Surah Al-Baqarah • Ayah 87
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Arrogance of the Jews who denied and killed Their ProphetsAllah described the insolence of Children of Israel, their rebelliousness, defiance and arrogance towards the Prophets, following their lusts and desires. Allah mentioned that He gave Musa the Book, the Tawrah, and that the Jews changed, distorted, and defied its commands, as well as altered its meanings.Allah sent Messengers and Prophets after Musa who followed his law, as Allah stated,إِنَّآ أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌالَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالاٌّحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن كِتَـبِ اللَّهِ وَكَانُواْ عَلَيْهِ شُهَدَآءَ(Verily, We did reveal the Tawrah (to Musa), therein was guidance and light, by which the Prophets, who submitted themselves to Allah's will, judged for the Jews. And the rabbis and the priests (too judged for the Jews by the Tawrah after those Prophets), for to them was entrusted the protection of Allah's Book, and they were witnesses thereto) (5:44). This is why Allah said here,وَقَفَّيْنَا مِن بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ(And Qaffayna him with Messengers).As-Suddi said that Abu Malik said that Qaffayna means, "Succeeded", while others said, "Followed". Both meanings are plausible, since Allah said,ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَى(Then We sent Our Messengers in succession) (23:44).Thereafter, Allah sent the last Prophet among the Children of Israel, `Isa the son of Mary, who was sent with some laws that differed with some in the Tawrah. This is why Allah also sent miracles to support `Isa. These included bringing the dead back to life, forming the shape of birds from clay and blowing into them, afterwhich they became living birds by Allah's leave, healing the sick and foretelling the Unseen, as Ibn `Abbas stated. Allah also aided him with Ruh Al-Qudus, and that refers to Jibril. All of these signs testified to the truthfulness of `Isa and what he was sent with. Yet, the Children of Israel became more defiant and envious of him and did not want to differ with even one part of the Tawrah, as Allah said about `Isa,وَلاٌّحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِئْتُكُمْ بِأَيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ(And to make lawful to you part of what was forbidden to you, and I have come to you with a proof from your Lord) (3:50).Hence, the Children of Israel treated the Prophets in the worst manner, rejecting some of them and killing some of them. All of this occurred because the Prophets used to command the Jews with what differed from their desires and opinions. The Prophets also upheld the rulings of the Tawrah that the Jews had changed, and this is why it was difficult for them to believe in these Prophets. Therefore, they rejected the Prophets and killed some of them. Allah said,أَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَ تَهْوَى أَنفُسُكُم اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ(Is it that whenever there came to you a Messenger with what you yourselves desired not,you grew arrogant Some you disbelieved and some you kill).Jibril is Ruh Al-QudusThe proof that Jibril is the Ruh Al-Qudus is the statement of Ibn Mas`ud in explanation of this Ayah. This is also the view of Ibn `Abbas, Muhammad bin Ka`b, Isma`il bin Khalid, As-Suddi, Ar-Rabi` bin Anas, `Atiyah Al-`Awfi and Qatadah. Additionally, Allah said,نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الاٌّمِينُ - عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ(Which the trustworthy Ruh (Jibril) has brought down. Upon your heart (O Muhammad ) that you may be (one) of the warners) (26:193-194).Al-Bukhari recorded `A'ishah saying that the Messenger of Allah ﷺ erected a Minbar in the Masjid on which Hassan bin Thabit (the renowned poet) used to defend the Messenger of Allah ﷺ (with his poems). The Messenger of Allah ﷺ said,«اللَّهُمَّ أَيِّدْ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ كَمَا نَافَحَ عَنْ نَبِيِّك»(O Allah! Aid Hassan with Ruh Al-Qudus, for he defended Your Prophet.)Abu Dawud recorded this Hadith in his Sunan as did At-Tirmidhi who graded it Hasan Sahih. Further, Ibn Hibban recorded in his Sahih that Ibn Mas`ud said that the Prophet said,«إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّهُ لَنْ تَمُوتَ نَفْسٌ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا وَأَجَلَهَا، فَاتَّقُوا اللهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَب»(Ruh Al-Qudus informed me that no soul shall die until it finishes its set provisions and term limit. Therefore, have Taqwa of Allah and seek your sustenance in the most suitable way.)The Jews tried to kill the ProphetAz-Zamakhshari commented on Allah's statement,فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ(Some you disbelieved and some you kill), "Allah did not say `killed' here, because the Jews would still try to kill the Prophet in the future, using poison and magic." During the illness that preceded his death, the Prophet said,«مَا زَالَتْ أَكْلَةُ خَيْبَرَ تُعَاوِدُنِي، فَهذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ أَبْهَرِي»(I kept feeling the effect of what I ate (from the poisoned sheep) during the day of Khaybar, until now, when it is the time that the aorta will be cut off (meaning when death is near).)This Hadith was collected by Al-Bukhari and others
خود پرست اسرائیلی ٭٭بنی اسرائیل کے عناد و تکبر اور ان کی خواہش پرستی کا بیان ہو رہا ہے کہ توراۃ میں تحریف و تبّدل کیا موسیٰ علیہ السلام کے بعد انہی کی شریعت آنے والے انبیاء کی بھی مخالفت کی چنانچہ فرمایا «اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ» [ 5۔ المائدہ: 44 ] یعنی ہم نے توراۃ نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا جس پر انبیاء علیہ السلام بھی خود بھی عمل کرتے اور یہودیوں کو بھی ان کے علماء اور درویش ان پر عمل کرنے کا حکم کرتے تھے غرض پے در پے یکے بعد دیگرے انبیاء کرام بنی اسرائیل میں آتے رہے یہاں تک کہ یہ سلسلہ عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوا انہیں انجیل ملی جس میں بعض احکام توراۃ کے خلاف بھی تھے اسی لیے انہیں نئے نئے معجزات بھی ملے جیسے مردوں کو بحکم رب العزت زندہ کر دینا مٹی سے پرند بنا کر اس میں پھونک مار کر بحکم رب العزت اڑا دینا، بیماروں کو اپنے دم جھاڑے سے رب العزت کے حکم سے اچھا کر دینا، بعض بعض غیب کی خبریں رب العزت کے معلوم کرانے سے دینا وغیرہ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:268/1] آپ کی تائید پر روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام کو لگا دیا لیکن بنی اسرائیل اپنے کفر اور تکبر میں اور بڑھ گئے اور زیادہ حسد کرنے لگے اور ان تمام انبیاء کرام کے ساتھ برے سلوک سے پیش آئے۔ کہیں جھٹلاتے اور کہیں مار ڈالتے تھے محض اس بنا پر کہ انبیاء علیہ السلام کی تعلیم ان کی طبیعتوں کے خلاف ہوا کرتی تھی ان کی رائے اور انہیں ان کے قیاسات اور ان کے بنائے ہوئے اصول و احکام ان کی قبولیت سے ٹکراتے تھے اس لیے دشمنی پر تل جاتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ محمد بن کعب اسمٰعیل بن خالد سدی ربیع بن انس عطیہ عوفی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا قول یہی ہے کہ روح القدس سے مراد جبرائیل ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:270/1] جیسے قرآن شریف میں اور جگہ ہے «نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ» [ 26۔ الشعرآء: 193 ] یعنی اسے لے کر روح امین اترے ہیں۔ صحیح بخاری میں تعلیقاً مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان شاعر کے لیے مسجد میں منبر رکھوایا وہ مشرکین کی ہجو کا جواب دیتے تھے اور آپ ان کے لیے دعا کرتے تھے کہ اے اللہ عزوجل حسان کی مدد روح القدس سے فرما جیسے کہ یہ تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جواب دیتے ہیں۔ [سنن ابوداود:5015، قال الشيخ الألباني:صحیح ] صفحہ نمبر361بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا حسان رضی اللہ عنہا خلافت فاروقی کے زمانے میں ایک مرتبہ مسجد نبوی میں کچھ اشعار پڑھ رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی طرف تیز نگاہیں اٹھائیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اس وقت بھی ان شعروں کو یہاں پڑھتا تھا جب یہاں تم سے بہتر شخص موجود تھے پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تمہیں اللہ کی قسم کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا؟ کہ اے حسان تو مشرکوں کے اشعار کا جواب دے اے اللہ تعالیٰ تو حسان رضی اللہ عنہ کی تائید روح القدس سے کر۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے۔ [صحیح بخاری:3212 ] صفحہ نمبر362بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ حضور نے فرمایا حسان رضی اللہ عنہ تم ان مشرکین کی ہجو کرو جبرائیل علیہ السلام بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ [صحیح بخاری:3213] سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے شعر میں بھی جبرائیل کو روح القدس کہا گیا ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کی بابت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں اللہ کی قسم اللہ کی نعمتوں کو یاد کر کے کہو کیا خود تمہیں معلوم نہیں کہ وہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور وہی میرے پاس بھی وحی لاتے ہیں ان سب نے کہا بیشک [ ابن اسحاق ] ابن حبان میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جبرائیل علیہ السلام نے میرے دل میں کہا کہ کوئی شخص اپنی روزی اور زندگی پوری کئے بغیر نہیں مرتا۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور دنیا کمانے میں دین کا خیال رکھو۔ [بغوی فی شرح السنة:4111:صحیح بالشواھد] صفحہ نمبر363بعض نے روح القدس سے مراد اسم اعظم لیا ہے بعض نے کہا ہے فرشتوں کا ایک سردار فرشتہ ہے بعض کہتے ہیں قدس سے مراد اللہ تعالیٰ اور روح سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہے کسی نے کہا ہے قدس یعنی برکت کسی نے کہا ہے پاک کسی نے کہا ہے روح سے مراد انجیل ہے جیسے فرمایا «وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا» [ 42۔ الشوری: 52 ] یعنی اسی طرح ہم نے تیری طرف روح کی وحی اپنے حکم سے کی۔ امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کا فیصلہ یہی ہے کہ یہاں مراد روح القدس سے جبرائیل ہیں جیسے اور جگہ ہے «إِذْ قالَ اللهُ يا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلى والِدَتِكَ إِذْ أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ» [ 5-المائدہ-110 ] اس آیت میں روح القدس کی تائید کے ذکر کے ساتھ کتاب و حکمت توراۃ و انجیل کے سکھانے کا بیان ہے معلوم ہوا کہ یہ اور چیز ہے اور وہ اور چیز علاوہ ازیں روانی عبارت بھی اس کی تائید کرتی ہے۔صفحہ نمبر364قدس سے مراد مقدس ہے جیسے (ھَاتِمٌ جُوْدٌ اور رَجُلٌ صِدٗقٌ) میں روح القدس کہنے میں اور رُوحٌ مِّنْهُ۔ [4-النساء:171] کہنے میں قربت اور بزرگی کی ایک خصوصیت پائی جاتی ہے یہ اس لیے بھی کہا گیا ہے کہ یہ روح مردوں کی پیٹھوں اور حیض والے رحموں سے بے تعلق رہی ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کی پاکیزہ روح لی ہے پھر فرمایا کہ ایک فرقے کو تم نے جھٹلایا اور ایک فرقے کو تم قتل کرتے ہو جھٹلانے میں ماضی کا صیغہ لائے لیکن قتل میں مستقبل کا اس لیے کہ ان کا حال آیت کے نزول کے وقت بھی یہی رہا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا کہ اس زہر آلود لقمہ کا اثر برابر مجھ پر رہا جو میں نے خیبر میں کھایا تھا اس وقت اس نے رک رک کر جان کاٹ دی۔ [صحیح بخاری:4428] صفحہ نمبر365
آیت 87 وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَقَفَّیْنَا مِنْم بَعْدِہٖ بالرُّسُلِز ایک بات نوٹ کر لیجیے کہ یہاں لفظ الرُّسُل انبیاء کے معنی میں آیا ہے۔ نبی اور رسول میں کچھ فرق ہے ‘ اسے اختصار کے ساتھ سمجھ لیجیے۔ قرآن مجید کی اصطلاحات کے تین جوڑے ایسے ہیں کہ وہ تینوں مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوجاتے ہیں اور اپنا علیحدہ علیحدہ مفہوم بھی رکھتے ہیں۔ ان کے ضمن میں علماء کرام نے یہ اصول وضع کیا ہے کہ اِذَا اجْتَمَعَا تَفَرَّقَا وَاِذَا تَفَرَّقَا اجْتَمَعَا یعنی جب ایک جوڑے کے دونوں لفظ اکٹھے استعمال ہوں گے تو دونوں کا مفہوم مختلف ہوگا ‘ اور جب یہ دونوں الگ الگ استعمال ہوں گے تو ایک معنی میں استعمال ہوجائیں گے۔ ان میں سے ایک جوڑا اسلام اور ایمان یا مسلم اور مؤمن کا ہے۔ عام طور پر مسلم کی جگہ مؤمن اور مؤمن کی جگہ مسلم استعمال ہوجاتا ہے ‘ لیکن سورة الحجرات میں یہ دونوں الفاظ اکٹھے استعمال ہوئے ہیں تو ان کا فرق واضح ہوگیا ہے۔ فرمایا : قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْا اَسْلَمْنَا۔۔ آیت 14 بدو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔ ان سے کہیے کہ تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو ‘ البتہ یہ کہو کہ ہم نے اسلام قبول کرلیا ہے۔۔ اسی طرح جہاد اور قتال کا معاملہ ہے۔ یہ دو مختلف الفاظ ہیں ‘ جن کا مفہوم جدا بھی ہے لیکن ایک دوسرے کی جگہ بھی آجاتے ہیں۔اس ضمن میں تیسرا جوڑا نبی اور رسول کا ہے۔ یہ دونوں لفظ بھی اکثر ایک دوسرے کی جگہ آجاتے ہیں ‘ لیکن ان میں فرق بھی ہے۔ ہر نبی رسول نہیں ہوتا ‘ البتہ ہر رسول لازماً نبی ہوتا ہے۔ یعنی نبی عام ہے رسول خاص ہے۔ نبی کو جب کسی خاص قوم کی طرف معینّ طور پر بھیج دیا جاتا ہے تب اس کی حیثیت رسول کی ہوجاتی ہے۔ اس سے پہلے اس کی حیثیت انتہائی اعلیٰ مرتبہ پر فائز ایک ولی اللہ کی ہے ‘ جس پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ عام ولی اللہ میں اور نبی میں فرق یہی ہے کہ نبی پر وحی آتی ہے ‘ ولی پر وحی نہیں آتی۔ لیکن کسی نبی کو جب کسی معین قوم کی طرف مبعوث کردیا جاتا تھا تو پھر وہ رسول ہوتا تھا۔ جیسے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام کو حکم دیا گیا : اِذْھَبَا اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی طٰہٰ تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ ‘ یقیناً وہ سرکشی پر اتر آیا ہے۔ اسی طرح دوسرے رسولوں کے بارے میں آیا ہے کہ وہ اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث فرمائے گئے تھے۔ مثلاً وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا الاعراف : 85 اور مدین کی طرف بھیجا ہم نے ان کے بھائی شعیب علیہ السلام کو۔ یہ فرق ہے نبی اور رسول کا۔ محض سمجھانے کے لیے بطور مثال عرض کر رہا ہوں کہ جیسے آپ کے یہاں خصوصی تربیت یافتہ افراد پر مشتمل CSP cadre ہے ‘ ان میں سے کوئی ڈپٹی کمشنر لگا دیا جاتا ہے ‘ کسی کو جائنٹ سکریٹری کیّ ذمہ داری تفویض کی جاتی ہے ‘ تو کوئی بطور O.S.D خدمات انجام دیتا ہے ‘ لیکن اس کا کا ڈر CSP برقرار رہتا ہے۔ اسی اعتبار سے ہر نبی ہر حال میں نبی ہوتا تھا ‘ لیکن اسے رسول کی حیثیت سے ایک اضافی ذمہ داری اور اضافی مرتبہ عطا کیا جاتا تھا۔نبی اور رسول کے فرق کے ضمن میں ایک بات یہ نوٹ کر لیجیے کہ نبیوں کو قتل بھی کیا گیا ہے ‘ جبکہ رسول قتل نہیں ہوسکتے۔ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ط المُجادلۃ : 21 لازماً غالب رہیں گے َ میں اور میرے رسول۔ چناچہ جب بھی کسی قوم نے کسی رسول علیہ السلام کی جان لینے کی کوشش کی تو اس قوم کو ہلاک کردیا گیا اور رسول علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو بچالیا گیا۔ لیکن یہ معاملہ نبیوں کے ساتھ نہیں ہوا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نبی تھے ‘ قتل کردیے گئے ‘ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول تھے ‘ لہٰذا قتل نہیں کیے جاسکتے تھے ‘ ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا ‘ جو قیامت سے قبل دوبارہ زمین پر نزول فرمائیں گے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کے راستے میں شہید ہونے کی شدید تمنا تھی۔ آپ ﷺ نے اپنی اس تمنا اور آرزو کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا ہے : وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوَدِدْتُ اَنْ اُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَاُقْتَلَ ثُمَّ اُحْیَا ثُمَّ اُقْتَلَ ثُمَّ اُحْیَا ثُمَّ اُقْتَلَ ثُمَّ اُحْیَا ثُمَّ اُقْتَلَ 9 قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! میری بڑی خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جنگ کروں تو اس میں قتل کردیا جاؤں ‘ پھر میں زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں ‘ پھر میں زندہ کیا جاؤں ‘ پھر اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں ‘ پھر میں زندہ کیا جاؤں ‘ پھر اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں ! لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی یہ خواہش پوری نہیں کی۔ اس لیے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول تھے۔ آیت زیر مطالعہ میں نوٹ کیجیے کہ اگرچہ یہاں لفظ رسول آگیا ہے لیکن یہ نبی کے معنی میں آیا ہے : وَقَفَّیْنَا مِنْم بَعْدِہٖ بالرُّسُلِز اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کے بعد لگاتار پیغمبر بھیجے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد رسول تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں ‘ درمیان میں جو پیغمبر prophets ہیں یہ سب انبیاء ہیں۔ وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ حسِّی معجزات جس قدر حضرت مسیح علیہ السلام کو دیے گئے ویسے اور کسی نبی کو نہیں دیے گئے۔ ان کا تذکرہ آگے چل کر سورة آل عمران میں آئے گا۔ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ط۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت جبرائیل علیہ السلام کی خاص تائید و نصرت حاصل تھی۔ معجزات کا ظہور کسی نبی یا رسول کی اپنی طاقت سے نہیں ہوتا ‘ اسی طرح کرامت کسی ولی اللہ کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی ‘ یہ معاملہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کا ظہور فرشتوں کے ذریعے سے ہوتا ہے۔ اَفَکُلَّمَا جَآءَ ‘ کُمْ رَسُوْلٌم بِمَا لاَ تَہْوٰٓی اَنْفُسُکُمُ اسْتَکْبَرْتُمْ ط۔ انبیاء و رسل کے ساتھ یہود نے جو طرز عمل روا رکھا ‘ خاص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو کچھ کیا ‘ یہاں اس پر تبصرہ ہو رہا ہے کہ جب بھی کبھی تمہارے پاس کوئی رسول تمہاری خواہشات نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر آیا تو تمہاری روش یہی رہی کہ تم نے استکبار کیا اور سرکشی کی ‘ وہی استکبار اور سرکشی جس کے باعث عزازیل ابلیس بن گیا تھا۔ فَفَرِیْقًا کَذَّبْتُمْز وَفَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ۔ اللہ کے رسول چونکہ قتل نہیں ہوسکتے لہٰذا یہاں نبیوں کا قتل مراد ہے۔ مزید برآں ایک رائے یہ بھی دی گئی ہے کہ یہاں ماضی کا صیغہ قَتَلْتُمْ نہیں آیا ‘ بلکہ فعل مضارع تَقْتُلُوْنَ آیا ہے اور مضارع کے اندر فعل جاری رہنے کی خاصیت ہوتی ہے۔ گویا تم ان کو قتل کرنے کی کوشش کرتے رہے ‘ بعض رسولوں کی تو جان کے درپے ہوگئے۔
The Qur'an again reminds the Israelites how Allah in His mercy forgave them their transgressions again and again, and provided them with all the means of guidance. First of all, He gave them a Divine Book, the Torah, through Sayyidna Musa (علیہ السلام) (Moses); then, sent them a number of prophets; and, at the end of this line, sent down Sayyidna Isa (علیہ السلام) (Jesus) along with clear and irrefutable evidences of his prophethood, like the Evangel and miracles, and appointed the Archangel Jibra'il (علیہ السلام) (Gabriel) to give him support.The Archangel Jibra'il (علیہ السلام) has often been called "Ruh al-Qudus" (the Holy Spirit) in the Noble Qur'an and the Hadith. For example, in Verse 16:102 - قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ ﴿102﴾ - "Say: the Holy Spirit has brought it (the Noble Qur'an) down;" or in a couplet of the poet and blessed Companion Hassan ibn Thabit ؓ ، reported in the Hadith:وجبریل رسول اللہ فیناوروح القدس لیس لہ کفاءJibra'il, the messenger of Allah, comes to us;he is the Holy Spirit, the incomparable."Allah helped and supported Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) through Jibra'il (علیہ السلام) in several ways. (1) He was conceived through the breath of the Archangel. (2) Jibra'il (علیہ السلام) protected him against being touched by Satan at the time of his birth. (3) The Archangel always accompanied him in order to defend him against the hostility of the Jews. (4) It was through him that Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) was raised to the heavens.In. spite of all these divine favours, the Jews persisted in their rebellion. They were so stubborn in the worship of their desires, that whenever the prophets brought to them certain divine injunctions which did not please them, the Jews would deny the prophets – they denied even Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) ، or would kill them outright -- for example, they dealt in this vile manner with Sayyidna Zakariyya (علیہ السلام) (Zachariah) and Sayyidna Yahya (علیہ السلام) (John the Baptist).
"But the Comforter, which is the Holy Ghost, whom the Father will send in my name, he shall teach you all things, and bring all things to your remembrance, whatsoever I have said unto you." (KJV)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.