The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Hajj • Ayah 12

Para 17 Surah 22 : 12
يَدْعُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُۥ وَمَا لَا يَنفَعُهُۥ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَـٰلُ ٱلْبَعِيدُ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

يَدْعُوا۟
مِن
دُونِ
ٱللَّهِ
مَا
لَا
يَضُرُّهُۥ
وَمَا
لَا
يَنفَعُهُۥ
ۚ
ذَٰلِكَ
هُوَ
ٱلضَّلَـٰلُ
ٱلْبَعِيدُ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The meaning of worshipping Allah as it were upon the edgeMujahid, Qatadah and others said:عَلَى حَرْفٍ(upon the edge) means, in doubt. Others said that it meant on the edge, such as on the edge or side of a mountain, i.e., (this person) enters Islam on the edge, and if he finds what he likes he will continue, otherwise he will leave. Al-Bukhari recorded that Ibn `Abbas said:وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ(And among mankind is he who worships Allah as it were upon the edge.) "People would come to Al-Madinah to declare their Islam and if their wives gave birth to sons and their mares gave birth to foals, they would say, `This is a good religion,' but if their wives and their mares did not give birth, they would say, `This is a bad religion."' Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said, "One of them would come to Al-Madinah, which was a land that was infected with a contagious disease. If he remained healthy there, and his mare foaled and his wife gave birth to a boy, he would be content, and would say, `I have not experienced anything but good since I started to follow this religion."وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ(but if a Fitnah strikes him), Fitnah here means affliction, i.e., if the disease of Al-Madinah befalls him, and his wife gives birth to a babe girl and charity is delayed in coming to him, the Shaytan comes to him and says: `By Allah, since you started to follow this religion of yours, you have experienced nothing but bad things,' and this is the Fitnah." This was also mentioned by Qatadah, Ad-Dahhak, Ibn Jurayj and others among the Salaf when explaining this Ayah. Mujahid said, concerning the Ayah:انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ(he turns back on his face.) "(This means), he becomes an apostate and a disbeliever."خَسِرَ الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةَ(He loses both this world and the Hereafter.) means, he does not gain anything in this world. As for the Hereafter, he has disbelieved in Allah the Almighty, so he will be utterly doomed and humiliated. So Allah says:ذلِكَ هُوَ الْخُسْرَنُ الْمُبِينُ(That is the evident loss.), i.e., the greatest loss and the losing deal.يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَا لاَ يَضُرُّهُ وَمَا لاَ يَنفَعُهُ(He calls besides Allah unto that which can neither harm him nor profit him.) means, the idols, rivals, and false gods which he calls upon for help, support and provision -- they can neither benefit him nor harm him.ذلِكَ هُوَ الضَّلاَلُ الْبَعِيدُ(That is a straying far away.)يَدْعُو لَمَنْ ضَرُّهُ أَقْرَبُ مِن نَّفْعِهِ(He calls unto him whose harm is nearer than his profit;) means, he is more likely to harm him than benefit him in this world, and in the Hereafter he will most certainly cause him harm.لَبِئْسَ الْمَوْلَى وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ(certainly an evil Mawla and certainly an evil `Ashir!) Mujahid said, "This means the idols." The meaning is: "How evil a friend is this one upon whom he calls instead of Allah as a helper and supporter."وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ(and certainly an evil `Ashir!) means the one with whom one mixes and spends one's time.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

شک کے مارے لوگ ٭٭ «حَرْفٍ» کے معنی شک کے ایک طرف کے ہیں۔ گویا وہ دین کے ایک کنارے کھڑے ہو جاتے ہیں فائدہ ہوا تو پھولے نہیں سماتے، نقصان دیکھا بھاگ کھڑے ہوئے۔ صحیح بخاری شریف میں (‏سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ اعراب ہجرت کر کے مدینے پہنچتے تھے اب اگر بال بچے ہوئے جانوروں میں برکت ہوئی تو کہتے یہ دین بڑا اچھا ہے اور اگر نہ ہوئے تو کہتے یہ دین تو نہایت برا ہے ۔ [صحیح بخاری:4742] ‏ ابن حاتم میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”اعراب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اسلام قبول کرتے واپس جا کر اگر اپنے ہاں بارش، پانی پاتے، جانوروں میں، گھربار میں برکت دیکھتے تو اطمینان سے کہتے بڑا اچھا دین ہے اور اگر اس کے خلاف دیکھتے تو جھٹ سے بک دیتے کہ اس دین میں سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں، اس پر یہ آیت اتری۔‏“ بروایت عوفی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”ایسے لوگ بھی تھے جو مدینے پہنچتے ہی اگر ان کے ہاں لڑکا ہوتا یا ان کی اونٹنی بچہ دیتی تو انہیں راحت ہوئی تو خوش ہو جاتے اور ان کی تعریفیں کرنے لگتے اور اگر کوئی بلا، مصیبت آ گئی، مدینے کی ہوا موافق نہ آئی، گھر میں لڑکی پیدا ہو گئی، صدقے کا مال میسر نہ ہوا توشیطانی وسوسے میں آ جاتے اور صاف کہہ دیتے کہ اس دین میں تو مشکل ہی مشکل ہے۔‏“ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”یہ حالت منافقوں کی ہے، دنیا اگر مل گئی تو دین سے خوش ہیں جہاں نہ ملی یا امتحان آ گیا فوراً پلہ جھاڑلیا کرتے ہیں، مرتد کافر ہو جاتے ہیں۔‏“ یہ پورے بدنصیب ہیں دنیا آخرت دونوں برباد کر لیتے ہیں اس سے زیادہ اور بربادی کیا ہوتی؟ جن ٹھاکروں، بتوں اور بزرگوں سے یہ مدد مانگتے ہیں، جن سے فریاد کرتے ہیں، جن کے پاس اپنی حاجتیں لے کر جاتے ہیں، جن سے روزیاں مانگتے ہیں وہ تو محض عاجز ہیں، نفع نقصان ان کے ہاتھ ہی نہیں۔ سب سے بڑی گمراہی یہی ہے۔ دنیا میں بھی ان کی عبادت سے نقصان نفع سے پیشتر ہی ہو جاتا ہے۔ اور آخرت میں ان سے جو نقصان پہنچے گا اس کا کہنا ہی کیا ہے؟ یہ بت تو ان کے نہایت برے والی اور نہایت برے ساتھی ثابت ہوں گے۔ یا یہ مطلب کہ ایسا کرنے والے خود بہت ہی بد اور بڑے ہی برے ہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ اچھی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر5565

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 11 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ ج ”انسانی دل کے اس روگ کی نشان دہی سورة البقرۃ کی آیت 10 میں ان الفاظ میں کی گئی ہے : فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ ”ان کے دلوں میں مرض ہے“۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حق کا ساتھ دینا تو چاہتے ہیں ‘ لیکن اس کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کو تیار نہیں۔ وہ گہرے پانی میں جانے کا خطرہ مول لینے کے بجائے کنارے پر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مبادا کہ اس سفر میں کوئی گزند پہنچ جائے یا کوئی مالی نقصان اٹھانا پڑجائے۔ وہ لوگ بڑی چالاکی کے ساتھ اس قسم کے سب خطرات سے خود کو محفوظ فاصلے پر رکھ کر حق کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں ‘ لیکن اس راستے میں ایسا طرز عمل قابل قبول نہیں ہے۔ یہ تو سرا سر قربانی کا راستہ ہے۔ اس راستے میں اپنی جان اور اپنے مال کو بچا بچا کر رکھنے والے فرزانوں کی نہیں بلکہ قدم قدم پر قربانیاں دینے والے دیوانوں کی ضرورت ہے۔ اسی فلسفے کو اقبال ؔ نے اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے : ؂تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ‘ ترا آئینہ ہے وہ آئینہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں !ایسے لوگوں کے مقابلے میں دوسری طرف کچھ وہ لوگ ہیں جو حق کو قبول کرتے ہی یہ نعرہ بلند کرتے ہوئے منجدھار میں کود پڑتے ہیں : ع ”ہر چہ بادا باد ‘ ماکشتی در آب انداختیم !“ کہ اب جو ہو سو ہو ‘ ہم تو حق کی اس کشتی میں سوار ہو کر اسے دریا میں ڈال چکے ہیں۔ اب یہ تیرے گی تو ہم بھی تیریں گے اور اگر اس راستے میں ہماری جان بھی چلی جائے تو ہم اس قربانی کے لیے بھی تیار ہیں۔وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ نِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ ج ”ایسے لوگ موافق حالات میں تو ہر کام میں اہل ایمان کے ساتھ شریک رہتے ہیں ‘ لیکن اگر کہیں اللہ کی راہ میں نکلنے کا مرحلہ آجائے یا کسی اور قربانی کا تقاضا ہو تو چپکے سے واپسی کی راہ لے لیتے ہیں۔ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ”یہ بہت ہی نمایاں اور واضح تباہی ہے۔اس آیت میں منافقانہ کردار کا ذکر ہے۔ اسی طرح اس سورت میں جہاد کا ذکر بھی ملتا ہے۔ منافقت اور جہاد چونکہ مدنی سورتوں کے موضوعات ہیں اس لیے سورة الحج کو بعض مفسرین مدنی سورت مانتے ہیں ‘ لیکن میرے نزدیک یہ مکی ہے۔ تفسیر طبری میں منقول حبر الامت حضرت عبداللہ بن عباس رض کے قول سے اس خیال کی تائیدہوتی ہے کہ اس سورت کی کچھ آیات 38 تا 41 اثنائے سفر ہجرت میں نازل ہوئیں۔ چناچہ ان آیات کو ”برزخی آیات“ کہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ سورة الحج کو اس بنا پر بھی مدنی سمجھا جاتا ہے کہ اس کی بعض آیات کی سورة البقرۃ کی بعض آیات کے ساتھ گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔ مثلاً سورة البقرۃ کی آیت 143 اور سورة الحج کی آخری آیت میں ”شہادت علی الناس“ کا مضمون بالکل ایک جیسے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اسی طرح زیر نظر آیت میں منافقین کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے وہ اس کیفیت سے بہت مشابہت رکھتی ہے جس کا نقشہ سورة البقرۃ کے دوسرے رکوع میں کھینچا گیا ہے کہ جب بجلی چمکتی ہے تو یہ لوگ کچھ چل پھر لیتے ہیں لیکن جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں۔ بہر حال مدینہ میں حضور ﷺ کے سامنے منافقین کا بالکل وہی حال تھا جس کی تصویر سورة البقرۃ کی مذکورہ تمثیل اور زیر مطالعہ آیت میں دکھائی گئی ہے۔ جب کسی جنگ یا کسی مہم کا تقاضا نہ ہوتا تو یہ لوگ حضور ﷺ کی محفل میں باقاعدگی سے حاضر ہوتے اور بڑے بڑے دعوے کرتے ‘ مگر جونہی کسی قربانی کا مرحلہ آتا تو گویا اوندھے منہ گرپڑتے تھے۔ دعا کریں کہ اللہ ہمیں اس بیماری سے بچائے اور اقامت دین کی جدوجہد میں پورے خلوص کے ساتھ ہمہ تن اور ہمہ وجوہ اپنے آپ کو جھونک دینے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین !

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Commentary(And among men there is one who worships Allah (standing) on the verge - 22:11.) Bukhari and Ibn Abi Haim have related from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that when the Holy Prophet ﷺ migrated to Madinah, people flocked to him and accepted the new religion. But there were some among them whose conversion to Islam was far from being genuine, and whose sole motive for their action was to seek self-advancement, and they lacked conviction. If, after becoming Muslims, favorable circumstances resulted in an increase in their prosperity and their children, they thought Islam was a very good religion, but they were equally ready to condemn it if things went against their personal interests. This verse was revealed to describe such people who were mere opportunists and were easily swayed either way depending on where their selfish interests lay.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.