Surah An-Nahl • Ayah 128
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
The Command for Equality in PunishmentAllah commands justice in punishment and equity in settling the cases of rights. `Abdur-Razzaq recorded that, concerning the Ayah,فَعَاقِبُواْ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ(then punish them with the like of that with which you were afflicted.) Ibn Sirin said, "If a man among you takes something from you, then you should take something similar from him." This was also the opinion of Mujahid, Ibrahim, Al-Hasan Al-Basri, and others. Ibn Jarir also favored this opinion. Ibn Zayd said: "They had been commanded to forgive the idolators, then some men became Muslim who were strong and powerful. They said, `O Messenger of Allah, if only Allah would give us permission, we would sort out these dogs!' Then this Ayah was revealed, then it was latter abrogated by the command to engage in Jihad."وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلاَّ بِاللَّهِ(And be patient, and your patience will not be but by the help of Allah.) This emphasizes the command to be patient and tells us that patience cannot be acquired except by the will, help, decree and power of Allah. Then Allah says:وَلاَ تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ(And do not grieve over them,) meaning, those who oppose you, for Allah has decreed that this should happen.وَلاَ تَكُ فِى ضَيْقٍ(and do not be distressed) means do not be worried or upset.مِّمَّا يَمْكُرُونَ(by their plots.) meaning; because of the efforts they are putting into opposing you and causing you harm, for Allah is protecting, helping, and supporting you, and He will cause you to prevail and defeat them.إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ(Truly, Allah is with those who have Taqwa, and the doers of good.) meaning; He is with them in the sense of supporting them, helping them and guiding them. This is a special kind of "being with", as Allah says elsewhere:إِذْ يُوحِى رَبُّكَ إِلَى الْمَلَـئِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُواْ الَّذِينَ ءَامَنُواْ((Remember) when your Lord revealed to the angels, "Verily, I am with you, so support those who believe.") 8:12 And Allah said to Musa and Harun:لاَ تَخَافَآ إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَى(Fear not, verily I am with you both, hearing and seeing.) 20:46 The Prophet said to (Abu Bakr) As-Siddiq when they were in the cave:«لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا»(Do not worry, Allah is with us.") The general kind of "being with" some one, or something is by means of seeing, hearing and knowing, as Allah says:وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(And He is with you wherever you may be. And Allah sees whatever you do.) 57:4أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَى ثَلَـثَةٍ إِلاَّ هُوَ رَابِعُهُمْ وَلاَ خَمْسَةٍ إِلاَّ هُوَ سَادِسُهُمْ وَلاَ أَدْنَى مِن ذَلِكَ وَلاَ أَكْثَرَ إِلاَّ هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُواْ(Have you not seen that Allah knows whatever is in the heavens and whatever is on the earth There is no secret counsel of three but He is their fourth, - nor of five but He is their sixth, - nor of less than that or more, but He is with them wherever they may be.) 58:7وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُواْ مِنْهُ مِن قُرْءَانٍ وَلاَ تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلاَّ كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا(You will not be in any circumstance, nor recite any portion of the Qur'an, nor having done any deeds, but We are witnessing you.) 10:61وَالَّذِينَ اتَّقَواْ(those who have Taqwa) means, they keep away from that which is forbidden.وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ(and the doers of good. ) meaning they do deeds of obedience to Allah. These are the ones whom Allah takes care of, He gives them support, and helps them to prevail over their enemies and opponents. This is end of the Tafsir of Surat An-Nahl. To Allah be praise and blessings, and peace and blessings be upon Muhammad and his family and Companions.
قصاص اور حصول قصاص ٭٭قصاص میں اور حق کے حاصل کرنے میں برابری اور انصاف کا حکم ہو رہا ہے۔ امام ابن سیرین رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں ”اگر کوئی تم سے کوئی چیز لے لے تو تم بھی اس سے اسی جیسی لے لو۔“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”پہلے تو مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم تھا۔ جب ذرا حیثیت دار لوگ مسلمان ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کی طرف سے بدلے کی رخصت ہو جائے تو ہم بھی ان کتوں سے نبڑ لیا کریں اس پر یہ آیت اتری آخر یہ بھی جہاد سے منسوخ ہو گئی۔“ عطا بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سورۃ النحل پوری مکے شریف میں اتری ہے مگر اس کی تین آخری آیتیں مدینے شریف میں اتری ہیں۔ جب کہ جنگ احد میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے اعضائے جسم بھی شہادت کے بعد کاٹ لیے گئے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا کہ اب جب مجھے اللہ تعالیٰ ان مشرکوں پر غلبہ دے تو میں ان میں سے تیس شخصوں کے ہاتھ پاؤں اسی طرح کاٹوں گا ۔ مسلمانوں کے کان میں جب اپ نبی محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ پڑے تو ان کے جوش بہت بڑھ گئے اور کہنے لگے کہ واللہ ہم ان پر غالب آکر ان کی لاشوں کے وہ ٹکڑے ٹکڑے کریں گے کہ عربوں نے کبھی ایسا دیکھا ہی نہ ہوگا اس پر یہ آیتیں اتریں ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:286/3:مرسل] ۔ لیکن یہ روایت مرسل ہے اور اس میں ایک راوی ایسا بھی ہے جن کا نام ہی نہیں لیا گیا، مبہم چھوڑا گیا۔ ہاں دوسری سند سے یہ متصل بھی مروی ہے۔صفحہ نمبر4560بزار میں ہے کہ جب سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاس کھڑے ہو کر دیکھنے لگے آہ! اس سے زیادہ دل دکھانے والا منظر اور کیا ہو گا کہ محترم چچا کی لاش کے ٹکڑے آنکھوں کے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا کہ آپ پر اللہ کی رحمت ہو، جہاں تک میرا علم ہے، میں جانتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ رشتے ناتے کے جوڑنے والے نیکیوں کو لپک کر کرنے والے تھے۔ واللہ دوسرے لوگوں کے درد و غم کا خیال نہ ہوتا تو میں تو آپ رضی اللہ عنہ کے اس جسم کو یونہی چھوڑ دیتا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ درندوں کے پیٹوں میں سے نکالتا یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ فرمایا: جب ان مشرکوں نے یہ حرکت کی ہے تو واللہ میں بھی ان میں کے ستر شخصوں کی یہی بری حالت بناؤں گا ۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے اور یہ آیتیں آتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم کے پورا کرنے سے رک گئے اور قسم کا کفارہ ادا کر دیا ۔ [مسند بزار:1795:ضعیف] لیکن سند اس کی بھی کمزور ہے۔ اس کے راوی صالح بشیر مری ہیں جو ائمہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہیں بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ تو انہیں منکر الحدیث کہتے ہیں۔ شعبی اور ابن جریج رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ ”مسلمانوں کی زبان سے نکلا تھا کہ ان لوگوں نے جو ہمارے شہیدوں کی بے حرمتی کی ہے اور ان کے اعضاء بدن کاٹ دئیے ہیں واللہ ہم بھی ان سے اس کا بدلہ لے کر ہی چھوڑیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیتیں اتاریں۔ مسند احمد میں ہے کہ جنگ احد میں ساٹھ انصاری شہید ہوئے اور چھ مہاجر رضی اللہ عنہم اجمعین تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکل گیا کہ جب ہم ان مشرکوں پر غلبہ پائیں تو ہم بھی ان کے ٹکڑے کئے بغیر نہ رہیں گے ۔ چنانچہ فتح مکہ والے دن ایک شخص نے کہا کہ آج کے دن کے بعد قریش پہچانے بھی نہ جائیں گے۔ اسی وقت ندا ہوئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کو پناہ دیتے ہیں سوائے فلاں فلاں کے (جن کے نام لیے گئے ہیں) اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت فرمایا کہ ہم صبر کرتے ہیں اور بدلہ نہیں لیتے ۔ [سنن ترمذي:3129،قال الشيخ الألباني:حسن] صفحہ نمبر4561اس آیت کریمہ کی مثالیں قرآن کریم میں اور بھی بہت سی ہیں۔ اس میں عدل کی مشروعیت بیان ہوئی ہے اور افضل طریقے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسے آیت «وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ» [42-الشورى:40] میں برائی کا بدلہ لینے کی رخصت عطا فرما کر پھر فرمایا ہے کہ جو در گزر کرلے اور اصلاح کر لے اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے “۔ اسی طرح آیت «وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ» [5-المائدہ:45] میں بھی زخموں کا بدلہ لینے کی اجازت دے کر فرمایا ہے کہ ” جو بطور صدقہ معاف کر دے یہ معافی اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی “۔ اسی طرح اس آیت میں بھی برابر بدلہ لینے کے جواز کا ذکر فرما کر پھر ارشاد ہوا ہے کہ ” اگر صبر کر لو تو یہ بہت ہی بہتر ہے “۔ پھر صبر کی مزید تاکید کی اور ارشاد فرمایا کہ ” یہ ہر ایک کے بس کا کام نہیں یہ ان ہی سے ہو سکتا ہے جن کی مدد پر اللہ ہو اور جنہیں اس کی جانب سے توفیق نصیب ہوئی ہو “۔صفحہ نمبر4562پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ” اپنے مخالفین کا غم نہ کھا، ان کی قسمت میں ہی مخالفت لکھ دی گئی ہے نہ ان کے فن فریب سے آزردہ خاطر ہو۔ اللہ تجھے کافی ہے، وہی تیرا مددگار ہے، وہی تجھے ان سب پر غالب کرنے والا ہے اور ان کی مکاریوں اور چلاکیوں سے بچانے والا ہے۔ ان کی عداوت اور ان کے برے ارادے تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے “۔صفحہ نمبر4563ملائیکہ اور مجاہدین ٭٭اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی تائید ہدایات اور اس کی توفیق ان کے ساتھ ہے، جن کے دل اللہ کے ڈر سے اور جن کے اعمال احسان کے جوہر سے مال مال ہوں۔ چنانچہ جہاد کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف وحی اتاری تھے کہ آیت «اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ» [8-الأنفال:12] ” میں تمہارے ساتھ ہوں پس تم ایمانداروں کو ثابت قدم رکھو “۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہما السلام سے فرمایا تھا آیت «لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى» [20-طه:46] ” تم خوف نہ کھاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں، دیکھتا سنتا ہوں “۔ غار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا آیت «لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا» [9-التوبہ:40] ” غم نہ کرو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے “۔ [صحیح بخاری:3652] پس یہ ساتھ تو خاص تھا۔ اور مراد اس سے تائید و نصرت الٰہی کا ساتھ ہونا ہے۔ اور عام ساتھ کا بیان آیت «وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» [57-الحديد:4] اور آیت «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا» [58-المجادلة:7] الخ اور آیت «وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا» [10-يونس:61] الخ میں ہے یعنی ” اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور وہ تمہارے اعمال دیکھنے والا ہے اور جو تین شخص کوئی سرگوشی کرنے لگیں ان میں چوتھا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور پانچ میں چھٹا وہ ہوتا ہے اور اس سے کم و بیش میں بھی جہاں وہ ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور تم کسی حال میں ہو یا تلاوت قرآن میں ہو یا تم اور کوئی کام میں لگے ہوئے ہو ہم تم پر شاہد ہوتے ہیں “۔ پس ان آیتوں میں ساتھ سے مراد سننے دیکھنے کا ساتھ ہے تقویٰ کے معنی ہیں حرام کاموں اور گناہ کے کاموں کو اللہ کے فرمان پر ترک کر دینے کے۔ اور احسان کے معنی ہیں پروردگار کی اطاعت و عبادت کو بجا لانا۔ جن لوگوں میں یہ دونوں صفتیں ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی حفظ و امان میں رہتے ہیں، جناب باری ان کی تائید اور مدد فرماتا رہتا ہے۔ ان کے مخالفین اور دشمن ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان سب پر کامیابی عطا فرماتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں محمد بن حاطب رحمہ اللہ سے مروی ہے ”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہا ان لوگوں میں سے تھے جو باایمان پرہیزگار اور نیک کار ہیں۔“صفحہ نمبر4564
آیت 128 اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہوئے درجۂ احسان پر فائز ہوگئے ہیں اللہ کی معیت نصرت اور تائید ان کے شامل حال رہے گی۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہوگا تو یہ مشرکین آپ کو کچھ گزند نہیں پہنچا سکتے۔ کیا ڈر ہے اگر ساری خدائی ہے مخالف کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے ! بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالایات والذِّکر الحکیم
After that, once again in the last verse (128), a universal formula of having the help of Allah Ta’ ala by one's side was announced. It is:إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَSurely, Allah is with those who fear Him and those who are good in deeds.The essence of this formula is that the help of Allah Ta’ ala is with people who have two virtues: Taqwa and Ihsan. The essence of Taqwa is acting righteously or being good in deed while the sense of Ihsan at this place is to be good to those created by Allah Ta’ ala, that is, those who are duty-bound to do righteous deeds and are particular in dealing with others nicely - Allah Tais with them. And it is obvious, if someone is-blessed with the 'company' (help) of Allah Ta’ ala, who can touch him!
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.