Surah Al-Hajj • Ayah 1
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Which was revealed in Makkahبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.Another Version of this HadithAt-Tirmidhi recorded from `Imran bin Husayn that when the words,يَـأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ(O mankind! Have Taqwa of your Lord.) Until His saying,وَلَـكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ(but Allah's torment is severe.) were revealed, the Prophet was on a journey, and he said:«أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: ذَلِكَ يَوْمٌ يَقُولُ اللهُ لِآدَمَ: ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قالَ: تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّة»(Do you know what Day that is) They said, "Allah and His Messenger know best." (He said: That is the Day on which Allah will say to Adam, "Send forth (those of your progeny) who are to be sent to the Fire." He will say, "O Lord, how many are to be sent to the Fire" He will say, "From every thousand, nine hundred and ninety-nine will be in the Fire and one will be in Paradise.") The Muslims started to weep, then the Messenger of Allah ﷺ said:«قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، فَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهَا جَاهِلِيَّةٌ، قَالَ: فَيُؤْخَذُ الْعَدَدُ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنْ تَمَّتْ، وَإِلَّا كُمِّلَتْ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، وَمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْأُمَمِ إِلَّا كَمَثَلِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، أَوْ كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِير»(Be close in your rank and be straight forward, for there was never any Prophet but there was a time of ignorance just before his advent, so the number will be taken from that time of ignorance, and if that is not enough, it will be made up from the hypocrites. A parable of yours in comparison to the other nations is that, you are like a mark on the foreleg of an animal, or a mole on the flank of a camel.) Then he said,«إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّة»(I hope that you will be a quarter of the people of Paradise.) They said, "Allahu Akbar!" Then he said,«إِنِّييَلَأرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّة»(I hope that you will be a third of the people of Paradise.) They said, "Allahu Akbar!" Then he said,«إِنِّييَلَأرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّة»(I hope that you will be half of the people of Paradise.) They said, "Allahu Akbar!" Then he the narrator said, "I do not know if he said two-thirds or not." This was also recorded by Imam Ahmad. Then At-Tirmidhi also said, "This is a Hasan Sahih Hadith." In his Tafsir, under this Ayah, Al-Bukhari recorded that Abu Sa`id said, "The Prophet said:«يَقُولُ اللهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا آدَمُ، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ، فَيُنَادَى بِصَوْتٍ: إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُخْرِجَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَى النَّارِ، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ أُرَاهُ قَالَ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، فَحِينَئِذٍ تَضَعُ الْحَامِلُ حَمْلَهَا وَيَشِيبُ الْوَلِيدُوَتَرَى النَّاسَ سُكَـرَى وَمَا هُم بِسُكَـرَى وَلَـكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ(On the Day of Resurrection, Allah will say: "O Adam." He will say, "At Your service, O Lord." Then a voice will call out: "Allah commands you to send forth from your progeny those who are destined for the Fire." He will say, "O Lord, who is destined for the Fire" He will say, "From every thousand" -- I think he said -- "nine hundred and ninety-nine." At that time every pregnant female will drop her load and children will turn grey. (and you shall see mankind as in a drunken state, yet they will not be drunken, but Allah's torment is severe.)) That will be so difficult for mankind to bear that their faces will change. The Prophet said:«مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ، أَنْتُمْ فِي النَّاسِ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جَنْبِ الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جَنْبِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَكَبَّرْنَا. ثُمَّ قَالَ: ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَكَبَّرْنَا. ثُمَّ قَالَ: شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَكَبَّرْنا»(Nine hundred and ninety-nine from Ya'juj and Ma'juj, and one from you. Among mankind you are like a black hair on the side of a white bull, or a white hair on the side of a black bull. I hope that you will be one quarter of the people of Paradise.) We said "Allahu Akbar!" Then he said, (A third of the people of Paradise.) We said, "Allahu Akbar!" Then he said, (One half of the people of Paradise.) We said: `Allahu Akbar!" Al-Bukhari also recorded this elsewhere. It was also recorded by Muslim, and An-Nasa'i in his Tafsir. The Hadiths and reports about the terrors of the Day of Resurrection are very many, and this is not the place to quote them all.إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَىْءٌ عَظِيمٌ(Verily, the earthquake of the Hour is a terrible thing.) means, a serious matter, a terrifying crisis, a horrendous event. This earthquake is what will happen to people when they are filled with terror, as Allah says:هُنَالِكَ ابْتُلِىَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُواْ زِلْزَالاً شَدِيداً(There, the believers were tried and shaken with a mighty shaking.) 33:11. Then Allah says:يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ أَرْضَعَتْ(The Day you shall see it, every nursing mother will forget her nursling,) means, she will be distracted by the horror of what she is seeing, which will make her forget the one who is the dearest of all to her and to whom she shows the most compassion. Her shock will make her neglect her infant at the very moment of breastfeeding, Allah says,كُلُّ مُرْضِعَةٍ(every nursing mother), and He did not say a mother who has an infant of breastfeeding age.عَمَّآ أَرْضَعَتْ(her nursling) means, her nursing infant that has not yet been weaned.وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا(and every pregnant one will drop her load,) means, before the pre- gnancy has reached full term, because of the intensity of the horror.وَتَرَى النَّاسَ سُكَـرَى(and you shall see mankind as in a drunken state,) means, because of the severity of their situa- tion, when they will lose their minds, so that whoever sees them, will think, that they are drunk,وَمَا هُم بِسُكَـرَى وَلَـكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ(yet they will not be drunken, but Allah's torment is severe.)
دعوت تقویٰ ٭٭اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تقوے کا حکم فرماتا ہے اور آنے والے دہشت ناک امور سے ڈرا رہا ہے خصوصاً قیامت کے زلزلے سے۔ اس سے مراد یا تو وہ زلزلہ ہے جو قیامت کے قائم ہونے کے درمیان آئے گا۔ جیسے فرمان ہے آیت «إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا» [99-الزلزلة:2،1] ، ” زمین خوب اچھی طرح جھنجھوڑ دی جائے گی “۔ اور فرمایا آیت «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ» [69-الحاقة:15،14] یعنی ” زمین اور پہاڑ اٹھا کر باہم ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے کر دئے جائیں گے“۔ اور فرمان ہے آیت «إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا فَكَانَتْ هَبَاءً مُّنبَثًّا» [56-الواقعة:6-4] یعنی ” جب کہ زمین بڑے زور سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے “۔ صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جب آسمان و زمین کو پیدا کر چکا تو صور کو پیدا کیا اسے اسرافیل علیہ السلام کو دیا وہ اسے منہ میں لیے ہوئے آنکھیں اوپر کو اٹھائے ہوئے عرش کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ کب حکم الٰہی ہو اور وہ صور پھونک دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صور کیا چیز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک پھونکنے کی چیز ہے بہت بری جس میں تین مرتبہ پھونکا جائے گا پہلا نفخہ گھبراہٹ کا ہو گا دوسرا بے ہوشی کا تیسرا اللہ کے سامنے کھڑا ہونے کا۔ اسرافیل علیہ السلام کو حکم ہو گا وہ پھونکیں گے جس سے کل زمین و آسمان والے گھبرا اٹھیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ بغیر رکے، بغیر سانس لیے بہت دیرتک برابر اسے پھونکتے رہیں گے ۔صفحہ نمبر5546اسی پہلے صور کا ذکر آیت «وَمَا يَنظُرُ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ» [38-ص:15] میں ہے اس سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے زمین کپکپانے لگے گی۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ» [79-النازعات:8-6] ، جب کہ زمین لرزنے لگے گی اور یکے بعد دیگرے زبردست جھٹکے لگیں گے دل دھڑکنے لگیں گے زمین کی وہ حالت ہو جائے گی جو کشتی کی طوفان میں اور گرداب میں ہوتی ہے یا جیسے کوئی قندیل عرش میں لٹک رہی ہو جسے ہوائیں چاروں طرف جھلارہی ہوں۔ آہ! یہی وقت ہو گا کہ دودھ پلانے والیاں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے اور بچے بوڑھے ہو جائیں گے شیاطین بھاگنے لگیں گے زمین کے کناروں تک پہنچ جائیں گے لیکن وہاں سے فرشتوں کی مار کھا کر لوٹ آئیں گے۔ لوگ ادھر ادھر حیران پریشان زمین ایک طرف سے دوسرے کو آوازیں دینے لگیں گے اسی لیے اس دن کا نام قرآن نے «يَوْمَ التَّنَاد» رکھا جیسے کہ آیت میں ہے «وَيَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ» [40-غافر:32] ۔ اسی وقت زمین ایک طرف سے دوسری طرف تک پھٹ جائے گی اس وقت زمین ایک طرف سے دوسری طرف تک پھٹ جائے گی اس وقت کی گھبراہٹ کا انداز نہیں ہوسکتا۔ اب آسمان میں انقلابات ظاہر ہوں گے سورج چاند بے نور ہو جائیں گے، ستارے جھڑنے لگیں گے اور کھال ادھڑنے لگے گی۔ زندہ لوگ یہ سب کچھ دیکھ رہے ہوں گے ہاں مردہ لوگ اس سے بے خبر ہونگے آیت قرآن «وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ» [39-الزمر:68] میں جن لوگوں کا استثنا کیا گیا ہے کہ وہ بے ہوش نہ ہوں گے اس سے مراد شہید لوگ ہیں۔ یہ گھبراہٹ زندوں پر ہو گی شہید اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کے شر سے نجات دے گا اور انہیں پر امن رکھے گا۔ یہ عذاب الٰہی صرف بدترین مخلوق کو ہو گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ اس سورت کی شروع کی آیتوں میں بیان فرماتا ہے۔ یہ حدیث طبرانی جریر ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے اور بہت مطول ہے اس حصے کو نقل کرنے سے یہاں مقصود یہ ہے کہ اس آیت میں جس زلزلے کا ذکر ہے یہ قیامت سے پہلے ہوگا۔ اور قیامت کی طرف اس کی اضافت بوجہ قرب اور نزدیکی کے ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے «اشراط الساعة» وغیرہ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یا اس سے مراد وہ زلزلہ ہے جو قیام قیامت کے بعد میدان محشر میں ہو گا جب کہ لوگ قبروں سے نکل کرمیدان میں جمع ہوں گے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسے پسند فرماتے ہیں اس کی دلیل میں بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔صفحہ نمبر5547(١) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم تیز تیز چل رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے با آواز بلند ان دونوں آیتوں کی تلاوت کی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے کان میں آواز پڑتے ہی وہ سب اپنی سواریاں لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہو گے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانتے ہو یہ کون سا دن ہو گا؟ یہ وہ دن ہو گا جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو فرمائے گا کہ اے آدم جہنم کا حصہ نکال۔ وہ کہیں گے اے اللہ کتنوں میں سے کتنے؟ فرمائے گا ہر ہزار میں سے نو سو نناوے جہنم کے لیے اور ایک جنت کے لیے ۔ یہ سنتے ہی صحابہ کے دل دہل گئے، چپ لگ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ غم نہ کرو، خوش ہو جاؤ، عمل کرتے رہو۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تمہارے ساتھ مخلوق کی وہ تعداد ہے کہ جس کے ساتھ ہو اسے بڑھا دے یعنی یاجوج ماجوج اور نبی آدم میں سے جو ہلاک ہو گئے اور ابلیس کی اولاد ۔ اب صحابہ رضی اللہ عنہم کی گھبراہٹ کم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرتے رہو اور خوشخبری سنو اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم تو اور لوگوں کے مقابلے پر ایسے ہی ہو جیسے اونٹ کے پہلو کا یا جانور کے ہاتھ کا داغ ۔ [سنن ترمذي:3169،قال الشيخ الألباني:صحیح] اسی روایت کی اور سند میں ہے کہ یہ آیت حالت سفر میں اتری۔ اس میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان سن کر رونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب قریب رہو اور ٹھیک ٹھاک رہو ہر نبوت کے پہلے جاہلیت کا زمانہ رہا ہے وہی اس گنتی کو پوری کر دے گا ورنہ منافقوں سے وہ گنتی پوری ہوگی ۔ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تو امید ہے کہ اہل جنت کی چوتھائی صرف تم ہی ہو گے ۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ اکبر کہا۔ ارشاد ہوا کہ عجب نہیں کہ تم تہائی ہو ، اس پر انہوں نے پھر تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم ہی نصفاً نصف ہو گے ، انہوں نے پھر تکبیر کہی ۔ راوی کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوتہائیاں بھی فرمائیں یا نہیں؟ [سنن ترمذي:3168،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی میں مدینے کے قریب پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت آیت شروع کی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24906:مرسل] ایک اور روایت میں ہے کہ جنوں اور انسانوں سے جو ہلاک ہوئے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4910:صحیح] اور روایت میں ہے کہ تم تو ایک ہزار اجزا میں سے ایک جز ہی ہو ۔ [مسند بزار:3467:ضعیف] صفحہ نمبر5548صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکارے گا وہ جواب دیں گے «لَبَّيْكَ رَبّنَا وَسَعْدَيْك» پھر آواز آئے گی کہ ” اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں جہنم کا حصہ نکال “، پوچھیں گے اللہ کتنا؟ حکم ہوگا ” ہر ہزار میں سے نو سو نناوے “ اس وقت حاملہ کے حمل گرجائیں گے، بچے بوڑھے ہو جائیں گے، اور لوگ حواس باختہ ہو جائیں گے کسی نشے سے نہیں بلکہ اللہ کے عذابوں کی سختی کی وجہ سے۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم کے چہرے متغیر ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاجوج ماجوج میں سے نو سو ننانوے اور تم میں سے ایک۔ تم تو ایسے ہو جیسے سفید رنگ بیل کے چند سیاہ بال جو اس کے پہلو میں ہوں۔ یامثل چند سفید بالوں کے جو سیاہ رنگ بیل کے پہلو میں ہوں ۔ پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی گنتی میں تمہاری گنتی چوتھے حصے کی ہوگی ، ہم نے اس پر تکبیر کہی۔ پھر فرمایا آدھی تعداد میں باقی سب اور آدھی تعداد صرف تمہاری ۔ [صحیح بخاری:4841] اور روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر وہ ایک خوش نصیب ہم میں سے کون ہوگا؟ جب کہ یہ حالت ہے ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:3307،] اور روایت میں ہے تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں ننگے بدن بے ختنہ حاضر کئے جاؤ گے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرد عورتیں ایک ساتھ؟ ایک دوسرے پر نظریں پڑیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ وہ وقت نہایت سخت اور خطرناک ہو گا ۔ [صحیح بخاری:6527] مسند احمد میں ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دوست اپنے دوست کو قیامت کے دن یاد کرے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ تین موقعوں پر کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔ اعمال کے تول کے وقت جب تک کمی زیادتی نہ معلوم ہو جائے۔ اعمال ناموں کے اڑائے جانے کے وقت جب تک دائیں بائیں ہاتھ میں نہ آ جائیں۔ اس وقت جب کہ جہنم میں سے ایک گردن نکلے گی جو گھیرلے گی اور سخت غیظ وغضب میں ہوگی اور کہے گی میں تین قسم کے لوگوں پر مسلط کی گئی ہوں ایک تو وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے رہتے ہیں دوسرے وہ جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور تیسرے ہر سرکش ضدی متکبر پر پھر تو وہ انہیں سمیٹ لے گی اور چن چن کر اپنے پیٹ میں پہنچا دے گی جہنم پر پل صراط ہو گی جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہو گی اس پر آنکس اور کانٹے ہوں گے جسے اللہ چاہے پکڑ لے گی اس پر سے گزرنے والے مثل بجلی کے ہوں گے مثل آنکھ جھپکنے کے مثل ہوا کے مثل تیزرفتار گھوڑوں اور اونٹوں کے فرشتے ہر طرف کھڑے دعائیں کرتے ہوں گے کہ اللہ سلامتی دے اللہ بچا دے پس بعض تو بالکل صحیح سالم گزر جائیں گے بعض کچھ چوٹ کھا کر بچ جائیں گے بعض اوندھے منہ جہنم میں گریں گے ۔ [مسند احمد:110/6:ضعیف] صفحہ نمبر5549قیامت کے آثار میں اور اس کی ہولناکیوں میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ جن کی جگہ اور ہے۔ یہاں فرمایا ” قیامت کا زلزلہ نہایت خطرناک ہے بہت سخت ہے نہایت مہلک ہے دل دہلانے والا اور کلیجہ اڑانے والا ہے “۔ زلزلہ رعب و گھبراہٹ کے وقت دل کے ہلنے کو کہتے ہیں جیسے آیت میں ہے کہ «هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا» [33-الأحزاب:11] ” اس میدان جنگ میں مومنوں کو مبتلا کیا گیا اور سخت جھنجھوڑ دئے گئے “۔ جب تم اسے دیکھو گے یہ ضمیر شان کی قسم سے ہے اسی لیے اس کے بعد اس کی تفسیر ہے کہ ” اس سختی کی وجہ سے دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور حاملہ کے حمل ساقط ہو جائیں گے۔ لوگ بدحواس ہو جائیں گے ایسے معلوم ہوں گے جیسے کوئی نشے میں بدمست ہو رہا ہو۔ دراصل وہ نشے میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کے عذابوں کی سختی نے انہیں بے ہوش کر رکھا ہو گا “۔صفحہ نمبر5550
آیت 1 یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْج اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ ”سورۃ الانبیاء کا اختتام ”الفزع الاکبر“ قیامت کی عظیم پریشانی کے تذکرے پر ہوا تھا۔ اب سورة الحج کا آغاز بھی اسی کیفیت کے ذکر سے ہو رہا ہے۔
CommentarySpecial featuresCommentators differ on whether this Surah is Makkan or Madani. Ibn ` Abbas ؓ has expressed two views on different occasions. However, a majority of commentators believe that the Surah is a combination of both the Makkan and Madani verses, and Qurtubi prefers this view. He has also mentioned the other peculiarities of this Surah, namely that some of its verses were revealed at night and some during the day; some were revealed during travels and some when the Holy Prophet ﷺ was not traveling; some were revealed in Makkah and others at Madinah; some were revealed in the middle of battle and others in peace time. Some verses of this Surah are nasikh (verses of the Qur'an abrogating some other verses), and some are mansookh (verses of the Qur'an which have been abrogated by others); some are muhkam while others are mutashabih (مُتَشَابِہ). Indeed this Surah comprises all categories of revelations.يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ (0 men, fear your Lord. - 22:1).This verse was revealed to the Holy Prophet ﷺ while he was traveling. He recited in a loud voice, so that all his companions gathered around him after hearing his voice. Then he addressed them "Do you know when the upheaval of the Resurrection, which is mentioned in this verse, will take place?" They replied, "Allah and His Prophet ﷺ knows best." Then the Holy Prophet ﷺ said, "That will be the day when Allah will command Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) to raise those people who have been marked out for hell. Sayyidna Adam (علیہ السلام) will ask Allah Ta'ala who those people are, and Allah will inform him that nine hundred and ninety nine out of every one thousand will go to hell." The Holy Prophet ﷺ then added, "That will be the time when small children will become old on account of terror, and pregnant women will abort their fetuses." The companions were frightened when they heard this and asked the Holy Prophet ﷺ ، "0 prophet of Allah! Who are those among us who will escape this terrible fate?" The Holy Prophet ﷺ replied, "Set your minds at ease. For every one thousand of the Gog and Magog (Ya’ juj and Ma'juj) there will be only one from amongst you." This incident is reported in Sahih Muslim on the authority of Abu Said Al-Khudri ؓ . There are other versions also according to which the Holy Prophet ﷺ is reported to have said, "On the Day of Resurrection you will find yourself with two peoples who will predominate numerically all the other peoples who would be near them. One of them is the tribe of Gog and Magog (یا جوج ماجوج) and the other is the Shaitan and his descendants, and those of the progeny of Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) who have died earlier." Thus, among the nine hundred and ninety nine the majority will be from those peoples. Qurtubi and others have quoted these narrations.When will the earthquake of the Day of Resurrection take place?Will it happen before or after the dead are raised to life? Some people have opined that the earthquake will occur in this world before the Day of Judgment and will be among the last signs of the coming of the Dooms Day, to which reference has been made in several verses of the Qur'an, such as:إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَاWhen earth is shaken with a mighty shaking - 99:1وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةًAnd the earth and the mountains are lifted up and crushed with a single blow - 69:14إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّاWhen the earth shall be rocked. 56:4There are others who have deduced from the above-referred hadith that the earthquake will occur after the Dooms Day and Resurrection. In fact there is no inconsistency between these two views, because verses of the Qur'an and the ahadith of the Holy Prophet ﷺ may be quoted in support of either view. Allah knows best.This verse also gives a picture of the earthquake of the Day of Resurrection when all the pregnant women will abort their fetuses and every breast-feeding woman nursing her child will be diverted from it. If the earthquake takes place in this world before the Dooms Day, then there is no ambiguity in all these happenings. But if the earthquake occurs after the Dooms Day, then the explanation would be that a pregnant woman would be raised on the Dooms Day in the same state, and a woman who died while breast-feeding her child will also be raised in the same condition along with her child. (Qurtubi). Allah knows best.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.