Surah Al-Hijr (The Rocky Tract) • Ayah 88
BY
Do not extend your eyes toward that by which We have given enjoyment to [certain] categories of them [i.e., the disbelievers], and do not grieve over them. And lower your wing [i.e., show kindness] to the believers.
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
A Reminder of the Blessing of the Qur'an and the Command to focus on its MessageAllah is saying to His Prophet : Since We have given you the Grand Qur'an, then do not look at this world and its attractions, or the transient delights that we have given to its people in order to test them. Do not envy what they have in this world, and do not upset yourself with regret for their rejection of you and their opposition to your religion.وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ(And lower your wings to the believers who follow you) (26:215) meaning - be gentle with them, like the Ayah,لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ(Verily, there has come unto you a Messenger from among yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty. He is anxious for you, for the believers - he is full of pity, kind and merciful)(9:128). There were some differences among the scholars over the meaning of "seven of the Mathani". Ibn Mas`ud, Ibn `Umar, Ibn `Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Ad-Dahhak and others said that they are the seven long (Surahs), meaning Al-Baqarah, Al- `Imran, An-Nisa', Al-Ma'idah, Al-An`am, Al-A`raf and Yunus. There are texts to this effect reported from Ibn `Abbas and Sa`id bin Jubayr. Sa`id said: "In them, Allah explains the obligations, the Hudud (legal limits), stories and rulings." Ibn `Abbas said, "He explains the parables, stories and lessons." The second opinion is that they (the seven of the Mathani) are Al-Fatihah, which is composed of seven Ayat. This was reported from `Ali, `Umar, Ibn Mas`ud and Ibn `Abbas. Ibn `Abbas said: "The Bismillah, is completing seven Ayah, which Allah has given exclusively to you (Muslims)." This is also the opinion of Ibrahim An-Nakha`i, `Abdullah bin `Umayr, Ibn Abi Mulaykah, Shahr bin Hawshab, Al-Hasan Al-Basri and Mujahid. Al-Bukhari, may Allah have mercy on him, recorded two Hadiths on this topic. (The first) was recorded from Abu Sa`id bin Al-Mu`alla, who said: "The Prophet passed by me while I was praying. He called out for me but I did not come until I finished my prayer. Then I came to him, and He asked,«مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي؟»(What stopped you from coming to me) I said, `I was praying'. He said,«أَلَمْ يَقُلِ اللهُ (`Did not Allah sayيأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ(O you who believe! Answer Allah (by obeying Him) and (His) Messenger when he calls you...) 8:24أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِد»(Shall I not teach you the most magnificent Surah before I leave the Masjid) Then the Prophet went to leave the Masjid, and I reminded him, so he said,الْحَمْدُ للَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ("Al-Hamdu Lillahi Rabbil-'Alamin All praises and thanks be to Allah, the Lord of all that exists)(1:2).هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الَّذِي أُوتِيتُه»(This is the seven of the Mathani and the Qur'an which I have been given.)" (The second Hadith) was reported from Abu Hurayrah who said that the Messenger of Allah ﷺ said:«أُمُّ الْقُرْآنِ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيم»(Umm Al-Qur'an (the Mother or the Essence of the Qur'an,) is the seven Mathani, and the Grand Qur'an.) This means that Al-Fatihah is the seven Mathani and the Grand Qur'an, but this does not contradict the statement that the seven Mathani are the seven long Surahs, because they also share these attributes, as does the whole Qur'an. As Allah says,اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَـباً مُّتَشَـبِهاً مَّثَانِيَ(Allah has sent down the best statement, a Book (this Qur'an), its parts resembling each other in goodness and truth, oft-recited) (39:23). So it is oft-recited in one way, and its parts resemble one another in another way, and this is also the Grand Qur'an.لاَ تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ(Look not with your eyes ambitiously at what We have given to certain classes of them) 20: 131 meaning, be content with the Grand Qur'an that Allah has given to you, and do not long for the luxuries and transient delights that they have.لاَ تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ(Look not with your eyes ambitiously) Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said: "He in this Ayah forbade a man to wish for what his companion has."إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ(at what We have given to certain classes of them,) Mujahid said: "This refers to the rich."
قرآن عظیم سبع مثانی اور ایک لازوال دولت ٭٭” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے جب قرآن عظیم جیسی لازوال دولت تجھے عنایت فرما رکھی ہے تو تجھے نہ چاہیئے کہ کافروں کے دنیوی مال و متاع اور ٹھاٹھ باٹھ للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے۔ یہ تو سب فانی ہے اور صرف ان کی آزمائش کے لیے چند روزہ انہیں عطا ہوا ہے۔ ساتھ ہی تجھے ان کے ایمان نہ لانے پر صدمے اور افسوس کی بھی چنداں ضرورت نہیں “۔ «وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» [26-الشعراء:215] ” ہاں تجھے چاہیئے کہ نرمی، خوش خلقی، تواضع اور ملنساری کے ساتھ مومنوں سے پیش آتا رہے “۔ جیسے ارشاد ہے آیت «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [9-التوبة:128] ، ” لوگو تمہارے پاس تم میں سے ہی ایک رسول آ گئے ہیں جن پر تمہاری تکلیف شاق گزرتی ہے جو تمہاری بہبودی کے دل سے خواہاں ہیں جو مسلمانوں پر پرلے درجے کا شفیق و مہربان ہے “۔ سبع مثانی کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم کی ابتداء کی سات لمبی سورتیں ہیں سورۃ البقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، انعام، اعراف اور یونس۔ اس لیے کہ ان سورتوں میں فرائض کا، حدود کا، قصوں کا اور احکام کا خاص طریق پر بیان ہے اسی طرح مثالیں، خبریں اور عبرتیں بھی زیادہ ہیں۔ بعض نے سورۃ الاعراف تک کی چھ سورتیں گنوا کر ساتویں سورت انفال اور براۃ کو بتلایا ہے ان کے نزدیک یہ دونوں سورتیں مل کر ایک ہی سورت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ صرف موسیٰ علیہ السلام کو چھ ملی تھیں لیکن جب آپ علیہ السلام نے تختیاں گرا دیں تو دو اٹھ گئیں اور چار رہ گئیں۔ ایک قول ہے قرآن عظیم سے مراد بھی یہی ہیں۔ زیادہ کہتے ہیں میں نے تجھے سات جز دیئے ہیں۔ حکم، منع، بشارت، ڈر اور مثالیں، نعمتوں کا شمار اور قرآنی خبریں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مراد سبع مثانی سے سورۃ فاتحہ ہے جس کی سات آیتیں ہیں۔ یہ سات آیتیں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» سمیت ہیں۔ ان کے ساتھ اللہ نے تمہیں مخصوص کیا ہے یہ کتاب کا شروع ہیں۔ اور ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں۔ خواہ فرض نماز ہو خواہ نفل نماز ہو۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں اور اس بارے میں جو حدیثیں مروی ہیں ان سے اس پر استدلال کرتے ہیں ہم نے وہ تمام احادیث فضائل سورۃ فاتحہ کے بیان میں اپنی اس تفسیر کے اول میں لکھ دی ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔صفحہ نمبر4376امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس جگہ دو حدیثیں وارد فرمائی ہیں۔ ایک میں ہے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نماز پڑھ رہا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے مجھے بلایا لیکن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آیا نماز ختم کرکے پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اسی وقت کیوں نہ آئے؟ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ» [8-الانفال:24] یعنی ” ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کی بات مان لو جب بھی وہ تمہیں پکاریں “۔ سن اب میں تجھے مسجد میں سے نکلنے سے پہلے ہی قرآن کریم کی بہت بڑی سورت بتلاؤں گا۔ تھوڑی دیر میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ یاد دلایا آپ نے فرمایا وہ سورۃ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کی ہے یہی سبع مثانی ہے اور یہی بڑا قرآن ہے جو میں دیا گیا ہوں ۔ [صحیح بخاری:4803] دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ام القرآن یعنی سورۃ فاتحہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے ۔ [صحیح بخاری:4804] پس صاف ثابت ہے کہ سبع مثانی اور قرآن عظیم سے مراد سورۃ فاتحہ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اس کے سوا اور بھی یہی ہے اس کے خلاف یہ حدیثیں نہیں۔ جب کہ ان میں بھی یہ حقیقت پائی جائے جیسے کہ پورے قرآن کریم کا وصف بھی اس کے مخالف نہیں۔ جیسے فرمان الٰہی ہے آیت «اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ» [39-الزمر:23] پس اس آیت میں سارے قرآن کو مثانی کہا گیا ہے، اور متشابہ بھی۔ پس وہ ایک طرح سے مثانی ہے اور دوسری وجہ سے متشابہ۔ اور قرآن عظیم بھی یہی ہے جیسے کہ اس روایت سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ تقویٰ پر جس مسجد کی بنا ہے وہ کون ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کی طرف اشارہ کیا ۔ [صحیح مسلم:1398] حالانکہ یہ بھی ثابت ہے کہ آیت مسجد قباء کے بارے میں اتری ہے۔ پس قاعدہ یہی ہے کہ کسی چیز کا ذکر دوسری چیز سے انکار نہیں ہوتا۔ جب کہ وہ بھی وہی صفت رکھتی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» صفحہ نمبر4377پس تجھے ان کی ظاہری ٹیپ ٹاپ سے بے نیاز رہنا چاہیئے اسی فرمان کی بنا پر امام ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک صحیح حدیث جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم میں سے وہ نہیں جو قرآن کے ساتھ تغنی نہ کرے [صحیح بخاری:7527] کی تفسیر یہ لکھی ہے کہ قرآن کو لے کر اس کے ماسوا سے دست بردار اور بے پرواہ نہ ہو جائے وہ مسلمان نہیں۔ گو یہ تفسیر بالکل صحیح ہے لیکن اس حدیث سے یہ مقصود نہیں حدیث کا صحیح مقصد اس ہماری تفسیر کے شروع میں ہم نے بیان کر دیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک مرتبہ مہمان آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کچھ نہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے رجب کے وعدے پر آٹا ادھار منگوایا لیکن اس نے کہا بغیر کسی چیز کو رھن رکھے میں نہیں دوں گا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واللہ میں امین ہوں اور زمین والوں میں بھی اگر یہ مجھے ادھار دیتا یا میرے ہاتھ فروخت کر دیتا تو میں اسے ضرور ادا کرتا پس آیت «لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ» الخ نازل ہوئی اور گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی کی گئی ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/16:ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”انسان کا ممنوع ہے کہ کسی کے مال و متاع کو للچائی ہوئی نگاہوں سے تاکے۔ یہ جو فرمایا کہ ان کی جماعتوں کو جو فائدہ ہم نے دے رکھا ہے اس سے مراد کفار کے مالدار لوگ ہیں۔“صفحہ نمبر4378
آیت 88 لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ ابوجہل کی دولت و شوکت ‘ ولید بن مغیرہ کے باغات اور ان جیسے دوسرے کافروں کی جاگیریں آپ کو ہرگز متاثر نہ کریں۔ آپ ان کی ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر دنیا و ما فیہا کی حیثیت اللہ کی نگاہ میں مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی تک نہ دیتا۔ چناچہ ان کفار کو جو مال و متاع اس دنیا میں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی کچھ اہمیت نہیں ہے۔ اہل ایمان کو بھی چاہیے کہ وہ بھی مال و دولت دنیا کو اسی نظر سے دیکھیں۔ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ یہ لوگ آپ کی دعوت کو ٹھکرا کر عذاب کے مستحق ہو رہے ہیں۔ ان میں آپ کے قبیلے کے افراد بھی شامل ہیں اور ابو لہب جیسے عزیز و اقارب بھی ‘ مگر آپ اب ان لوگوں کے انجام کے بارے میں بالکل پریشان نہ ہوں۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اہل ایمان کے ساتھ آپ شفقت اور مہربانی سے پیش آئیں۔ ان لوگوں میں فقراء و مساکین بھی ہیں اور غلام بھی۔ یہ لوگ جب آپ کے پاس حاضر ہوں تو کمال تواضع سے ان کا استقبال کیجیے اور ان کی دلجوئی فرمائیے۔ اس سے قبل یہی بات اس انداز میں بیان فرمائی گئی ہے : فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ الانعام : 54۔ سورة الشعراء میں بھی اس مضمون کو ان الفاظ میں دہرایا گیا ہے : وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ کہ اہل ایمان جو آپ کی پیروی کر رہے ہیں آپ اپنے کندھے ان کے لیے جھکا کر رکھیے۔ سورة بنی اسرائیل میں والدین کے ادب و احترام کے سلسلے میں بھی یہی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ اولاد اپنے والدین کے ساتھ ادب محبت عاجزی اور انکساری کا معاملہ کرے۔
CommentarySurah Al-Fatihah is the Text and Summary of the Whole Qur'anThat Surah Al-Fatihah (The Opening) has been called the Glorious Qur’ an in this verse (87) indicates that Surah Al-Fatihah is, in a way, the whole Qur’ an - because the basic principles of Islam have been merged in it.l1. In order to understand this, one must keep in mind that the words: اَلسَبعَ المثانِی واَلقُرآن (the seven oft repeated verses and the glorious Qur'an) in verse (87) are interpreted by the commentators in different ways. Most of them are of the view that 'seven oft-repeated verses' refer to Surah al-Fatihah which consists of seven verses. Since these seven verses are repeated in every Salah, they have been referred to in the verse 87 as 'oft-repeated verses'. Then, the words 'and the glorious Qur'an' occurring after it are of explanatory nature which refer to the same 'seven oft repeated verses'. Therefore, the name of the 'glorious Qur'an' has been given here to the Surah al-Fatihah itself. The comment of the author is based on this interpretation.On Being Questioned in Al-Mal} shar : About what will it be?In verse 92, swearing by His Own sacred Being, Allah Ta’ ala has declared that all such people who came earlier or later shall definitely be questioned.The Sahabah ؓ asked the Holy Prophet ﷺ as to what it will be about. He said that it will be about saying: لا إله إلا اللہ (la ilaha illallah: there is no god worthy of worship but Allah). Al-Qurtubi, after reporting this narration in his Tafsir, has said: It means the fulfilling of this pledge practically as signified by the Kalimah Tayyibah: La ilaha illallah. A simple verbal statement is not what is desired here because, as for verbal attestation, that was done by the hypocrites (munafiqin) too. Hazrat al-Hasan al-Basri (رح) said: 'Iman (faith) does not become a living reality by taking on a particular style and form, and Din (religion) does not prosper by simply having the best of wishes for it. 'Iman is the name of that certitude which has been poured into the heart and which has been proved true by deeds. This is well illustrated by a Hadith from Sayyidna Zayd ibn Arqam in which the Holy Prophet ﷺ has been reported to have said: A person who says: لا إله إلا اللہ (la ilaha illallah : there is no god worthy of worship but Allah) with ikhlas (totally unalloyed sincerity) will definitely go to Jannah. People asked: Ya Rasul Allah, how is 'ikhlas' related to this Kalimah? He said: When this Kalimah stops a person from what has been prohibited by Allah as unlawful and impermissible, then, it is with 'ikhlas' (with sincerity in the absolute sense). (Qurtubi)
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.