The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Baqarah • Ayah 50

Para 1 Surah 2 : 50
وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ ٱلْبَحْرَ فَأَنجَيْنَـٰكُمْ وَأَغْرَقْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَإِذْ
فَرَقْنَا
بِكُمُ
ٱلْبَحْرَ
فَأَنجَيْنَـٰكُمْ
وَأَغْرَقْنَآ
ءَالَ
فِرْعَوْنَ
وَأَنتُمْ
تَنظُرُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Children of Israel were saved from Pharaoh and His Army Who drownedAllah said to the Children of Israel, "Remember My favor on youوَإِذْ نَجَّيْنَـكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ(And (remember) when We delivered you from Fir`awn's (Pharaoh) people, who were afflicting you with a horrible torment,) meaning, `I - Allah - saved you from them and delivered you from their hands in the company of Musa, after they subjected you to horrible torture.' This favor came after the cursed Pharaoh had a dream in which he saw a fire emerge from Bayt Al-Maqdis (Jerusalem), and then the fire entered the houses of the Coptics in Egypt, with the exception of the Children of Israel. Its purport was that his kingship would be toppled by a man among the Children of Israel. It was also said that some of Pharaoh's entourage said that the Children of Israel were expecting a man among them to arise who would establish a state for them. We will mention the Hadith on this subject when we explain Surat Ta Ha (20), Allah willing. After the dream, Pharaoh ordered that every newborn male among the Children of Israel be killed and that the girls be left alone. He also commanded that the Children of Israel be given tasks of hard labor and assigned the most humiliating jobs.The torment here refers to killing the male infants. In Surat Ibrahim (14) this meaning is clearly mentioned,يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ(Who were afflicting you with horrible torment, and were slaughtering your sons and letting your women live.) (14:6).We will explain this Ayah in the beginning of Surat Al-Qasas (28), Allah willing, and our reliance and trust are with Him.The meaning of,يَسُومُونَكُمْ(who were afflicting you) is, "They humiliated you," as Abu `Ubaydah stated. It was also said that it means, "They used to exaggerate in tormenting you" according to Al-Qurtubi. As for Allah saying,يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ(killing your sons and sparing your women) that explains His statement,يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ(who were afflicting you with horrible torment) then it explains the meaning of the favor He gave them, as mentioned in His statement,اذْكُرُواْ نِعْمَتِيَ الَّتِى أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ(Remember My favor which I bestowed upon you). As for what Allah said in Surat Ibrahim,وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ(And remind them of the annals of Allah) (14:5) meaning, the favors and blessing He granted them, He then said,يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ(Who were afflicting you with horrible torment, and were slaughtering your sons and letting your women live.) (14:6)So Allah mentioned saving their children from being slaughtered in order to remind them of the many favors that He granted them.We should state here that `Pharaoh' (Fir`awn) is a title that was given to every disbelieving king who ruled Egypt, whether from the `Amaliq (Canaanites) or otherwise, just as Caesar (Qaysar) is the title of the disbelieving kings who ruled Rome and Damascus. Also, Khosrau (Kisra) is the title of the kings who ruled Persia, while Tubb`a is the title of the kings of Yemen, and the kings of Abyssinia (Ethiopia) were called Negus (An-Najashi).Allah said,وَفِى ذَلِكُمْ بَلاَءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ(And therein was a mighty trial from your Lord.)Ibn Jarir commented that this part of the Ayah means, "Our saving your fathers from the torment that they suffered by the hand of Pharaoh, is a great blessing from your Lord." We should mention that in the blessing there a is test, the same as with hardship, for Allah said,وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً(And We shall make a trial of you with evil and with good) (21:35) and,وَبَلَوْنَـهُمْ بِالْحَسَنَـتِ وَالسَّيِّئَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ(And We tried them with good (blessings) and evil (calamities) in order that they might turn (to obey Allah.)) (7:168).Allah's statement next,وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنجَيْنَـكُمْ وَأَغْرَقْنَا ءَالَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ(And (remember) when We separated the sea for you and saved you and drowned Fir`awn's (Pharaoh) people while you were watching) means, `After We saved you from Fir`awn and you escaped with Musa; Fir`awn went out in your pursuit and We parted the sea for you.' Allah mentioned this story in detail, as we will come to know, Allah willing. One of the shortest references to this story is Allah's statement,فَأَنجَيْنَـكُمْ(And saved you) meaning, "We saved you from them, drowning them while you watched, bringing relief to your hearts and humiliation to your enemy."Fasting the Day of `AshuraIt was reported that the day the Children of Israel were saved from Fir`awn was called the day of `Ashura'. Imam Ahmad reported that Ibn `Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah and found that the Jews were fasting the day of `Ashura'. He asked them, "What is this day that you fast" They said, "This is a good day during which Allah saved the Children of Israel from their enemy, and Musa used to fast this day." The Messenger of Allah ﷺ said,«أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُم»(I have more right to Musa than you have.)So the Messenger of Allah ﷺ fasted that day and ordered that it be fasted. This Hadith was collected by Al-Bukhari, Muslim, An-Nasa'i and Ibn Majah.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

احسانات کی یاد دہانی ٭٭ان آیتوں میں فرمان باری ہے کہ اے اولاد یعقوب علیہ السلام میری اس مہربانی کو بھی یاد رکھو کہ میں نے تمہیں فرعون کے بدترین عذابوں سے چھٹکارا دیا، فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ بھڑکی جو مصر کے ہر ہر قبطی کے گھر میں گھس گئی اور بنی اسرائیل کے مکانات میں وہ نہیں گئی جس کی تعبیر یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہو گا جس کے ہاتھوں اس کا غرور ٹوٹے گا اس کے ”اللہ“ کے دعویٰ کی بدترین سزا اسے ملے گی اس لیے اس ملعون نے چاروں طرف احکام جاری کر دئیے کہ «يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ» ‏ [ 14-إبراهيم: 6 ] ‏ بنی اسرائیل میں جو بچہ بھی پیدا ہو، سرکاری طور سے اس کی دیکھ بھال رکھی جائے اگر لڑکا ہو تو فوراً مار ڈالا جائے اور لڑکی ہو تو چھوڑ دی جائے۔ علاوہ ازیں بنی اسرائیل سے سخت بیگار لی جائے ہر طرح کی مشقت کے کاموں کا بوجھ ان پر ڈال دیا جائے۔صفحہ نمبر265یہاں پر عذاب کی تفسیر لڑکوں کے مار ڈالنے سے کی گئی اور سورۃ ابراہیم میں ایک کا دوسری پر عطف ڈالا جس کی پوری تشریح ان شاءاللہ سورۃ قصص کے شروع میں بیان ہو گی اللہ تعالیٰ ہمیں مضبوطی دے ہماری مدد فرمائے اور تائید کرے آمین۔ «يَسُومُونَكُمْ» کے معنی مسلسل اور کرنے کے آتے ہیں یعنی وہ برابر دکھ دئیے جاتے تھے چونکہ اس آیت میں پہلے یہ فرمایا تھا کہ میری انعام کی ہوئی نعمت کو یاد کرو اس لیے فرعون کے عذاب کی تفسیر کو لڑکوں کے قتل کرنے کے طور پر بیان فرمایا اور سورۃ ابراہیم علیہ السلام کے شروع میں فرمایا تھا کہ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ [14-إبراهيم:5] ‏ اس لیے وہاں عطف کے ساتھ فرمایا تاکہ نعمتوں کی تعداد زیادہ ہو۔ یعنی متفرق عذابوں سے اور بچوں کے قتل ہونے سے تمہیں موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں نجات دلوائی۔ مصر کے جتنے بادشاہ عمالیق وغیرہ کفار میں سے ہوئے تھے ان سب کو فرعون کہا جاتا تھا جیسے کہ روم کے کافر بادشاہ کو قیصر اور فارس کے کافر بادشاہ کو کسریٰ اور یمن کے کافر بادشاہ کو تبع اور حبشہ کے کافر بادشاہ کو نجاشی اور ہند کے کافر بادشاہ کو بطلیموس۔ اس فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان تھا۔ بعض نے مصعب بن ریان بھی کہا ہے۔ عملیق بن اود بن ارم بن سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے تھا اس کی کنیت ابومرہ تھی۔ اصل میں اصطخر کے فارسیوں کی نسل میں تھا اللہ کی پھٹکار اور لعنت اس پر نازل ہو۔صفحہ نمبر266پھر فرمایا کہ اس نجات دینے میں ہماری طرف سے ایک بڑی بھاری نعمت تھی «بَلَاءٌ» کے اصلی معنی آزمائش کے ہیں لیکن یہاں پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، ابوالعالیہ، ابومالک سدی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے نعمت کے معنی منقول ہیں، امتحان اور آزمائش بھلائی برائی دونوں کے ساتھ ہوتی ہے لیکن «بلوتہ بلاء» کا لفظ عموماً برائی کی آزمائش کے لیے اور «ابلیہ, ابلا ,وبلاء» کا لفظ بھلائی کے ساتھ کی آزمائش کے لیے آتا ہے یہ کہا گیا ہے کہ اس میں تمہاری آزمائش یعنی عذاب میں اور اس بچوں کے قتل ہونے میں تھی۔ قرطبی اس دوسرے مطلب کو جمہور کا قول کہتے ہیں تو اس میں اشارہ ذبح وغیرہ کی طرف ہو گا اور بلاء کے معنی برائی کے ہوں گے پھر فرمایا کہ ہم نے فرعون سے بچا لیا۔ تم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ شہر سے نکلے اور فرعون تمہیں پکڑنے کو نکلا تو ہم نے تمہارے لیے پانی کو پھاڑ دیا اور تمہیں اس میں سے پار اتار کر تمہارے سامنے فرعون کو اس کے لشکر سمیت ڈبو دیا۔ ان سب باتوں کا تفصیل وار بیان سورۃ الشعراء میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔صفحہ نمبر267عمرو بن میمون اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر نکلے اور فرعون کو خبر ہوئی تو اس نے کہا کہ جب مرغ بولے تب سب نکلو اور سب کو پکڑ کر قتل کر ڈالو لیکن اس رات اللہ تعالیٰ کی قدرت سے صبح تک کوئی مرغ نہ بولا مرغ کی آواز سنتے ہی فرعون نے ایک بکری ذبح کی اور کہا کہ اس کی کلیجی سے میں فارغ ہوں اس سے پہلے چھ لاکھ قبطیوں کا لشکر جرار میرے پاس حاضر ہو جانا چاہیئے چنانچہ حاضر ہو گیا اور یہ ملعون اتنی بڑی جمعیت کو لے کر بنی اسرائیل کی ہلاکت کے لیے بڑے کروفر سے نکلا اور دریا کے کنارے انہیں پا لیا۔ اب بنی اسرائیل پر دنیا تنگ آ گئی پچھے ہٹیں تو فرعونیوں کی تلواروں کی بھینٹ چڑھیں آگے بڑھیں تو مچھلیوں کا لقمہ بنیں۔ اس وقت یوشع بن نون نے کہا کہ اے اللہ کے نبی اب کیا کیا جائے؟ آپ نے فرمایا حکم الٰہی ہمارا راہنما ہے، یہ سنتے ہی انہوں نے اپنا گھوڑا پانی میں ڈال دیا لیکن گہرے پانی میں جب غوطے کھانے لگا تو پھر کنارے کی طرف لوٹ آئے اور پوچھا اے موسیٰ علیہ السلام رب کی مدد کہاں ہے؟ ہم نہ آپ علیہ السلام کو جھوٹا جانتے ہیں نہ رب جلیل کو تین مرتبہ ایسا ہی کہا۔ اب موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی آئی کہ اپنا عصا دریا پر مارو عصا مارتے ہی پانی نے راستہ دے دیا اور پہاڑوں کہ طرح کھڑا ہو گیا۔ [26-الشعراء:63] ‏ موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے ماننے والے ان راستوں سے گزر گئے انہیں اس طرح پار اترتے دیکھ کر فرعون اور فرعونی افواج نے بھی اپنے گھوڑے اسی راستہ پر ڈال دئیے۔ جب تمام کے تمام میں داخل ہو گئے پانی کو مل جانے کا حکم ہوا پانی کے ملتے ہی تمام کے تمام ڈوب مرے بنی اسرائیل نے قدرت الٰہی کا یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے کنارے پر کھڑے ہو کر دیکھا جس سے وہ بہت ہی خوش ہوئے اپنی آزادی اور فرعون کی بربادی ان کے لیے خوشی کا سبب بنی۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ دن عاشورہ کا تھا یعنی محرم کی دسویں تاریخ۔صفحہ نمبر268مسند احمد میں حدیث ہے کہ جب حضور علیہ السلام مدینہ شریف میں تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں پوچھا کہ تم اس دن کا روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا اس لیے کہ اس مبارک دن میں بنی اسرائیل نے فرعون کے ظلم سے نجات پائی اور ان کا دشمن غرق ہوا جس کے شکریہ میں موسیٰ علیہ السلام نے یہ روزہ رکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے زیادہ حقدار موسیٰ علیہ السلام کا میں ہوں پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ بخاری مسلم نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ [صحیح بخاری:2004] ‏ ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے سمندر کو پھاڑ دیا تھا اس حدیث کے راوی زید العمی ضعیف ہیں اور ان کے استاد یزید رقاشی ان سے بھی زیادہ ضعیف ہیں۔ [مسند ابویعلیٰ:4094:ضعیف جدًا] ‏صفحہ نمبر269

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 50 وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ یہ ایک مختلف فیہ بات ہے کہ بنی اسرائیل نے مصر سے جزیرہ نمائے سینا آنے کے لیے کس سمندر یا دریا کو عبور کیا تھا۔ ایک رائے یہ ہے کہ دریائے نیل کو عبور کر کے گئے تھے ‘ لیکن یہ بات اس اعتبار سے غلط ہے کہ دریائے نیل تو مصر کے اندر بہتا ہے ‘ وہ کبھی بھی مصر کی حد نہیں بنا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو عبور کیا تھا۔ بحیرۂ قلزم Red Sea اوپر جا کر دو کھاڑیوں میں تبدیل ہوجاتا ہے ‘ مشرق کی طرف خلیج عقبہ اور مغرب کی طرف خلیج سویز ہے اور ان کے درمیان جزیرہ نمائے سینا Sinai Peninsula ہے۔ یہ اسی طرح کی تکون ہے جیسے جزیرہ نمائے ہند Indian Peninsula ہے۔ خلیج سویز اور بحیرۂ روم کے درمیان کئی بڑی بڑی جھیلیں تھیں ‘ جن کو باہم جوڑ جوڑ کر ‘ درمیان میں حائل خشکی کو کاٹ کر نہر سویز بنائی گئی ہے ‘ جو اب ایک مسلسل رابطہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو عبور کیا تھا۔ مجھے خود بھی اسی رائے سے اتفاق ہے۔ اس لیے کہ کوہ طور اس جزیرہ نمائے سینا کی نوک tip پر واقع ہے ‘ جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چالیس دن رات کے لیے بلایا گیا اور پھر انہیں تورات دی گئی۔ بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو اس طرح عبور کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کی ایک ضرب سے سمندر پھٹ گیا۔ ازروئے الفاظ قرآنی : فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ الشُّعراء ”پس سمندر پھٹ گیا اور ہوگیا ہر حصہ جیسے بڑا پہاڑ“۔ سمندر کا پانی دونوں طرف پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا اور بنی اسرائیل اس کے درمیان میں سے نکل گئے۔ ان کے پیچھے پیچھے جب فرعون اپنا لشکر لے کر آیا تو اس نے سوچا کہ ہم بھی ایسے ہی نکل جائیں گے ‘ لیکن وہ غرق ہوگئے۔ اس لیے کہ دونوں طرف کا پانی آپس میں مل گیا۔ یہ ایک معجزانہ کیفیت تھی اور یہ بات فطرت nature کے قوانین کے مطابق نہیں تھی۔فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ”“ تمہاری نگاہوں کے سامنے فرعون کے لاؤ لشکر کو غرق کردیا۔ بنی اسرائیل خلیج سویز سے گزر چکے تھے اور دوسری جانب کھڑے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ادھر سے فرعون اور اس کا لاؤ لشکر سمندر میں داخل ہوا تو پانی دونوں طرف سے آکر مل گیا اور یہ سب غرق ہوگئے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Verse 50 refers to certain things which had happened in the days of Sayyidna Musa (علیہ السلام) (Moses). He, in his capacity as a messenger of Allah, continued efforts for a long time to make the Pharaoh and his people see Truth, but when they persisted in their denial, Allah commanded him to take the Israelites along with him and leave Egypt surreptitiously. On their way, they came across a sea while the Pharaoh was behind him with his army in hot pursuit. Allah commanded the sea to split, and make way for Sayyidna Musa (علیہ السلام) and his people. So, they went over smoothly. But when the Pharaoh and his army followed them into the sea, it gathered the water back so that the Pharaoh and his men were drowned then and there.A doctrinal pointVerse 50 speaks of the splitting of the sea, and clearly proves that miracles do occur at the hands of prophets, which some Westernized Muslims have been trying to deny. (Bayn al-Quran (

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.