Surah Al-Isra • Ayah 38
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Condemnation of struttingAllah forbids His servants to strut and walk in a boastful manner:وَلاَ تَمْشِ فِى الاٌّرْضِ مَرَحًا(And walk not on the earth with conceit and arrogance.) meaning, walking in boastful manner and acting proud, like those who are arrogant oppressors.إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الاٌّرْضَ(Verily, you can neither rend nor penetrate the earth) means, you cannot penetrate the earth with your walking. This was the opinion of Ibn Jarir.
تکبر کے ساتھ چلنے کی ممانعت ٭٭اکڑ کر، اترا کر، تکبر کے ساتھ چلنے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو منع فرماتا ہے۔ یہ عادت سرکش اور مغرور لوگوں کی ہے۔ پھر اسے نیچا دکھانے کے لیے فرماتا ہے کہ گو کتنے ہی بلند سر ہو کر چلو لیکن پہاڑ کی بلندی سے پست ہی رہو گے اور گو کیسے ہی کھٹ پٹ کرتے ہوئے پاؤں مار مار کر چلو لیکن زمین کو پھاڑنے سے رہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کا حال برعکس ہوتا ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص چادر جوڑے میں اتراتا ہوا چلا جارہا تھا جو وہیں زمین میں دھنسا دیا گیا جو آج تک دھنستا ہوا چلا جارہا ہے۔ [صحیح بخاری:5789] قرآن میں قارون کا قصہ موجود ہے کہ وہ مع اپنے محلات کے زمین دوز کر دیا گیا۔ ہاں تواضع، نرمی، فروتنی اور عاجزی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بلند کرتا ہے وہ اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے اور لوگ اسے جلیل القدر سمجھتے ہیں اور تکبر کرنے والا اپنے تئیں بڑا آدمی سمجھتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں وہ ذلیل و خوار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے کتوں اور سوروں سے بھی زیادہ حقیر جانتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2659] امام ابوبکر بن ابی الدنیا رحمہ اللہ اپنی کتاب المحمول والتواضع میں لائے ہیں کہ ابن الاہیم دربار منصور میں جا رہا تھا ریشمی جبہ پہنے ہوئے تھا اور پنڈلیوں کے اوپر سے اسے دوہرا سلوایا تھا کہ نیچے سے قباء بھی دکھائی دیتی رہے اور اکڑتا اینڈتا جا رہا تھا۔صفحہ نمبر4695حسن رحمہ اللہ نے اسے اس حالت میں دیکھ کر فرمایا افوہ نک چڑھا، بل کھایا، رخساروں پھولا، اپنے ڈنڈ بازو دیکھتا، اپنے تیئں تولتا، سمتوں کے ذکر و شکر کو بھولا، رب کے احکام کو چھوڑے ہوئے، اللہ کے حق کو توڑا، دیوانوں کی چال چلتا، عضو عضو میں کسی کی دی ہوئی نعمت رکھتا، شیطان کی لعنت کا مارا ہوا دیکھو جا رہا ہے۔ ابن الاہیم نے سن لیا اور اسی وقت لوٹ آیا اور عذر بہانہ کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا مجھ سے کیا معذرت کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے توبہ کر اور اسے ترک کر۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا آیت «وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» [17-الإسراء:37] [ابن ابی دنیا:237] عابد بختری رحمہ اللہ نے آل علی میں سے ایک شخص کو اکڑتے ہوئے چلتا دیکھ کر فرمایا اے شخص جس نے تجھے یہ اکرام دیا ہے اس کی روش ایسی نہ تھی۔ اس نے اسی وقت توبہ کر لی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ایسے شخص کو دیکھ کر فرمایا جو اکڑ اکڑ کر چل رہا تھا کہ شیطان کے یہی بھائی ہوتے ہیں۔ خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں لوگو اکڑ اکڑ کر چلنا چھوڑو اس لیے کہ انسان کے ہاتھ بھی اس کے باقی جسم میں سے ہیں۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ جب میری امت غرور اور تکبر کی چال چلنے لگے گی اور فارسیوں اور رومیوں کو اپنی خدمت میں لگائے گی تو اللہ تعالیٰ ایک کو ایک پر مسلط کر دے گا۔ [سنن ترمذي:2261،قال الشيخ الألباني:صحیح] «سَيِّئُهُ» کی دوسری قرأت «سيئه» ہے تو معنی یہ ہوئے کہ جن جن کاموں سے ہم نے تمہیں روکا ہے یہ سب کام نہایت برے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ ہیں۔ یعنی اپنی اولاد کو قتل نہ کرو سے لے کر اکڑ کر نہ چلو تک کے تمام کام۔ اور «سيئه» کی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ آیت «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ» [17-الإسراء:23] سے یہاں تک جو حکم احکام اور جو ممانعت اور روک بیان ہوئی اس میں جن برے کاموں کا ذکر ہے وہ سب اللہ کے نزدیک مکروہ کام ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہی توجیہ بیان فرمائی ہے۔صفحہ نمبر4696
آیت 38 كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًایعنی یہ جتنے بھی احکام ہیں ان میں اوامر Dos بھی ہیں اور نواہی Donts بھی۔ جہاں کسی کام کے کرنے کا حکم ہے وہاں اسے نہ کرنا برائی ہے اور جہاں کسی کام سے روکا گیا ہے وہاں اس میں ملوث ہونا برائی ہے۔ اور نافرمانی اور برائی اللہ تعالیٰ کو ہر صورت میں ناپسند ہے۔
After having described details of the injunctions appearing above, it was said in the last verse: كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِندَ رَبِّكَ مَكْرُوهًا (That which is evil, of all these, is detestable in the sight of your Lord - 38).As for what has been forbidden in the said injunctions, their repugnance is obvious. But, within these there are some commandments where rights of parents and relatives have been enjoined or fulfillment of promises has been made mandatory. Here too, the purpose is to avoid doing the opposite of it, like hurting parents, breaking off from relatives and going back on solemn promises. Since all these things are haram or reprehensible, therefore, it has been called 'makruh' in a general sense of 'detestable' which includes the haram and makruh both. (Bayan al-Qur an)NoteThe injunctions described in the fifteen verses cited above are, in a way, the explanation of the effort acceptable in the sight of Allah mentioned in: وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا (and makes effort for it as due - 19). There it was said that not every effort is acceptable with Allah. Instead, the effort made in accordance with the Sunnah and teaching of the Holy Prophet ﷺ is the only one acceptable with Him. Main divisions of such acceptable effort have been mentioned in these injunctions which take up the rights of Allah first and then the rights of the servants of Allah.A gist of Torah in fifteen versesSayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ said that the commandments of the entire Torah have been reduced to fifteen verses of Surah Bani Isra'il. (Mazhari)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.