Surah Al-Anbya • Ayah 107
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Earth will be inherited by the RighteousAllah tells us of His decree for His righteous servants who are the blessed in this world and in the Hereafter, those who will inherit the earth in this world and in the Hereafter. As Allah says:إِنَّ الأَرْضَ للَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَـقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ(Verily, the earth is Allah's. He gives it as a heritage to whom He wills of His servants; and the (blessed) end is for those who have Taqwa.) 7:128إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ(Verily, We will indeed make victorious Our Messengers and those who believe in this world's life and on the Day when the witnesses will stand forth.) 40:51وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ ءامَنُواْ مِنْكُمْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الاْرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ(Allah has promised those among you who believe and do righteous good deeds, that He will certainly grant them succession in the land, as He granted it to those before them, and that He will grant them the authority to practise their religion which He has chosen for them) 24:55. Allah tells us that this is recorded in the Books of Divine Laws and Decrees, and that it will inevitably come to pass. Allah says:وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ(And indeed We have written in Az-Zabur after Adh-Dhikr) Al-A`mash said: "I asked Sa`id bin Jubayr about the Ayah:وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ(And indeed We have written in Az-Zabur after Adh-Dhikr). He said: `Az-Zabur means the Tawrah, the Injil and the Qur'an."' Mujahid said, "Az-Zabur means the Book." Ibn `Abbas, Ash-Sha`bi, Al-Hasan, Qatadah and others said, "Az-Zabur is that which was revealed to Dawud, and Adh-Dhikr is the Tawrah." Mujahid said: "Az-Zabur means the Books which came after Adh-Dhikr, and Adh-Dhikr is the Mother of the Book (Umm Al-Kitab) which is with Allah." This was also the view of Zayd bin Aslam: "It is the First Book." Ath-Thawri said: "It is Al-Lawh Al-Mahfuz."أَنَّ الاٌّرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصَّـلِحُونَ(that My righteous servants shall inherit the land.) Mujahid said, narrating from Ibn `Abbas, "This means, the land of Paradise." This was also the view of Abu `Aliyah, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Ash-Sha`bi, Qatadah, As-Suddi, Abu Salih, Ar-Rabi` bin Anas and Ath-Thawri (may Allah have mercy on them).إِنَّ فِى هَـذَا لَبَلَـغاً لِّقَوْمٍ عَـبِدِينَ(Verily, in this (the Qur'an) there is a plain Message for people who worship Allah.) means, `in this Qur'an which We have revealed to Our servant Muhammad , there is a plain Message which is beneficial and is sufficient for a people who worship Allah.' This refers to those who worship Allah in the manner which He has prescribed and which He loves and is pleased with, and they would rather obey Allah than follow the Shaytan or their own desires.Muhammad ﷺ is a Mercy to the Worldsوَمَآ أَرْسَلْنَـكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِّلْعَـلَمِينَ(And We have sent you not but as a mercy for the `Alamin.) Here Allah tells us that He has made Muhammad ﷺ a mercy to the `Alamin, i.e., He sent him as a mercy for all of them peoples, so whoever accepts this mercy and gives thanks for this blessing, will be happy in this world and in the Hereafter. But whoever rejects it and denies it, will lose out in this world and in the Hereafter, as Allah says:أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ - جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ(Have you not seen those who have changed the blessings of Allah into disbelief, and caused their people to dwell in the house of destruction Hell, in which they will burn, -- and what an evil place to settle in!) 14:28-29 And Allah says, describing the Qur'an:قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُوْلَـئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ(Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness in their ears, and it is blindness for them. They are those who are called from a place far away.") 41:44 Muslim reports in his Sahih: Ibn Abi `Umar told us, Marwan Al-Fazari told us, from Yazid bin Kisan, from Ibn Abi Hazim that Abu Hurayrah said that it was said, "O Messenger of Allah, pray against the idolators." He said:«إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَة»(I was not sent as a curse, rather I was sent as a mercy.) This was recorded by Muslim. Imam Ahmad recorded that `Amr bin Abi Qurrah Al-Kindi said: "Hudhayfah was in Al-Mada'in and he was mentioning things that the Messenger of Allah ﷺ had said. Hudhayfah came to Salman and Salman said: `O Hudhayfah, the Messenger of Allah ﷺ would sometimes be angry and would speak accordingly, and would sometimes be pleased and would speak accordingly. I know that the Messenger of Allah ﷺ addressed us and said:«أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ (سَبَّةً) فِي غَضَبِي أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً، فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا تَغْضَبُونَ، إِنَّمَا بَعَثَنِي اللهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ فَاجْعَلْهَا صَلَاةً عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَة»(Any man of my Ummah whom I have insulted or cursed when I was angry -- for I am a man from among the sons of Adam, and I get angry just as you do. But Allah has sent me as a Mercy to the Worlds, so I will make that my anger into blessings for him on the Day of Resurrection.") This was also recorded by Abu Dawud from Ahmad bin Yunus from Za'idah. It may be asked: what kind of mercy do those who disbelieve in him get The answer is what Abu Ja`far bin Jarir recorded from Ibn `Abbas concerning the Ayah:وَمَآ أَرْسَلْنَـكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِّلْعَـلَمِينَ(And We have sent you not but as a mercy for the `Alamin. ) He said, "Whoever believes in Allah and the Last Day, mercy will be decreed for him in this world and in the Hereafter; whoever does not believe in Allah and His Messenger, will be protected from that which happened to the nations of earthquakes and stoning."
سچا فیصلہ ٭٭اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک و مال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت «إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [7-الأعراف:128] ” زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے “۔ اور فرمان ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ» [40-غافر:51] ” ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں “۔ اور فرمان ہے کہ «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55] ” تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لیے ان کے دین کو قوی کر دے گا جس سے وہ خوش ہے “۔ اور فرمایا کہ ” یہ شرعیہ اور قدریہ کتابوں میں مرقوم ہے، یقیناً ہو کر ہی رہے گا “۔ زبور سے مراد بقول سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ تورات انجیل اور قرآن ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں زبور سے مراد کتاب ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی۔ ذکر سے مراد یہاں پر توراۃ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ذکر سے مراد قرآن ہے۔“ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ذکر وہ ہے جو آسمانوں میں ہے یعنی اللہ کے پاس کی ام الکتاب جو سب سے پہلی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔“ یہ بھی مروی ہے کہ زبور اور وہ آسمانی کتابیں جو پیغمبروں پرنازل ہوئیں اور ذکر مراد پہلی کتاب یعنی لوح محفوظ۔ فرماتے ہیں توراۃ زبور اور علم الٰہی میں پہلے ہی یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی بادشاہ بنے گی اور نیک ہو کر جنت میں جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین سے مراد جنت کی زمین۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”صالح لوگ ہم ہی ہیں۔“ مراد اس سے با ایمان لوگ ہیں ” اس قرآن میں جو نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے پوری نصیحت و کفایت ہے ان کے لیے جو ہمارے عبادت گزار بندے ہیں۔ جو ہماری مانتے ہیں اپنی خواہش کو ہمارے نام پر قربان کر دیتے ہیں “۔ پھر فرماتا کہ ” ہم نے اپنے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے پس اس نعمت کی شکر گزاری کرنے والا دنیا و آخرت میں شادماں ہے اور ناقدری کرنے والا دونوں جہاں میں برباد و ناشاد ہے “۔ جیسے ارشاد ہے کہ «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» [14-ابراھیم:27-28] ” کیا تم نے انہیں دیکھا جنہوں نے نعمت ربانی کی ناشکری کی اور اپنی قوم کو غارت کر دیا “۔ اس قرآن کی نسبت فرمایا کہ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» [41-فصلت:44] ” یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت وشفاء ہے بے ایمان بہرے اندھے ہیں “۔صفحہ نمبر5536صحیح مسلم میں ہے کہ ایک موقع پر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کے لیے بدعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ [صحیح مسلم:2599] اور حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں تو صرف رحمت وہدایت ہوں ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:490، ] اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ مجھے ایک قوم کی ترقی اور دوسری کے تنزل کے ساتھ بھیجا گیا ہے ۔ طبرانی میں ہے کہ ابو جہل نے کہا اے قریشیو! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یثرب میں چلا گیا ہے اپنے طلائیے کے لشکر ادھرادھر تمہاری جستجو میں بھیج رہا ہے۔ دیکھو ہوشیار رہنا وہ بھوکے شیر کی طرح تاک میں ہے وہ خار کھائے ہوئے ہے کیونکہ تم نے اسے نکال دیا ہے واللہ اس کے جادوگر بے مثال ہیں میں تو اسے یا اس کے ساتھیوں میں سے جس کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے ساتھ شیطان نظر آتے ہیں تم جانتے ہو کہ اوس اور خزرج ہمارے دشمن ہیں اس دشمن کو ان دشمنوں نے پناہ دی ہے۔ اس پر مطعم بن عدی کہنے لگے ابو الحکم سنو تمہارے اس بھائی سے جسے تم نے اپنے ملک سے جلا وطن کر دیا ہے میں نے کسی کو زیادہ سچا اور زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا نہیں پایا۔ اب جب کہ ایسے بھلے آدمی کے ساتھ تم یہ بدسلوکی کر چکے ہو تو اب تو اسے چھوڑو تمہیں چاہیئے اس سے بالکل الگ تھلک رہو۔ اس پر ابوسفیان بن حارث کہنے لگا نہیں تمہیں اس پر پوری سختی کرنی چاہیئے یاد رکھو اگر اس کے طرفدار تم پر غالب آ گئے تو تم کہیں کے نہ رہو گے وہ رشتہ دیکھیں گے نہ کنبہ میری رائے میں تو تمہیں مدینے والوں کو تنگ کر دینا چاہیئے کہ یا تو وہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نکال دیں اور وہ بیک بینی دوگوش تن تنہا رہ جائے یا ان مدینے والوں کا صفایا کر دینا چاہیئے اگر تم تیار ہو جاؤ تو میں مدینے کہ کونے کونے پر لشکر بٹھادوں گا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دونگا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم جس کہ ہاتھ میری جان ہے میں ہی انہیں قتل وغارت کروں گا اور قید کر کے پھر احسان کر کے چھوڑوں گا میں رحمت ہوں میرا بھیجنے والا اللہ ہے وہ مجھے اس دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک اپنے دین کو دنیا پر غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں محمد، احمد، ماحی، یعنی میری وجہ سے اللہ کفر کو مٹا دے گا، حاشر اس لیے کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کئے جائیں گے اور عاقب ۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی تحت الحدیث:490،] صفحہ نمبر5537مسند احمد میں ہے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے بسا اوقات احادیث رسول کا مذاکرہ رہا کرتا تھا ایک دن حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اے حذیفہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کر دی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آ جاتا ہے۔ ہاں البتہ میں چونکہ رحمتہ اللعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ اللہ میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لیے موجب رحمت بنا دے ۔ [سنن ابوداود:4659،قال الشيخ الألباني:صحیح] رہی یہ بات کہ کفار کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت کیسے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ ”مؤمنوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں رحمت تھے اور غیر مؤمنوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے، آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے۔ جیسے کہ اگلی امتوں کے منکروں پر عذاب آئے۔“صفحہ نمبر5538
آیت 107 وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ”یعنی آپ ﷺ کی بعثت صرف جزیرہ نمائے عرب تک محدود نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جزیرۂ نمائے عرب میں اسلام کے عملی طور پر غلبے کے بعد آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد پورا ہوچکا ہوتا ‘ مگر آپ ﷺ تو تمام اہل عالم کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ چناچہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد قرآن میں تین مقامات التوبہ : 33 ‘ الفتح : 28 اور الصف : 9 پر ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے : ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ”وہی ذات ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو بھیجا الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ تاکہ اسے غالب کر دے تمام ادیان پر“۔ گویا آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد تب پورا ہوگا جب دین اسلامُ کل روئے زمین پر غالب ہوجائے گا۔ اسی مضمون کو اقبالؔ نے یوں بیان کیا ہے : وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے !نور توحید کا اتمام یعنی اسلام کا بطور دین کلی غلبہ جزیرہ نمائے عرب کی حد تک تو حضور ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی ہوگیا تھا۔ اس کے بعد خلافت راشدہ کے دور میں دین اسلام کے اس اقتدار کو مزید وسعت دینے کا سلسلہ بڑی شد و مد سے شروع ہوا مگر دور عثمانی میں ایک یہودی عبداللہ بن سبا نے سازش کے ذریعے عالم اسلام میں ”الفتنۃ الکبرٰی“ کھڑا کردیا۔ اس کے نتیجے میں حضرت عثمان رض شہید کردیے گئے اور پھر مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک لاکھ کے قریب مسلمان ایک دوسرے کی تلواروں سے ہلاک ہوگئے۔ اس فتنہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ نہ صرف غلبہ اسلام کی مزید تصدیر و توسیع کا عمل رک گیا ‘ بلکہ بعض علاقوں سے مسلمانوں کو پسپائی بھی اختیار کرنا پڑی۔ حضور ﷺ کی بعثت چونکہ تا قیام قیامتُ کل روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے لیے ہے اور آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد ”اِظہار دین 1 لحق“ دین حق کا غلبہ ہے ‘ اس لیے یہ دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک آپ ﷺ کی بعثت کا یہ مقصد بہ تمام و کمال پورا نہ ہو اور دین اسلامُ کل عالم انسانی پر غالب نہ ہوجائے۔ اس کا صغریٰ و کبریٰ قرآن سے ثابت ہے اور اس کی تفصیلات کتب احادیث میں موجود ہیں۔
Commentaryوَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (And We have not. sent you but as mercy for all the worlds. - 21:107) عَالَمِينَ is plural of عَالَم which means 'world' and includes all creatures including humans, animals, plants, Jinns etc. In order to properly understand the meaning of the verse one should also understand that the true essence of the entire universe is the invocation of Allah Ta` ala and His worship. When this essence departs from this world and no one is left to worship Allah, everything in it will perish. In other words that is the day when Qiyamah would occur. When it is understood that the invocation and worship of Allah Ta` ala is the essence of all living things, then the reason for describing the Holy Prophet ﷺ as mercy to the Worlds becomes obvious because it is his teachings and the purity of his personal life alone which keep alive the worship of Allah Ta` ala until Qiyamah. That is why he declared "I am the blessing sent by Allah اَنَا رَحمَۃُ مُھدَاۃُ (Ibn ` Asakir quoting Abu Hurairah). Sayyidna Ibn ` Umar , has reported that the Holy Prophet ﷺ said اَنَا رَحمَۃُ مُھدَاۃُ بِرَفعِ قَومِ وَخفضِ آخرِینَ that is "I am the blessing sent by Allah so that I lift up the people (who obey Allah) and humble the other people (who disobey Allah). (Ibn Kathir)It, therefore, follows that performing jihad against the unbelievers in order to lessen shirk and kufr (unbelief) and in the hope of reclaiming those who transgress the Divine Commands of Allah Ta` ala is an act of mercy.
Following the Treaty of Hudaybiyyah, the Prophet (ﷺ) sent letters inviting the great rulers of his time to Islam. Letters were dispatched to: Heraclius of Byzantium, Chosroes II of Persia (who tore the letter — his kingdom was later torn apart), the Negus of Abyssinia, Muqawqis of Egypt, the rulers of Yemen, Bahrain, Oman, and Syria. This fulfilled the Quranic mandate to deliver the message to all of humanity (34:28).
Unlike previous revelations sent to specific nations or peoples, the Quran was explicitly addressed to all humanity: 'Say [O Muhammad]: O people, I am the Messenger of Allah to you all' (7:158); 'And We have not sent you except as a mercy to the worlds' (21:107); 'Blessed is He who sent down the Criterion upon His Servant that he may be a warner to the worlds' (25:1). This universality drove Islam's remarkable spread across every continent and culture within a century, making it the first truly global religion in terms of geographic reach.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.