The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Baqarah • Ayah 271

Para 3 Surah 2 : 271
إِن تُبْدُوا۟ ٱلصَّدَقَـٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا ٱلْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّـَٔاتِكُمْ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

إِن
تُبْدُوا۟
ٱلصَّدَقَـٰتِ
فَنِعِمَّا
هِىَ
ۖ
وَإِن
تُخْفُوهَا
وَتُؤْتُوهَا
ٱلْفُقَرَآءَ
فَهُوَ
خَيْرٌ
لَّكُمْ
ۚ
وَيُكَفِّرُ
عَنكُم
مِّن
سَيِّـَٔاتِكُمْ
ۗ
وَٱللَّهُ
بِمَا
تَعْمَلُونَ
خَبِيرٌ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Allah states that He has perfect knowledge of the good deeds performed by all of His creation, such as charity and various vows, and He rewards tremendously for these deeds, provided they are performed seeking His Face and His promise. Allah also warns those who do not work in his obedience, but instead disobey His command, reject His revelation and worship others besides Him:وَمَا لِلظَّـلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ(And for the wrongdoers there are no helpers.) meaning, who will save them from Allah's anger and torment on the Day of Resurrection.The Virtue of Disclosing or Concealing CharityAllah said,إِن تُبْدُواْ الصَّدَقَـتِ فَنِعِمَّا هِىَ(If you disclose your Sadaqat, it is well) meaning, "It is well if you make known the charity that you give away."Allah's statement,وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ(But if you conceal them and give them to the poor, that is better for you.) this indicates that concealing charity is better than disclosing it, because it protects one from showing off and boasting. However, if there is an apparent wisdom behind disclosing the charity, such as the people imitating this righteous act, then disclosing it becomes better than concealing it. The Messenger of Allah ﷺ said,«الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَة»(He who utters aloud Qur'anic recitation is just like he who discloses charity acts. He who conceals Qur'anic recitation is just like he who conceals charity acts.)The Ayah indicates that it is better that acts of charity be concealed, as reiterated by the Hadith that the Two Sahihs recorded from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,«سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللهِ،اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ، إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا، حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُه»(Allah will give shade to seven on the Day when there will be no shade but His. (They are:) a just ruler, a youth who has been brought up in the worship of Allah, two persons who love each other only for Allah's sake who meet and part in Allah's cause only, a man whose heart is attached to the Masjids from the time he departs the Masjid until he returns to it, a person who remembers Allah in seclusion and his eyes are then flooded with tears, a man who refuses the call of a charming woman of noble birth for illicit intercourse with her and says, `I fear Allah, Lord of the worlds', and a man who gives charitable gifts so secretly that his left hand does not know what his right hand has given.)Allah's statement,وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ((Allah) will expiate you some of your sins) means, in return for giving away charity, especially if it was concealed. Therefore, you will gain goodness by your rank being raised, and your sins being forgiven.Allah's statement,وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ(And Allah is Well-Acquainted with what you do) means, "No good deed that you perform escapes His knowledge, and He shall reward for it."

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

نیک اور بد لوگ ظاہر اور درپردہ حقیقت ٭٭اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر ایک خرچ اور نذر کو اور ہر بھلے عمل کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس کا حکم بجا لاتے ہیں اس سے ثواب کی امید رکھتے ہیں، اس کے وعدوں کو سچا جانتے ہیں، اس کے فرمان پر ایمان رکھتے ہیں، بہترین بدلہ عطا فرمائے گا اور ان کے خلاف جو لوگ اس کی حکم برداری سے جی چراتے ہیں گناہ کا کام کرتے ہیں، اس کی خبروں کو جھٹلاتے ہیں اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، یہ ظالم ہیں قیامت کے دن قسم قسم کے سخت بدترین اور المناک عذاب انہیں ہوں گے اور کوئی نہ ہو گا جو انہیں چھڑائے یا ان کی مدد میں اُٹھے۔ پھر فرمایا کہ ظاہر کر کے صدقہ دینا بھی اچھا ہے اور چھپا کر فقراء مساکین کو دینا بہت ہی بہتر ہے، اس لیے کہ یہ ریاکاری سے کوسوں دور ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ ظاہر کرنے میں کوئی دینی مصلحت یا دینی فائدہ ہو مثلاً اس لیے کہ اور لوگ بھی دیں وغیرہ۔ حدیث شریف میں ہے کہ صدقہ کا ظاہر کرنے والا مثل بلند آواز سے قرآن پڑھنے والے کے ہے اور اسے چھپانے والا آہستہ پڑھنے والے کی طرح ہے، [سنن ابوداود:1333، قال الشيخ الألباني:] ‏ پس اس آیت سے صدقہ جو پوشیدہ دیا جائے اس کی افضیلت ثابت ہوتی ہےصفحہ نمبر938، بخاری مسلم میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات شخصوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا، عادل بادشاہ، وہ نوجوان جو اپنی جوانی اللہ کی عبادت اور شریعت کی فرمانبرداری میں گزارے۔ وہ دو شخص جو اللہ تعالیٰ کیلئے آپس میں محبت رکھیں، اسی پر جمع ہوں اور اسی پر جدا ہوں، وہ شخص جس کا دِل مسجد میں لگا رہے نکلنے کے وقت سے جانے کے وقت تک وہ شخص جو خلوت میں اللہ کا ذِکر کر کے رو دے، وہ شخص جسے کوئی منصب و جمال والی عورت بدکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جو اپنا صدقہ اس قدر چھپا کر دے کہ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر تک نہ ہو، [صحیح بخاری:660:صحیح] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلنے لگی، اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا کر کے انہیں گاڑ دیا جس سے زمین کا ہلنا موقوف ہو گیا، فرشتوں کو پہاڑوں کی ایسی سنگین پیدائش پر تعجب ہوا انہوں نے دریافت کیا کہ باری تعالیٰ کیا تیری مخلوق میں پہاڑ سے زیادہ سخت چیز بھی کوئی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں لوہا، پوچھا اس سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ فرمایا ہاں آگ، پوچھا اس سے زیادہ سخت چیز کوئی اور بھی ہے؟ فرمایا ہاں پانی، پوچھا کیا اس سے بھی زیادہ سختی والی کوئی چیز ہے؟ فرمایا ہاں ہوا، دریافت کیا اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا ابن آدم جو صدقہ کرتا ہے کہ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر نہیں ہوتی، [سنن ترمذي:3369، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ آیت الکرسی کی تفسیر میں وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو پوشیدگی سے کسی حاجت مند کو دے دیا جائے۔ باوجود مال کی قلت کے، پھر بھی اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [مسند احمد:178/5:ضعیف] ‏صفحہ نمبر939ایک اور حدیث میں ہے پوشیدگی کا صدقہ اللہ کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:664، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنا آدھا مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جو کچھ تھا لا کر رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اپنے گھر والوں کیلئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہما نے جواب دیا اتنا ہی، سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما گو ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے اور چپکے سے سب کے سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر چکے تھے، لیکن جب ان سے پوچھا گیا تو کہنا پڑا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کافی ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما یہ سن کر رو دئیے اور فرمانے لگے اللہ کی قسم جس کسی نیکی کے کام کی طرف ہم لپکے ہیں اس میں اے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما آپ کو آگے ہی آگے پاتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1678، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ آیت کے الفاظ عام ہیں صدقہ خواہ فرض ہو یا خواہ نفل زکوٰۃ ہو یا خیرات اس کی پوشیدگی اظہار سے افضل ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نفلی صدقہ تو پوشیدہ دینا ستر گنی فضیلت رکھتا ہے لیکن فرضی زکوٰۃ کو علانیہ ادا کرنا پچیس گنی فضیلت رکھتا ہے۔ پھر فرمایا صدقے کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں اور برائیوں کو دور کر دے گا بالخصوص اس وقت جبکہ وہ چھپا کر دیا جائے، تمہیں بہت سی بھلائی ملے گی، درجات بڑھیں گے، گناہوں کا کفارہ ہو گا «یُکَفِّرُ» کو «یُکَفَّرْ» بھی پڑھا گیا ہے اس میں صورتاً یہ جواب شرط کے محل پر عطف ہو گا جو «فَنِعِمَّا هِيَ» ہے، جیسے «فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ» [ 63-المنافقون: 10 ] ‏ میں «وَأَكُن» اللہ تعالیٰ پر تمہاری کوئی نیکی بدی سخاوت بخیلی پوشیدگی اور اظہار نیک نیتی اور دنیا طلبی پوشیدہ نہیں وہ پورا پورا بدلہ دے گا۔صفحہ نمبر940

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 271 اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّاہِیَ ج۔خاص طور پر زکوٰۃ کا معاملہ تو علانیہ ہی ہے۔ تو اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ اس لیے کہ کم سے کم فقراء کا حق تو ادا ہوگیا ‘ کسی کی ضرورت تو پوری ہوگئی۔ وَاِنْ تُخْفُوْہَا وَتُؤْتُوْہَا الْفُقَرَآءَ فَہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ط۔ یاد رہے کہ یہ بات صدقات نافلہ کے لیے ہے۔ لیکن جو صدقات واجبہ ہیں ‘ جو لازماً دینے ہیں ‘ مثلاً زکوٰۃ اور عشر ‘ ان کے لیے اخفاء نہیں ہے۔ یہ دین کی حکمت ہے ‘ اس کو ذہن میں رکھیے کہ فرض عبادات علانیہ ادا کی جائیں گی۔ یہ وسوسہ بھی شیطان بہت سوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے کہ کیا پانچ وقت مسجد میں جا کر نماز پڑھنے سے لوگوں پر اپنے تقویٰ کا رعب ڈالنا چاہتے ہو ؟ گھر میں پڑھ لیا کرو ! یا داڑھی اس لیے رکھو گے کہ لوگ تمہیں سمجھیں کہ بڑا متقی ہے ؟ ایسے وساوس شیطانی کو کوئی اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جو چیز فرض و واجب ہے ‘ وہ علی الاعلان کرنی چاہیے ‘ اس کے اظہار میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ ہاں جو نفلی عبادات ہیں ‘ صدقات نافلہ ہیں یا نفل نماز ہے اسے چھپا کر کرنا چاہیے۔ نفل عبادت کا اظہار بہت بڑا فتنہ ہے۔ لہٰذا فرمایا کہ اگر تم اپنے صدقات چھپا کر چپکے سے ضرورت مندوں کو دے دو تو وہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

(5) Verse 271: إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ (الی قولہ) وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِير : "If you give the alms openly, it is good enough, ... and Allah is All-Aware of what you do"Obviously, this verse covers all types of charity, whether obligatory or supererogatory, and it is more preferable to perform all of them as secretly as possible. To observe secrecy in a charitable act has religious merits, because it is far from the possibility of riya' ریاء (show off), and more graceful for the receiver who can feel shy about receiving charity in public. It is also beneficial from an earthly point of view, because it does not disclose the amount of wealth one owns.It should, however, be kept in mind that the preferability of observing secrecy is a matter of principle. There may be situations where it becomes more preferable to perform an act of charity openly for some external reasons, such as removing some accusation (of not paying زکاۃ Zakah, for instance) or to persuade others to follow the example. Such exceptional cases do not negate the basic principle in any way.Immediately after the instruction of concealing the 'Sadaqat صداقات ', the holy verse says, وَيُكَفِّرُ‌ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ (This will write off part of your sins). It does not mean that the expiation of evil-deeds is confined to the charity made in secret only. In fact, a charity made in public also carries the same benefit. But the reference to expiation here is in the context that even if someone feels a secret charity as useless in this world, he should not feel depressed, because Allah will forgive his sins, and that is a great gain for him.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.