The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Maryam • Ayah 97

Para 16 Surah 19 : 97
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ ٱلْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِۦ قَوْمًا لُّدًّا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

فَإِنَّمَا
يَسَّرْنَـٰهُ
بِلِسَانِكَ
لِتُبَشِّرَ
بِهِ
ٱلْمُتَّقِينَ
وَتُنذِرَ
بِهِۦ
قَوْمًا
لُّدًّا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Allah places Love of the Righteous People in the HeartsAllah, the Exalted, informs about His believing servants, who work righteous deeds -- deeds that He is pleased with because they are in accordance with the legislation of Muhammad -- that He plants love for them in the hearts of His righteous servants. This is something that is absolutely necessary and there is no avoiding it. This has been reported in authentic Hadiths of the Messenger of Allah ﷺ in various different ways. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,«إِنَّ اللهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ قَالَ: فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، قَالَ: ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ، قَالَ: فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ، وَإِنَّ اللهَ إِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ، قَالَ: فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ، قَالَ: فَيُبْغِضُهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْض»(Verily, whenever Allah loves a servant of His, He calls Jibril and says, "O Jibril, verily I love so-and-so, so love him." Thus, Jibril will love him. Then, he (Jibril) will call out to the dwellers of the heavens, "Verily, Allah loves so-and-so, so you too must love him." Then the dwellers of the heavens love him and he will be given acceptance in the earth. Whenever Allah hates a servant of His, He calls Jibril and says, "O Jibril, verily I hate so-and-so, so hate him." Thus, Jibril will hate him. Then, he (Jibril) will call out amongst the dwellers of the heavens, "Verily, Allah hates so-and-so, so you too must hate him." Then the dwellers of the heavens hate him and hatred for him will be placed in the earth.) Al-Bukhari and Muslim reported narrations similar to this. Ibn Abi Hatim recorded that Abu Hurayrah said that the Prophet said,«إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ: إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ، فَيُنَادِي فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ يُنْزِلُ لَهُ الْمَحَبَّةَ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ:إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَـنُ وُدّاً(Whenever Allah loves a servant of His, He calls Jibril (saying), "Verily, I love so-and-so, so love him." Then, Jibril calls out into the heavens and love for him descends among the people of the earth. That is the meaning of the statement of Allah, the Mighty and Sublime: (Verily, those who believe and work deeds of righteousness, the Most Gracious will bestow love for them.)) 19:96 This was also reported by Muslim and At-Tirmidhi and At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih."The Qur'an descended to give Glad Tidings and to warnAllah said;فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ(So, We have made this easy) meaning the Qur'an.بِلَسَانِكَ(in your own tongue,) This is an address to Prophet Muhammad and it means that the Qur'an is in the pure, complete and eloquent Arabic language.لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ(that you may give glad tidings to those who have Taqwa,) those who respond to Allah and believe in His Messenger ,وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً(and warn with it the people who are Ludda.) meaning, the people who have deviated away from the truth and are inclined towards falsehood. His saying,وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّن قَرْنٍ(And how many a generation before them have We destroyed!) means from the nations that disbelieved in the signs of Allah and rejected His Messengers.هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً(Can you find a single one of them or hear even a whisper of them) Meaning, `have you seen any of them or even heard a whisper from them.' Ibn `Abbas, Abu Al-`Aliyah, `Ikrimah, Al-Hasan Al-Basri, Sa`id bin Jubayr, Ad-Dahhak and Ibn Zayd all said, "This means any sound." Al-Hasan and Qatadah both said that this means, "Do you see with your eye, or hear any sound" This is the end of the Tafsir of Surah Maryam. All praises and thanks are due to Allah. Following this will be the Tafsir of Surah Ta Ha, Allah willing and all praise is due to Allah.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

اللہ تعالٰی کا امین فرشتہ ٭٭فرمان ہے کہ ” جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے، ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کر دیں گے “۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ ” میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ “۔ اللہ تعالیٰ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ پھر آسمانوں میں ندا کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں انسان سے محبت رکھتا ہے، اے فرشتو! تم بھی اس سے محبت رکھو چنانچہ کل آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ “، جبرائیل علیہ السلام بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر آسمانوں میں ندا کر دیتے ہیں کہ فلاں دشمن رب ہے، تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑ بیٹھتے ہیں۔ پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے ۔ [صحیح بخاری:3209] ‏صفحہ نمبر5170مسند احمد میں ہے کہ جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہو جاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ ” میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے۔ سنو میں اس سے خوش ہو گیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کر دیں “۔ پس جبرائیل علیہ السلام ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الٰہی ہو گئی۔ پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں۔ پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے، پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے ۔ [مسند احمد:279/5:حسن] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔ ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے ۔ [مسند احمد:263/5:صحیح لغیرہ] ‏ ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے ۔ [صحیح مسلم:2637] ‏ پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے، اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے۔صفحہ نمبر5171حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہو جائے اب وہ عبادت الٰہی کی طرف جھک پڑا۔ جب دیکھو نماز میں مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں۔ اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کر لیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے عمل کروں گا، کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کر دئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔‏“ ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں، اس لیے کہ یہ پوری سورت مکے میں نازل ہوئی ہے، ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سنداً بھی صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر5172” ہم نے اس قرآن کو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنا دے اور جو حق سے ہٹے ہوئے، باطل پر مٹے ہوئے، استقامت سے دور، خود بینی میں مخمور، جھگڑالو، جھوٹے، اندھے، بہرے، فاسق، فاجر، ظالم، گنہگار، بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذابوں سے متنبہ کر دے “، جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔ ” بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا، نبیوں کا انکار کیا تھا، ہم نے ہلاک کر دیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا۔ ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی “۔ «رِكْزًا» کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔صفحہ نمبر5173

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 97 فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ ”قرآن کی زبان سہل ممتنع کا خوبصورت نمونہ ہے۔ عام قرآنی عبارت سلیس اور آسان عربی زبان میں ہے۔ اس میں ثقیل اور مشکل الفاظ شاذ ہی کہیں نظر آتے ہیں۔ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا ”یعنی آپ ﷺ کی دعوت کا ذریعہ اور وسیلہ ‘ آپ ﷺ کی تعلیمات کا مرکز و محور اور آپ ﷺ کا آلۂ انقلاب یہی قرآن ہے۔ آپ ﷺ اسی کے ذریعے سے وعظ و تذکیر کا فریضہ انجام دیں اور اسی کی مدد سے انذار وتبشیر کا حق ادا کریں : فَذَکِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ قٓ ”تو آپ ﷺ نصیحت کرتے رہیں قرآن کے ساتھ ہر اس شخص کو جو ڈرتا ہے میری وعید سے“۔ قرآن ایک مؤثر اور جامع وعظ بھی ہے اور تزکیہ نفس کے لیے شافی و کافی دوا بھی۔ اس حقیقت کا اعلان سورة یونس میں اس طرح کیا گیا ہے : یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِلا وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ”اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں کے روگ کی شفاء اور ہدایت ‘ اور اہل ایمان کے حق میں بہت بڑی رحمت“۔ اور سورة بنی اسرائیل کی آیت 82 میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَشِفَآءٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ”اور ہم نازل کرتے ہیں قرآن سے وہ چیز جو شفاء اور رحمت ہے مومنین کے لیے۔“

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّ‌حْمَـٰنُ وُدًّا"For them the Rahman (All-Merciful) will create love." - 19:96.It means that for those who are steadfast in their faith in Him, Allah creates an environment of friendship and love for each other, which consequently promotes mutual amity and goodwill among the true Muslims. Furthermore, by their conduct and behavior they command the admiration and respect of all those with whom they come into contact. Bukhari, Tirmidhi and others have related on the authority of Sayyidna Abu Hurairah ؓ that the Holy Prophet ﷺ once said that when Allah Ta’ ala is pleased with someone He says to Jibra'il (علیہ السلام) ، "I am pleased with so and so and I desire that you too should show favour to him." Jibra'l (علیہ السلام) makes an announcement to this effect in all the skies so that their residents begin to harbor a liking for that person. Then this love descends upon the earth and the people of the earth also begin to love him. The Holy Prophet ﷺ then quoted this verse. (Ruh ul-Ma’ ani).إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّ‌حْمَـٰنُ وُدًّا"Surely those who believe and do the righteous deeds, for them the Rahman (All-Merciful) will create love." - 19:96.Haram bin Hayyan has said that when a person devotes himself wholly towards Allah He fills the hearts of all believers with love for him. (Qurtubi)When Sayyidna Ibrahim Khalilullah (علیہ السلام) ، planned to go back to Syria, after leaving behind his wife Hajira and his baby son Sayyidna Isma` i1 (علیہ السلام) in the desert enclosed by the barren hills of Makkah in accordance with the command of Allah, he also prayed for both of them with the following wordsفَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ"So make hearts of a number of people yearn toward them." - 14:37.The prayer was granted so that even after the lapse of many millennia people all over the world entertain great love for Makkah and its inhabitants. They visit the place in large numbers, and not only incur heavy expenditure but also endure great hardships while making the journey.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.