's greatness for His guidance to you.) means, that you may glorify Him for guiding you to His religion and His way which He loves and is pleased with, and has forbidden you to do all that He hates and rejects.وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ(And give glad tidings to the doers of good.) means, `give good news, O Muhammad, to those who do good,' i.e., whose deeds are good and who remain within the limits prescribed by Allah, who follow that which has been prescribed for them, who believe in the Messenger and follow that which he has conveyed from his Lord.(Note) The Udhiyyah is Sunnah Mustahabbah One animal is sufficient on behalf of all the members of one household. Ibn `Umar said, "The Messenger of Allah ﷺ continued to offer sacrifice for ten years." This was recorded by At-Tirmidhi. Abu Ayyub said: "At the time of the Messenger of Allah ﷺ, a man would sacrifice a sheep on behalf of himself and all the members of his household, and they would eat from it and feed others, until the people started boasting by sacrificing more than one and things reached the stage that you see now." This was recorded by At-Tirmidhi, who graded it Sahih, and by Ibn Majah. `Abdullah bin Hisham used to sacrifice one sheep on behalf of his entire family; this was recorded by Al-Bukhari. Concerning how old the sacrificial animal should be, Muslim recorded from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said:«لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً، إِلَّا أَنْ تَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْن»(Do not sacrifice any but mature animals, and if that is not possible, then sacrifice a young sheep.)

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

قربانی پر اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرو ٭٭ارشاد ہوتا ہے کہ ” قربانیوں کے وقت اللہ کا نام بڑائی سے لیا جائے “۔ اسی لیے قربانیاں مقرر ہوئی ہیں کہ خالق رازق اسے مانا جائے نہ کہ قربانیوں کے گوشت و خون سے اللہ کو کوئی نفع ہوتا ہو۔ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے غنی اور کل بندوں سے بے نیاز ہے۔ جاہلیت کی بیوقوفیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان پر خون کا چھینٹا دیتے تھے۔ یہ بھی دستور تھا کہ بیت اللہ شریف پر قربانی کے خون چھڑکتے، مسلمان ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا کرنے کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت اتری کہ ” اللہ تو تقویٰ کو دیکھتا ہے اسی کو قبول فرماتا ہے اور اسی پر بدلہ عنایت فرماتا ہے “۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا نہ اس کی نظریں تمہارے مال پر ہیں بلکہ اس کی نگاہیں تمہارے دلوں پر اور تمہارے اعمال پر ہیں ۔ [صحیح مسلم:2564] ‏ اور حدیث میں ہے کہ خیرات وصدقہ سائل کے ہاتھ میں پڑے اس سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر ٹپکے اس سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے ۔ [سنن ترمذي:1493،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اس کا مطلب یہی ہے کہ خون کا قطرہ الگ ہوتے ہی قربانی مقبول ہو جاتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر5616عامر شعبی رحمہ اللہ سے قربانی کی کھالوں کی نسبت پوچھا گیا تو فرمایا ”اللہ کو گوشت و خون نہیں پہنچتا اگر چاہو بیچ دو، اگر چاہو خود رکھ لو، اگر چاہو راہ للہ دے دو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے قبضے میں دیا ہے۔ کہ تم اللہ کے دین اور اس کی شریعت کی راہ پا کر اس کی مرضی کے کام کرو اور نا مرضی کے کاموں سے رک جاؤ۔ اور اس کی عظمت وکبریائی بیان کرو۔ جو لوگ نیک کار ہیں، حدود اللہ کے پابند ہیں، شریعت کے عامل ہیں، رسولوں کی صداقت تسلیم کرتے ہیں وہ مستحق مبارکباد اور لائق خوشخبری ہیں۔‏“صفحہ نمبر5617مسئلہ ٭٭امام ابوحنیفہ، مالک ثوری رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ ”جس کے پاس نصاب زکوٰۃ جتنا مال ہو اس پر قربانی واجب ہے۔‏“ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ شرط بھی ہے کہ وہ اپنے گھر میں مقیم ہو۔ چنانچہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ جسے وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے ۔ [سنن ابن ماجہ:3123،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس روایت میں غرابت ہے اور امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اسے منکر بتاتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دس سال قربانی کرتے رہے ۔ [سنن ترمذي:1507،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ امام شافعی رحمہ اللہ اور حضرت مام احمد رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ قربانی واجب و فرض نہیں بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ مال و زکوٰۃ کے سوا اور کوئی فرضیت نہیں ۔ [سنن ابن ماجہ:1789،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏صفحہ نمبر5618یہ بھی روایت پہلے بیان ہو چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام امت کی طرف سے قربانی کی پس وجوب ساقط ہو گیا۔ ابو شریحہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے پڑوس میں رہتا تھا۔ یہ دونوں بزرگ قربانی نہیں کرتے تھے اس ڈر سے کہ لوگ ان کی اقتداء کریں گے۔ بعض لوگ کہتے ہیں قربانی سنت کفایہ ہے، جب کہ محلے میں سے یا گلی میں سے یا گھر میں سے کسی ایک نے کر لی باقی سب نے ایسا نہ کیا۔ اس لیے کہ مقصود صرف شعار کا ظاہر کرنا ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں فرمایا: ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے اور «عَتِيرَة» ہے جانتے ہو «عَتِيرَة» کیا ہے؟ وہی جسے تم «رَّجَبِيَّة» کہتے ہو ۔ [سنن ابوداود:2788،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اس کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنے پورے گھر کی طرف سے ایک بکری راہ للہ ذبح کر دیا کرتے تھے اور خود بھی کھاتے، اوروں کو بھی کھلاتے۔ پھر لوگوں نے اس میں وہ کر لیا جو تم دیکھ رہے ہو ۔ [سنن ترمذي:1505،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ اپنی اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کیا کرتے تھے ۔ [صحیح بخاری:7210] ‏صفحہ نمبر5619اب قربانی کے جانور کی عمر کا بیان ملاحظہ ہو۔ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نہ ذبح کرو مگر «مُسِنَّة» بجز اس صورت کے کہ وہ تم پر بھاری پڑ جائے تو پھر بھیڑ کا بچہ بھی چھ ماہ کا ذبح کر سکتے ہو ۔ [سنن ابوداود:2788،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ زہری رحمہ اللہ تو کہتے ہیں کہ «الْجَذَع» یعنی چھ ماہ کا کوئی جانور قربانی میں کام ہی نہیں آسکتا اور اس کے بالمقابل اوزاعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ ہر جانور کا جزعہ کافی ہے۔ لیکن یہ دونوں قول افراط والے ہیں۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اونٹ گائے بکری تو وہ جائز ہے جو ثنی ہو۔ اور بھیڑ کا چھ ماہ کا بھی جائز ہے۔ اونٹ تو ثنی ہوتا ہے جب پانچ سال پورے کر کے چھٹے میں لگ جائے۔ اور گائے جب دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین گزار کر چوتھے میں لگ گیا ہو۔ اور بکری کا ثنی وہ ہے جو دو سال گزار چکا ہو اور جذعہ کہتے ہیں اسے جو سال بھر کا ہو گیا ہو اور کہا گیا ہے جو دس ماہ کا ہو۔ ایک قول ہے جو آٹھ ماہ کا ہو ایک قول ہے جو چھ ماہ کا ہو اس سے کم مدت کا کوئی قول نہیں۔ اس سے کم عمر والے کو حمل کہتے ہیں۔ جب تک کہ اس کی پیٹھ پر بال کھڑے ہوں اور بال لیٹ جائیں اور دونوں جانب جھک جائیں تو اسے جذع کہا جاتا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر5620

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 37 لَنْ یَّنَال اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ط ”قربانی کا اصل فلسفہ یہی ہے ‘ بلکہ ہر عبادت کا فلسفہ یہی ہے۔ کسی بھی عبادت کا ایک ظاہری پہلو یا ڈھانچہ ہے اور ایک اس کی روح ہے۔ ظاہری ڈھانچہ اپنی جگہ اہم ہے اور وہ اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر اس عبادت کا بجا لانا ممکن نہیں ‘ لیکن یہ ظاہری پیکر اصل دین اور اصل مقصود نہیں ہے۔ کسی بھی عبادت سے اصل مقصود اس کی روح ہے۔ اسی نکتہ کو علامہ اقبال ؔ نے ان اشعار میں واضح کیا ہے : ؂رہ گئی رسم اذاں ‘ روح بلالی رض نہ رہی فلسفہ رہ گیا ‘ تلقین غزالی رح نہ رہی اور نماز و روزہ و قربانی و حج یہ سب باقی ہیں ‘ تو باقی نہیں ہے !چنانچہ قربانی کا اصل مقصود ہمارے دلوں کا تقویٰ اور اخلاص ہے۔ اللہ کے ہاں جو چیز اہم ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص قربانی دے رہا ہے وہ اپنی معمول کی زندگی میں اس کی نافرمانی سے کتنا ڈرتا ہے ؟ وہ اپنے روز مرہ کے معمولات میں اللہ کے احکام و قوانین کا کس قدر پابند ہے ؟ کس قدر وہ اپنی توانائیاں ‘ اپنی صلاحیتیں اور اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کر رہا ہے ؟ کیا قربانی کے جانور کا اہتمام اس نے رزق حلال سے کیا ہے ؟ اس قربانی کے پیچھے اس کا جذبۂ اطاعت و ایثار کس قدر کارفرما ہے ؟ یہ اور اسی نوعیت کی دوسری شرائط جو قربانی کی اصل روح اور تقویٰ کا تعین کرتی ہیں اگر موجود ہیں تو امید رکھنی چاہیے کہ قربانی اللہ کے حضور قابل قبول ہوگی۔ لیکن اگر یہ سب کچھ نہیں تو ٹھیک ہے آپ نے گوشت کھالیا ‘ کچھ غریبوں کو بھی اس میں سے حصہ مل گیا ‘ اس کے علاوہ شاید قربانی سے اور کچھ فائدہ حاصل نہ ہو۔کَذٰلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٹکُمْ ط ”مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیں۔ ایک عید الفطر ہے جو روزوں کے بعد آتی ہے اور دوسری عید الاضحیٰ جو حج کے ساتھ منسلک ہے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ سورة البقرۃ کے 23 ویں رکوع میں روزوں کے ذکر کے بعد بھی بالکل یہی حکم وارد ہوا ہے : وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٹکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ”تاکہ تم لوگ اللہ کی تکبیر بیان کرو اس ہدایت پر جس سے اس نے تمہیں سرفراز کیا ہے اور تاکہ تم شکر ادا کیا کرو“۔ یعنی دونوں مواقع پر اللہ کی تکبیر بلند کرتے ہوئے اس کی کبریائی کا اظہار کرنے کی خصوصی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی لیے عیدین کی نمازوں کے لیے آتے جاتے تکبیریں پڑھنے کی تاکید احادیث میں ملتی ہے اور عیدین کی نمازوں کے اندر بھی اضافی تکبیریں پڑھی جاتی ہیں۔وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ ”محسنین سے وہ لوگ مراد ہیں جو اسلام ‘ ایمان اور تقویٰ کی منزلیں طے کرتے ہوئے درجۂ احسان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ کی توفیق سے اس درجہ کو حاصل کرلیتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! آمین ! ثم آمین !

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The real object is not the specific rites of pilgrimage but true devotion to Allah and submission to His will which are inherent in those ritesلَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا (It is neither their flesh nor their blood that reaches Allah - 22:37) It means that the sacrifice of animals is a very high form of worship, but their meat and blood do not reach Allah Ta’ ala nor are these two things the real object of sacrifice. Its real aim is to recite the name of Allah and to comply with His commands with true devotion. This rule applies to all forms of worship. For instance, the object of prayers is not just the movement of limbs, or the object of fasting is not merely a denial of food and drink. The real purpose of these rites of worship is to obey the commands of Allah Ta’ ala with all sincerity. Devoid of sincerity these rites of worship are like a body without soul. Nevertheless these forms of worship are also very important because Allah Ta’ ala has prescribed these forms for different types of worship. Allah knows best. واللہ اعلم

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.