The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Maryam • Ayah 22

Para 16 Surah 19 : 22
۞ فَحَمَلَتْهُ فَٱنتَبَذَتْ بِهِۦ مَكَانًا قَصِيًّا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

۞
فَحَمَلَتْهُ
فَٱنتَبَذَتْ
بِهِۦ
مَكَانًا
قَصِيًّا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Conception and the BirthAllah, the Exalted, informs about Maryam that when Jibril had spoken to her about what Allah said, she accepted the decree of Allah. Many scholars of the predecessors (Salaf) have mentioned that at this point the angel (who was Jibril) blew into the opening of the garment that she was wearing. Then the breath descended until it entered into her vagina and she conceived the child by the leave of Allah. Muhammad bin Ishaq said, "When she conceived him and filled her water jug (at a well), she returned (to her people). After this, her menstrual bleeding ceased and she experienced what the pregnant woman experiences of sickness, hunger, change of color and there was even a change in the manner of her speech. After this, no people came to visit any house like they did the house of Zakariyya. The word spread among the Children of Israel and the people were saying, `Verily, her partner (in fornication) was Yusuf, because there was no one else in the temple with her except him.' So she hid herself from the people and placed a veil between herself and them. No one saw her and she did not see anyone else." Allah said;فَأَجَآءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ(And the pains of childbirth drove her to the trunk of a date palm.) This means that her pains of labor compelled her to go to the trunk of a date-palm tree that was at the place where she had secluded herself. The scholars differed over its location. As-Suddi said, "Her place of seclusion was to the east and that was where she would pray at the Sacred House of Jerusalem." Wahb bin Munabbih said, "She ran away and when she reached an area between Ash-Sham and Egypt, she was overcome by labor pains." In another narration from Wahb, he said, "This took place eight miles from the Sacred House of Jerusalem in a village that was known as Bayt Al-Lahm (Bethlehem)." I say, there are Hadiths about the Isra' (Night Journey of the Prophet ) that are reported by An-Nasa'i on the authority of Anas, and Al-Bayhaqi on the authority of Shadad bin Aws, that say that this took place at Bait Al-Lahm. Allah knows best. This is what is well known that the people all relate from each other. The Christians have no doubt held that the place of this occurrence was Bethlehem and this is what all the people relate. It has been related in a Hadith also, if the Hadith is authentic. Allah says, informing about her,قَالَتْ يلَيْتَنِى مِتُّ قَبْلَ هَـذَا وَكُنتُ نَسْياً مَّنسِيّاً(She said: "Would that I had died before this, and had been forgotten and out of sight!") In this is an evidence of the permissibility to wish for death when a calamity strikes. She knew that she was going to be tested with the birth, the people would not assist her, and they would not believe her story. After she was known as a devout worshipper among them, they now thought that she had become a fornicating whore. She said,يلَيْتَنِى مِتُّ قَبْلَ هَـذَا(Would that I had died before this,) She said this to mean before this situation.وَكُنتُ نَسْياً مَّنسِيّاً(and I had been forgotten and out of sight!) This means, "I wish I had not been created and I was nothing." This was mentioned by Ibn `Abbas. Qatadah said,وَكُنتُ نَسْياً مَّنسِيّاً(and I had been forgotten and out of sight!) "This means something unknown, forgotten and no one knew who I was."

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

مریم علیہا السلام اور جبرائیل علیہ السلام ٭٭مروی ہے کہ جب آپ فرمان الٰہی تسلیم کر چکیں اور اس کے آگے گردن جھکا دی تو جبرائیل علیہ السلام نے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری۔ جس سے انہیں بحکم رب حمل ٹھہر گیا۔ اب تو سخت گھبرائیں اور یہ خیال کلیجہ مسوسنے لگا کہ میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی؟ لاکھ اپنی برأت پیش کروں لیکن اس انوکھی بات کو کون مانے گا؟ اسی گھبراہٹ میں آپ تھیں، کسی سے یہ واقعہ بیان نہیں کیا تھا۔ ہاں جب آپ اپنی خالہ زکریا علیہ السلام کی بیوی کے پاس گئیں تو وہ آپ سے معانقہ کر کے کہنے لگیں، بچی اللہ کی قدرت سے اور تمہارے خالو کی دعا سے میں اس عمر میں حاملہ ہو گئی ہوں۔ آپ نے فرمایا، خالہ جان میرے ساتھ یہ واقعہ گزرا اور میں بھی اپنے آپ کو اسی حالت میں پاتی ہوں۔ چونکہ یہ گھرانہ نبی کا گھرانہ تھا، وہ قدرت الٰہی پر اور صداقت مریم پر ایمان لائیں۔ اب یہ حالت تھی کہ جب کبھی یہ دونوں پاک عورتیں ملاقات کرتیں تو خالہ صاحبہ یہ محسوس فرماتیں کہ گویا ان کا بچہ بھانجی کے بچے کے سامنے جھکتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے۔ ان کے مذہب میں یہ جائز بھی تھا، اسی وجہ سے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اور آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام کو سجدہ کیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن ہماری شریعت میں یہ تعظیم اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہو گئی اور کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہو گیا کیونکہ یہ تعظیم الٰہی کے خلاف ہے۔ اس کی جلالت کے شایان شان نہیں۔صفحہ نمبر5051امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام خالہ زاد بھائی تھے۔ دونوں ایک ہی وقت حمل میں تھے۔ یحییٰ علیہ السلام کی والدہ اکثر مریم رضی اللہ عنہا سے فرماتی تھیں کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بچہ تیرے بچے کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔ امام مالک رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، اس سے عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اپنے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا کردیا۔ جمہور کا قول تو یہ ہے کہ آپ نو مہینے تک حمل میں رہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں آٹھ ماہ تک۔ اسی لیے آٹھ ماہ کے حمل کا بچہ عموماً زندہ نہیں رہتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حمل کے ساتھ ہی بچہ ہو گیا۔ یہ قول غریب ہے۔ ممکن ہے آپ رضی اللہ عنہ نے آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا ہو کیونکہ حمل کا الگ ہونے کا اور درد زہ کا ذکر ان آیتوں میں ”ف“ کے ساتھ ہے اور ”ف“ تعقیب کے لیے آتی ہے۔ لیکن تعقیب ہرچیز کی اس کے اعتبار سے ہوتی ہے جیسے عام انسانوں کی پیدائش کا حال آیت قرآن «وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ» [23-المؤمنون:13،12] ‏ میں ہوا ہے۔ کہ ” ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے بصورت نطفہ رحم میں ٹھہرایا، پھر نطفے کو پھٹکی بنایا، پھر اس پھٹکی کو لوتھڑا بنایا، پھر اس لوتھڑے میں ہڈیاں پیدا کیں “۔ یہاں بھی دو جگہ ”ف“ ہے اور ہے بھی تعقیب کے لیے۔ لیکن حدیث سے ثابت ہے کہ ان دو حالتوں میں چالیس دن کافاصلہ ہوتا ہے ۔ [صحیح بخاری:3208] ‏صفحہ نمبر5052قرآن کریم کی اور آیت میں ہے «اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ۡ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ» [22-الحج:63] ‏ ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے۔ پس زمین سرسبز ہو جاتی ہے “۔ ظاہر ہے کہ پانی برسنے کے بہت بعد سبزہ اگتا ہے۔ حالانکہ ”ف“ یہاں بھی ہے۔ پس تعقیب ہرچیز کی اس چیز کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ سیدھی سی بات تو یہ ہے کہ مثل عادت عورتوں کے آپ رضی اللہ عنہا نے حمل کا زمانہ پورا گزارا۔ مسجد میں ہی، مسجد کے خادم ایک صاحب اور تھے جن کا نام یوسف نجار تھا۔ انہوں نے جب مریم علیہا السلام کا یہ حال دیکھا تو دل میں کچھ شک سا پیدا ہوا لیکن مریم کے زہد وتقویٰ، عبادت و ریاضت، خشیت الٰہی اور حق بینی کو خیال کرتے ہوئے انہوں نے یہ برائی دل سے دور کرنی چاہی۔ لیکن جوں جوں دن گزرتے گئے، حمل کا اظہار ہوتا گیا۔ اب تو خاموش نہ رہ سکے، ایک دن با ادب کہنے لگے کہ مریم میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں ناراض نہ ہونا۔ بھلا بغیر بیج کے کسی درخت کا ہونا، بغیر دانے کے کھیت کا ہونا، بغیر باپ کے بچے کا ہونا ممکن بھی ہے؟ آپ ان کے مطلب کو سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ یہ سب ممکن ہے، سب سے پہلے جو درخت اللہ تعالیٰ نے اگایا وہ بغیر بیج کے تھا۔ سب سے پہلے جو کھیتی اللہ نے اگائی وہ بغیر دانے کی تھی۔ سب سے پہلے اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، وہ بے باپ کے تھے بلکہ بے ماں کے بھی۔ ان کی تو سمجھ میں آگیا اور مریم علیہا السلام کو اور اللہ کی قدرت کو نہ جھٹلا سکے۔ اب صدیقہ نے جب دیکھا کہ قوم کے لوگ ان پر تہمت لگا رہے ہیں تو آپ ان سب کو چھوڑ چھاڑ کر دور دراز چلی گئیں۔صفحہ نمبر5053امام محمد بن اسحاق رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں، جب حمل کے حالات ظاہر ہوگئے، قوم نے پھبتیاں پھینکنی، آوازے کسنے اور باتیں بنانی شروع کر دیں اور یوسف نجار جیسے صالح شخص پر یہ تہمت اٹھائی تو آپ ان سب سے کنارہ کش ہوگئیں۔ نہ کوئی انہیں دیکھے نہ آپ کسی کو دیکھیں۔ جب درد زہ اٹھا تو آپ ایک کھجور کے درخت کی جڑ میں آبیٹھیں۔ کہتے ہیں کہ یہ خلوت خانہ بیت المقدس کے مشرقی جانب کا حجرہ تھا۔ یہ بھی قول ہے کہ شام اور مصر کے درمیان آپ پہنچ چکی تھیں، اس وقت بچہ ہونے کا درد شروع ہوا۔ اور قول ہے کہ بیت المقدس سے آپ آٹھ میل چلی گئی تھیں اس بستی کا نام بیت اللحم تھا۔ معراج کے واقعہ کے بیان میں پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی جگہ بھی بیت اللحم تھا ۔ [سنن نسائی:451،قال الشيخ الألباني:منکر] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مشہور بات بھی یہی ہے اور نصرانیوں کا تو اس پر اتفاق ہے اور اس حدیث میں بھی ہے اگر یہ صحیح ہو۔ اس وقت آپ موت کی تمنا کرنے لگیں کیونکہ دین کے فتنے کے وقت یہ تمنا بھی جائز ہے۔ جانتی تھیں کہ کوئی انہیں سچا نہ کہے گا۔ ان کے بیان کردہ واقعہ کو ہر شخص گھڑنت سمجھے گا۔ دنیا آپ کو پریشان کر دے گی اور عبادت و اطمینان میں خلل پڑے گا۔ ہر شخص برائی سے یاد کرے گا اور لوگوں پر برا اثر پڑے گا۔ تو فرمانے لگیں کاش کہ میں اس حالت سے پہلے ہی اٹھالی جاتی بلکہ کاش کہ میں پیدا ہی نہ کی جاتی۔ اس قدر شرم و حیاء دامن گیر ہوئی کہ آپ نے اس تکلیف پر موت کو ترجیح دی اور تمنا کی کہ کاش میں کھوئی ہوئی اور یاد سے اتری ہوئی چیز ہو جاتی کہ نہ کوئی یاد کرے نہ ڈھونڈے نہ ذکر کرے۔ احادیث میں موت مانگنے کی ممانعت وارد ہے۔ ہم نے ان روایتوں کو آیت «تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ» [12-یوسف:101] ‏، کی تفسیر میں بیان کر دیا ہے۔صفحہ نمبر5054

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 22 فَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّااس پریشانی میں کہ حمل بڑھے گا تو لوگ کیا کہیں گے ‘ حضرت مریم تنہائی کی غرض سے بیت اللحم چلی گئیں ‘ جو ہیکل سلیمانی سے آٹھ میل کے فاصلے پر تھا۔“

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا (to give you a boy - 19:19) Here Sayyidna Jibra'n (علیہ السلام) had attributed to himself the gift of the child because Allah Ta’ ala had sent him in order that he should breathe into her collar, and this breath would be the means of her conceiving the child, whereas in reality this gift was by the act of Allah.

Historical Context: Prophet Isa (Jesus) — Birth, Ministry, and Ascension c. 4 BCE – 30 CE

The Quran describes Isa (Jesus) as a major prophet and messenger, born miraculously of the virgin Maryam (Mary), who performed great miracles by Allah's permission (healing the blind and lepers, raising the dead, speaking from the cradle). The Quran affirms he was raised to Allah (rafa'ahu Allah ilayhi) and was not crucified as generally believed — another was made to resemble him. His mother Maryam is the only woman referred to by name in the Quran, and an entire surah (Maryam, 19) is named after her.

🏛️ Civilization: Roman Judea / Second Temple Judaism
📍 Region: Palestine / Levant (Roman Judea)
Historical Context: Maryam bint Imran — Mother of Isa, Most Honored Woman c. 20 BCE – 45 CE (estimated)

The Quran devotes an entire surah (Surah Maryam, 19) to Maryam (Mary), making her the only woman mentioned by name in the Quran. She is described as chosen above all women of the worlds (3:42), as a truthful woman (siddiqah, 5:75), and as a model of faith. The Quran records her miraculous birth of Isa (Jesus) without a father, her retreat from society, and the miraculous date-palm that provided sustenance during labor. She is one of the four perfect women in Islamic tradition.

🏛️ Civilization: Roman Judea / Second Temple Judaism
📍 Region: Palestine (Nazareth / Jerusalem region)
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.