Surah Al-Anbya • Ayah 37
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
How the Idolators mocked the Prophet Allah tells His Prophet ...وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ(And when those who disbelieved see you,) meaning, the disbelievers of the Quraysh, such as Abu Jahl and his like.إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلاَّ هُزُواً(they take you not except for mockery) means, they make fun of you and insult you, saying,أَهَـذَا الَّذِى يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ("Is this the one who talks about your gods") meaning, is this the one who insults your gods and ridicules your intelligence Allah says:وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمَـنِ هُمْ كَـفِرُونَ(While they disbelieve at the mention of the Most Gracious.) meaning, they disbelieve in Allah and yet they mock the Messenger of Allah ﷺ. As Allah says:وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلاَّ هُزُواً أَهَـذَا الَّذِى بَعَثَ اللَّهُ رَسُولاً - إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ ءَالِهَتِنَا لَوْلاَ أَن صَبْرَنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلاً(And when they see you, they treat you only in mockery (saying): "Is this the one whom Allah has sent as a Messenger He would have nearly misled us from our gods, had it not been that we were patient and constant in their worship!" And they will know, when they see the torment, who it is that is most astray from the path!) 25:41-42خُلِقَ الإنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ(Man is created of haste.) This is like the Ayah:وَكَانَ الإِنْسَـنُ عَجُولاً(and man is ever hasty) 17:11, in all matters. The reason why the haste of man is mentioned here is that when mention is made of those who mock the Messenger , (the believers) will want to avenge them swiftly, and that so should happen sooner. Allah says,خُلِقَ الإنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ(Man is created of haste.) because He delays (the punishment) until a time when, once He seizes him, He will never let him go. He delays it, then He hastens it; He waits, then He does not delay any longer. So He says:سَأُوْرِيكُمْ ءَايَـتِى(I will show you My Ayat) meaning, My vengeance, ruling and power over those who disobey Me.فَلاَ تَسْتَعْجِلُونِ(So ask Me not to hasten (them).)
جلد باز انسان ٭٭ابوجہل وغیرہ کفار قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ہنسی مذاق شروع کردیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرنے لگتے۔ کہنے لگتے کہ لو میاں دیکھ لو، یہی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں، تمہارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہیں۔ ایک تو ان کی یہ سرکشی ہے۔ دوسرے یہ کہ خود ذکر رحمن کے منکر ہیں۔ اللہ کے منکر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر۔ اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کر کے فرمایا گیا ہے آیت «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» [25-الفرقان:41-42] یعنی ” وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہو جائے گا کہ گمراہ کون تھا؟ “ «وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا» [17-الاسراء:11] ” انسان بڑا ہی جلدباز ہے “۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا شروع کیا۔ شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی، سر، آنکھ اور زبان میں جب روح آ گئی تو کہنے لگے، الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہو جائے۔“صفحہ نمبر5419 حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تمام دنوں میں بہتر و افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اسی میں جنت میں داخل ہوئے اسی میں وہاں سے اتارے گئے، اسی میں قیامت قائم ہوگی، اسی دن میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت جو بندہ نماز میں ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو کچھ طلب کرے، اللہ اسے عطا فرماتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ وہ ساعت کون سی ہے وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی ۔ [سنن ابوداود:1046، قال الشيخ الألباني:صحیح] پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھڑک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لیے کہ انسانی جبلت میں ہی جلدبازی ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے۔ پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ” میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہی ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مذاق میں اڑانے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے۔ تم ابھی ہی دیکھ لو گے۔ جلدی نہ مچاؤ، دیر ہے اندھیر نہیں، مہلت ہے بھول نہیں “۔صفحہ نمبر5420
آیت 37 خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ط ”یعنی انسان کی خلقت میں عجلت پسندی رکھی گئی ہے۔ عجلت پسندی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ انسان کی ذات یا شخصیت کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ مادی ‘ جسمانی یا حیوانی ہے جس کی تخلیق زمین یعنی مٹی سے ہوئی ہے۔ اس مادی وجود میں بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں رکھی گئی ہیں۔ سورة النساء کے یہ الفاظ اس حقیقت پر شاہد ہیں : وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا کہ بنیادی طور پر انسان کمزور اور ضعیف پیدا کیا گیا ہے۔ انسانی ذات کا دوسرا پہلو روحانی ہے۔ انسانی روح چونکہ نور سے پیدا کی گئی ہے اس لیے اس کا یہ پہلو بہت بلند اور ارفع ہے۔ اسی پہلو کے بارے میں سورة التین میں فرمایا گیا ہے : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ”ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے“۔ گویا اصل انسان تو وہ روح ہی ہے جو انسانی تخلیق کے مرحلہ اوّل وضاحت کے لیے الانعام : 94 کی تشریح ملاحظہ ہو میں اَحْسَنِ تَقْوِیْم کی کیفیت میں پیدا کی گئی۔ اس ”نور“ کو پھر اس انسانی جسم کے اندر رکھا گیا جو مٹی سے بنا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس میں بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ فطری اور جبلی طور پر عجلت پسند ہے۔سَاُورِیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ ”کیا عجب کہ تمہارے عذاب کے بارے میں وعیدوں کے پورا ہونے کا وقت قریب ہی آ لگا ہو۔
Haste is undesirableخُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (Man is made of haste. - 21:37). عَجَل ('ajal) means haste or hurry. The word is used in situations when one desires things to happen before their time, and this trait is bad by its very nature. In another place also the word is used to denote human weakness. For instance وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا i.e. Man is prone to haste - 17:11, meaning that he is very impatient. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) went to the mount Tur in a hurry leaving his people behind, he was censured by Allah Ta` ala.Prophets (علیہم السلام) and the devout people who try to excel each other in the performance of righteous deeds have been commended and their zeal to do good deeds does not constitute haste and hurry because they do not try to do these deeds before their time. In fact they do the deeds on time, but try to excel each other in quantity and quality.Here خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (Man is made of haste - 21:37) means that haste and hurry is one of the many weaknesses which are inherent in human nature. When a man is identified by some intrinsic trait of his character, me Arabs used to say that he is 'made of that trait. For instance a short tempered man would be called a 'man made of anger'.سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ (I shall show you my signs -.21:37) Here the word آیات (signs) refers to those miracles and events which bear evidence to the honesty of the Holy Prophet ﷺ and the truth of his message. (Qurtubi)These miracles also occurred during the battle of Badr (غزوہ بدر) when the Muslims who were considered weak and worthy of contempt gained a great victory over their enemies.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.