The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Nahl • Ayah 86

Para 14 Surah 16 : 86
وَإِذَا رَءَا ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ شُرَكَآءَهُمْ قَالُوا۟ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا ٱلَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوا۟ مِن دُونِكَ ۖ فَأَلْقَوْا۟ إِلَيْهِمُ ٱلْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَـٰذِبُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَإِذَا
رَءَا
ٱلَّذِينَ
أَشْرَكُوا۟
شُرَكَآءَهُمْ
قَالُوا۟
رَبَّنَا
هَـٰٓؤُلَآءِ
شُرَكَآؤُنَا
ٱلَّذِينَ
كُنَّا
نَدْعُوا۟
مِن
دُونِكَ
ۖ
فَأَلْقَوْا۟
إِلَيْهِمُ
ٱلْقَوْلَ
إِنَّكُمْ
لَكَـٰذِبُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Homes, Furnishings and Clothing are also Blessings from AllahAllah mentions His great blessings for His servant in that He has given them homes to dwell in and protect themselves with, in which they find all kinds of benefits. He has also given them homes from the hides of cattle, i.e., leather, which are light and easy to carry on journeys and can be erected wherever they stop, whether they are traveling or are settled. Thus Allah says: تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَـمَتِكُمْ(which you find so light when you travel and when you camp;) وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ(out of their wool, fur and hair) refers to sheep, camels and goats respectively. أَثَـثاً(furnishings) meaning what you take from them, i.e., wealth. It was also said that it means articles of convenience, or clothing. The correct view is more general in meaning than this; it means that you make carpets, clothing and other things from their wool, hair etc., which you use as wealth and for trade. Ibn `Abbas said: `Al-Athath means articles of convenience and comfort." This was also the view of Mujahid, `Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Al-Hasan, `Atiyah Al-`Awfi, `Ata' Al-Khurasani, Ad-Dahhak and Qatadah. The phrase, إِلَى حِينٍ(for a while) means, until the appointed time.Shade, Places of Refuge in the Mountains, Garments and Coats of Mail are also Blessings from Allahوَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلَـلاً(And Allah has made shade for you out of that which He has created,) Qatadah said: "This means trees." وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ أَكْنَـناً(and He has made places of refuge in the mountains for you,) meaning fortresses and strongholds. جَعَلَ لَكُمُسَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ(and He has made garments for you to protect you from the heat,) meaning clothing of cotton, linen and wool. وَسَرَبِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ(and coats of mail to protect you from your violence.) such as shields made of layers of sheet iron, coats of mail and so on. كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ(Thus does He perfect His favor for you,) meaning, thus He gives you what you need to go about your business, so that this will help you to worship and obey Him. لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ(that you may submit yourselves to His will). This is interpreted by the majority to mean submitting to Allah or becoming Muslim.All the Messenger has to do is convey the Messageفَإِن تَوَلَّوْاْ(Then, if they turn away,) meaning, after this declaration and reminder, do not worry about them. فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ الْمُبِينُ(your duty (O Muhammad) is only to convey (the Message) in a clear way), and you have delivered the Message to them. يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنكِرُونَهَا(They recognize the grace of Allah, yet they deny it) meaning they know that Allah is the One Who grants these blessings to them, and that He is Bountiful towards them, but they still deny this by worshipping others besides Him and thinking that their help and provisions come from others besides Him. وَأَكْثَرُهُمُ الْكَـفِرُونَ(and most of them are disbelievers.) وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لاَ يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلاَ هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ وَإِذَا رَأى الَّذِينَ ظَلَمُواْ الْعَذَابَ فَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ- وَإِذَا رَءا الَّذِينَ أَشْرَكُواْ شُرَكَآءهُمْ قَالُواْ رَبَّنَا هَـؤُلآء شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْا مِن دُونِكَ فَألْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَـذِبُونَ- وَأَلْقَوْاْ إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ-

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

ہر امت کا گواہ اس کا نبی ٭٭قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” اس دن ہر امت پر اس کا نبی علیہ السلام گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے “۔ سورۃ والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے کہ «هَذَا يَوْمٌ لَا يَنْطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ» [77-المرسلات:36-35] ‏ ” اس دن نہ وہ بولیں گے، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی “۔ مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہوگی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہوگا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لیے جائیں گے۔ جہنم آ موجود ہوگی جو ستر ہزار لگاموں والی ہوگی۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842] ‏ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گر پڑیں گے۔ اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لیے مقرر کی گئی ہوں۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چنانچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی۔صفحہ نمبر4503جیسے کہ حدیث میں ہے پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے ۔ جیسے کہ فرمان باری ہے آیت «إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا» [25-الفرقان:12-14] ‏ ” جب کہ وہ دور سے دکھائی دے گی تو اس کا شور و غل، کڑکنا، بھڑکنا یہ سننے لگیں گے اور جب اس کے تنگ و تاریک مکانوں میں جھونک دئیے جائیں تو موت کو پکاریں گے۔ آج ایک چھوڑ کئی ایک موتوں کو بھی پکاریں تو کیا ہو سکتا ہے؟ “۔ اور آیت میں ہے «وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا» [18-الكهف:53] ‏ ” گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے “۔ اور آیت میں ہے «لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ» [21-الأنبياء:39-40] ‏ ” کاش کہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب کہ وہ اپنے چہروں پر سے اور اپنی کمروں پر سے جہنم کی آگ کو دور نہ کر سکیں گے نہ کسی کو مددگار پائیں گے اچانک عذاب الٰہی انہیں ہکا بکا کر دیں گے نہ انہیں ان کے دفع کرنے کی طاقت ہو گی نہ ایک منٹ کی مہلت ملے گی “۔ اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بے نیاز ہو جائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقا کام نہ آئیں گے۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو؟ اسی کو جناب باری نے فرمایا آیت «وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» [46-الأحقاف:6-5] ‏ یعنی ” اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بے خبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہو جانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں “۔صفحہ نمبر4504اور آیتوں میں ہے کہ «وَاتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ آلِهَةً لِّيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [19-مریم:81-82] ‏ ” اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہو جائیں گے۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے “۔ خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ آیت «ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۡ وَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» [29-العنكبوت:25] ‏ یعنی ” قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہو جائیں گے “۔ اور آیت میں ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُم مَّوْبِقًا» [18-الکھف:52] ‏ ” انہیں قیامت کے دن حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو پکارو “۔صفحہ نمبر4505

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

فَاَلْقَوْا اِلَيْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَ شرک کا ارتکاب کرنے والے یہ لوگ محشر میں جب ان مقدس ہستیوں کو دیکھیں گے جن کے نام کی وہ دنیا میں دہائی دیا کرتے تھے تو پکار اٹھیں گے کہ اے اللہ ! یہ ہیں وہ ہستیاں جنہیں ہم پکارا کرتے تھے آپ کو چھوڑ کر۔ مثلاً حضرت عبدالقادر جیلانی کے نام کی دہائی دینے والے جب وہاں آپ کو بلند مراتب پر فائز دیکھیں گے تو آپ کو پہچان کر ایسے کہیں گے۔ اور حضرت عیسیٰ کو اللہ کا شریک ٹھہرانے والے جب آپ کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے کہ یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم جنہیں ہم اللہ کا چہیتا بیٹا سمجھتے تھے اور ہمارا عقیدہ تھا کہ وہ سولی پر چڑھ کر ہمارے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کرچکے ہیں۔یہ تمام مقدس ہستیاں وہاں مشرکین کے مشرکانہ عقائد سے اظہارِ برأت کریں گی کہ ہمارا تم لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے کہ تم لوگ دنیا میں ہماری عبادت کیا کرتے تھے اور اللہ کے سوا ہمیں پکارا کرتے تھے۔ قبل ازیں یہ مضمون سورة یونس کی آیت 28 اور 29 میں بھی گزر چکا ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Finally, a note about the statement: سَرَ‌ابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ‌ (shirts which protect you from heat - 81). Here, protection from heat has been identified as the purpose of a shirt - though, a shirt protects one from heat and cold both. This has been answered by Imam Al-Qurtubi and other commentators by saying that the Holy Qur’ an has been revealed in the Arabic language, its first addressees are Arabs, therefore, it speaks by taking Arab habits and needs into account. Arabia is a hot country where the very thought of snow and winter chill is far-fetched, therefore, the statement was left with the mention of protection from heat as being sufficient. Yet another explanation for this has been given by Maulana Ashraf Ali Thanavi in Bayan al-Qur’ an by saying that in the beginning of this Surah, the Qur’ an had already said: لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ (and for you, there is provision against cold in them - 16:5). Thus, it was in view of this earlier mention of beating cold and having warmth that only protection from heat has been mentioned here.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.