Surah Al-Baqarah • Ayah 34
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Honoring Adam when the Angels prostrated before HimThis Ayah mentions the great honor that Allah granted Adam, and Allah reminded Adam's offspring of this fact. Allah commanded the angels to prostrate before Adam, as this Ayah and many Hadiths testify, such as the Hadith about the intercession that we discussed. There is a Hadith about the supplication of Musa, "O my Lord! Show me Adam who caused us and himself to be thrown out of Paradise." When Musa met Adam, he said to him, "Are you Adam whom Allah created with His Own Hands, blew life into and commanded the angels to prostrate before" Iblis was among Those ordered to prostrate before Adam, although He was not an AngelWhen Allah commanded the angels to prostrate before Adam, Iblis was included in this command. Although Iblis was not an angel, he was trying - and pretending - to imitate the angels' behavior and deeds, and this is why he was also included in the command to the angels to prostrate before Adam. Satan was criticized for defying that command, as we will explain with detail, Allah willing, when we mention the Tafsir of Allah's statement,إِلاَّ إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ(Except Iblis (Satan). He was one of the Jinn; he disobeyed the command of his Lord.) (18:50)Similarly, Muhammad bin Ishaq reported that Ibn `Abbas said, "Before he undertook the path of sin, Iblis was with the angels and was called `Azazil.' He was among the residents of the earth and was one of the most active worshippers and knowledgeable persons among the angels. This fact caused him to be arrogant. Iblis was from a genus called Jinn."The Prostration was before Adam but the Obedience was to AllahQatadah commented on Allah's statement,وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَـئِكَةِ اسْجُدُواْ لاًّدَمَ(And (remember) when We said to the angels: "Prostrate yourselves before Adam.")"The obedience was for Allah and the prostration was before Adam. Allah honored Adam and commanded the angels to prostrate before him." Some people said that this prostration was just a prostration of greeting, peace and honor, hence Allah's statement,وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّواْ لَهُ سُجَّدَا وَقَالَ يأَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَـى مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّا(And he (Prophet Yusuf) raised his parents to the throne and they fell down before him prostrate. And he said: "O my father! This is the interpretation of my dream aforetime! My Lord has made it come true!") (12:100)The practice of prostrating was allowed for previous nations, but was repealed for ours. Mu`adh said to the Prophet , "I visited Ash-Sham and found that they used to prostate before their priests and scholars. You, O Messenger of Allah ﷺ , are more deserving of prostration." The Prophet said,«لَا لَوْ كُنْتُ آمِرًا بَشَرًا أنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأةَ أنْ تَسْجُدَ لِزَوجِهَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا»(No. If I was to command any human to prostrate before another human, I would command the wife to prostrate before her husband because of the enormity of his right on her.)Ar-Razi agreed with this view. Also, Qatadah said about Allah's statement,فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَـفِرِينَ(And they prostrated except Iblis (Shaytan), he refused and was proud and was one of the disbelievers (disobedient to Allah).)"Iblis, the enemy of Allah, envied Adam because Allah honored Adam. He said, `I was created from fire, and he was created from clay.' Therefore, the first error ever committed was arrogance, for the enemy of Allah was too arrogant to prostrate before Adam." I - Ibn Kathir - say, the following is recorded in the Sahih,«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْر»(No person who has the weight of a mustard seed of arrogance in his heart shall enter Paradise.)Iblis had disbelief, arrogance, and rebellion, all of which caused him to be expelled from the holy presence of Allah, and His mercy.
آدم علیہ السلام پر اللہ تعالٰی کے احسانات ٭٭حضرت آدم علیہ السلام کی اس بہت بڑی بزرگی کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر اپنا بہت بڑا احسان فرمایا اور خبر دی کہ اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں۔ اس کی تصدیق میں بہت سی حدیثیں ہیں ایک تو حدیث شفاعت جو ابھی بیان ہوئی۔ دوسری حدیث میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ میری ملاقات آدم علیہ السلام سے کرا دیجئیے جو خود بھی جنت سے نکلے اور ہم سب کو بھی نکالا۔ جب دونوں پیغمبر جمع ہوئے تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ تم وہ آدم علیہ السلام ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح تم میں بھی پھونکی اور اپنے فرشتوں سے تمہیں سجدہ کرایا [سنن ابوداود:4702، قال الشيخ الألباني:حسن] [ آخر تک ] پوری حدیث عنقریب بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ابلیس فرشتوں کے ایک قبیلہ میں سے تھا جنہیں جن کہتے تھے جو آگ کے شعلوں سے پیدا ہوئے تھے۔ اس کا نام حارث تھا اور جنت کا خازن تھا۔ اس قبیلے کے سوا اور فرشتے سب کے سب نوری تھے۔ قرآن نے بھی ان جنوں کی پیدائش کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے آیت «وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ» [ 55۔ الرحمن: 15 ] آگ کے شعلے کی جو تیزی سے بلند ہوتے ہیں اسے مارج کہتے ہیں جس سے جن پیدا کئے گئے تھے اور انسان مٹی سے پیدا کیا گیا۔ زمین میں پہلے جن بستے تھے۔ انہوں نے فساد اور خون ریزی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو فرشتوں کا لشکر دے کر بھیجا انہی کو ”جن“ کہا جاتا تھا۔ ابلیس نے لڑ بھڑ کر مارتے اور قتل کرتے ہوئے انہیں سمندر کے جزیروں اور پہاڑوں کے دامنوں میں پہنچا دیا اور ابلیس کے دل میں یہ تکبر سما گیا کہ میں نے وہ کام کیا ہے جو کسی اور سے نہ ہو سکا۔ چونکہ دل کی اس بدی اور اس پوشیدہ خودی کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو تھا۔ جب پروردگار نے فرمایا کہ زمین میں خلیفہ پیدا کرنا چاہتا ہوں تو ان فرشتوں نے عرض کیا کہ ایسے کو کیوں پیدا کرتا ہے جو اگلی قوم کی طرح فساد و خونریزی کریں تو انہیں جواب دیا گیا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے یعنی ابلیس کے دل میں جو کبر و غرور ہے اس کا مجھی کو علم ہے تمہیں خبر نہیں۔ پھر آدم علیہ السلام کی مٹی اٹھائی گئی جو چکنی اور اچھی تھی۔ جب اس کا خمیر اٹھا تب اس سے آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور چالیس دن تک وہ یونہی پتلے کی شکل میں رہے ابلیس آتا تھا اور اس پر لات مار کر دیکھتا تھا تو وہ بجتی مٹی ہوتی جیسے کوئی کھوکھلی چیز ہو پھر منہ کے سوراخ سے گھس کر پیچھے کے سوراخ سے اور اس کے خلاف آتا جاتا رہا اور کہتا رہا کہ درحقیقت یہ کوئی چیز نہیں اور اگر میں اس پر مسلط کیا گیا تو اسے برباد کر کے چھوڑ دوں گا اور اسے مجھ پر مسلط کیا گیا تو میں ہر گز تسلیم نہ کروں گا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھونکی اور وہ سر کی طرف سے نیچے کی طرف آئی تو جہاں جہاں تک پہنچتی گئی خون گوشت بنتا گیا۔ جب ناف تک روح پہنچی تو اپنے جسم کو دیکھ کر خوش ہوئے اور فوراً اٹھنا چاہا لیکن نیچے کے دھڑ میں روح نہیں پہنچتی تھی اس لیے اٹھ نہ سکے اسی جلدی کا کا بیان اس آیت میں ہے آیت «وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا» [ 17۔ الاسرآء: 11 ] یعنی انسان بےصبرا اور جلد باز ہے نہ تو خوشی نہ رنج میں۔ جب روح جسم میں پہنچی اور چھینک آئی تو کہا آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» اللہ تعالیٰ نے جواب دیا دعا «یرحمک اللہ» پھر صرف ابلیس کے ساتھی فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا لیکن ابلیس کا وہ غرور و تکبر ظاہر ہو گیا اس نے نہ مانا اور سجدے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں اس سے بڑی عمر والا ہوں۔ اور اس سے قوی اور مضبوط ہوں۔ یہ مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور میں آگ سے بنا ہوں اور آگ مٹی سے قوی ہے۔ اس کے انکار پر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے ناامید کر دیا اور اسی لیے اسے ابلیس کہا جاتا ہے۔ اس کی نافرمانی کی سزا میں اسے راندہ درگاہ شیطان بنا دیا۔صفحہ نمبر225پھر آدم علیہ السلام کو انسان جانور زمین سمندر پہاڑ وغیرہ کے نام بتا کر ان کو ان فرشتوں کے سامنے پیش کیا جو ابلیس کے ساتھی تھے اور آگ سے پیدا شدہ تھے اور ان سے فرمایا کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ میں زمین میں اسے خلیفہ نہ بناؤں تو ذرا مجھے ان چیزوں کے نام تو بتا دو۔ جب ان فرشتوں نے دیکھا کہ ہماری اگلی بات سے الٰہ العالمین ناراض ہے تو وہ کہنے لگے کہ اللہ عزوجل تو اس بات سے پاک ہے کہ تیرے سوا کوئی اور غیب کو جانے ہماری توبہ ہے اور اقرار ہے کہ ہم غیب داں نہیں۔ ہم تو صرف وہی جان سکتے ہیں جس کا علم تو ہمیں دیدے۔ جیسے تو نے ان کے نام صرف آدم علیہ السلام کو ہی سکھائے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے فرمایا کہ تم انہیں ان تمام چیزوں کے نام بتا دو چنانچہ انہوں نے بتا دئیے تو فرمایا اے فرشتو! کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمان و زمین کے غیب کا جاننے والا صرف میں اکیلا ہی ہوں اور کوئی نہیں۔ میں ہر پوشیدہ چیز کو بھی ویسا ہی جانتا ہوں جیسے ظاہر کو اور تم سب اس سے بے خبر ہو لیکن یہ قول بھی غریب ہے اور اس میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جن میں خامیاں ہیں ہم اگر انہیں الگ الگ بیان کریں تو مضمون بہت بڑھ جائے گا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تک اس اثر کی سند بھی وہی ہے جس سے ان کی مشہور تفسیر مروی ہے۔ ایک اور حدیث میں بھی اسی طرح مروی ہے جس کے متن میں کچھ کمی زیادتی بھی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ زمین کی مٹی لینے کے لیے جب جبرائیل علیہ السلام گئے تو زمین نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں کہ تو مجھ میں سے کچھ گھٹائے وہ واپس چلے گئے پھر ملک الموت کو بھیجا۔ زمین نے ان سے بھی یہی کہا لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اللہ کا حکم پورا کئے بغیر واپس چلا جاؤں چنانچہ انہوں نے تمام روئے زمین سے ایک ایک مٹھی مٹی لی۔ چونکہ مٹی کا رنگ کہیں سرخ تھا کہیں سفید کہیں سیاہ اسی وجہ سے انسانوں کی رنگتیں بھی طرح طرح کی ہوئیں لیکن یہ روایت بھی بنو اسرائیل کی روایات سے ماخوذ ہے غالباً اس میں بہت سی باتیں نیچے کے لوگوں کی ملائی گئی ہیں۔ صحابی کا بیان ہی نہیں اگر صحابی کا قول بھی ہو تو بھی انہوں نے بعض اگلی کتابوں سے لیا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر226تعارف ابلیس ٭٭حاکم اپنی مستدرک میں بہت سی ایسی روایتیں لائے ہیں اور ان کی سند کو بخاری سے مشروط کیا ہے۔ [مستدرک حاکم:261/2:صحیح] مقصد یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو اس خطاب میں ابلیس بھی داخل تھا اس لیے کہ گو وہ ان میں سے نہ تھا لیکن ان ہی جیسا اور ان ہی جیسے کام کرنے والا تھا اس لیے اس خطاب میں داخل تھا اور پھر نافرمانی کی سزا بھگتی۔ اس کی تفصیل ان شاءاللہ تعالیٰ آیت «إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ» [ 18-الكهف: 50 ] کی تفسیر میں آئے گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نافرمانی سے پہلے وہ فرشتوں میں تھا۔ عزازیل اس کا نام تھا زمین پر اس کی رہائش تھی اجتہاد اور علم میں بہت بڑا تھا اور اسی وجہ سے دماغ میں رعونت تھی اور اس کی جماعت کا اور اس کا تعلق جنوں سے تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:502/1] اس کے چار پر تھے۔ جنت کا خازن تھا زمین اور آسمان دونوں کا سلطان تھا۔ حسن فرماتے ہیں ابلیس کبھی فرشتہ نہ تھا اس کی اصل جنات سے ہے جیسے کہ آدم علیہ السلام کی اصل انس سے ہے اس کی اسناد صحیح ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم اور شہر بن حوشب رحمہ اللہ علیہما کا بھی یہی قول ہے۔ سعد بن مسعود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ فرشتوں نے جنات کو جب مارا تب اسے قید کیا تھا اور آسمان پر لے گئے تھے وہاں کی عبادت کی وجہ سے رہ پڑا۔صفحہ نمبر227سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ پہلے ایک مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا انہیں آدم کو سجدہ کرنے کو کہا۔ انہوں نے انکار کیا جس پر وہ جلا دئیے گئے پھر دوسری مخلوق پیدا کی ان کا بھی یہی حشر ہوا پھر تیسری مخلوق پیدا کی انہوں نے تعمیل ارشاد کی لیکن یہ اثر بھی غریب ہے اور اس کی اسناد بھی تقریباً غیر صحیح ہے۔ اس میں ایک راوی مبہم ہے اس وجہ سے یہ روایت قابل حجت نہیں کافرین سے مراد نافرمان ہے۔ ابلیس کی ابتداء آفرینش ہی کفر و ضلالت پر تھی کچھ دن ٹھیک ٹھاک رہا لیکن پھر اپنی اصلیت پر آ گیا۔ سجدہ کرنے کا حکم بجا لانا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور آدم علیہ السلام کا اکرام تھا۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ سجدہ سلام اور عزت و اکرام کا تھا جیسے کہ یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمان ہے۔ کہ انہوں نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھا لیا اور سب کے سب سجدہ میں گر پڑے اور یوسف علیہ السلام نے فرمایا ابا جان یہی میرے اس خواب کی تعبیر ہے جسے میرے رب نے سچا کر دکھایا۔ [12-يوسف:100] اگلی امتوں میں سجدہ تعظیم جائز تھا لیکن ہمارے دین میں یہ منسوخ ہو گیا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شامیوں کو اپنے سرداروں اور علماء کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں کسی انسان کو کسی انسان کے سامنے سجدہ کرنے کی اجازت دینے والا ہوتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں کیونکہ ان کا ان پر بہت بڑا حق ہے۔ [سنن ابن ماجه:1852، قال الشيخ الألباني:صحیح] امام رازی رحمہ اللہ نے اسی کو ترجیح دی ہے بعض کہتے ہیں کہ سجدہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تھا۔ آدم بطور قبلہ [ یعنی سمت ] کے تھے جیسے قرآن کریم میں ہے آیت «اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ» [ 17۔ الاسرآء: 78 ] لیکن اس میں بھی اختلاف ہے اور پہلے ہی قول کا زیادہ صحیح ہونا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ یہ سجدہ آدم علیہ السلام کے اکرام بڑائی احترام اور سلام کے طور پر تھا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ماتحت تھا کیونکہ اس کا حکم تھا جس کی بجا آوری ضروری تھی۔ امام رازی رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو قوی قرار دیا ہے اور اس کے سوا دوسرے اقوال کو ضعیف قرار دیا ہے ایک تو آدم علیہ السلام کا بطور قبلہ کے ہونا جس میں کوئی بڑا شرف ظاہر نہیں ہوتا۔ دوسرے سجدے سے مراد پست عاجز ہونا نہ کہ زمین میں ماتھا ٹکا کر حقیقی سجدہ کرنا لیکن یہ دونوں تاویلیں ضعیف ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سب سے پہلا گناہ یہی تکبر ہے جو ابلیس سے سرزد ہوا۔ صحیح حدیث میں ہے جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ [صحیح مسلم:91:صحیح] اسی تکبر کفرو عناد کی وجہ سے ابلیس کے گلے میں طوق لعنت پڑا اور رحمت سے مایوس ہو کر جناب باری سے دھتکارا گیا۔ یہاں «کان صار» کے معنی میں بتلایا گیا ہے جیسے کہ آیت «فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ» [11-هود:43] اور آیت «فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ» [7-الأعراف:19] شاعروں کے شعروں میں بھی اس کا ثبوت ہے تو معنی یہ ہوئے کہ وہ کافر ہو گیا ابن فورک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں کافروں میں سے تھا۔صفحہ نمبر228قرطبی رحمہ اللہ اسی کو ترجیح دیتے ہیں اور یہاں ایک مسئلہ بیان فرماتے ہیں کہ کسی شخص کے ہاتھ سے کچھ کرامتیں سرزد ہو جانا اس کے ولی اللہ ہونے کی دلیل نہیں گو بعض صوفی اور رافضی اس کے خلاف بھی کہتے ہیں کہ اس لیے کہ ہم اس بات کا کسی کے لیے فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ ایمان ہی کی حالت میں اللہ سے جا ملے گا اسی شیطان کو دیکھئیے ولی ہی نہیں بلکہ فرشتہ بنا ہوا تھا لیکن آخر سردار کفر و کفار ہو گیا۔ علاوہ ازیں ایسی خلاف عادت و عقل باتیں جو بظاہر کرامات نظر آتی ہیں اولیاء اللہ کے سوا اور لوگوں کے ہاتھوں سے بھی سرزد ہوتی ہیں بلکہ فاسق فاجر مشرک کافر سے بھی ظاہر ہو جاتی ہیں۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ» [44-الدخان:10] کی آیت دل میں سوچ کر جب ابن صیاد کافر سے پوچھا کہ میں نے کیا سوچا ہے تو اس نے کہا تھا دُخْ۔ [صحیح بخاری:1354:صحیح] بعض روایات میں ہے کہ غصہ کے وقت وہ اتنا پھول جاتا کہ اس کے جسم سے تمام راستہ رک جاتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے مارا۔ [صحیح مسلم:2932:صحیح] دجال کی تو ایسی بہت سی باتیں احادیث میں وارد ہیں مثلاً اس کا آسمان سے بارش برسانا زمین سے پیداوار اگانا زمین کے خزانوں کا اس کے پیچھے لگنا ایک نوجوان کو قتل کر کے پھر جلانا وغیرہ وغیرہ۔ [صحیح بخاری:7122:صحیح] سیدنا لیث بن سعد رضی اللہ عنہما اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر تم کسی کو پانی پر چلتے ہوئے اور ہواؤں میں اڑتے ہوئے دیکھو تو اسے ولی نہ سمجھ بیٹھو جب تک کہ اس کے تمام اعمال و افعال قرآن و حدیث کے مطابق نہ پاؤ۔ اس سجدے کا حکم زمین و آسمان کے تمام فرشتوں کو تھا گو ایک جماعت کا قول یہ بھی ہے کہ صرف زمین کے فرشتوں کو یہ حکم تھا لیکن یہ ٹھیک نہیں قرآن کریم میں ہے آیت «فَسَجَدَ الْمَلٰىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ» [ 15۔ الحجر: 31-30 ] یعنی ابلیس کے سوا تمام فرشتوں نے سجدہ کیا پس اول تو جمع کا صیغہ لانا پھر «کلھم» سے تاکید کرنا پھر «اجمعون» کہنا اس کے بعد صرف ابلیس کا استثناء کرنا ان چاروں وجوہات سے صاف ظاہر ہے کہ یہ حکم عام تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر229
آیت 34 وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلآءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَط یہاں ایک بات تو یہ سمجھئے کہ آدم علیہ السلام ‘ کو تمام ملائکہ کے سجدے کی ضرورت کیا تھی ؟ کیا یہ صرف تعظیماً تھا ؟ اور اگر تعظیماً تھا تو کیا آدم خاکی کی تعظیم مقصود تھی یا کسی اور شے کی تعظیم تھی ؟ مکی سورتوں میں یہ بات دو جگہ بایں الفاظ واضح کی گئی ہے : فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ الحجر : 29 و صٓ: 72 ”پھر جب میں اس آدم کی تخلیق مکمل کرلوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تب گرپڑنا اس کے سامنے سجدے میں“۔ چناچہ تعظیم اگر ہے تو آدم خاکی کی نہیں ہے ‘ اس کے اندر موجود ”روحِ رّبانی“ کی ہے ‘ جو ایک Divine Element یا Divine Spark ہے ‘ جسے خود خالق نے ”مِنْ رُّوْحِیْ“ سے تعبیر فرمایا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس سجدے کی حکمت کیا ہے ؟ اس کی علت اور غرض وغایت کیا ہے ؟ جیسا کہ میں نے عرض کیا ‘ اس کائنات یعنی اس آفاقی حکومت کے کارندے تو فرشتے ہیں اور خلیفہ بنایا جا رہا ہے انسان کو۔ لہٰذا جب تک یہ ساری سول سروس اس کے تابع نہ ہو وہ خلافت کیسے کرے گا ! جب ہم کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں اور کوئی فعل کرنا چاہتے ہیں تو اس فعل کے پورا ہونے میں ‘ اس کے ظہور پذیر ہونے میں نمعلوم کون کون سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں اور فطرت کی کون کون سی قوتیں forces ہمارے ساتھ موافقت کرتی ہیں تو ہم وہ کام کرسکتے ہیں ‘ اور ان سب پر فرشتے مأمور ہیں۔ ہر ایک کی اپنی اقلیم domain ہے۔ اگر وہ انسان کے تابع نہ ہوں تو خلافت کے کوئی معنی ہی نہیں ہیں۔ اسے خلافت دی گئی ہے ‘ یہ جدھر جانا چاہتا ہے جانے دو ‘ یہ نماز کے لیے مسجد میں جانا چاہتا ہے جانے دو ‘ یہ چوری کے لیے نکلا ہے نکلنے دو۔ انسان کو جو اختیار دیا گیا ہے اس کے استعمال میں یہ تمام قوتیں اس کے ساتھ موافقت کرتی ہیں تب ہی اس کا کوئی ارادہ ‘ خواہ اچھا ہو یا برا ‘ پایۂ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔ اس موافقت کی علامت کے طور پر تمام فرشتوں کو انسان کے آگے جھکا دیا گیا۔اس آیت میں ”اِلَّآ اِبْلِیْسَ“ سوائے ابلیس کے سے یہ مغالطہ پیدا ہوسکتا ہے کہ شاید ابلیس بھی فرشتہ تھا۔ اس لیے کہ سجدے کا حکم تو فرشتوں کو دیا گیا تھا۔ اس مغالطے کا ازالہ سورة الکہف میں کردیا گیا جو سورة البقرۃ سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی۔ وہاں الفاظ آئے ہیں : کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ ط آیت 50 ”وہ جنوں میں سے تھا ‘ پس اس نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے“۔ فرشتوں میں سے ہوتا تو نافرمانی کر ہی نہ سکتا۔ فرشتوں کی شان تو یہ ہے کہ وہ اللہ کے کسی حکم سے سرتابی نہیں کرسکتے۔ ازروئے الفاظ قرآنی : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَا اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ التحریم ”وہ اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں“۔ جناتّ بھی انسانوں کی طرح ایک ذی اختیار مخلوق ہے جسے ایمان و کفر اور طاعت و معصیت دونوں کی قدرت بخشی گئی ہے۔ چناچہ جنات میں نیک بھی ہیں بد بھی ہیں ‘ اعلیٰ بھی ہیں ادنیٰ بھی ہیں ‘ جیسے انسانوں میں ہیں۔ لیکن یہ ”عزازیل“ جو جن تھا ‘ علم اور عبادت دونوں کے اعتبار سے بہت بلند ہوگیا تھا اور فرشتوں کا ہم نشین تھا۔ یہ فرشتوں کے ساتھ اس طور پر شامل تھا جیسے بہت سے انسان بھی اگر اپنی بندگی میں ‘ زُہد میں ‘ نیکی میں ترقی کریں تو ان کا عالم ارواح کے ساتھ ‘ عالم ملائکہ کے ساتھ اور ملأ اعلیٰ کے ساتھ ایک رابطہ قائم ہوتا ہے۔ اسی طرح عزازیل بھی جن ہونے کے باوجود اپنی نیکی ‘ عبادت ‘ پارسائی اور اپنے علم میں فرشتوں سے بہت آگے تھا ‘ اس لیے ”مُعَلِّمُ الْمَلَکوت“ کی حیثیت اختیار کرچکا تھا اور اسے اپنی اس حیثیت کا بڑازعم تھا۔جیسا کہ عرض کیا گیا ‘ قرآن حکیم میں قصۂ آدم و ابلیس کے ضمن میں یہ بات سات مرتبہ آئی ہے کہ فرشتوں کو حکم ہوا کہ آدم کو سجدہ کرو ‘ سب جھک گئے مگر ابلیس نے سجدے سے انکار کردیا۔ آیات زیر مطالعہ میں قصہ آدم و ابلیس ساتویں مرتبہ آ رہا ہے۔ اگرچہ مصحف میں یہ پہلی مرتبہ آرہا ہے لیکن ترتیب نزولی کے اعتبار سے یہاں ساتویں مرتبہ آ رہا ہے۔ آدم و ابلیس کا یہ قصہ سورة البقرۃ کے بعد سورة الاعراف میں ‘ پھر سورة الحجر میں ‘ پھر سورة بنی اسرائیل میں ‘ پھر سورة الکہف میں ‘ پھر سورة طٰہٰ میں اور پھر سورة صٓ میں آئے گا۔ یعنی یہ قصہ قرآن حکیم میں چھ مرتبہ مکی سورتوں میں آیا ہے اور ایک مرتبہ مدنی سورت سورة البقرۃ میں۔ ابلیس کا اصل نام ”عزازیل“ تھا ‘ ابلیس اب اس کا صفاتی نام ہے۔ اس لیے کہ اَبْلَسَ ‘ یُبْلِسُ کے معنی ہوتے ہیں مایوس ہوجانا۔ یہ اللہ کی رحمت سے بالکل مایوس ہے اور جو اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجائے وہ شیطان ہوجاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اب میرا تو چھٹکارا نہیں ہے ‘ میری تو عاقبت خراب ہو ہی چکی ہے ‘ لہٰذا میں اپنے ساتھ اور جتنوں کو برباد کرسکتا ہوں کرلوں۔ ع ”ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے !“ اب وہ شیطان اس معنی میں ہے کہ انسان کی عداوت اس کی گھٹی میں پڑگئی۔ اس نے اللہ سے اجازت بھی لے لی کہ مجھے مہلت دے دے قیامت کے دن تک کے لیے اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ تو میں ثابت کر دوں گا کہ یہ آدم اس رتبے کا حق دار نہ تھا جو اسے دیا گیا۔ اَبٰی وَاسْتَکْبَرَز قرآن حکیم میں دوسرے مقامات پر اس کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں : اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ ج خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ الاعراف : 12 و صٓ: 76 ”میں اس سے بہتر ہوں ‘ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے گارے سے بنایا“۔ درحقیقت یہی وہ تکبرّ ہے جس نے اسے راندۂ درگاہِ حق کردیا تکبر عزازیل را خوار کرد کہ در طوق لعنت گرفتار کرد وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ یا ”اور تھا وہ کافروں میں سے۔“ کَانَعربی زبان میں دو طرح کا ہوتا ہے : ”تامہ“ اور ”ناقصہ“۔ کَانَناقصہ کے اعتبار سے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ اپنے اس استکبار اور انکار کی وجہ سے وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ جبکہ کان تامہّ کے اعتبار سے یہ معنی ہوں گے کہ وہ تھا ہی کافروں میں سے۔ یعنی اس کے اندر سرکشی چھپی ہوئی تھی ‘ اب ظاہر ہوگئی۔ ایسا معاملہ کبھی ہمارے مشاہدے میں بھی آتا ہے کہ کسی شخص کی بدنیتی پر نیکی اور زہد کے پردے پڑے رہتے ہیں اور کسی خاص وقت میں آکر وہ ننگا ہوجاتا ہے اور اس کی باطنی حقیقت سامنے آجاتی ہے۔
The episode recounted in the foregoing verses has shown how the angels came to learn that Adam was superior to them in so far as he possessed the forms of knowledge necessary for the function of divine vice regency, while they themselves did not, nor did the jinns. Now, Allah willed to manifest this superiority in a visible and concrete form. So, He commanded the angels to prostrate themselves before Adam (علیہ السلام) in his honour. They obeyed except Iblis ابلیس or Satan who, in his pride, refused to do so.If we go by the words of the Holy Qur'an, the command was given to the angels alone, but, in excepting Iblis ابلیس from those who obeyed, the text also suggests that the command was given to all the created beings that existed at that time and possessed understanding, including the jinns as well as the angels. But the Holy Qur'an mentions the angels alone, because when superior beings like the angels were required to show their respect for Adam (علیہ السلام) ، inferior creatures like the jinns must, it goes without saying, have been ordered to do the same.Angels prostrate before Adam(1) In this verse, the angels have been commanded to prostrate themselves before Adam (علیہ السلام) . Another verse of the Holy Qur'an tells us that the parents and the brothers of Yusuf (علیہ السلام) (Joseph) on reaching Egypt, prostrated themselves before him (12:100). Evidently such a prostration cannot have been intended as an act of worship, for worshipping anyone other than Allah is an act of association (Shirk شرک) and infidelity (Kufr کفر), and hence cannot possibly be allowed by any Shari` ah. So, it appears that in the days of the ancient prophets prostrating oneself before somebody must have been just an act of courtesy or a way of showing one's respect, and enjoyed the same value as we do in our own days things like a simple greeting, a handshake, the kissing of hand, or standing up in someone's honour. Imam Al-Jassas has said in his Ahkam al-Qur'an that it was permissible in the Shari` ah of the earlier prophets (علیہم السلام) to prostrate oneself in honour of one's elders, but that the Shari'ah of the Holy Prophet ﷺ has forbidden gestures like prostrating oneself, or bowing down very low or standing with one hand placed on the other in the manner of the Salah before someone, all of which may suggest an act of worship, and has allowed only greeting (Salam) and hand-shake as a gesture of courtesy or respect.It is easy to understand the raison d'etre of such a prohibition. Association, infidelity and the worship of anyone other than Allah are things which in their nature go against the very principle of 'Iman ایمان (faith), and cannot therefore be tolerated by any Shari' ah. There are, however, certain acts and gestures which are not in themselves acts of 'association' or infidelity, but may, on account of the ignorance or indifference of people, become a prelude to 'association' and infidelity. So, the Shari` ahs of the earlier prophets did not forbid such acts in an absolute manner, but prevented them from being used as the instruments of 'association' and infidelity. For example, making pictures of living things is not in itself an act of 'association' or infidelity, and was hence permissible in the earlier Shari'ahs. In speaking of how the jinns used to serve Sulayman (علیہ السلام) (Solomon) the Holy Qur'an itself says: يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ :"They made for him whatever he liked - places of worship, and pictures." (34:13) Similarly, prostrating oneself before somebody as a gesture of respect was permissible in the earlier Shari` ahs. But gradually the practice opened the way to 'association' and infidelity on account of people's ignorance and thoughtlessness, and even caused grave distortions in the Shari` ahs of different prophets, which had to be rectified by other prophets and other Shari` ahs.Since the Holy Prophet ﷺ is the last of all the prophets and messengers of Allah, and his Shari'ah is the last of all Shari` ahs and is to remain valid upto the end of time, Allah has, in order to protect it against all distortion, stopped every chink through which 'association' or idolatry could possibly enter. That is why this Shari'ah has strictly forbidden all those practices which had at one time or another served as a means towards 'association' or idol-worship.For example, making pictures of living things has been totally banned; prostrating oneself before somebody, even as a mark of respect, has been forbidden; it is not permissible to offer one's Salah (prayer) at those hours of the day which the infidels had reserved for worshipping their gods, for even this slight and external correspondence might lead to 'association'; and, according to a Hadith reported by Muslim, one is not allowed to call one's slave an "` abd" عبد ، nor is a slave allowed to call his master a "rabb رَبّ " - the words respectively signify "a slave" and 'one who gives nurture', and are as such harmless, but they can be misconstrued, and may mislead ignorant slaves or helpless and subjugated people into the worship of their masters: hence the prohibition.With regard to the question of prostration, we may add that, according to some authentic scholars, Salah, the basic form of Islamic worship, comprises of four kinds of actions - standing upright, bowing, sitting down, and prostrating oneself; the first two of these, standing up and sitting down, are actions which one habitually does in the course of one's daily chores, and which one also performs as acts of worship in the course of a Salah (prayer), but the other two, bowing down and prostrating oneself, are actions which one does not go through as a matter of habit, and which are characteristically associated with Salah (prayer) and ` Ibadah (worship); hence it is that the Islamic Shari'ah has identified them with acts of worship, and forbidden the Muslims to bow down or prostrate themselves before anyone other than Allah.Given that the Holy Qur'an itself speaks of prostration as a mark of respect, one would wish to know on what grounds it has been affirmed that the Islamic Shari'ah has forbidden this practice. As to this question, we may point out that several well-known narrations coming down to us from the Holy Prophet ﷺ through quite a large number of his blessed Companions, are there to establish that prostrating oneself before somebody as a mark of respect is unlawful (haram حرام). To cite only one such narration, the Holy Prophet ﷺ has said that, if he could allow people to prostrate themselves before anyone other than Allah as a mark of respect, he would have ommanded wives to prostrate themselves before their husbands. This clearly shows that prostration as a mark of respect is absolutely forbidden, and no allowance can, in this respect, be made in favour of any created being. We may add that the Hadith we have just referred to has come down to us through twenty Companions, while, according to Tadrib al-Rawi, the famous book on the fundamentals of the science of Hadith, a Tradition which has been reported by only ten Companions is called Mutawatir متواتر ، and enjoys the same authority in the matter of injunctions as the Holy Qur'an.(2) The Holy Qur'an describes Iblis or Satan شیطان as an infidel. His infidelity does not arise from disobedience in his action, for, according to the Shari'ah, giving up an obligation in practice is only a sin and a transgression, and does not constitute infidelity. Iblis became an infidel, because he had defied and challenged a divine commandment, and had, in refusing to prostrate himself, virtually said that, in his opinion, Adam علیہ السلام was not worthy of it.(3) Iblis had attained such a high degree in science and knowledge that he was called طاؤس الملأکہ Ta’ us al-Mala'ikah: "The Peacock Among the Angels." How did he, then, come to commit such a suicidal error? Some scholars say that it was because of his pride and vanity that Allah took back from him the wealth of knowledge and understanding, and hence he came to act like an ignorant fool. Others have suggested that his error was due to self-love and ambition. The famous commentary, 'Ruh al-Bayan' resolves the question by quoting a line of verse in Arabic which shows that once the aid of Allah has been withdrawn from a man, he can no longer save himself from sins, and all the effort he makes only serves to push him farther and farther into misguidance. May Allah, in his mercy, save all of us from such a fate! The commentary draws from it the conclusion that one should not be vain about one's learning or one's deeds or even about one's Iman ایمان (faith), for Iman ایمان is valid only if it lasts till one's final breath and into the first stage of one's journey to the other world.
Adam is the first human and first prophet according to Islamic theology. The Quran (2:30-39; 7:11-25) records: the angels' objection to his creation ('Will You place therein one who causes corruption?'), Allah teaching Adam the names of all things (a demonstration of human capacity for knowledge), the command to prostrate before Adam (which Iblis refused), placement in Paradise, and the descent to Earth after eating from the forbidden tree. Adam's repentance (7:23) — 'Our Lord, we have wronged ourselves' — is the first recorded du'a and model of seeking forgiveness.
The Quran (2:34; 7:11-12; 15:28-33; 17:61-63; 18:50; 20:116-117; 38:71-78) records that Allah commanded all the angels to prostrate before Adam — all did except Iblis (Azazil/Satan), who refused out of pride: 'I am better than him; You created me from fire and created him from clay.' This act of kibr (arrogance) is the first sin in the Quran's cosmological narrative and the root of all subsequent evil. The lesson: not recognizing one's place in relation to Allah and the divine order leads to absolute ruin.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.