Surah Al-Anbya • Ayah 84
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Prophet Ayyub Allah tells us about Ayyub (Job), and the trials that struck him, affecting his wealth, children and physical health.He had plenty of livestock, cattle and crops, many children and beautiful houses, and he was tested in these things, losing every thing he had. Then he was tested with regard to his body, and he was left alone on the edge of the city and there was no one who treated him with compassion apart from his wife, who took care of him. It was said that it reached the stage where she was in need, so she started to serve people (to earn money) for his sake. The Prophet said:«أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الصَّالِحُونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَل»(The people who are tested the most severely are the Prophets, then the righteous, then the next best and the next best). According to another Hadith:«يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى قَدْرِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ فِي بَلَائِه»(A man will be tested according to his level of religious commitment; the stronger his religious commitment, the more severe will be his test.) The Prophet of Allah, Ayyub, upon him be peace, had the utmost patience, and he is the best example of that. Yazid bin Maysarah said: "When Allah tested Ayyub, upon him be peace, with the loss of his family, wealth and children, and he had nothing left, he started to focus upon the remembrance of Allah, and he said: `I praise You, the Lord of lords, Who bestowed His kindness upon me and gave me wealth and children, and there was no corner of my heart that was not filled with attachment to these worldly things, then You took all of that away from me and You emptied my heart, and there is nothing to stand between me and You. If my enemy Iblis knew of this, he would be jealous of me. ' When Iblis heard of this, he became upset. And Ayyub, upon him be peace, said: `O Lord, You gave me wealth and children, and there was no one standing at my door complaining of some wrong I had done to him. You know that. I used to have a bed prepared for me, but I forsook it and said to myself: You were not created to lie on a comfortable bed. I only forsook that for Your sake."' This was recorded by Ibn Abi Hatim. Ibn Abi Hatim recorded from Abu Hurayrah that the Prophet said:«لَمَّا عَافَى اللهُ أَيُّوبَ أَمْطَرَ عَلَيْهِ جَرَادًا مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَأْخُذُ مِنْهُ بِيَدِهِ وَيَجْعَلُهُ فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: يَا أَيُّوبُ أَمَا تَشْبَعُ؟ قَالَ: يَا رَبِّ وَمَنْنَيشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِك»(When Allah healed Ayyub, He sent upon him a shower of golden locusts, and he started to pick them up and gather them in his garment. It was said to him, "O Ayyub, have you not had enough" He said, "O Lord, who can ever have enough of Your mercy) The basis of this Hadith is recorded in the Two Sahihs, as we shall see below.وَءَاتَيْنَـهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ(and We restored his family to him (that he had lost) and the like thereof along with them) It was reported that Ibn `Abbas said: "They themselves were restored to him." This was also narrated by Al-`Awfi from Ibn `Abbas. Something similar was also narrated from Ibn Mas`ud and Mujahid, and this was the view of Al-Hasan and Qatadah. Mujahid said: "It was said to him, `O Ayyub, your family will be with you in Paradise; if you want, We will bring them back to you, or if you want, We will leave them for you in Paradise and will compensate you with others like them.' He said, `No, leave them for me in Paradise.' So they were left for him in Paradise, and he was compensated with others like them in this world."رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا(as a mercy from Ourselves) means, `We did that to him as a mercy from Allah towards him.'وَذِكْرَى لِلْعَـبِدِينَ(and a Reminder for all those who worship Us.) means, `We made him an example lest those who are beset by trials think that We do that to them because We do not care for them, so that they may take him as an example of patience in accepting the decrees of Allah and bearing the trials with which He tests His servants as He wills.' And Allah has the utmost wisdom with regard to that.
آزمائش اور مصائب ایوب علیہ السلام ٭٭حضرت ابوب علیہ السلام کی تکلیفوں کا بیان ہو رہا ہے جو مالی جسمانی اور اولاد پر مشتمل تھیں ان کے پاس بہت سے قسم قسم کے جانور تھے کھیتیاں باغات وغیرہ تھے اولاد بیویاں لونڈیاں غلام جائیداد اور مال ومتاع سبھی کچھ اللہ کا دیا موجود تھا۔ اب جو رب کی طرف سے ان پر آزمائش آئی تو ایک سرے سے سب کچھ فنا ہوتا گیا یہاں تک کہ جسم میں جذام پھوٹ پڑا۔ دل و زبان کے سوا سارے جسم کا کوئی حصہ اس مرض سے محفوظ نہ رہا۔ یہاں تک کہ آس پاس والے کراہت کرنے لگے۔ شہر کے ایک ویران کونے میں آپ علیہ السلام کو سکونت اختیار کرنی پڑی۔ سوائے آپ علیہ السلام کی ایک بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے اور کوئی آپ علیہ السلام کے پاس نہ رہا، اس مصیبت کے وقت سب نے کنارہ کر لیا۔ یہی ایک تھیں جو ان کی خدمت کرتی تھیں ساتھ ہی محنت مزدوری کر کے پیٹ پالنے کو بھی لایا کرتی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے، پھر صالح لوگوں کا پھر ان سے نیچے کے درجے والوں کا پھر ان سے کم درجے والوں کا ۔ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ ہر شخص کا امتحان اس کے دین کے انداز سے ہوتا ہے اگر وہ دین میں مضبوط ہے امتحان بھی سخت تر ہوتا ہے ۔ ؎ [سنن ترمذي:2398،قال الشيخ الألباني:صحیح] ایوب علیہ السلام بڑے ہی صابر تھے یہاں تک کہ صبر ایوب زبان زد عام ہے۔صفحہ نمبر5486یزید بن میسرہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”جب آپ علیہ السلام کی آزمائش شروع ہوئی اہل و عیال مرگئے مال فنا ہوگیا کوئی چیز ہاتھ تلے نہ رہی۔ آپ علیہ السلام اللہ کے ذکر میں اور بڑھ گئے کہنے لگے ”اے تمام پالنے والوں کے پالنے والے تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے مال دیا اولاد دی اس وقت میرا دل بہت ہی مشغول تھا اب تو نے سب کچھ لے کر میرے دل کو ان فکروں سے پاک کر دیا اب میرے دل میں اور تجھ میں کوئی حائل نہ رہا اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لیتا تو وہ مجھ پر بہت ہی حسد کرتا۔“ ابلیس لعین اس قول سے اور اس وقت کی اس حمد سے جل بھن کر رہ گیا۔ [الدر المنشور للسیوطی:589/4:ضعیف] آپ علیہ السلام کی دعاؤں میں یہ بھی دعا تھی ”اے اللہ تو نے جب مجھے توانگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا تو خوب جانتا ہے کہ اس وقت میں نے نہ کبھی غرور و تکبر کیا نہ کبھی کسی پر ظلم ستم کیا۔ میرے پروردگار تجھ پر روشن ہے کہ میرا نرم و گرم بستر تیار ہوتا اور میں راتوں کو تیری عبادتوں میں گزارتا اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا کہ تو اس لیے پیدا نہیں کیا گیا تیری رضا مندی کی طلب میں میں اپنی راحت و آرام کو ترک کر دیا کرتا۔“ [ ابن ابی حاتم ] اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ایک بہت لمبا قصہ ہے جسے بہت سے پچھلے مفسیرین نے بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن اس میں غرابت ہے اور اس کے طول کی وجہ سے ہم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ مدتوں تک آپ علیہ السلام ان بلاؤں میں مبتلا رہے۔صفحہ نمبر5487حضرت حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”سات سال اور کئی ماہ آپ علیہ السلام بیماری میں مبتلا رہے۔ بنو اسرائیل کے کوڑے پھینکنے کی جگہ آپ علیہ السلام کو ڈال رکھا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے، پھر اللہ نے آپ علیہ السلام پر رحم و کرم کیا تمام بلاؤں سے نجات دی اجر دیا اور تعریفیں کیں۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”پورے تین سال آپ علیہ السلام اس تکلیف میں رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا تھا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑا رہ گیا۔ آپ علیہ السلام دکھ میں پڑے رہتے تھے صرف ایک بیوی صاحبہ تھیں جو آپ علیہ السلام کے پاس تھیں۔ جب زیادہ زمانہ گزر گیا تو ایک روز عرض کرنے لگیں کہ ”اے نبی اللہ علیہ السلام آپ علیہ السلام اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے۔“ آپ علیہ السلام فرمانے لگے ”سنو ستر برس تک اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت وعافیت میں رکھا تو اگر ستر سال تک میں اس حالت میں رہوں اور صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے۔“ اس پر بیوی صاحبہ کانپ اٹھیں آپ شہر میں جاتیں، لوگوں کا کام کاج کرتیں اور جو ملتا وہ لے آتیں اور آپ علیہ السلام کو کھلاتیں پلاتیں۔صفحہ نمبر5488آپ علیہ السلام کے دو دوست اور دلی خیرخواہ دوست تھے انہیں فلسطین میں جاکر شیطان نے خبر دی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے تم جاؤ ان کی خبرگیری کرو اور اپنے ہاں کی کچھ شراب اپنے ساتھ لے جاؤ وہ پلادینا اس سے انہیں شفاء ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ دونوں آئے ایوب علیہ السلام کی حالت دیکھتے ہی ان کے آنسو نکل آئے بلبلا کر رونے لگے۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا تم کون ہو؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ علیہ السلام خوش ہوئے انہیں مرحبا کہا وہ کہنے لگے ”اے جناب آپ شاید کچھ چھپاتے ہوں گے اور ظاہر اس کے خلاف کرتے ہوں گے؟“ آپ علیہ السلام نے نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا ”اللہ خوب جانتا ہے کہ میں کیا چھپاتا تھا اور کیا ظاہر کرتا تھا میرے رب نے مجھے اس میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بے صبری؟“ وہ کہنے لگے اچھا ہم آپ کے واسطے دوا لائے ہیں آپ اسے پی لیجئے شفاء ہو جائے گی یہ شراب ہے۔ ہم اپنے ہاں سے لائے ہیں۔ یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام سخت غضبناک ہوئے اور فرمانے لگے ”تمہیں شیطان خبیث لایا ہے تم سے کلام کرنا تمہارا کھانا پینا مجھ پر حرام ہے۔“ یہ دونوں آپ علیہ السلام کے پاس سے چلے گئے۔صفحہ نمبر5489ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ایک گھر والوں کی روٹیاں پکائیں ان کا ایک بچہ سویا ہوا تھا تو انہوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا انہیں دے دی یہ لے کر ایوب علیہ السلام کے پاس آئیں۔ آپ علیہ السلام نے کہا ”یہ آج کہاں سے لائیں؟“ انہوں نے ساراواقعہ بیان کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ابھی ابھی واپس جاؤ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کی ضد کرتا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کرتا ہو۔“ آپ روٹی واپس لے کرچلیں ان کی ڈیوڑھی میں بکری بندھی ہوئی تھی اس نے زور سے آپ کو ٹکر ماری آپ کی زبان سے نکل گیا دیکھو ایوب کیسے غلط خیال والے ہیں۔ پھر اوپر گئیں تو دیکھا واقعی بچہ جاگا ہوا ہے اور ٹکیا کے لیے مچل رہا ہے اور گھر بھر کا ناک میں دم کر رکھا ہے یہ دیکھ کر بے ساختہ زبان سے نکلا کہ اللہ ایوب پر رحم کرے، اچھے موقعہ پر پہنچی۔ ٹکیا دے دی اور واپس لوٹیں راستے میں شیطان بہ صورت طبیب ملا اور کہنے لگا کہ تیرے خاوند سخت تکلیف میں ہیں مرض پر مدتیں گزر گئیں تم انہیں سمجھاؤ فلاں قبیلے کے بت کے نام پر ایک مکھی مار دیں شفاء ہو جائے گی پھر توبہ کر لیں۔ جب آپ ایوب علیہ السلام کے پاس پہنچیں تو ان سے یہ کہا آپ علیہ السلام نے فرمایا ”شیطان خبیث کاجادو تجھ پر چل گیا۔ میں تندرست ہو گیا تو تجھے سو کوڑے لگاؤں گا۔“ ایک دن آپ حسب معمول تلاش معاش میں نکلیں گھر گھر پھر آئیں کہیں کام نہ لگا مایوس ہوگئیں شام کو پلٹنے وقت ایوب علیہ السلام کی بھوک کا خیال آیا تو آپ نے اپنے بالوں کی ایک لٹ کاٹ کر ایک امیر لڑکی کے ہاتھ فروخت کر دی اس نے آپ کو بہت کچھ کھانے پینے کا اسباب دیا۔ جسے لے کر آپ آئیں، ایوب علیہ السلام نے پوچھا ”یہ آج اتنا سارا اور اتنا اچھا کھانا کیسے مل گیا؟“ فرمایا میں نے ایک امیر گھر کا کام کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے کھا لیا دوسرے روز بھی اتفاق سے ایسا ہی ہوا اور آپ نے اپنے بالوں کی دوسری لٹ کاٹ کر فروخت کر دی اور کھانا لے آئیں آج بھی یہی کھانا دیکھ کر آپ علیہ السلام نے فرمایا ”واللہ میں ہرگز نہ کھاؤں گا جب تک تو مجھے یہ نہ بتا دے کہ کیسے لائی؟“ اب آپ نے اپنا دوپٹہ سر سے اتار دیا دیکھا کہ سرکے بال سب کٹ چکے ہیں اس وقت سخت گھبراہٹ اور بے چینی ہوئی اور اللہ سے دعا کی کہ ”مجھے ضرر پہنچا اور تو سب سے زیادہ رحیم ہے۔“صفحہ نمبر5490حضرت نوف بکالی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جو شیطان ایوب علیہ السلام کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا۔ ایوب علیہ السلام کی بیوی صاحبہ عموماً آپ علیہ السلام سے عرض کیا کرتی تھیں کہ اللہ سے دعا کرو۔ لیکن آپ علیہ السلام نہ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن بنو اسرائیل کے کچھ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس سے نکلے اور آپ علیہ السلام کو دیکھ کر کہنے لگے اس شخص کو یہ تکلیف ضرور کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہے اس وقت بےساختہ آپ علیہ السلام کی زبان سے یہ دعا نکل گئی۔“ عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”ایوب علیہ السلام کہ دو بھائی تھے ایک دن وہ ملنے کے لیے آئے۔ لیکن جسم کی بدبو کی وجہ سے قریب نہ آسکے دور ہی سے کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اگر اس شخص میں بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت میں نہ ڈالتا اس بات نے ایوب علیہ السلام کو وہ صدمہ پہنچایا جو آج تک آپ علیہ السلام کو کسی چیز سے نہ ہوا تھا اس وقت کہنے لگے ”اللہ کوئی رات مجھ پر ایسی نہیں گزری کہ کوئی بھوکا شخص میرے علم میں ہو اور میں نے پیٹ بھرلیا ہو پروردگار اگر میں اپنی اس بات میں تیرے نزدیک سچا ہوں تو میری تصدیق فرما۔“ اُسی وقت آسمان سے آپ علیہ السلام کی تصدیق کی گئی تھی اور وہ دونوں سن رہے تھے۔ پھر فرمایا کہ ”پروردگار کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس ایک سے زائد کپڑے ہوں اور میں نے کسی ننگے کو نہ دیے ہوں اگر میں اس میں سچا ہوں تو میری تصدیق آسمان سے کر۔“ اس پر بھی آپ کی تصدیق ان کے سنتے ہوئے کی گئی۔ پھر یہ دعا کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے کہ ”اے اللہ میں تو اب سجدے سے سر نہ اٹھاؤں گا جب تک کہ تو مجھ سے ان تمام مصیبتوں کو دور نہ کر دے جو مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔“ چنانچہ یہ دعاقبول ہوئی۔ اور اس سے پہلے کہ آپ علیہ السلام سر اٹھائیں تمام تکلیفیں اور بیماریاں دور ہو گئیں جو آپ علیہ السلام پر اتری تھیں۔صفحہ نمبر5491ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایوب علیہ السلام اٹھارہ برس تک بلاؤں میں گھرے رہے پھر ان کے دو دوستوں کے آنے اور بدگمانی کرنے کا ذکر ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میری تو یہ حالت تھی کہ راستہ چلتے دو شخصوں کو جھگڑتا دیکھتا اور ان میں سے کسی کو قسم کھاتے سن لیتا تو گھر آکر اس کی طرف سے کفارہ ادا کر دیتا کہ ایسا نہ ہو کہ اس نے نام ناحق لیا ہو۔ آپ علیہ السلام اپنی اس بیماری میں اس قدر نڈھال ہو گئے تھے کہ آپ کی بیوی صاحبہ ہاتھ تھام کر پاخانہ پیشاب کے لیے لے جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کو حاجت تھی آپ نے آواز دی لیکن انہیں آنے میں دیر لگی آپ کو سخت تکلیف ہوئی اسی وقت آسمان سے ندا آئی کہ ” اے ایوب اپنی ایڑی زمین پر مارو اسی پانی کو پی بھی لو اور اسی سے نہا بھی لو “ اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل غریب ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:168/23:] صفحہ نمبر5492سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے جنت کا حلہ نازل فرما دیا جسے پہن کر آپ علیہ السلام یکسو ہو کر بیٹھ گئے۔ جب آپ کی بیوی آئیں اور آپ علیہ السلام کو نہ پہچان سکیں تو، آپ علیہ السلام سے پوچھنے لگیں اے اللہ کے بندے یہاں ایک بیمار بے کس، بے بس تھے تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیا ہوئے؟ کہیں انہیں بھیڑئیے نہ کھا گئے ہوں یا کتے نہ لے گئے ہوں؟ تب آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہیں نہیں وہ بیمار ایوب (علیہ السلام) میں ہی ہوں۔“ بیوی صاحبہ کہنے لگی اے شخص تو مجھ دکھیا عورت سے ہنسی کر رہا ہے اور مجھے بنا رہا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”نہیں نہیں مجھے اللہ نے شفا دے دی اور یہ رنگ روپ بھی۔“ آپ علیہ السلام کا مال آپ کو واپس دیا گیا، آپ علیہ السلام کی اولاد وہی آپ علیہ السلام کو واپس ملی اور ان کے ساتھ ہی ویسی ہی اور بھی وحی میں یہ خوشخبری بھی سنا دی گئی تھی اور فرمایا گیا تھا کہ ” قربانی کرو اور استغفار کرو، تیرے اپنوں نے تیرے بارے میں میری نافرمانی کرلی تھی “۔ اور روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو عافیت عطا فرمائی آسمان سے سونے کی ٹڈیاں ان پر برسائیں جنہیں لے کر آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کر دیں تو آواز دی گئی کہ اے ایوب کیا تو اب تک آسودہ نہیں ہوا؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”اے میرے پروردگار تیری رحمت سے آسودہ کون ہوسکتا ہے؟“ [مسند احمد:314/2:] پھر فرماتا ہے ” ہم نے اسے اس کے اہل عطا فرمائے “۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تو فرماتے ہیں ”وہی لوگ واپس کئے گئے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:506/18:] آپ علیہ السلام کی بیوی کا نام رحمت تھا۔ یہ قول اگر آیت سے سمجھا گیا ہے تو یہ بھی دور از کار امر ہے اور اگر اہل کتاب سے لیا گیا ہے تو وہ تصدیق تکذیب کے قابل ہے چیز نہیں۔ ابن عساکر نے ان کا نام اپنی تاریخ میں“ لیا“ بتایا ہے۔ یہ منشا بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔صفحہ نمبر5493ایک قول یہ بھی ہے کہ ”لیا“ یعقوب علیہ السلام کی بیٹی ایوب علیہ السلام کی بیوی ہیں جو شفیعہ کی زمین میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھیں۔ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ ” تیری اہل سب جنت میں ہیں تم کہو تو میں ان سب کو یہاں دنیا میں لادوں اور کہے تو وہیں رہنے دوں اور دنیا میں ان کا عوض دوں “ آپ علیہ السلام نے دوسری بات پسند فرمائی۔ پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ علیہ السلام کو ملا۔ ” یہ سب کچھ ہماری رحمت کا ظہور تھا۔ اور ہمارے سچے عابدوں کے لیے نصیحت وعبرت تھی “، آپ علیہ السلام اہل بلا کے پیشوا تھے۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ مصیبتوں میں پھنسے ہوئے لوگ اپنے لیے آپ کی ذات میں عبرت دیکھیں، بے صبری سے ناشکری نہ کرنے لگیں اور لوگ انہیں اللہ کے برے بندے نہ سمجھیں۔ ایوب علیہ السلام صبر کا پہاڑ ثابت قدمی کا نمونہ تھے اللہ کے لکھے پر، اس کے امتحان پر انسان کو صبر و برداشت کرنی چاہیئے نہ جانیں قدرت درپردہ اپنی کیا کیا حکمتیں دکھا رہی ہے۔صفحہ نمبر5494
آیت 84 فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ فَکَشَفْنَا مَا بِہٖ مِنْ ضُرٍّ ”آپ علیہ السلام ایک ایسی بیماری میں مبتلا تھے جس سے آپ علیہ السلام کی جلد میں تعفن پیدا ہوجاتا تھا۔ زخموں اور پھوڑوں سے بدبو آتی تھی جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے اہل خانہ تک آپ علیہ السلام کو چھوڑ گئے تھے۔وَّاٰتَیْنٰہُ اَہْلَہٗ وَمِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ ”یعنی آپ علیہ السلام کے اہل خانہ بھی آپ علیہ السلام کے پاس واپس آگئے اور آپ علیہ السلام کو اتنی ہی مزید اولاد بھی عطا فرمائی۔
CommentaryStory of Sayyidna Ayyub (علیہ السلام)The story of Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) is based mostly on Jewish legends. Those which are considered as historically reliable by scholars of hadith are being reproduced here. The Holy Qur'an tells us only that he suffered from some serious disease but he endured his suffering with fortitude. Ultimately he prayed to Allah for recovery which was granted. During his illness all his family members and friends disappeared. They either died or just abandoned him to his fate. Then Allah Ta` ala restored him to complete health and gave him back all his children and also an equal number in addition. The remaining elements of this story have come down to us either through authentic sayings or by way of historical accounts. Hafiz Ibn Kathir has recorded the story as follows:Allah Ta` ala had bestowed upon Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) ، in the early days of his life, all sorts of material comforts such as wealth, property, magnificent houses, children, servants and attendants. But later he faced a trial whereby the prophets are normally tested by Allah, and was deprived of all these comforts. Moreover he suffered from a serious disease which was like leprosy and which affected his whole body except the heart and the tongue. In this miserable condition too he spent his time in prayers and in giving thanks to Allah Ta` ala with his heart and tongue. Because of this serious illness all his relatives, friends and neighbors avoided him and placed him near a garbage-dump outside the city. Nobody went near him except his wife who used to take care of him. She was either the daughter or grand daughter of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) and her name was Layya daughter of Misha Ibn Yusuf (علیہ السلام) . (Ibn Kathir) All his wealth having been lost, she worked and earned a living for him and for herself and also nursed him in his illness. The ordeal of Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) was nothing new, nor something to be wondered at. The Holy Prophet ﷺ has said اژدّ النّاس بلاء الانبیاء چّم الصّالحُون چّم الامثل فالامثل that is the prophets face the most severe tests, and then come the other believers according to their degree of piety. In another tradition it is reported that every man is tested according to his adherence and devotion to religion. The stronger his beliefs, the harder is the test to which he is subjected, so that his rewards are in proportion to his sufferings. Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) occupies a distinctive position among all the prophets for firmness in his devotion and endurance in his sufferings in the same manner as Dawud (علیہ السلام) enjoyed distinction for offering thanks to Allah Ta` ala. Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) is a model of endurance and fortitude in the most trying circumstances. Yazid Ibn Maisara reports that when Allah Ta` ala deprived him of all his worldly possessions and subjected him to a severe ordeal, he concentrated all his mind and efforts upon the sole purpose of remembering Allah Ta’ ala and offering prayers to Him. While thanking Allah Ta’ ala for all sorts of worldly comforts and children granted to him earlier and whose love had filled his heart completely, he also thanked Him for their total withdrawal because nothing remained to distract him from total devotion to Allah Ta’ ala.The invocation of Sayyidna Ayyub I is not counter to patienceThe ordeal of Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) was very severe indeed. He not only lost all his worldly possessions but was also afflicted by a terrible disease because of which people avoided his company. He spent seven years and some months lying near a garbage dump outside the city, but never once did he lose his heart nor did he ever utter a word of complaint about his fate. His wife, Layya once asked him to pray to Allah for His Mercy as his sufferings had become unbearable, to which he replied that having enjoyed for seventy years the best of health surrounded by all the luxuries that money could buy, it would be unworthy of him to complain because a mere seven years has been spent in pain and poverty. His firm prophetic resolve, self-discipline and fortitude prevented him from beseeching Allah Ta` ala's mercy on his condition, lest it should be construed as an act contrary to the unquestioning submission to the will of Allah Ta` ala (Although to invoke Allah's Mercy for relief from sufferings does not mean absence of fortitude). Ultimately something happened which made him pray to Allah Ta` ala for His Mercy but as mentioned earlier this was just a prayer and did not express a sense of complaint. As such Allah Ta` ala has put His seal in acknowledgment of his extreme endurance in these words إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا (Surely We found him a steadfast man - 38:44). There are numerous versions of this story which have been omitted for their length.Ibn Abi Hatim has reported on the authority of Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Abbas ؓ that when Sayyidna Ayyub's (علیہ السلام) supplication was granted, he was told to rub his heels on the ground and a stream of fresh and clear water would gush forth. He should then bathe himself in the water and also drink it, and the disease would disappear. Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) did as he was told and in no time his body, which was covered with boils and was reduced to skin and bones regained its original shape and health. Allah Ta’ ala sent him garments from Paradise which he wore and sat down in a corner away from the garbage dump. His wife came to see him as usual and when she did not find him, she started crying. She did not recognize Ayyub (علیہ السلام) who was sitting nearby in a corner because his appearance had changed completely. Then she turned to him and asked him if he had any information about the sick man who was lying there, and whether he had gone somewhere or had been eaten up by dogs and wolves. She spoke to him for some time without realizing that the man was none other than her husband. Then Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) revealed himself, but even then she did not recognize him and asked him why he was making fun of her. Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) then told her to look at him again and try to recognize him. He also informed her that Allah Ta’ ala had healed his body after he invoked His Mercy. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ reports that after this, Allah Ta’ ala restored to him all his wealth and children and gave him more children equal in number to the children which he had before (Ibn Kathir).Sayyidna Ibn Masud ؓ says that Sayyidna Ayyub (علیہ السلام) had seven sons and seven daughters but they all died while he was undergoing the ordeal. When his days of hardship were over, his children were brought back to life by Allah Ta` ala and his wife also gave birth to as many more children, to which the Qur'an refers to as وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ (and the like thereof alongwith them - 21:84). According to Tha'labi this version is closer to the text of the Qur'an. (Qurtubi)Some scholars say that he was granted as many new children as he had before and the word مِثل (the like) refers to an equal number of grand children. (Only Allah knows best).
The Quran describes Ayyub (Job) as a prophet who was afflicted with severe hardship — loss of health, wealth, and family — yet remained patient and thankful to Allah. He called out: 'Indeed adversity has touched me, and you are the Most Merciful of the merciful' (21:83). Allah restored him doubly in health, family, and wealth. His story is the paradigmatic example of sabr (patience) in Islamic tradition, referenced in multiple surahs.
The Quran records (21:83-84; 38:41-44) that Ayyub (Job) was afflicted with severe illness and loss. He called upon Allah with a prayer of acknowledgment: 'Adversity has touched me, and You are the Most Merciful of the Merciful.' Allah responded, removed his affliction, and restored his family doubly. The Quran (38:44) gives a specific command: Ayyub was told to strike the ground with a bunch of grass rather than his wife (fulfilling an oath he had made to strike her) — an example of divine mercy finding technical but compassionate solutions to fulfill obligations.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.