The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah An-Nahl • Ayah 123

Para 14 Surah 16 : 123
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ ٱتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

ثُمَّ
أَوْحَيْنَآ
إِلَيْكَ
أَنِ
ٱتَّبِعْ
مِلَّةَ
إِبْرَٰهِيمَ
حَنِيفًا
ۖ
وَمَا
كَانَ
مِنَ
ٱلْمُشْرِكِينَ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

He selected him, as Allah says :وَلَقَدْ ءَاتَيْنَآ إِبْرَهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَـلِمِينَ (And before, We indeed gave Ibrahim his integrity, and We were indeed most knowledgeable about him)(21:51). Then Allah says: وَهَدَاهُ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ(and guided him to a straight path.) which means to worship Allah alone, without partners or associate, in the manner that He prescribed and which pleases Him. وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً(And We gave him good in this world,) meaning, `We granted him all that a believer may require for a good and complete life in this world.' وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ(and in the Hereafter he shall be of the righteous.) Concerning the Ayah: وَءاتَيْنَـهُ فِى الْدُّنْيَا حَسَنَةً(And We gave him good in this world,) Mujahid said: "This means a truthful tongue." ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا(Then, We have sent the revelation to you: "Follow the religion of Ibrahim (he was a) Hanif. ..) meaning, `because of his perfection, greatness, and the soundness of his Tawhid and his way, We revealed to you, O Seal of the Messengers and Leader of the Prophets ,' أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ(Follow the religion of Ibrahim (he was a) Hanif and he was not of the idolators.) This is like the Ayah in Surat Al-An`am: قُلْ إِنَّنِى هَدَانِى رَبِّى إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (Say: "Truly, my Lord has guided me to a straight path, a right religion, the religion of Ibrahim, (he was a) Hanif and he was not of the idolators.") (6:161). Then Allah rebukes the Jews,

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

جد از انبیاء ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ہدیات کے امام ٭٭امام حنفا، والد انبیاء، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، ابراہیم علیہ الصلوۃ و التسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ «أُمَّةُ» کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتداء کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گزار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آ جانے والا۔ اسی لئیے فرمایا کہ ” وہ مشرکوں سے بیزار تھا “۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے جب «أُمَّةً قَانِتًا» کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا ”لوگوں کو بھلائی سکھانے والا اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی کرنے والا۔‏“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”امت کے معنی ہیں لوگوں کے دین کا معلم۔‏“ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”معاذ امت قانت اور حنیف تھے“ اس پر کسی نے اپنے دل میں سوچا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ غلطی کرگئے ایسے تو قرآن کے مطابق خلیل الرحمن علیہ السلام تھے۔ پھر زبانی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو امت فرمایا ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جانتے بھی ہو امت کے کیا معنی؟ اور قانت کے کیا معنی؟ امت کہتے ہیں اسے جو لوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت کہتے ہیں اسے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگا رہے۔ بیشک معاذ ایسے ہی تھے۔‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:660/7:] ‏صفحہ نمبر4552حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ تنہا امت تھے اور تابع فرمان تھے۔ وہ اپنے زمانہ میں تنہا موحد ومومن تھے۔ باقی تمام لوگ اس وقت کافر تھے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”وہ ہدایت کے امام تھے اور اللہ کے غلام تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے قدرداں اور شکر گزار تھے اور رب کے تمام احکام کے عامل تھے جیسے خود اللہ نے فرمایا «وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ» [53-النجم:37] ‏ ” وہ ابراہیم علیہ السلام جس نے پورا کیا “ یعنی اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کیا، اور ان پر علم بجا لایا۔ اسے اللہ نے مختار اور مصطفی بنا لیا۔ جیسے فرمان ہے «وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ» [21-الأنبياء:51] ‏ الخ، ” ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم (‏علیہ السلام) کو رشد و ہدایت دے رکھی تھی اور ہم اسے خوب جانتے تھے “۔ اسے ہم نے راہ مستقیم کی رہبری کی تھی صرف ایک اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی وہ عبادت واطاعت کرتے تھے اور اللہ کی پسندیدہ شریعت پر قائم تھے۔ ہم نے انہیں دین دنیا کی خبر کا جامع بنایا تھا اپنی پاکیزہ زندگی کے تمام ضروری اوصاف حمیدہ ان میں تھے۔ ساتھ ہی آخرت میں بھی نیکوں کے ساتھی اور صلاحیت والے تھے۔ ان کا پاک ذکر دنیا میں بھی باقی رہا اور آخرت میں بڑے عظیم الشان درجے ملے۔ ان کے کمال، ان کی عظمت، ان کی محبت، توحید اور ان کے پاک طریق پر اس سے بھی روشنی پڑتی ہے کہ ” اے خاتم رسل اے سیدالانبیاءت جھے بھی ہمارا حکم ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرکوں سے بری الذمہ تھا “۔ سورۃ الانعام میں ارشاد ہے «قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [6-الأنعام:161] ‏ الخ، ” کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی رہبری کی ہے۔ مضبوط اور قائم دین ابراہیم حنیف کی جو مشرکوں میں نہ تھا “۔صفحہ نمبر4553

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

آیت 120 اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اَمَّ یَوُمُّ کے لغوی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ سورة یوسف آیت 45 میں اُمَّۃ کا لفظ وقت اور مدت کے لیے بھی استعمال ہوا ہے وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ ۔ وقت اور زمانے کے بھی ہم پیچھے چلتے ہیں تو گویا اس کا قصد کرتے ہیں۔ اسی طرح راستے پر چلتے ہوئے بھی انسان اس کا قصد کرتا ہے۔ اس حوالے سے لفظ اُمَّۃ وقت اور راستے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح جب بہت سے لوگ ایک نظریے کا قصد کر کے اکٹھے ہوجائیں تو انہیں بھی اُمَّۃ کہا جاتا ہے ‘ یعنی ہم مقصد لوگوں کی جماعت۔ چناچہ اسی معنی میں سورة البقرۃ کی آیت 143 میں فرمایا گیا : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ۔ اس لحاظ سے آیت زیرنظر میں لفظ امت کا مفہوم یہ ہوگا کہ حضرت ابراہیم ایک راستہ بنانے والے ‘ اور ایک ریت ڈالنے والے تھے ‘ اور اس طرح آپ اپنی ذات میں گویا ایک امت تھے۔ جب دنیا میں کوئی مسلمان نہ تھا اور پوری دنیا کفر کے راستے پر گامزن تھی تو آپ تن تنہا اسلام کے علمبردار تھے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

The Holy Prophet being on the way of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) : Understanding the Chemistry of AdherenceWhen Sayyidna Ibrahim I appeared, Allah Ta’ ala blessed him with a Shari'ah and its Injunctions. When the Last of the Prophets ﷺ appeared, his Shari'ah too - with the exception of some particular Injunctions - was laid out in accordance with it. Though, the Holy Prophet ﷺ is preferred as more distinguished (afdal) of all blessed prophets and messengers, but at this place, there are two wise considerations in asking the preferred (afdal) to follow the one not so preferred (mafdul) in the present context. (1) Since that Shari'ah has come into the world earlier and is already known and recognized and as the last Shari'ah was also to be in accord with that, therefore, this similarity of the Holy Prophet ﷺ to the way of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) was expressed through the word: اِتِّبَاع (ittiba': following). (2) As said by ` Allamah al-Zamakhshari (author of Tafsir Al-Kashshaf), this command to follow too is a special tribute out of the many honours and tributes attributed to the 'friend' of Allah, Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . That it is so special has been hinted through the use of the word: ثُمَّ (thumma: Then - 123). The sense being conveyed is: Certainly great are all those merits and perfections of the person of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) as they are, but the most superior of all these is the fact that Allah Ta’ ala has asked his preferred-most and the dearest rasul to follow his way.

Historical Context: The Hanifs — Pre-Islamic Monotheists of Arabia c. 500–610 CE

Before the Prophet's mission, a small group of Arabs called Hanifs had independently rejected polytheism and maintained Abrahamic monotheism. Among them were Waraqah ibn Nawfal (who recognized Muhammad's first revelation as authentic), Zayd ibn Amr ibn Nufayl (who refused idols and asked Jews and Christians about the religion of Ibrahim), and Ubaydallah ibn Jahsh. The Quran (3:67) describes Ibrahim as 'neither a Jew nor a Christian, but a Hanif, a Muslim.' The Hanif tradition demonstrates that pure monotheism persisted in Arabia even before the Prophet's mission.

🏛️ Civilization: Pre-Islamic Arab
📍 Region: Makkah and Arabian Peninsula
🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.