The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Nahl • Ayah 92

Para 14 Surah 16 : 92
وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّتِى نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَـٰثًا تَتَّخِذُونَ أَيْمَـٰنَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِىَ أَرْبَىٰ مِنْ أُمَّةٍ ۚ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ ٱللَّهُ بِهِۦ ۚ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ مَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَلَا
تَكُونُوا۟
كَٱلَّتِى
نَقَضَتْ
غَزْلَهَا
مِنۢ
بَعْدِ
قُوَّةٍ
أَنكَـٰثًا
تَتَّخِذُونَ
أَيْمَـٰنَكُمْ
دَخَلًۢا
بَيْنَكُمْ
أَن
تَكُونَ
أُمَّةٌ
هِىَ
أَرْبَىٰ
مِنْ
أُمَّةٍ
ۚ
إِنَّمَا
يَبْلُوكُمُ
ٱللَّهُ
بِهِۦ
ۚ
وَلَيُبَيِّنَنَّ
لَكُمْ
يَوْمَ
ٱلْقِيَـٰمَةِ
مَا
كُنتُمْ
فِيهِ
تَخْتَلِفُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Command to fulfill the CovenantThis is one of the commands of Allah, to fulfill covenants, keep promises and to fulfill oaths after confirming them. Thus Allah says:وَلاَ تَنقُضُواْ الاٌّيْمَـنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا(and do not break the oaths after you have confirmed them) There is no conflict between this and the Ayat:وَلاَ تَجْعَلُواْ اللَّهَ عُرْضَةً لاًّيْمَـنِكُمْ(And do not use Allah as an excuse in your oaths) 2:224ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَـنِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَـنَكُمْ(That is the expiation for oaths when you have sworn. And protect your oaths.) 5:89 meaning, do not forgo your oaths without offering the penance. There is also no conflict between this Ayah (16:91) and the Hadith reported in the Two Sahihs according to which the Prophet said:«إِنِّي وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا وَفِي رِوَايَةٍ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي»(By Allah, if Allah wills, I will not swear an oath and then realize that something else is better, but I do that which is better and find a way to free myself from the oath. According to another report he said: "and I offer penance for my oath. ") There is no contradiction at all between all of these texts and the Ayah under discussion here, which is:وَلاَ تَنقُضُواْ الاٌّيْمَـنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا(and do not break the oaths after you have confirmed them) because these are the kinds of oaths that have to do with covenants and promises, not the kind that have to do with urging oneself to do something or preventing him from doing something. Therefore Mujahid said concerning this Ayah:وَلاَ تَنقُضُواْ الاٌّيْمَـنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا(and do not break the oaths after you have confirmed them) "The oath here refers to oaths made during Jahiliyyah." This supports the Hadith recorded by Imam Ahmad from Jubayr bin Mut`im, who said that the Messenger of Allah ﷺ said:«لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّة»(There is no oath in Islam, and any oath made during the Jahiliyyah is only reinforced by Islam.) This was also reported by Muslim. The meaning is that Islam does not need oaths as they were used by the people of the Jahiliyyah; adherence to Islam is sufficient to do away with any need for what they used to customarily give oaths for. In the Two Sahihs it was reported that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ swore the treaty of allegiance between the Muhajirin (emigrants) and the Ansar (helpers) in our house. " This means that he established brotherhood between them, and they used to inherit from one another, until Allah abrogated that. And Allah knows best.إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ(Verily, Allah knows what you do.) This is a warning and a threat to those who break their oaths after confirming them.وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّتِى نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَـثًا(And do not be like the one who undoes the thread which she has spun, after it has become strong,) `Abdullah bin Kathir and As-Suddi said: "This was a foolish woman in Makkah. Everytime she spun thread and made it strong, she would undo it again." Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said: "This is like the one who breaks a covenant after confirming it." This view is more correct and more apparent, whether or not there was a woman in Makkah who undid her thread after spinning it. The word Ankathan could be referring back to the word translated as "undoes", reinforcing the meaning, or it could be the predicate of the verb "to be", meaning, do not be Ankathan, the plural of Nakth (breach, violation), from the word Nakith (perfidious). Hence after this, Allah says:تَتَّخِذُونَ أَيْمَـنَكُمْ دَخَلاً بَيْنَكُمْ(by taking your oaths as a means of deception among yourselves) meaning for the purposes of cheating and tricking one another.أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِىَ أَرْبَى مِنْ أُمَّةٍ(when one group is more numerous than another group. ) meaning, you swear an oath with some people if they are more in number than you, so that they can trust you, but when you are able to betray them you do so. Allah forbids that, by showing a case where treachery might be expected or excused, but He forbids it. If treachery is forbidden in such a case, then in cases where one is in a position of strength it is forbidden more emphatically. Mujahid said: "They used to enter into alliances and covenants, then find other parties who were more powerful and more numerous, so they would cancel the alliance with the first group and make an alliance with the second who were more powerful and more numerous. This is what they were forbidden to do." Ad-Dahhak, Qatadah and Ibn Zayd said something similar.إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ اللَّهُ بِهِ(Allah only tests you by this) Sa`id bin Jubayr said: "This means (you are tested) by the large numbers." This was reported by Ibn Abi Hatim. Ibn Jarir said: "It means (you are being tested) by His command to you to adhere to your covenants."وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ مَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ(And on the Day of Resurrection, He will certainly clarify that which you differed over.) Everyone will be rewarded or punished in accordance with his deeds, good or evil.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

عہد و پیمان کی حفاظت ٭٭اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں۔ توڑیں نہیں۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید کی اور آیت میں فرمایا کہ «وَلَا تَجْعَلُوا اللَّـهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَن تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا» [2-البقرۃ:224] ‏ ” اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ “۔ اس سے بھی قسموں کی حفاظت کرنے کی تاکید مقصود ہے اور آیت میں ہے کہ «ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ» [5-المائدہ:89] ‏ ” قسم توڑنے کا کفارہ ہے قسموں کی پوری حفاظت کرو “۔ پس ان آیتوں میں یہ حکم ہے، اور بخاری و مسلم کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں واللہ میں جس چیز پر قسم کھالوں اور پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھوں تو ان شاءاللہ تعالیٰ ضرور اس نیک کام کو کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا ۔ [صحیح بخاری:6623] ‏ تو مندرجہ بالا آیتوں اور احادیث میں کچھ فرق نہ سمجھا جائے وہ قسمیں اور عہد و پیمان جو آپس کے معاہدے اور وعدے کے طور پر ہوں ان کا پورا کرنا تو بیشک بے حد ضروری ہے اور جو قسمیں رغبت دلانے یا روکنے کے لیے زبان سے نکل جائیں، وہ بیشک کفارہ دے کر ٹوٹ سکتی ہیں۔ پس اس آیت میں مراد جاہلیت کے زمانے جیسی قسمیں ہیں۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اسلام میں دو جماعتوں کی آپس میں ایک رہنے کی قسم کوئی چیز نہیں ہاں جاہلیت میں ایسی امداد و اعانت کی جو قسمیں آپس میں ہوچکی ہیں اسلام ان کو اور مضبوط کرتا ہے ۔ [صحیح مسلم:2530] ‏ اس حدیث کے پہلے جملے کے یہ معنی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں کہ ایک برادری والے دوسری برادری والوں سے عہد و پیمان کریں کہ ہم تم ایک ہیں، راحت و رنج میں شریک ہیں وغیرہ۔ کیونکہ رشتہ اسلام تمام مسلمانوں کو ایک برادری کا حکم دیتا دیتا ہے۔ مشرق مغرب کے مسلمان ایک دوسرے کے ہمدرد و غم خوار ہیں۔ بخاری مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہا کے گھر میں رسول اللہ علیہ افضل التسلیم نے انصار و مہاجرین میں باہم قسمیں اٹھوائیں ۔ [صحیح بخاری:6083] ‏ اس سے یہ ممنوع بھائی بندی مراد نہیں یہ تو بھائی چارہ تھا جس کی بنا پر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ آخر میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور ورثہ قریبی رشتے داروں سے مخصوص ہو گیا۔صفحہ نمبر4514کہتے ہیں اس فرمان الٰہی سے مطلب ان مسلمانوں کو اسلام پر جمع رہنے کا حکم دینا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام کی پابندی کا اقرار کرتے تھے۔ تو انہیں فرماتا ہے کہ ایسی تاکیدی قسم اور پورے عہد کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کی جماعت کی کمی اور مشرکوں کی جماعت کی کثرت دیکھ کر تم اسے توڑ دو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21871:] ‏ مسند احمد میں ہے کہ ”جب یزید بن معاویہ کی بیعت لوگ توڑنے لگے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے تمام گھرانے کے لوگوں کو جمع کیا اور اللہ کی تعریف کر کے امابعد کہہ کر فرمایا ”ہم نے یزید کی بیعت اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت پر کی ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر غدار کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ غدار ہے فلاں بن فلاں کا ۔ اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے بعد سب سے بڑا اور سب سے برا غدر یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی بیعت کسی کے ہاتھ پر کر کے پھر توڑ دینا یاد رکھو تم میں سے کوئی یہ برا کام نہ کرے اور اس بارے میں حد سے نہ بڑھے ورنہ مجھ میں اور اس میں جدائی ہے۔‏“ [مسند احمد:48/2:صحیح] ‏ مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص کسی مسلمان بھائی سے کوئی شرط کرے اور اسے پورا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ مثل اس شخص کے ہے جو اپنے پڑوسی کو امن دینے کے بعد بے پناہ چھوڑ دے ۔ [مسند احمد:404/5:ضعیف] ‏ پھر انہیں دھمکاتا ہے جو عہد و پیمان کی حفاظت نہ کریں کہ ان کے اس فعل سے اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے۔ مکہ میں ایک عورت تھی جس کی عقل میں فتور تھا سوت کاتنے کے بعد، ٹھیک ٹھاک اور مضبوط ہو جانے کے بعد بیوجہ توڑ تاڑ کر پھر ٹکڑے کر دیتی۔ یہ تو اس کی مثال ہے جو عہد کو مضبوط کر کے پھر توڑ دے۔ یہی بات ٹھیک ہے اب اسے جانے دیجئیے کہ واقعہ میں کوئی ایسی عورت تھی بھی یا نہیں جو یہ کرتی ہو نہ کرتی ہو یہاں تو صرف مثال مقصود ہے۔ «أَنكَاثًا» کے معنی ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ ممکن ہے کہ یہ «نَقَضَتْ غَزْلَهَا» کا اسم مصدر ہو۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بدل ہو «كَانَ» کی خبر کا یعنی «أَنْكَاثً» نہ ہو جمع «نَكْثٍ» کی «نَاكِثٍ» سے۔صفحہ نمبر4515پھر فرماتا ہے کہ ” قسموں کو مکر و فریب کا ذریعہ نہ بناؤ کہ اپنے سے بڑوں کو اپنی قسموں سے اطمینان دلاؤ اور اپنی ایمانداری اور نیک نیتی کا سکہ بٹھا کر پھر غداری اور بےایمانی کر جاؤ ان کی کثرت دیکھ کر جھوٹے وعدے کر کے صلح کر لو اور پھر موقع پا کر لڑائی شروع کر دو ایسا نہ کرو “۔ پس جب کہ اس حالت میں بھی عہد شکنی حرام کر دی تو اپنے جمعیت اور کثرت کے وقت تو بطور اولیٰ حرام ہوئی۔ بحمد اللہ ہم سورۃ الانفال میں معاویہ رضی اللہ عنہا کا قصہ لکھ آئے ہیں کہ ان میں اور شاہ روم میں ایک مدت تک کے لیے صلح نامہ ہو گیا تھا اس مدت کے خاتمے کے قریب آپ رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کو سرحد روم کی طرف روانہ کیا کہ وہ سرحد پر پڑاؤ ڈالیں اور مدت کے ختم ہوتے ہی دھاوا بول دیں تاکہ رومیوں کو تیاری کا موقعہ نہ ملے۔ جب عمرو بن عتبہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ہوئی تو آپ امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اللہ اکبر! اے معاویہ عہد پورا کر غدر اور بدعہدی سے بچ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جس قوم سے عہد معاہدہ ہو جائے تو جب تک کہ مدت صلح ختم نہ ہو جائے کوئی گرہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں ۔ یہ سنتے ہی معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکروں کو واپس بلوا لیا۔ [سنن ترمذي:1850،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ «أَرْبَى» سے مراد اکثر ہے۔ اس جملے کا یہ بھی مطلب ہے کہ دیکھا کہ دشمن قوی اور زیادہ ہے صلح کر لی اور اس صلح کو ذریعہ فریب بنا کر انہیں غافل کر کے چڑھ دوڑے اور یہ بھی مطلب ہے کہ ایک قوم سے معاہدہ کر لیا پھر دیکھا کہ دوسری قوم ان سے زیادہ قوی ہے، اس سے معاملہ کرلیا اور اگلے معاہدے کو توڑ دیا یہ سب منع ہے۔ اس کثرت سے اللہ تمہیں آزماتا ہے، یا یہ کہ اپنے حکم سے یعنی پابندی وعدہ کے حکم سے اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے اور تم میں صحیح فیصلے قیامت کے دن وہ خود کر دے گا۔ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک، بدوں کو بد۔صفحہ نمبر4516

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 92 وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًادیکھو تم تو ایک مدت سے نبی آخر الزماں کے منتظر چلے آ رہے تھے اور اہل عرب کو اس حوالے سے دھمکایا بھی کرتے تھے کہ نبی آخر الزمان آنے والے ہیں جب وہ تشریف لے آئے تو ہم ان کے ساتھ مل کر تم لوگوں پر غالب آجائیں گے۔ اب جب کہ وہ نبی آگئے ہیں تو تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ تم ان کو جھٹلانے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہے ہو ! تو کیا اب تم لوگ اپنے منصوبوں اور افکار و نظریات کے تانے بانے خود اپنے ہی ہاتھوں تار تار کردینے پر تل گئے ہو ؟ کیا اس دیوانی عورت کی طرح تمہاری بھی مت ماری گئی ہے جو بڑی محنت اور مشقت کے ساتھ کا تے ہوئے اپنے سوت کی تار تار ادھیڑ کے رکھ دے ؟تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ یعنی تم نے تو اس معاملے کو گویا دو قوموں کا تنازعہ بنا لیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ وہی نبی ہیں جن کی بشارت تمہاری کتاب میں موجود ہے تم آپس میں عہد و پیمان کر رہے ہو ‘ قسمیں کھا رہے ہو کہ ہم ہرگز آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ تمہاری اس ہٹ دھرمی کی وجہ اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ تم قومی عصبیت میں مبتلا ہوچکے ہو۔ چونکہ اس آخری نبی کا تعلق بنی اسماعیل یعنی امیین سے ہے ‘ اس لیے تم لوگ نہیں چاہتے کہ بنی اسماعیل کو اب ویسی ہی فضیلت حاصل ہوجائے جو پچھلے دو ہزار سال سے تم لوگوں کو حاصل تھی۔اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ اس میں تمہاری آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم لوگ حق پرست ہو یا نسل پرست ؟ اگر تم لوگ اس معاملے میں نسل پرستی کا ثبوت دیتے ہو تو جان لو کہ اللہ سے تمہارا کوئی تعلق نہیں اور اگر حق پرست بننا چاہتے ہو تو تمہیں سوچنا چاہیے کہ ایک مدت تک اللہ تعالیٰ نے نبوت تمہاری نسل میں رکھی اور اب اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کے ایک فرد کو اس کے لیے چن لیا ہے۔ لہٰذا اسے اللہ کا فیصلہ سمجھتے ہوئے تمہیں قبول کرلینا چاہیے۔ تمہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ بنی اسماعیل بھی تو آخر تمہاری ہی نسل میں سے ہیں۔ وہ بھی تمہارے جد امجد حضرت ابراہیم ہی کی اولاد ہیں ‘ مگر تم لوگ ہو کہ تم نے اس معاملے کو باہمی مخاصمت اور ضد بَغْیًا بَیْنَہُمْ کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اور اس طرح تم لوگ اللہ کی اس آزمائش میں ناکام ہو رہے ہو۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

In verse 92: أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ أَرْ‌بَىٰ مِنْ أُمَّةٍ (merely because a group is higher [ in number and wealth ] than the other), Muslims have been ordered that they should not break the pact they enter into with a group simply for the sake of worldly interests and gains. For example, they may come to think that the group or party with which they have entered into a pact is weak and few in numbers, or lacks financial backing, while the other group or party abounds in numbers and strength, or is wealthy. Now, if they are tempted to join the party having power and wealth in the hope of better gains from them, this breaking of the pledge given to the first party is not permissible. Rather than do something like that, one should stay by the pledge given and let all gains and losses rest with Allah Ta` ala. However, if the group or party with which one has entered into a pact commits or commissions acts contrary to the dictates of Islamic religious law, then, it is necessary to break that pledge - subject to the condition that they be clearly forewarned that Muslims will not be bound by that pact anymore - as stated in the verse: فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ (then, throw [ the treaty ] towards them being right forward - 8:58).At the conclusion of the verse, the given situation has been identified as a device to test Muslims whereby Allah Ta’ ala tries them to deter-mine if they would obey the desires of their self and break the solemn pledge, or go on to sacrifice their selfish motives in obedience to the com-mand of Allah Ta’ ala.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.