The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Al-Kahf • Ayah 28

Para 15 Surah 18 : 28
وَٱصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِٱلْغَدَوٰةِ وَٱلْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُۥ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُۥ عَن ذِكْرِنَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ وَكَانَ أَمْرُهُۥ فُرُطًا

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَٱصْبِرْ
نَفْسَكَ
مَعَ
ٱلَّذِينَ
يَدْعُونَ
رَبَّهُم
بِٱلْغَدَوٰةِ
وَٱلْعَشِىِّ
يُرِيدُونَ
وَجْهَهُۥ
ۖ
وَلَا
تَعْدُ
عَيْنَاكَ
عَنْهُمْ
تُرِيدُ
زِينَةَ
ٱلْحَيَوٰةِ
ٱلدُّنْيَا
ۖ
وَلَا
تُطِعْ
مَنْ
أَغْفَلْنَا
قَلْبَهُۥ
عَن
ذِكْرِنَا
وَٱتَّبَعَ
هَوَىٰهُ
وَكَانَ
أَمْرُهُۥ
فُرُطًا

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Command to recite the Qur'an and to patiently keep Company with the BelieversCommanding His Messenger to recite His Holy Book and convey it to mankind, Allah says,لاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَـتِهِ(None can change His Words,) meaning, no one can alter them, distort them or misinterpret them.وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا(and none will you find as a refuge other than Him.) It was reported that Mujahid said, "A shelter," and that Qatadah said, "A helper or supporter." Ibn Jarir said: "Allah is saying, `if you O Muhammad, do not recite what is revealed to you of the Book of your Lord, then you will have no refuge from Allah."' As Allah says:يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ(O Messenger! Proclaim (the Message) which has been sent down to you from your Lord. And if you do not, then you have not conveyed His Message. Allah will protect you from mankind.)5:67إِنَّ الَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَى مَعَادٍ(Verily, He Who has given you the Qur'an, will surely bring you back to the place of return.) 28:85 meaning, `He will call you to account for the duty of conveying the Message which He entrusted you with. 'وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ(And keep yourself patiently with those who call on their Lord morning and afternoon, seeking His Face;) meaning, sit with those who remember Allah, who say "La Ilaha Illallah", who praise Him, glorify Him, declare His greatness and call on Him, morning and evening, all the servants of Allah, whether rich or poor, strong or weak. It was said that this was revealed about the nobles of Quraysh when they asked the Prophet to sit with them on his own, and not to bring his weak Companions with him, such as Bilal, `Ammar, Suhayb, Khabbab and Ibn Mas`ud. They wanted him to sit with them on his own, but Allah forbade him from doing that, and said,وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ(And turn not away those who invoke their Lord, morning and afternoon.) Allah commanded him to patiently content himself with sitting with those people (the weak believers), and said:وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ(And keep yourself patiently with those who call on their Lord morning and afternoon...) Imam Muslim recorded in his Sahih that Sa`d bin Abi Waqqas who said: "There was a group of six of us with the Prophet . The idolators said, `Tell these people to leave so they will not offend us.' There was myself, Ibn Mas`ud, a man from Hudayl, Bilal and two other men whose names I have forgotten. Allah's Messenger ﷺ thought to himself about whatever Allah willed he should think about, then Allah revealed:وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ(And turn not away those who invoke their Lord, morning and afternoon.) Only Muslim reported this; excluding Al-Bukhari.وَلاَ تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا(and let not your eyes overlook them, desiring the pomp and glitter of the life of the world;) Ibn `Abbas said, `(this means) do not favor others over them, meaning do not seek the people of nobility and wealth instead of them.'وَلاَ تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا(and obey not him whose heart We have made heedless of Our remembrance) means, those who are distracted by this world from being committed to the religion and from worshipping their Lord.وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا(and whose affair (deeds) has been lost.) means, his actions and deeds are a foolish waste of time. Do not obey him or admire his way or envy what he has. As Allah says elsewhere:وَلاَ تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَجاً مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى(And strain not your eyes in longing for the things We have given for enjoyment to various groups of them, the splendor of the life of this world, that We may test them thereby. But the provision of your Lord is better and more lasting.) 20:131

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

تلاوت و تبلیغ ٭٭اللہ کریم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کلام کی تلاوت اور اس کی تبلیغ کی ہدایت کرتا ہے، اس کے کلمات کو نہ کوئی بدل سکے نہ ٹال سکے، نہ ادھر ادھر کر سکے، سمجھ لے کہ اس کے سوائے جائے پناہ نہیں، اگر تلاوت و تبلیغ چھوڑ دی تو پھر بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» [ 5-المائدة: 67 ] ‏ اے رسول جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے اس کی تبلیغ کرتا رہ اگر نہ کی تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا لوگوں کے شر سے اللہ تجھے بچائے رکھے گا۔ اور آیت میں ہے «اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَادُّكَ اِلٰى مَعَادٍ قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بالْهُدٰى وَمَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [ 28- القص: 85 ] ‏ یعنی اللہ تعالیٰ تجھ سے تیرے منصب کی بابت قیامت کے دن ضرور سوال کرے گا۔ اللہ کا ذکر، اس کی تسبیح، حمد، بڑائ اور بزرگی بیان کرنے والوں کے پاس بیٹھا رہا کر جو صبح شام یاد الٰہی میں لگے رہتے ہیں، خواہ وہ فقیر ہوں خواہ امیر، ‎خواہ رزیل ہوں خواہ شریف، خواہ قوی ہوں خواہ ضعیف۔صفحہ نمبر4883قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ آپ چھوٹے لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھا کریں جیسے بلال، عمار، صہیب، خباب، ابن مسعود رضی اللہ عنہم وغیرہ۔ اور ہماری مجلسوں میں بیٹھا کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی درخواست رد کرنے کا حکم فرمایا جیسے اور آیت میں ہے «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» [ 6- الانعام: 52 ] ‏ یعنی صبح شام یاد الٰہی کرنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ ہٹا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ ہم چھ شخص غریب غرباء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، سعد بن ابی وقاص، ابن مسعود، قبیلہ ہذیل کا ایک شخص، بلال اور دو آدمی اور رضی اللہ عنہم اتنے میں معزز مشرکین آئے اور کہنے لگے انہیں اپنی مجلس میں اس جرات کے ساتھ نہ بیٹھنے دو۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جی میں کیا آیا؟ جو اس وقت آیت «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ» اتری۔ [صحیح مسلم:2413] ‏ مسند احمد میں ہے کہ ایک واعظ قصہ گوئی کر رہا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہ خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بیان کئے چلے جاؤ۔ میں تو صبح کی نماز سے لے کر آفتاب کے نکلنے تک اسی مجلس میں بیٹھا رہوں، تو اپنے لئے چار غلام آزاد کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد:261/5:ضعیف] ‏ اور حدیث میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں ایسی مجلس میں بیٹھ جاؤں، یہ مجھے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ [مسند احمد:474/3:ضعیف] ‏۔ ابوداؤد طیالسی میں ہے کہ ذکر اللہ کرنے والوں کے ساتھ صبح کی نماز سے سورج نکلنے تک بیٹھ جانا مجھے تو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے، اور نماز عصر کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک اللہ کا ذکر کرنا مجھے آٹھ غلاموں کے آزاد کرنے سے زیادہ پیارا ہے، گو وہ غلام اولاد اسماعیل سے گراں قدر اور قیمتی کیوں نہ ہوں، گو ان میں سے ایک ایک کی دیت بارہ بارہ ہزار کی ہو تو مجموعی قیمت چھیانوے ہزار کی ہوئی۔ بعض لوگ چار غلام بتاتے ہیں لیکن انس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ غلام فرمائے ہیں۔ [مسند طیالسی،2104:ضعیف] ‏صفحہ نمبر4884بزار میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ایک صاحب سورۃ الکہف کی قرأت کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر خاموش ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی ان لوگوں کی مجلس ہے جہاں اپنے نفس کو روک کر رکھنے کا مجھے حکم الٰہی ہوا ہے۔ [مجمع الزوائد،167/7:ضعیف] ‏ اور روایت میں ہے کہ یا تو سورۃ الحج کی وہ تلاوت کر رہے تھے یا سورۃ الکہف کی۔ [مسند بزار،2636:ضعیف] ‏ مسند احمد میں ہے فرماتے ہیں ذکر اللہ کے لیے جو مجلس جمع ہو، نیت بھی ان کی بخیر ہو تو آسمان سے منادی ندا کرتا ہے کہ اٹھو اللہ نے تمہیں بخش دیا، تمہاری برائیاں بھلائیوں سے بدل گئیں۔ [مسند احمد:142/3:صحیح لغیرہ] ‏ طبرانی میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آپ اپنے کسی گھر میں تھے، اسی وقت ایسے لوگوں کی تلاش میں نکلے۔ کچھ لوگوں کو ذکر اللہ میں پایا، جن کے بال بکھرے ہوئے تھے، کھالیں خشک تھیں، بمشکل ایک ایک کپڑا انہیں حاصل تھا، فوراً ان کی مجلس میں بیٹھ گئے اور کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسے لوگ رکھے ہیں، جن کے ساتھ بیٹھنے کا مجھے حکم ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:23017:ضعیف] ‏ پھر فرماتا ہے ان سے تیری آنکھیں تجاوز نہ کریں، ان یاد اللہ کرنے والوں کو چھوڑ کر مالداروں کی تلاش میں نہ لگ جانا جو دین سے برگشتہ ہیں، جو عبادت سے دور ہیں، جن کی برائیاں بڑھ گئی ہیں، جن کے اعمال حماقت کے ہیں، تو ان کی پیروی نہ کرنا، ان کے طریقے کو پسند نہ کرنا، ان پر رشک بھری نگاہیں نہ ڈالنا، ان کی نعمتیں للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھنا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [ 20- طه: 131 ] ‏، ہم نے انہیں جو دنیوی عیش و عشرت دے رکھی ہے یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے ہے۔ تو للچائی ہوئی نگاہوں سے انہیں نہ دیکھنا، دراصل تیرے رب کے پاس کی روزی بہتر اور بہت باقی ہے۔صفحہ نمبر4885

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 28 وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ یہ بلال حبشی عبد اللہ بن اُمّ مکتوم عمار بن یاسر اور خباب جیسے لوگ اگرچہ مفلس اور نادار ہیں مگر اللہ کی نظر میں بہت اہم ہیں۔ آپ ان لوگوں کی رفاقت کو غنیمت سمجھئے اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کیجیے۔يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ ۚ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَاان غلاموں اور بےآسرا لوگوں سے آپ کی توجہ ہٹ کر کہیں مکہ کے سرداروں اور امراء کی طرف نہ ہونے پائے جس سے لوگوں کو یہ گمان ہو کہ آپ بھی دنیا کی زیب وزینت ہی کو اہمیت دیتے ہیں۔ لہٰذا ولید بن مغیرہ بظاہر کتنا ہی با اثر اور صاحب ثروت سہی آپ عبد اللہ بن اُمّ مکتوم کو نظر انداز کر کے اسے ہرگز اہمیت نہ دیں۔ ترجمہ کے اعتبار سے یہ آیت مشکل آیات میں سے ہے۔ یہاں الفاظ کے عین مطابق ترجمہ ممکن نہیں۔ حضور کی یہ شان ہرگز نہ تھی کہ آپ کی نظریں غرباء سے ہٹ کر امراء کی طرف اٹھتیں۔ چناچہ ان الفاظ سے یہی مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ دراصل آپ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ دعوت و تبلیغ کی غرض سے بھی ان امراء کی طرف اس انداز میں التفات نہ فرمائیں جس سے کسی کو مغالطہ ہو کہ آپ کی نگاہ میں دنیوی مال و اسباب کی بھی کچھ وقعت اور اہمیت ہے۔ سورة الحجر میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : لاَ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ”آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اس مال و متاع کی طرف جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دے رکھا ہے اور آپ ان امراء کے بارے میں فکرمند نہ ہوں اور اہل ایمان کے لیے اپنے بازو جھکا کر رکھیں !“کسی بھی داعی حق کے لیے یہ معاملہ بہت نازک ہوتا ہے۔ معاشرے کے اونچے طبقے کے لوگوں کا بہر حال اپنا ایک حلقہ اثر ہوتا ہے۔ ان میں سے اگر کوئی اہل حق کی صف میں شامل ہوتا ہے تو وہ اکیلا بہت سے افراد کے برابر شمار ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے کئی دوسرے لوگ خود بخود کھنچے آتے ہیں اور پہلے سے موجود لوگوں کے لیے بھی ایسے شخص کی شمولیت تقویت اور اطمینان کا باعث ہوتی ہے۔ جیسے حضور نے اللہ تعالیٰ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ عمر بن الخطاب یا عمرو بن ہشام ابوجہل میں سے کسی ایک کو ضرور میری جھولی میں ڈال دے ! ان دونوں میں سے کوئی ایک ایمان لے آئے۔ ظاہر ہے کہ ان جیسی بااثر شخصیات میں سے کسی کا ایمان لانا اسلام کے لیے باعث تقویت ہوگا اور اس کی رفاقت سے ان کمزور مسلمانوں کو سہارا ملے گا جن پر قافیہ حیات تنگ ہوا جارہا ہے۔ اور پھر واقعتا ایسا ہوا بھی کہ حضرت عمر اور حضرت حمزہ کے ایمان لانے کے بعد مکہ میں کمزور مسلمانوں پر قریش کے ظلم وتعدی میں کافی حد تک کمی آگئی۔ بہر حال اس سلسلے میں معروضی حقائق کسی بھی داعی کو اس طرف راغب کرتے ہیں کہ معاشرے کے متمول طبقوں اور ارباب اختیار و اقتدار تک پیغام حق ترجیحی بنیادوں پر پہنچایا جائے اور انہیں اپنی تحریک میں شامل کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ مگر دوسری طرف اس حکمت عملی سے تحریک کے نادار اور عام ارکان کو یہ تاثر ملنے کا اندیشہ ہوتا ہے کہ انہیں کم حیثیت سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اس طرح ان کی حوصلہ شکنی ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی داعی حق اثر و رسوخ کے حامل افراد کی طرف ترجیحی انداز میں متوجہ ہوگا تو عوام میں اس کی ذات اور اس کی تحریک کے بارے میں یہ تاثر ابھرنے کا اندیشہ ہوگا کہ یہ لوگ بھی امراء اور ارباب اختیار سے مرعوب ہیں اور ان کے ہاں بھی دنیوی ٹھاٹھ باٹھ ہی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ چناچہ دولت مند اور اثر و رسوخ کے حامل افراد تک دین کی دعوت کو پھیلانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں مذکورہ بالا دو عوامل کے منفی اثرات سے بچنا بھی نہایت ضروری ہے۔ چناچہ حضور کو اس آیت میں حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ اس سلسلے میں احتیاط کریں کہیں لوگ یہ تاثر نہ لے لیں کہ محمد کے ہاں بھی دولت مند لوگوں ہی کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ وَكَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًایہ بات متعدد بار بیان ہوچکی ہے کہ کفار مکہ رسول اللہ کے ساتھ مداہنت پر مصر تھے اور وہ آپ کے ساتھ کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر مذاکرات کرنا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں سرداران قریش کی طرف سے آپ پر شدید دباؤ تھا۔ اس پس منظر میں یہاں پھر متنبہ کیا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کے دلوں کو ہم نے اپنی یاد سے غافل اور محروم کردیا ہے آپ ایسے لوگوں کی باتوں کی طرف دھیان بھی مت دیجیے !

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

CommentaryDa'wah and Tabligh admit of no discriminationSome events have been mentioned in the background of the revelation of the verse: وَاصْبِرْ‌ نَفْسَكَ (And keep yourself content - 28). It is possible that all of them became the cause of this instruction. Al-Baghawi reports that ` Uyainah ibn Hisn al-Fazari, the chief of Makkah paid a visit to the Holy Prophet ﷺ . Sitting there with him was Sayyidna Salman al-Farisi ؓ who was one of the poor Sahabah. His dress was tattered and his looks, that of a derwish. Then, there were some other poor and humble people like him sitting within the gathering. ` Uyainah said, 'these are the people who stop us from coming to you and listening to you. We cannot sit with such broken-down people. You should remove them from your gathering, or you should, at the least, have one separate gathering for us and another, for them.'Ibn Marduwayh reports on the authority of Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ that Umaiyyah ibn Khalaf al-jumahi advised the Holy Prophet ﷺ that he should not have poor and broken-down Muslims as those close to him. Instead of that, he should prefer to have the chiefs of Makkah and the Quraysh tribe with him. If these people embraced the religion brought by him, it will advance the cause of religion.Pursuant to events of this nature, came the Divine instruction that firmly stopped him from accepting their advice. Not only that he should not remove them from his company, in fact, the command given reads: وَاصْبِرْ‌ نَفْسَكَ (wasbir nafsak: translated as 'and keep yourself content' ). If translated literally, it could mean 'keep yourself tied with them,' not in the sense of not leaving them anytime, but meaning that he should attend to and relate to these very people, seeking their advice in essential matters and working in association with them alone. Why should he do that and what was the wisdom behind it? The words that follow spell the reason out. They call their Lord morning and evening, remembering Him under all conditions. And what they do is exclusively for the good pleasure of Allah. All these conditions around them are conditions that at-tract the help and support of Allah Ta` ala. And such are the people to whom comes the help of Allah. So, let them not worry about the loss of worldly support for the final victory shall be theirs.The reason why he was prevented from accepting the advice of the Quraysh chiefs has been given towards the end of the verse. It was said that their hearts were heedless of the remembrance of Allah, everything they did was subservient to their physical desires and these conditions guaranteed that they would stand alienated far from the mercy and support of Allah Ta` ala.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.