The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Nahl • Ayah 3

Para 14 Surah 16 : 3
خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِٱلْحَقِّ ۚ تَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

خَلَقَ
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ
وَٱلْأَرْضَ
بِٱلْحَقِّ
ۚ
تَعَـٰلَىٰ
عَمَّا
يُشْرِكُونَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Allah is the One Who has created the Heavens, the Earth, and ManAllah tells us about His creation of the upper realm, which is the heavens, and the lower realm, which is the earth, and everything in them. They have been created for a true purpose, not in vain, so thatلِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى(He may requite those who do evil with that which they have done (i.e. punish them in Hell), and reward those who do good, with what is best (i.e. Paradise).) 53:31 Then He declares Himself to be above the Shirk of those who worship others besides Him. He is independent of His creation, alone with no partner or associate. For this reason He deserves to be worshipped Alone, without partners. Then He mentions how man has been created from a Nutfah, i.e., something that is insignificant, weak and has no value - but when man becomes independent and is able to fend for himself - then he begins to dispute with his Lord, may He be exalted, and disbelieves in Him and fights His Messengers. But man was created to be a servant, not an opponent, as Allah says:وَهُوَ الَّذِى خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَراً فَجَعَلَهُ نَسَباً وَصِهْراً وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيراً - وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لاَ يَنفَعُهُمْ وَلاَ يَضُرُّهُمْ وَكَانَ الْكَـفِرُ عَلَى رَبِّهِ ظَهِيراً(And it is He Who has created man from water, and gave him descendants, and made Him kindred by marriage, and your Lord is capable (of all things). And they worship besides Allah, that which can neither profit them nor harm them; and the disbeliever is ever a helper (of Shaytan) against his Lord) (25: 54-55). And;أَوَلَمْ يَرَ الإِنسَـنُ أَنَّا خَلَقْنَـهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مٌّبِينٌ - وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِىَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحىِ الْعِظَـمَ وَهِىَ رَمِيمٌ - قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِى أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ(Does not man see that We have created him from Nutfah. Yet, behold he stands as an open opponent. And he puts forth for Us a parable, and forgets his own creation. He says: "Who will give life to these bones after they are rotten and have become dust" Say: "He will give life to them Who created them the first time! And He is the knower of every creature!") (36:77-79). Imam Ahmad and Ibn Majah reported that Busr bin Jahhash said: "The Messenger of Allah ﷺ spat in his palm, then he said,«يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: ابْنَ آدَمَ أَنَّى تُعْجِزُنِي وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ، حَتَّى إِذَا سَوَّيْتُكَ فَعَدَلْتُكَ مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْكَ وَلِلْأَرْضِ مِنْكَ وَئِيدٌ، فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ: أَتَصَدَّقُ، وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَة»(Allah, may He be exalted, says: "O son of Adam, how could you be more powerful than I when I have created you from something like this, and when I have fashioned you perfectly and made you complete, you walk wearing your two garments and the earth makes a sound (beneath your feet). You collect money but do not give anything to anyone, then when the soul of a dying person reaches the throat, you say, `I want to give in charity', but it is too late for charity.")

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

بابعالم علوی اور سفلی کا خالق اللہ کریم ہی ہے -بلند آسمان اور پھیلی ہوئی زمین مع تمام مخلوق کے اسی کی پیدا کی ہوئی ہے اور یہ سب بطور حق ہے نہ بطور عبث۔ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہو گی۔ وہ تمام دوسرے معبودوں اور مشرکوں سے بری اور بیزار ہے۔ واحد ہے، لا شریک ہے، اکیلا ہی خالق کل ہے۔ اسی لیے اکیلا ہی سزاوار عبادت ہے۔ انسان حقیر و ذلیل لیکن خالق کا انتہائی نافرمان ہے۔ اس نے انسان کا سلسلہ نطفے سے جاری رکھا ہے جو ایک پانی ہے۔ حقیر و ذلیل یہ جب ٹھیک ٹھاک بنا دیا جاتا ہے تو اکڑفوں میں آجاتا ہے رب سے جھگڑنے لگتا ہے رسولوں کی مخالفت پر تل جاتا ہے۔ بندہ تھا چاہیئے تو تھا کہ بندگی میں لگا رہتا لیکن یہ تو زندگی کرنے لگا۔ اور آیت میں ہے «وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُهُمْ وَلَا يَضُرُّهُمْ وَكَانَ الْكَافِرُ عَلَى رَبِّهِ ظَهِيرًا» [25-الفرقان:54-55] ‏ ” اللہ نے انسان کو پانی سے بنایا اس کا نسب اور سسرال قائم کیا۔ اللہ قادر ہے رب کے سوا یہ ان کی پوجا کرنے لگے ہیں جو بے نفع اور بے ضرر ہیں کافر کچھ اللہ سے پوشیدہ نہیں “۔ سورۃ یاسین میں فرمایا «أَوَلَمْ يَرَ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» [36-یس:77-79] ‏ ” کیا انسان نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا پھر وہ تو بڑا ہی جھگڑالو نکلا۔ ہم پر بھی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش بھول گیا کہنے لگا کہ ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہہ دو کہ انہیں وہ خالق اکبر پیدا کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا وہ تو ہر طرح کی مخلوق کی پیدائش کا پورا عالم ہے “۔ مسند احمد اور ابن ماجہ میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر تھوک کر فرمایا کہ جناب باری فرماتا ہے کہ ” اے انسان تو مجھے کیا عاجز کر سکتا ہے میں نے تو تجھے اس تھوک جیسی چیز سے پیدا کیا ہے جب تو زندگی پا گیا تنومند ہو گیا لباس مکان مل گیا تو لگا سمیٹنے اور میری راہ سے روکنے؟ اور جب دم گلے میں اٹکا تو تو کہنے لگا کہ اب میں صدقہ کرتا ہو، اللہ کی راہ میں دیتا ہوں۔ بس اب صدقہ خیرات کا وقت نکل گیا “ ۔ [سنن ابن ماجه:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏صفحہ نمبر4401

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ سے مراد اللہ کی وحی ہے۔ یعنی حضرت محمد کو اللہ نے اپنی وحی کے لیے چن لیا اور آپ کی طرف حضرت جبرائیل وحی لے کر آئے۔ یہاں پر لفظ ”امر“ کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ سورة الاعراف کی آیت 54 میں فرمایا گیا : اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط ”آگاہ ہوجاؤ ‘ اسی کے لیے خلق ہے اور اسی کے لیے امر“۔ یعنی عالم خلق اور عالم امر دو الگ الگ عالم ہیں۔ عالم امر کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں وقت کا عامل بالکل کارفرما نہیں۔ اس عالم میں کسی کام کے کرنے یا کوئی واقعہ وقوع پذیر ہونے میں وقت درکار نہیں ہوتا۔ بس اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے اور اس کے ”کُنْ“ فرمانے سے وہ کام ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ سورة یٰسٓ میں فرمایا گیا : اِنَّمَآ اَمْرُہٓٗ اِذَآ اَرَادَ شَیْءًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ”اس کا امر تو یہی ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو بس یہی ہوتا کہ وہ اسے کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔“ اس کے برعکس عالم خلق میں کسی کام کے پایہ تکمیل تک پہنچنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ جیسے قرآن میں متعدد بار فرمایا گیا کہ اللہ نے زمین و آسمان چھ دنوں میں تخلیق کیے۔ اسی طرح دنیا کا سارا نظام عالم خلق کے اصولوں پر چل رہا ہے۔ مثلاً آم کی گٹھلی سے کو نپلیں پھوٹتی ہیں ‘ پھر بڑھتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ اس سارے عمل میں وقت درکار ہوتا ہے۔ یہاں پر روح کے ذکر کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے۔ عالم امر کی صرف تین چیزیں ہی ہمارے علم میں ہیں۔ ملائکہ ‘ روح اور وحی۔ قرآن میں ملائکہ کو بھی روح کہا گیا ہے۔ جیسے حضرت جبرائیل کے لیے روح القدس اور روح الامین کے الفاظ آئے ہیں۔ سورة الشعراء میں فرمایا گیا : نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ جبکہ سورة البقرۃ کی آیت 87 میں ارشاد ہوا : وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۔ اسی طرح قرآن میں وحی کو بھی روح کہا گیا ہے ‘ اور یہ وحی نازل بھی روح پر ہوتی ہے۔ جب محمد رسول اللہ پر وحی نازل ہوتی تو آپ اس کا ادراک طبعی حواس خمسہ سے نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ وحی براہ راست آپ کے قلب مبارک پر نازل ہوتی تھی۔ اس لیے کہ قلب محمدی روح محمدی کا مسکن تھا : نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ الشعراء۔ چناچہ وحی بھی روح ہے ‘ اس کو لانے والے جبرائیل امین بھی روح ہیں اور اس کا نزول بھی روح محمدی پر ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں جگر مراد آبادی کا یہ شعر ان کی کسی خاص کیفیت کا مظہر معلوم ہوتا ہے نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو روح سنے اور روح سنائے !

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

Lexical ExplanationThe word: خَصِیم (khasim) in verse 4 has been derived from: خُصُومۃ (khusumah) and means a quarrelsome person. Al-An’ am is the plural of na'am, which are cattles such as the camel, goat and cow. (A1-Mufradat of Raghib al-Isfahan)The word: دِفْءٌ (difun) in verse 5 denotes what provides warmth, that is, wool which is used to make warm clothings. The word: تُرِیحُون (turihun) in verse 6 is a derivation from rawah, and: تَسْرَ‌حُونَ (tasrahun) in the same verse, from saralh. When the cattle are sent to graze, it is called sarah, and when they return home, it is called rawah. The expression: بِشِقِّ الْأَنفُسِ -(shiqqil-anfus) in verse 7 means personal hardship.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.