Surah Maryam • Ayah 77
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Refuting the Disbelievers Who claim that They will be given Wealth and Children in the HereafterImam Ahmad reported from Khabbab bin Al-Aratt that he said, "I was a blacksmith and Al-" ®256؛لs bin Wa'il owed me a debt. So I went to him to collect my debt from him. He said to me, `No, by Allah, I will not pay my debt to you until you disbelieve in Muhammad ﷺ.' I replied to him, `No, by Allah, I will not disbelieve in Muhammad ﷺ until you die and are resurrected again.' He then said to me, `Verily, if I die and am resurrected, and you come to me, I will also have abundance of wealth and children and I will repay you then.' Then, Allah revealed these Ayat,أَفَرَأَيْتَ الَّذِى كَفَرَ بِـَايَـتِنَا وَقَالَ لأوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَداً(Have you seen him who disbelieved in Our Ayat and said: "I shall certainly be given wealth and children.") until,وَيَأْتِينَا فَرْداً(and he shall come to Us alone.) This was also recorded by the two compilers of the Sahihs and other collections as well. In the wording of Al-Bukhari it states that Khabbab said, "I used to be a blacksmith in Makkah and I made a sword for Al-" ®256؛لs bin Wa'il. So I went to him to collect my pay from him..." then he mentioned the rest of the Hadith and he said,أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَـنِ عَهْداً(or has he taken a covenant from the Most Gracious) "This means an agreement. " Concerning Allah's statement,أَطَّلَعَ الْغَيْبَ(Has he known the Unseen) This is a rejection of the person who says,لأوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَداً(I shall certainly be given wealth and children.) Meaning, on the Day of Resurrection. In other words, "Does he know what he will have in the Hereafter, to such an extent that he can swear to it"أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَـنِ عَهْداً(or has he taken a covenant from the Most Gracious) Or has he received a promise from Allah that he will be given these things It has already been stated that in Sahih Al-Bukhari it is mentioned that covenant means an agreement. Concerning Allah's statement,كَلاَّ(Nay,) This is a participle that opposes what came before it and gives emphasis to what follows it.سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ(We shall record what he says,) what he is seeking, and his idea that he has given himself about what he hopes for, and his disbelief in Allah the Most Great.وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدّاً(We shall increase his torment. ) This is referring to what will happen in the abode of the Hereafter, because of his saying his disbelief in Allah in this life.وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ(And We shall inherit from him all that he speaks of,) His wealth and children. It means, "We will take all of this from him, in opposition to his claim that he will be given more wealth and children in the Hereafter than he had in this life." To the contrary, in the Hereafter that which he had in this life will be taken from him. This is why Allah says,وَيَأْتِينَا فَرْداً(And he shall come to Us alone.) without wealth or children.وَاتَّخَذُواْ مِن دُونِ اللَّهِ ءالِهَةً لِّيَكُونُواْ لَهُمْ عِزّاًكَلاَّ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَـدَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدّاً
عیار مقروض اور حضرت خباب ٭٭سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا۔ میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے نہ نکل جائے۔ میں نے کہا، میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کر سکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا، بس تو پھر یہی رہی، جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی، وہیں تیرا قرض بھی ادا کر دوں گا، تو آ جانا۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ [صحیح بخاری:2091] دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکے میں اس کی تلوار بنائی تھی، اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ” کیا اسے غیب کی خبر مل گئی؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول و قرار لے لیا؟ “ اور روایت میں ہے کہ اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے تھے، اس لیے مجھے جو جواب دیا، میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اس پر یہ آیتیں آتریں ۔ اور روایت میں ہے کہ کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا، ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا، چاندی، ریشم، پھل پھول وغیرہ ہوں گے؟ ہم نے کہا ہاں ہے، تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں «وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا» [19-مريم:80] تک اتریں ۔ «وَلَدًا» کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔صفحہ نمبر5145اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ ” کیا اسے غیب پر اطلاع ہے؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول و قرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو؟ “ چنانچہ آیت «أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَٰنِ عَهْدًا» [19-مریم:78] میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہو جانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے، اس کا کفر بھی ہم پر روشن ہے۔ دار آخرت میں تو اس کے لیے عذاب ہی عذاب ہے، جو ہر وقت بڑھتا رہے گا۔ اسے مال و اولاد وہاں بھی ملنا تو کجا، اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہو گا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَنَرِثُهُ مَا عِنْدَهُ» ہے۔ ” اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا “۔صفحہ نمبر5146
آیت 77 اَفَرَءَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا ”یہ بھی وہی مضمون ہے جو سورة الکہف کے پانچویں رکوع میں دو اشخاص کے مکالمے کے سلسلے میں گزر چکا ہے۔ وہاں بھی بالکل اسی سوچ کے حامل مالدار شخص کا ذکر ہے جس نے اللہ کے نیک بندے کو مخاطب کر کے کہا تھا : وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآءِمَۃً لا وَّلَءِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰی رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْہَا مُنْقَلَبًا کہ میں تو نہیں سمجھتا کہ قیامت واقعی برپا ہوگی ‘ لیکن بالفرض اگر ایسا ہوا بھی تو میں دنیا کی طرح وہاں بھی نوازا جاؤں گا اور تم جو یہاں جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہو وہاں بھی اسی حال میں رہو گے۔ آیت زیر نظر میں یہی نظریہ قریش مکہ کے حوالے سے دہرایا گیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ہم جوُ پر تعیش زندگی کے مزے لے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہم سے خوش ہے۔ چناچہ ہمیں آخرت میں بھی اسی طرح سے کثرت مال و اولاد سے نوازا جائے گا۔ ان الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے کہ وہ اسی دنیا میں آئندہ بھی کثرت مال و اولاد کی توقع لیے بیٹھے تھے ‘ مگر مجھے ان مفسرین کی رائے سے اتفاق ہے جن کے نزدیک یہ ان کی آخرت کی توقع کا ذکر ہے۔
Commentaryلَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا ("I shall certainly be given wealth and children". - 19:77) Bukhari and Muslim relate the story of Sayyidna Khabab Ibn Al-'Aratt ؓ who had lent some money to ` As Ibn Wa’ il. When pressed to return the loan, ` As Ibn Wa’ il said that he would not make the payment until he (Sayyidna Khabab ؓ dissociated himself from the Holy Prophet ﷺ . Sayyidna Khabab ؓ replied that he would never do that - not until ` As was dead and rose to life again. At this ` As Ibn Wa’ il said, "What? Will I be brought to life again after I am dead? If so I will repay the loan only after I am brought back to life again because even then I will have my wealth and my children." (Qurtubi)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.