Surah Al-Baqarah • Ayah 248
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Their Prophet then proclaimed, "The sign of the blessings of Talut's kingship over you is that Allah will give you back the Tabut (wooden box) that has been taken from you." Allah said: فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ(wherein is Sakinah from your Lord) meaning, peace (or grace) and reassurance. `Abdur-Razzaq stated that Qatadah said: فِيهِ سَكِينَةٌ(wherein is Sakinah) means grace. In addition, Ar-Rabi` said that Sakinah means mercy. This is also the meaning given by Ibn `Abbas, as Al-`Awfi narrated. Allah then said: وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ ءَالُ مُوسَى وَءَالُ هَـرُونَ(...and a remnant of that which Musa (Moses) and Harun (Aaron) left behind,) Ibn Jarir related that Ibn `Abbas said about this Ayah: وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ ءَالُ مُوسَى وَءَالُ هَـرُونَ(...and a remnant of that which Musa (Moses) and Harun (Aaron) left behind, ) Meaning, Moses' staff and the remnants of the Tablets. This is the same Tafsir of Qatadah, As-Suddi, Ar-Rabi` bin Anas and `Ikrimah, who added, "And also the Torah." `Abdur-Razzaq said that he asked Ath-Thawri about the meaning of, وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ ءَالُ مُوسَى وَءَالُ هَـرُونَ(...and a remnant of that which Musa (Moses) and Harun (Aaron) left behind,) Ath-Thawri said, "Some said that it contained a pot of manna and the remnants of the Tablets, while some others said that it contained (Moses') staff and two shoes (and refer to 20:12)."Allah then said: تَحْمِلُهُ الْمَلَـئِكَةُ(...carried by the angels.) Ibn Jurayj stated that Ibn `Abbas said, "The angels came down while carrying the Tabut between the sky and the earth, until they placed it before Talut while the people were watching." As-Suddi said, "The Tabut was brought to Talut's house, so the people believed in the prophethood of Sham`un (Simeon) and obeyed Talut" The Prophet then said: إِنَّ فِي ذَلِكَ لأَيَةً لَّكُمْ(Verily, in this is a sign for you) testifying to my truth in what I was sent with, my prophethood, and my command to you to obey Talut, إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ(if you are indeed believers. ) in Allah and the Hereafter.
تابوت سکینہ اور جنگ طالوت و جالوت ٭٭نبی علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ طالوت کی بادشاہت کی پہلی علامت برکت یہ ہے کہ کھویا ہوا تابوت سکینہ انہیں پھر مل جائے گا، جس میں وقار و عزت دلجمعی اور جلالت رافت و رحمت ہے جس میں اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں تم بخوبی جانتے ہو، بعض کا قول ہے کہ سکینہ ایک سونے کا طشت تھا جس میں انبیاء کے دِل دھوئے جاتے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کو ملا تھا اور جس میں آپ علیہ السلام نے توراۃ کی تختیاں رکھی تھیں، کسی نے کہا ہے اس کا منہ بھی تھا جیسے انسان کا منہ ہوتا ہے اور روح بھی تھی، ہاتھ بھی تھا، دو سر تھے، دو پر تھے اور دُم بھی تھی، وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مردہ بلی کا سر تھا جب وہ تابوت میں بولتا تو انہیں نصرت کا یقین ہو جاتا اور لڑائی فتح ہو جاتی، یہ قول بھی ہے کہ یہ ایک روح تھی اللہ کی طرف سے جب کبھی بنی اسرائیل میں کوئی اختلاف پڑتا یا کسی بات کی اطلاع نہ ہوتی تو وہ کہہ دیا کرتی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے ورثے کے باقی حصے سے مراد لکڑی اور توراۃ کی تختیاں اون اور کچھ ان کے کپڑے اور جوتی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:333/5] صفحہ نمبر878سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ فرشتے آسمان و زمین کے درمیان اس تابوت کو اٹھائے ہوئے سب لوگوں کے سامنے لائے اور طالوت بادشاہ کے سامنے لا رکھا، اس تابوت کو ان کے ہاں دیکھ کر انہیں نبی علیہ السلام کی نبوت اور طالوت کی بادشاہت کا یقین ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:335/5] ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ گائے کے اوپر لایا گیا، بعض کہتے ہیں کہ کفار نے جب یہودیوں پر غلبہ پایا تو تابوت سکینہ کو ان سے چھین لیا اور اریحا میں لے گئے اور اپنے بڑے بت کے نیچے رکھ دیا جب اللہ کو اسے واپس بنی اسرائیل تک پہنچانا تھا، تب وہ کفار صبح کو جب بت خانے میں گئے تو دیکھا بت نیچے ہے اور تابوت اوپر ہے، انہوں نے پھر بت کو اوپر کر دیا لیکن دوسری صبح دیکھا کہ پھر وہی معاملہ ہے انہوں نے پھر بت کو اوپر کر دیا، صبح جو گئے تو دیکھا بت ایک طرف ٹوٹا پھوٹا پڑا ہے، تو یقین ہو گیا کہ یہ قدرت کے کرشمے ہیں چنانچہ انہوں نے تابوت کو یہاں سے لے جا کر کسی اور چھوٹی سی بستی میں رکھ دیا، وہاں ایک وبائی بیماری پھیلی، آخر بنی اسرائیل کی ایک عورت نے جو وہاں قید تھی، اس نے کہا کہ اسے واپس بنی اسرائیل پہنچا دو تو تمہیں اس سے نجات ملے گی، ان لوگوں نے دو گائیوں پر تابوت کو رکھ کر بنی اسرائیل کے شہر کی طرف بھیج دیا، شہر کے قریب پہنچ کر گائیں تو رسیاں تڑوا کر بھاگ گئیں اور تابوت وہیں رہا جسے بنی اسرائیل لے آئے، بعض کہتے ہیں دو نوجوان اسے پہنچا گئے «وَاللهُ اَعْلَمُ» لیکن الفاظ قرآن میں یہ موجود ہیں کہ اسے فرشتے اٹھا لائیں گے [ مترجم ] یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطین کی بستیوں میں سے ایک بستی میں تھا جس کا نام ازدوہ تھا۔ پھر فرماتا ہے میری نبوت کی دلیل اور طالوت کی بادشاہت کی دلیل یہ بھی ہے کہ تابوت فرشتے پہنچا جائیں گے، اگر تمہیں اللہ عزوجل اور قیامت پر ایمان ہو۔صفحہ نمبر879
آیت 248 وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖٓ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ ہٰرُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلآءِکَۃُ ط طالوت کی امارت اور بادشاہی کی علامت کے طور پر وہ صندوق تمہارے پاس واپس آجائے گا۔ اصل میں یہ تابوت سکینہ لکڑی کا ایک بہت بڑا صندوق تھا ‘ جس میں بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہ السلام کے تبرکات محفوظ تھے۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ صندوق اب بھی مسجد اقصیٰ کے نیچے سرنگ میں موجود ہے۔ انہوں نے بعض ذرائع سے فوٹو لے کر اس کی دستاویزی فلم بھی دکھا دی ہے۔ یہ تابوت سکینہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ ہیکل کے تہہ خانے میں رکھا ہوا تھا اور وہیں پر ربائیّ رَبَّانِیِّیْنَ بھی موجود تھے۔ جب اس ہیکل کو منہدم کیا گیا تو وہ اسی میں دب گئے۔ وہ تہہ خانہ چاروں طرف سے بند ہوگیا ہوگا اور ان کی لاشیں اور تابوت سکینہ اس کے اندر ہی ہوں گے۔ تابوت سکینہ میں بنی اسرائیل کے لیے بہت بڑی روحانی تسکین کا سامان تھا کہ ہمارے پاس حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام کے تبرکات ہیں۔ اس میں عصائے موسیٰ بھی تھا اور وہ الواح بھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر دی گئی تھیں اور جن پر تورات لکھی ہوئی تھی۔ اس تابوت کو دیکھ کر بنی اسرائیل کو اسی طرح تسکین ہوتی تھی جیسے ایک مسلمان کو خانۂ کعبہ کو دیکھ کر تسکین ہوتی ہے۔ اسرائیلیوں کو جب ان کے پڑوسی ملکوں نے شکست دی تو وہ تابوت سکینہ بھی چھین کرلے گئے۔ پوری قوم نے اس عظیم سانحے پر ماتم کیا اور اسے بنی اسرائیل سے ساری عزت و حشمت چھن جانے سے تعبیر کیا گیا۔ چناچہ اس سے ان کے حوصلے مزید پست ہوگئے۔ اب جبکہ اسرائیلیوں نے جنگ کا ارادہ کیا اور وقت کے نبی حضرت سیموئیل علیہ السلام نے طالوت کو ان کا امیر مقرر کیا تو انہیں یہ بھی بتایا کہ طالوت کو اللہ کی طرف سے نامزد کیے جانے کی ایک علامت یہ ہوگی کہ تمہاری تسکین کا سامان تابوت سکینہ جو تم سے چھن گیا تھا ‘ ان کے عہد امارت میں تمہیں واپس مل جائے گا اور اس وقت وہ فرشتوں کی تحویل میں ہے۔ ہوا یہ کہ ان کے دشمن جب تابوت چھین کرلے گئے تو وہ ان کے لیے ایک مصیبت بن گیا۔ وہ اسے جہاں رکھتے وہاں طاعون اور دوسری وبائیں پھوٹ پڑتیں۔ بالآخر انہوں نے اسے نحوست کا باعث سمجھتے ہوئے ایک چھکڑے پر رکھا اور بیلوں کو ہانک دیا کہ جدھر چاہیں لے جائیں۔ بیل سیدھے چلتے چلتے اسے بنی اسرائیل کے علاقے میں لے آئے۔ ظاہر ہے کہ یہ معاملہ فرشتوں کی راہنمائی سے ہوا۔ اس طرح وہ تابوت سکینہ ان کے پاس واپس پہنچ گیا جو برسوں پہلے ان سے چھن چکا تھا۔
Commentary1. Verse 246: إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ (When they said to a prophet of theirs: "Send us a king so that we may fight in the way of Allah)."These people from the Bani Isra'il had abandoned the injunctions given by Allah Almighty. When the infidel Amalekites were made to rule over them, they began thinking about correcting the situation. The name of the prophet mentioned here is Samuel (Arabic: Hebrew: Shemuel).Verse 248: The story of Talut and JalutThe Bani Isra'il used to have the legacy of a wooden chest (also identified as the Ark of the Covenant). Moses and other prophets of Bani Isra'il would keep this chest in the frontline of the battlefield. Its barakah بَرَکَہ (blessing, benediction) used to give them victory. When )Jalut: Goliath) overcame Bani Isra'il, he took this chest away with him. When Allah Almighty willed the return of the chest, it so happened that the infidels were struck by some epidemic or calamity at places where they carried this chest. Five cities were turned desolate. Nonplussed, they loaded it on two bullocks and drove them off. Then, the angels took control of the bullocks and made it reach Talut's doorsteps. (Talut is the Qur'anic name of the king known in the Bible as Saul) When the Bani Isra'il saw this sign, they believed in the kingdom of Talut, who then mounted an attack on Jalut while the weather was very hot.
The Quran (2:246-252) records the story of the Children of Israel asking their prophet for a king to lead them in battle. Allah chose Talut (Saul), a man of physical and mental ability though not wealthy. He tested the army at a river: only those who refrained from drinking would fight. Of the large army, only a small group passed the test. The young Dawud (David) killed Jalut (Goliath), and Allah gave him kingship and wisdom. This narrative established the Quranic principle that victory comes from divine support, not numerical strength.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.