Surah Maryam • Ayah 56
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Mentioning IdrisAllah complimented Idris for being a truthful Prophet and He mentioned that he raised him to a high station. It has previously been mentioned that in the Sahih it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ passed by Idris on the night of the Isra (Night Journey) and he (Idris) was in the fourth heaven. Sufyan reported from Mansur that Mujahid said,وَرَفَعْنَاهُ مَكَاناً عَلِيّاً(And We raised him to a high station.) "This means the fourth heaven." Al-Hasan and others said concer- ning Allah's statement,وَرَفَعْنَاهُ مَكَاناً عَلِيّاً(And We raised him to a high station.) "This means Paradise."
ادریس علیہ السلام کا تعارف ٭٭حضرت ادریس علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ ” آپ علیہ السلام سچے نبی تھے، اللہ کے خاص بندے تھے۔ آپ علیہ السلام کو ہم نے بلند مکان پر اٹھا لیا “۔ صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ چوتھے آسمان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادریس علیہ السلام سے ملاقات کی ۔ [صحیح بخاری:7517] اس آیت کی تفسیر میں امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک عجیب وغریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ”اس آیت کا مطلب کیا ہے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”ادریس علیہ السلام کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں۔ اس پر آپ علیہ السلام کو خیال آیا کہ آپ عمل میں اور سبقت کریں۔ جب آپ علیہ السلام کے پاس آپ کا دوست فرشتہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس سے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے، اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں تو میں نیک اعمال میں اور اور بڑھ جاؤں۔ اس فرشتے نے آپ علیہ السلام کو اپنے پروں میں بٹھا کر آسمان پر چڑھا دیا۔ جب چوتھے آسمان پر آپ علیہ السلام پہنچے تو ملک الموت کو دیکھا، فرشتے نے آپ سے ادریس علیہ السلام کی بابت سفارش کی تو ملک الموت نے فرمایا، وہ کہاں ہیں؟ اس نے کہا، یہ ہیں میرے بازو پر بیٹھے ہوئے۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ مجھے یہاں اس آسمان پر ان کی روح کے قبض کرنے کا حکم ہو رہا ہے چنانچہ اسی وقت ان کی روح قبض کرلی گئی۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی۔“ لیکن یہ یاد رہے کہ کعب رحمہ اللہ کا یہ بیان اسرائیلیات میں سے ہے اور اس کے بعض میں نکارت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہی روایت اور سند سے بھی ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلام نے بذریعہ اس فرشتے کو پچھوایا تھا کہ میری عمر کتنی باقی ہے؟ اور روایت میں ہے کہ فرشتے کے اس سوال پر ملک الموت نے جواب دیا کہ میں دیکھ لوں، دیکھ کر فرمایا، صرف ایک آنکھ کی پلک کے برابر اب جو فرشتہ اپنے پر تلے دیکھتا ہے تو ادریس علیہ السلام کی روح پرواز ہو چکی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام درزی تھے، سوئی کے ایک ایک ٹانکے پر «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہتے۔ شام کو ان سے زیادہ نیک عمل آسمان پر کسی کے نہ چڑھتے۔ مجاہد رحمہ اللہ تو کہتے ہیں ادریس علیہ السلام آسمانوں پر چڑھالئے گئے۔ آپ علیہ السلام مرے نہیں بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بے موت اٹھا لیے گئے اور وہیں انتقال فرماگئے۔ حسن رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں بلند مکان سے مراد جنت ہے۔صفحہ نمبر5108
آیت 56 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ اِدْرِیْسَز ”حضرت ادریس علیہ السلام ‘ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد اور حضرت نوح علیہ السلام سے قبل زمانے میں مبعوث ہوئے۔ ان سے پہلے ذریت آدم علیہ السلام میں حضرت شیث علیہ السلام گزر چکے تھے۔ تورات میں ان کا نام ”حنوک“ مذکور ہے۔ ان کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ حضرت ادریس اور حضرت شیث علیہ السلام دونوں نبی تھے ‘ جبکہ ان کے بعد حضرت نوح علیہ السلام پہلے رسول کے طور پر مبعوث ہوئے۔اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا ”اس سے پہلے آیت 41 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی ”صِدِّیْقًا نَّبِیًّا“ کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ یعنی مزاج کے اعتبار سے حضرت ادریس علیہ السلام کی مناسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تھی۔ دونوں شخصیات صدیقیت کے مزاج کی حامل تھیں۔
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ"And mention in the Book (the story of) Idris." - 19:56.Sayyidna Idris (علیہ السلام) lived one thousand years before Sayyidna Nuh (علیہ السلام) and was among his ancestors. (Ruh ul-Ma` ani with reference to Mustadrak al-Hakim). He was the first Prophet after Sayyidna Adam (علیہ السلام) and Allah Ta’ ala bestowed upon him thirty books. (Abi zar- Zamkhashari). Sayyidna Idris (علیہ السلام) was the first man who was given the knowledge of astrology and mathematics through a miracle, (Bahr ul-Muhit). He was also the first man who learnt how to write with a pen, and also the first who invented stitching of cloth, people used to wear animal skins instead of clothes before his time. He also invented measurement tools for the first time. Making of weapons also started in his time and he used them in his wars - the Holy wars : جھاد)Jihad) against the descendents of Qabil (بنو قابیل) (Bahr ul-Muhit, Qurtubi, Mazhari, Ruh ul-Ma ani)
The Quran mentions Idris (identified with biblical Enoch) as a prophet who was truthful and patient, exalted to a high station (19:56-57). Islamic tradition holds that Idris was the first human to write with a pen, to study the stars, and to sew clothes. He lived before the Flood of Noah and is associated with the early post-Adamic period. Some scholars identify him with Hermes Trismegistus of Hellenistic tradition or the Sumerian king Enmeduranki.
Idris is mentioned twice in the Quran (19:56-57; 21:85-86) as a prophet of truth who was 'raised to a high station.' Many Islamic scholars identify Idris with Enoch of the biblical tradition, who 'walked with God and was not, for God took him' (Genesis 5:24). Idris is associated in Islamic tradition with being one of the first to use writing, astronomy, and arithmetic. His high station (makan 'aliyyan) is interpreted as a raised spiritual or physical station.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.