Surah Al-Anbya • Ayah 75
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Migration of Ibrahim to Ash-Sham (Greater Syria), accompanied by LutAllah tells us that He saved Ibrahim from the fire lit by his people, and brought him out from among them, migrating to the land of Ash-Sham, to the sacred regions thereof.وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً(And We bestowed upon him Ishaq, and Ya`qub Nafilatan.) `Ata' and Mujahid said, "Nafilatan means as a gift." Ibn `Abbas, Qatadah and Al-Hakam bin `Uyaynah said, "The gift of a son who has a son," meaning that Ya`qub was the son of Ishaq, as Allah says:فَبَشَّرْنَـهَا بِإِسْحَـقَ وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ(But We gave her glad tidings of Ishaq, and after Ishaq, of Ya`qub) 11:71. `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "He asked for one son, and said,رَبِّ هَبْ لِى مِنَ الصَّـلِحِينِ ("My Lord! Grant me from the righteous.") So Allah gave him Ishaq, and gave him Ya`qub in addition.وَكُلاًّ جَعَلْنَا صَـلِحِينَ(Each one We made righteous. ) means, both of them were good and righteous people.وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً(And We made them leaders,) means, examples to be followed.يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا(guiding by Our command,) inviting to Him by His leave. Allah says:وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَتِ وَإِقَامَ الصَّلوة وَإِيتَآءَ الزَّكَـوةِ(and We revealed to them the doing of good deeds, performing Salah, and the giving of Zakah,) Here the general is followed by the specific.وَكَانُواْ لَنَا عَـبِدِينَ(and of Us (Alone) they were the worshippers.) means, they did what they enjoined others to do.The Prophet LutThen Allah mentions Lut, whose full name was Lut bin Haran bin Azar. He believed in Ibrahim and followed him, and migrated with him, as Allah says:فَـَامَنَ لَهُ لُوطٌ وَقَالَ إِنِّى مُهَاجِرٌ إِلَى رَبِّى(So Lut believed in him. He (Ibrahim) said: "I will emigrate for the sake of my Lord") 29:26. Allah gave him wisdom and knowledge; He sent Revelation to him, made him a Prophet and appointed him to Sadum (Sodom) and its vicinity, but they rejected him and resisted him, so Allah utterly destroyed them, as He tells us in several places in His Book. Allah says;وَلُوطاً آتَيْنَـهُ حُكْماً وَعِلْماً وَنَجَّيْنَـهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِى كَانَت تَّعْمَلُ الْخَبَـئِثَ إِنَّهُمْ كَانُواْ قَوْمَ سَوْءٍ فَـسِقِينَ - وَأَدْخَلْنَـهُ فِى رَحْمَتِنَآ إِنَّهُ مِنَ الصَّـلِحِينَ (and We saved him from the town who practised Al-Khaba'ith. Verily, they were a people given to evil, and were rebellious. And We admitted him to Our mercy; truly, he was of the righteous.)
ہجرت خلیل علیہ السلام ٭٭اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل کو کافروں کی آگ سے بچا کر شام کے مقدس ملک میں پہنچا دیا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں تمام میٹھا پانی شام کے صخرہ کے نیچے سے نکلتا ہے۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام کو عراق کی سر زمین سے اللہ نے نجات دی اور شام کے ملک میں پہنچایا۔ شام ہی نبیوں کا ہجرت کدہ رہا۔ زمین میں سے جو گھٹتا ہے وہ شام میں بڑھتا ہے اور شام کی کمی فلسطین میں زیادتی ہوتی ہے۔ شام ہی محشر کی سر زمین ہے۔ یہیں عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے، یہیں دجال قتل کیا جائے گا۔ بقول کعب رحمہ اللہ آپ علیہ السلام حران کی طرف گئے تھے۔ یہاں آکر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہاں کے بادشاہ کی لڑکی اپنی قوم کے دین سے بیزار ہے اور اس سے نفرت رکھتی ہے بلکہ ان کے اوپر طعنہ زنی کرتی ہے تو آپ علیہ السلام نے ان سے اس قرار پر نکاح کر لیا کہ وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں سے نکل چلے، انہی کا نام سارہ ہے رضی اللہ عنہا۔ یہ روایت غریب ہے اور مشہور یہ ہے کہ سارہ آپ علیہ السلام کے چچا کی صاحبزادی تھیں، اور آپ علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے چلی آئی تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ہجرت مکے شریف میں ختم ہوئی۔ مکے ہی کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ «إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [3-آل عمران:97-96] ” یہ اللہ کا پہلا گھر ہے جو برکت وہدایت والا ہے، جس میں علاوہ اور بہت سی نشانیوں کے مقام ابراہیم بھی ہے۔ اس میں آ جانے والا امن وسلامتی میں آ جاتا ہے “۔ پھر فرماتا ہے کہ ” ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب کا عطیہ بھی کیا “۔ یعنی لڑکا اور پوتا جیسے فرمان ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [11-ھود:71] چونکہ خلیل اللہ علیہ السلام کے سوال میں ایک لڑکے ہی کی طلب تھی دعا کی تھی کہ آیت «رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ» [37-الصافات:100] اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور لڑکے کے ہاں بھی لڑکا دیا جو سوال سے زائد تھا اور سب کو نیکوکار بنایا۔صفحہ نمبر5466ان سب کو دنیا کا مقتدا اور پیشوا بنا دیا کہ بحکم الٰہی خلق اللہ کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے۔ ان کی طرف ہم نے نیک کاموں کی وحی فرمائی۔ اس عام بات پر عطف ڈال کر پھر خاص باتیں یعنی نماز اور زکوٰۃ کا بیان فرمایا۔ اور ارشاد ہوا کہ ” وہ علاوہ ان نیک کاموں کے حکم کے خود بھی ان نیکیوں پر عامل تھے “۔ پھر لوط علیہ السلام کا ذکرشروع ہوتا ہے۔ لوط بن ہاران بن آزر علیہ السلام۔ آپ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور آپ علیہ السلام کی تابعداری میں آپ علیہ السلام ہی کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ جیسے کلام اللہ شریف میں ہے آیت «فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ» [29-العنكبوت:26] ، ” لوط علیہ السلام آپ پر ایمان لائے اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں “۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا اور وحی نازل فرمائی اور نبیوں کے پاک زمرے میں داخل کیا۔ اور سدوم اور اس کے آس پاس کی بستیوں کی طرف آپ علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے نہ مانا مخالفت پر کمربستگی کرلی۔ جس کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے اور فنا کر دئیے گئے، جن کی بربادی کے واقعات اللہ تعالیٰ کی کتاب عزیز میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں فرمایا کہ ” ہم نے انہیں بدترین کام کرنے والے فاسقوں کی بستی سے نجات دے دی اور چونکہ وہ اعلیٰ نیکوکار تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا “۔صفحہ نمبر5467
آیت 74 وَلُوْطًا اٰتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا ”حکم سے حکمت ‘ فہم اور قوت فیصلہ مراد ہے۔وَّنَجَّیْنٰہُ مِنَ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبآءِثَ ط ”یعنی اس بستی کے لوگ گندے کاموں میں مبتلا تھے۔
CommentaryThe name of the city from which Sayyidna Lut (علیہ السلام) was saved and which has been mentioned in these verses was Sodom. There were seven other townships under this city which were thrown upside down by Jibra'il (علیہ السلام) except one which was left intact for Lut (علیہ السلام) and his followers. (Ibn ` Abbas, Qurtubl)تَّعْمَلُ الْخَبَائِثَ (21:74) خَبَائِثَ (Khaba'ith) is the plural of خَبِئیثَہ meaning wickedness. Too many wicked things collectively are called Khaba'ith (خَبَائِثَ ). Their most abominable practice in which even the animals do not indulge, was sodomy or homosexuality. It is possible that because of its extreme wicked nature this practice is referred to as خَبَائِثَ that is in plural instead of خَبِئیثَہ in singular, as some commentators have explained. The second explanation is that the people of Sodom also indulged in other bad habits such as drinking, singing, shaving off beard, growing moustaches, wearing silk clothes, stone throwing, whistling etc. (Ruh ul-Ma` ani).
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.