The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Nahl • Ayah 41

Para 14 Surah 16 : 41
وَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ فِى ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۟ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَلَأَجْرُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَٱلَّذِينَ
هَاجَرُوا۟
فِى
ٱللَّهِ
مِنۢ
بَعْدِ
مَا
ظُلِمُوا۟
لَنُبَوِّئَنَّهُمْ
فِى
ٱلدُّنْيَا
حَسَنَةً
ۖ
وَلَأَجْرُ
ٱلْـَٔاخِرَةِ
أَكْبَرُ
ۚ
لَوْ
كَانُوا۟
يَعْلَمُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

The Reward of the MuhajirinAllah tells us about the reward of those who migrated for His sake, seeking His pleasure, those who left their homeland behind, brothers and friends, hoping for the reward of Allah. This may have been revealed concerning those who migrated to Ethiopia, those whose persecution at the hands of their own people in Makkah was so extreme that they left them and went to Ethiopia so that they would be able to worship their Lord. Among the most prominent of these migrants were `Uthman bin `Affan and his wife Ruqayyah, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ, Ja`far bin Abi Talib, the cousin of the Messenger ﷺ, and Abu Salamah bin `Abdul-Asad, among a group of almost eighty sincere and faithful men and women, may Allah be pleased with them. Allah promised them a great reward in this world and the next. Allah said:لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِى الدُّنْيَا حَسَنَة(We will certainly give them good residence in this world,) Ibn `Abbas, Ash-Sha`bi and Qatadah said: (this means) "Al-Madinah." It was also said that it meant "good provision". This was the opinion of Mujahid. There is no contradiction between these two opinions, for they left their homes and wealth, but Allah compensated them with something better in this world. Whoever gives up something for the sake of Allah, Allah compensates him with something that is better for him than that, and this is what happened. He gave them power throughout the land and caused them to rule over the people, so they became governors and rulers, and each of them became a leader of the pious. Allah tells us that His reward for the Muhajirin in the Hereafter is greater than that which He gave them in this world, as He says:وَلاّجْرُ الاٌّخِرَةِ أَكْبَرُ(but indeed the reward of the Hereafter will be greater) meaning, greater than that which We have given you in this world.لَوْ كَانُواْ يَعْلَمُونَ(if they but knew!) means, if those who stayed behind and did not migrate with them only knew what Allah prepared for those who obeyed Him and followed His Messenger . Then Allah describes them as:الَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ(those who remained patient, and put their trust in their Lord.) (16:42), meaning, they bore their people's persecution with patience, putting their trust in Allah Who made their end good in this world and the Hereafter.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

دین کی پاسبانی میں ہجرت ٭٭جو لوگ اللہ کی راہ میں ترک وطن کرکے، دوست، احباب، رشتے دار، کنبے تجارت کو اللہ کے نام پر ترک کر کے دین ربانی کی پاسبانی میں ہجرت کر جاتے ہیں ان کے اجر بیان ہو رہے ہیں کہ ” دونوں جہان میں یہ اللہ کے ہاں معزز و محترم ہیں “۔ بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکے میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کرکے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں۔ ان کے بہترین لوگ یہ تھے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور ابوسلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ قریب قریب اسی (‏80)‏ آدمی تھے مرد بھی عورتیں بھی جو سب صدیق اور صدیقہ تھے اللہ ان سب سے خوش ہو اور انہیں بھی خوش رکھے۔صفحہ نمبر4450پس اللہ تعالیٰ ایسے سچے لوگوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ ” انہیں وہ اچھی جگہ عنایت فرمائے گا “۔ جیسے مدینہ اور پاک روزی، مال کا بھی بدلہ ملا اور وطن کا بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے جیسی چیز کو چھوڑے اللہ تعالیٰ اسی جیسی بلکہ اس سے کہیں بہتر، پاک اور حلال چیز اسے عطا فرماتا ہے۔ ان غریب الوطن مہاجرین کو دیکھئیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم و بادشاہ کر دیا اور دنیا پر ان کو سلطنت عطا کی۔ ابھی آخرت کا اجر و ثواب باقی ہے۔ پس ہجرت سے جان چرانے والے مہاجرین کے ثواب سے واقف ہوتے تو ہجرت میں سبقت کرتے۔ اللہ تعالیٰ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے خوش ہو کہ آپ رضی اللہ عنہ جب کبھی کسی مہاجر کو اس کا حصہ غنیمت و غیرہ دیتے تو فرماتے ”لو اللہ تمہیں برکت دے یہ تو دنیا کا اللہ کا وعدہ ہے اور ابھی اجر آخرت جو بہت عظیم الشان ہے، باقی ہے۔‏“ پھر اسی آیت مبارک کی تلاوت کرتے۔ ان پاکباز لوگوں کا اور وصف بیان فرماتا ہے کہ ” جو تکلیفیں اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتی ہیں یہ انہیں جھیل لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جو انہیں توکل ہے، اس میں کبھی فرق نہیں آتا، اسی لیے دونوں جہان کی بھلائیاں یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں “۔صفحہ نمبر4451

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 40 اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ حکم عالم امر کے بارے میں ہے جبکہ عالم خلق میں یوں نہیں ہوتا عالم امر اور عالم خلق کے بارے میں وضاحت اس سورة کی آیت 2 اور سورة الاعراف کی آیت 54 کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ عالم امر میں کسی واقعے یا کسی چیز کے ظہور پذیر ہونے کے لیے اسباب وسائل اور وقت درکار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ارادہ فرماکر کن فرماتے ہیں تو وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ عالم خلق میں بھی کلی اختیار تو اللہ ہی کا ہے مگر اس عالم کو عام طبعی قوانین کے مطابق چلایا جاتا ہے۔ چناچہ عالم خلق میں کسی چیز کو وجود میں آنے اور مطلوبہ معیار تک پہنچنے کے لیے اسباب وسائل اور وقت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ کائنات اپنے تمام طبعی موجودات کے ساتھ عالم خلق کا اظہار ہے۔ آیت زیر نظر کے موضوع کی مناسبت سے یہاں میں کائنات کی تخلیق کے آغاز سے متعلق اپنی سوچ اور فکر کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔کائنات کی تخلیق کے بارے میں ایک طرف تو پرانے فلسفیانہ تصورات ہیں اور دوسری طرف جدید سائنسی نظریات theories۔ فلسفیانہ تصورات کے مطابق سب سے پہلے وجود باری تعالیٰ سے عقل اوّل وجود میں آئی۔ عقلِ اوّل سے پھر فلکِ اوّل اور پھر فلکِ اوّل سے فلک ثانی وغیرہ۔ یہ مشائین کے فلسفے ہیں جو ارسطو اور اس کے شاگردوں کے نظریات کے ساتھ دنیا میں پھیلے اور ہمارے ہاں بھی بہت سے متکلمین ان سے متاثر ہوئے۔ بہر حال جدید سائنسی انکشافات کے ذریعے ان میں سے کسی بھی نظریے کی کہیں کوئی تائید و تصدیق نہیں ہوئی۔ دوسری طرف جدید فزکس کے میدان میں اعلیٰ علمی سطح پر اس سلسلے میں جتنے بھی نظریات theories ہیں ان میں ”عظیم دھماکے“ Big Bang کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس تصور کے تحت Big Bang کے نتیجے میں ارب ہا ارب درجہ حرارت کے حامل بیشمار ذرات وجود میں آئے۔ یہ ذرات تیزی سے حرکت کرتے ہوئے مختلف forms میں اکٹھے ہوئے تو کہکشائیں galaxies وجود میں آئیں اور چھوٹے بڑے بیشمار ستاروں کا ایک جہان آباد ہوگیا۔ انہی ستاروں میں ایک ہمارا سورج بھی تھا جس کے اندر مزید ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں اس کے سیارے planets وجود میں آئے۔ سورج کے ان سیاروں میں سے ایک سیارہ ہماری زمین ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی ہوتی رہی اور بالآخر اس پر نباتاتی اور حیوانی زندگی کے لیے سازگار ماحول وجود میں آیا۔ آج کی سائنس فی الحال ”بگ بینگ“ سے آگے کوئی نظریہ قائم کرنے سے قاصر ہے۔ اس نظریے سے جو معلومات سائنس نے اخذ کی ہیں وہ ان تمام حقائق کے ساتھ مطابقت corroboration رکھتی ہیں جن کا علم اس موضوع پر ہمیں قرآن سے ملتا ہے۔ اس سے پہلے مادے کے بارے میں سائنس قانون بقائے مادہ Law of conservation of mass کی قائل تھی کہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا مگر نئے نظریے کو اپنا کر سائنس نے نہ صرف بگ بینگ کو کائنات کا نقطہ آغاز تسلیم کرلیا ہے بلکہ یہ بھی مان لیا ہے کہ مادہ ایک خاص وقت تک کے لیے ہے اور ایک خاص وقت کے بعد ختم ہوجائے گا۔جہاں تک کا ئنات کی تخلیق کے آغاز کے بارے میں میری اپنی سوچ کا تعلق ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے ایک امر ”کُن“ سے ہوئی اللہ کے حکم سے نہ کہ اس کی ذات سے۔ پھر اس امر ”کن“ کا ظہور ایک خنک نور یا ٹھنڈی روشنی کی صورت میں ہوا یہ خنک نور حرف کن کا ظہور تھا نہ کہ ذات باری تعالیٰ کا۔ اس روشنی میں حرارت نہیں تھی گویا یہ مادی روشنی material light کے وجود میں آنے سے پہلے کا دور تھا۔ آج جس روشنی کو ہم دیکھتے یا پہچانتے ہیں اس میں حرارت ہوتی ہے اور اسی حرارت کی وجہ سے یہ material light ہے۔ امرِ ”کن“ سے ظہور پانے والے اس خنک نور سے پہلے مرحلے پر ملائکہ کی پیدائش ہوئی۔ جیسے کہ مسلم شریف میں حضرت عائشہ سے حدیث مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو نور سے پیدا کیا۔ اسی نور سے انسانی ارواح پیدا کی گئیں اور سب سے پہلے روح محمدی پیدا کی گئی جیسا کہ حدیث میں الفاظ آئے ہیں : اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرا نور پیدا کیا۔ ”نُورِی“ اور ”رُوحِی“ گویا دو مترادف الفاظ ہیں کیونکہ روح کا تعلق بھی نور سے ہے۔ بہرحال یہ کائنات کی تخلیق کا مرحلہ اول ہے جس میں فرشتوں اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی۔اس کے بعد کسی مرحلے پر اس خنک نور میں کسی نوعیت کا زور دار دھماکہ explosion ہوا جس کو آج کی سائنس ”بگ بینگ“ کے نام سے پہچانتی ہے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں حرارت کا وہ گولا وجود میں آیا ‘ جو بہت چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل تھا۔ ان ذرات کا درجہ حرارت ناقابل تصور حد تک تھا۔ یہ گویا طبعی دنیا Physical World کا نقطہ آغاز تھا۔ اسی دور میں اس آگ کی لپٹ سے ِ جنات پیدا کیے گئے اور انہی انتہائی گرم ذرات سے کہکشائیں ‘ ستارے اور سیارے وجود میں آئے۔ ان سیاروں میں سے ایک سیارہ یا کرہ ہماری زمین ہے جو ابتدا میں انتہائی گرم تھی۔ اس کے ٹھنڈا ہونے پر اس کے اندر سے بخارات نکلے جو اس کے گرد ایک ہالے کی شکل میں جمع ہوگئے۔ ان بخارات سے پانی وجود میں آیا جو ہزار ہا برس تک زمین پر بارش کی صورت میں برستا رہا۔ اس کے نتیجے میں تمام روئے زمین پر ہر طرف پانی ہی پانی پھیل گیا۔ اس وقت تک زمین پر پانی کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ یہی وہ دور تھا جس کا ذکر قرآن میں بایں الفاظ کیا گیا ہے : وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ ھود : 7 ”کہ اس کا عرش اس وقت پانی پر تھا“۔ پھر زمین جب مزید ٹھنڈا ہونے پر سکڑی تو اس کی سطح پر نشیب و فراز نمودار ہوئے۔ کہیں پہاڑ وجود میں آئے تو کہیں سمندر۔ اس کے بعد نباتاتی اور حیوانی حیات کا آغاز ہو۔ اس حیات کے ارتقاء کے بلند ترین مرحلے پر انسان کی تخلیق ہوئی اور حضرت آدم کی روح ان کے وجود کو سونپی گئی۔ حضرت آدم کی تاجپوشی کا یہی واقعہ ہے جہاں سے قرآن آدم کی تخلیق کا تذکرہ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا اعلیٰ ترین شاہکار بھی ہے اور اس پوری کائنات کی تخلیق کا اصل مقصود و مطلوب بھی۔ یہاں ایک نکتہ یہ بھی سمجھ لیں کہ عالم خلق اور عالم امر بالکل الگ الگ نہیں ہیں۔ یعنی یوں نہیں کہا جاسکتا کہ یہاں تک تو عالم خلق ہے اور یہاں سے آگے عالم امر ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ دونوں عالم ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط اور باہم گندھے ہوئے ہیں۔ مثلاً اس عالم خلق میں تمام انسانوں کی ارواح موجود ہیں ‘ جن کا تعلق عالم امر سے ہے : وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ بنی اسرائیل : 85 یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ“ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض نیک بندوں کی ارواح کو فرشتوں کے طبقہ اسفل میں شامل کرلیتے ہیں۔ چناچہ یہ نیک ارواح ان فرشتوں کے ساتھ سرگرم عمل رہتی ہیں جو اللہ کے احکام کی تعمیل و تنفیذ میں مصروف ہیں۔ اسی طرح فرشتے جو کہ عالم امر کی مخلوق ہیں وہ بھی یہاں عالم خلق میں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ دو دو فرشتے تو ہم میں سے ہر انسان کے ساتھ بطور نگران مقرر کیے گئے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَاب اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہٗ بَیْنَھُمْ الاَّ نَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِیْنَۃُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلَاءِکَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہٗ 1”اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں کچھ لوگ کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے جمع نہیں ہوتے مگر یہ کہ ان کے اوپر سکینت نازل ہوتی ہے ‘ اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ‘ فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین ملأ اعلیٰ میں ان کا ذکر کرتا ہے۔“ اس حدیث کی رو سے درس قرآن کی اس محفل میں یقیناً فرشتے موجود ہیں ‘ وہ عالم امر کی شے ہیں ‘ ہم نہ انہیں دیکھ سکتے ہیں نہ ان سے خطاب کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اہل ایمان جنات بھی موجود ہوں اور قرآن سن رہے ہوں۔ چناچہ ارواح فرشتے اور وحی تینوں کا تعلق اگرچہ عالم امر سے ہے مگر ان کا عمل دخل عالم خلق میں بھی ہے۔ اس طرح عالم خلق اور عالم امر کو بالکل الگ الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں میں مرزا عبدالقادر بیدل کے ایک مشہور شعر کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جو تخلیق کائنات اور تخلیق آدم کے اس فلسفہ کو بہت خوبصورتی سے واضح کرتا ہے :ہر دو عالم خاک شد تا بست نقش آدمی اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش !مرزا عبدالقادر بیدل ہندوستان میں اور نگ زیب عالمگیر کے زمانے میں تھے۔ وہ عظیم فلسفی اور فارسی کے بہت بڑے شاعر تھے۔ ان کا شمار دنیا کے چوٹی کے فلسفیوں میں ہوتا تھا۔ ان کی شاعرانہ عظمت کے سامنے مرزا غالب بھی پانی بھرتے اور ان کی طرز کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے نظر آتے ہیں : طرز بیدل میں ریختہ لکھنا اسد اللہ خاں قیامت ہے !موضوع کی اہمیت کے پیش نظر یہاں مرزا بیدل کے مندرجہ بالا شعر کی وضاحت ضروری ہے۔ اس شعر میں وہ فرماتے ہیں ”ہر دو عالم خاک شد“ یعنی دونوں عالم خاک ہوگئے۔ شاعر کے اپنے ذہن میں اس کی وضاحت کیا تھی اس کے بارے میں شاعر خود جانتا ہے یا اللہ تعالیٰ۔ لیکن میں اس سے یہ نکتہ سمجھا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے عالم امر کو تنزل کے مختلف مراحل سے گزار کر عالم خلق کی شکل دی۔ پھر اس کے مزید تنزلات کے نتیجے میں زمین مٹی پیدا کی گئی۔ گویا دونوں جہانوں نے خاک کی صورت اختیار کرلی تب جا کر کہیں حیات ارضی کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر اس سلسلے میں ارتقا کا وہ بلند ترین مرحلہ آیا : ”تابست نقش آدمی !“ جب آدمی کا نقش بننا شروع ہوا۔ دوسرے مصرعے میں اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش ! ”نیست“ کے فلسفے کو بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ”وحدت الوجود“ کے فلسفے کے مطابق حقیقی وجود صرف اللہ کا ہے ‘ باقی جو کچھ بھی ہمیں نظر آتا ہے اس میں سے کسی چیز کا وجود حقیقی نہیں ہے۔ گویا اللہ کے علاوہ اس کائنات کی ہرچیز ”نیست“ ہے ”ہست“ نہیں ہے : کُلُّ مَا فِی الْکَوْنِ وَ ھْمٌ اَوْ خَیَالٌ اَوْ عُکُوسٌ فِی المَرایَا اَوْ ظِلَال یعنی اللہ کے وجود کے علاوہ جو وجود بھی نظر آتے ہیں وہ وہم ہیں یا خیالی تصویریں۔ اس طرح یہ تمام عالم گویا ”نیست“ ہے اور اس عالم نیست کی ”بہار“ انسان ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خَلَقْتُ بِیَدَیَّ صٓ: 75 کہ میں نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے۔ اللہ کا ایک ہاتھ گویا عالم امر اور دوسرا ہاتھ عالم خلق ہے۔ اس طرح انسان اللہ تعالیٰ کے عمل تخلیق کا کلائمکس ‘ مسجود ملائک اور خلیفۃ اللہ ہے۔ چناچہ مرزا بیدل فرماتے ہیں اے بہار نیستی از قدر خود ہوشیار باش ! کہ اے انسان ! اے اس عالم نیستی کی بہار ! ذرا اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانو ! تمہیں وجود میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دو عالم کو نہ جانے تنزلات کی کن کن منازل سے نیچے اتار کر خاک کیا ‘ تب کہیں جا کر تمہارا نقش بنا۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

CommentaryThe verb: هَاجَرُ‌وا (hajaru) is a derivation from hijrat (pausal : hijrah) which literally means to leave one's homeland. The leaving of one's home-land done for the sake of Allah is an act of great obedience and worship in Islam. The Holy Prophet ﷺ said: اَلھِجرۃ تَھدَمُ مَا کَانَ قَبلَھَا ('Hijrah demolishes all sins that were before it' ).This Hijrah is Farcl (obligatory) and Wajib (necessary) under some situations while it is recommended as desirable and better (Mustahabb) under some others. Related injunctions have appeared in details under comments on verse 97 of Surah An-Nisa' أَلَمْ تَكُنْ أَرْ‌ضُ اللَّـهِ وَاسِعَةً (Was not the earth of Allah wide enough that you might have sought refuge in it? - 3:97) [ Ma` ariful-Qur'an, Volume II ] Mentioned here at this place are particular promises which Allah Ta’ ala has made to Muhajirin, those who do Hijrah, that is, leave their homeland for His sake.How does Hijrah bring Better Life in the Present World?In the verses cited above, two great promises have been made to Muhajirin subject to some conditions: (1) To give them a good place right here in this world, and (2) To bless them with the greater reward of the Hereafter which is limitless. The expression: 'a good place in the world' is highly comprehensive. It includes a good residence for the Muhajir (one who does Hijrah) as well as neighbours who are good. It also includes extended means of living, supremacy over hostile enemies, recognition and fair name among people, and honour which continues through the family, and progeny. (Qurtubi)The background of the revelation of the verse is basically the first Hijrah which the noble Companions made to Ethiopea. Then, the probability that it may include the Hijrah to Ethiopea as well as the Hijrah to al-Madinah al-Munawwarah which came after that. Mentioned here in this verse are the same Muhajirin to Ethiopea, or the Muhajirin to Madinah. Therefore, some scholars have said that this promise was for these blessed Sahabah ؓ only, that is, those who had made their Hijrah to Ethiopea, or those who had later done it to Madinah. As for the promise of Allah, it stood already fulfilled within the present world, something witnessed openly. Everyone saw how Madinah was made for them the real good place to live. Instead of hostile neighbours, they lived among those who were sympathetic, sharing and sacrificing. Enemies were conquered and subdued. Within a short period of time since their Hijrah, doors of ample sustenance were thrown open for them. The poor and needy of yester years became wealthy citizens of the day. Many countries of the world came under their sway. Such were their achiements in moral greatness and beauty of conduct that they remain receiving words of praise from friends and foes alike even to this day. Allah Ta` ala blessed them with great honour, and their generations as well. These were things that were to take place in this world, which they did. Now, the promise of the Hereafter shall also be fulfilled. But, says Abu Hayyan in his Tafslr Al-Bahr Al-Muhit:وَالَّذِینَ ھَاجَرُوا عَام فِی المُھَاجِرِینَ کَایٔنا مَّا کَانُوا فَیَشمَلُ اَوَّلَھُم وآخِرَھُمThe expression: الَّذِينَ هَاجَرُ‌وا (And those who migrated) is general and inclusive of all those who leave their homeland whatever their country or time. Therefore, this includes all Muhajirin, from the very first ones down to the last among them who do their Hijrah for the sake of Allah right upto the Last Day, the day of Al-Qiyamah. (v. 5, p. 492)This is also as required by the general exegetic rule under which a commentator relies on the general sense of the word, even though there be a particular event or group as the prime cause of the revelation of the verse. Therefore, included in this promise are Muhajirin of the whole world and of all times - and the fulfillment of both these promises for all Muhajirin is certain.A similar promise has been made for Muhajirin in the following verse of Surah An-Nisa' وَمَن يُهَاجِرْ‌ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ يَجِدْ فِي الْأَرْ‌ضِ مُرَ‌اغَمًا كَثِيرً‌ا وَسَعَةً [ And whoever migrates in the way of Allah he shall find many a place to settle and wide dimension (of resources) - 4:100] particularly promised wherein are spatial abundance and extensive means. But, along with these promises, the Holy Qur'an has also put forth some qualifications of Muhajirin and some conditions of Hijrah as well. Therefore, those deserving of the fulfillment of these promises can only be the Muhajirin who possess these qualifications and who have satisfied the desired conditions.

Seerat Event: Second Migration to Abyssinia — Larger Group 5 BH AH / 616 CE

A second, larger group of approximately 83 men and 18 women migrated to Abyssinia to escape intensifying Qurayshi persecution. The Quraysh sent Amr ibn al-As and Abdullah ibn Abi Rabia as envoys to the Negus to have them returned, bringing gifts. But the Negus, after hearing Jafar ibn Abi Talib recite verses from Surah Maryam, refused to hand them over, declaring he could find no difference between their message and that of Jesus.

📍 Location: Abyssinia (Ethiopia)
🏷️ Category: hijra
📚 Source: Ar-Raheeq Al-Makhtum (The Sealed Nectar) Chapter: Second Migration to Abyssinia
Seerat Event: Persecution of Bilal ibn Rabah / 612–614 CE

Bilal ibn Rabah (RA), an Abyssinian slave, accepted Islam and was tortured by his master Umayyah ibn Khalaf. He was dragged across hot sand with a heavy rock on his chest and told to renounce Islam, but he repeated "Ahad! Ahad!" (One! One!). Abu Bakr (RA) purchased and freed him. Bilal became the first muezzin of Islam.

📍 Location: Makkah, Arabian Peninsula
🏷️ Category: dawah
📚 Source: Ar-Raheeq Al-Makhtum (The Sealed Nectar) Chapter: Persecution of the Early Muslims
Seerat Event: Persecution of Khabbab ibn al-Aratt / 612–614 CE

Khabbab ibn al-Aratt (RA), a blacksmith and freed slave, was tormented by his owner Umm Anmar who pressed burning coals against his back. He bore the scars for life. He later came to the Prophet complaining of the persecution, and the Prophet urged patience, foretelling the future victory of Islam.

📍 Location: Makkah, Arabian Peninsula
🏷️ Category: dawah
📚 Source: Ar-Raheeq Al-Makhtum (The Sealed Nectar) Chapter: Persecution of the Early Muslims
Seerat Event: First Migration to Abyssinia — 15 Companions / 615 CE

In 615 CE, as Makkan persecution intensified, the Prophet advised a group of Muslims to migrate to Abyssinia (Ethiopia) whose Christian king Negus (Ashama ibn Abjar) was known for his justice. Fifteen companions made this first migration — 12 men and 3 women. This was the first hijra in Islam.

📍 Location: Makkah to Abyssinia (Ethiopia)
🏷️ Category: hijra
📚 Source: Ar-Raheeq Al-Makhtum (The Sealed Nectar) Chapter: Migration to Abyssinia
Seerat Event: Second Migration to Abyssinia — 83 Men and 18 Women / 616 CE

After some who returned from Abyssinia found persecution worse, a second and larger migration took place in 616 CE. About 83 men (or 101 people in total) migrated. Among them were Uthman ibn Affan and his wife Ruqayyah (the Prophet's daughter). The Quraysh sent envoys after them.

📍 Location: Makkah to Abyssinia (Ethiopia)
🏷️ Category: hijra
📚 Source: Ar-Raheeq Al-Makhtum (The Sealed Nectar) Chapter: Second Migration to Abyssinia
Seerat Event: Quraysh Delegation to Negus — Amr ibn al-As and Abdullah ibn Abi Rabia / 616 CE

The Quraysh sent Amr ibn al-As and Abdullah ibn Abi Rabia to the Negus with gifts to demand the return of the Muslim refugees. They tried to paint the Muslims as apostates from their ancestral religion. The Negus summoned the Muslims for a hearing.

📍 Location: Abyssinia (Ethiopia)
🏷️ Category: dawah
📚 Source: Ar-Raheeq Al-Makhtum (The Sealed Nectar) Chapter: Negus's Judgment
Seerat Event: False Rumor of Quraysh Accepting Islam — Return and Second Migration / 616 CE

A false rumor reached Abyssinia that the Quraysh of Makkah had accepted Islam. Many migrants returned to Makkah only to find the persecution had intensified. Some returned immediately to Abyssinia, others remained. This led to the second, larger migration.

📍 Location: Abyssinia to Makkah
🏷️ Category: hijra
📚 Source: Ar-Raheeq Al-Makhtum (The Sealed Nectar) Chapter: The False Rumor
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.