Surah Al-Hijr • Ayah 50
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Description of the People of ParadiseSince Allah mentioned the condition of the people of Hell, He followed that by mentioning the people of Paradise. He tells us that they will dwell in Gardens and water springs.ادْخُلُوهَا بِسَلَـمٍ(Enter it in peace) meaning free of all problems.ءَامِنِينَ(and security.) meaning free from all fear and concern. They will not have any fear of expulsion, nor will they fear that their condition will be disrupted or end.وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُّتَقَـبِلِينَ(And We shall remove any deep feeling of bitterness from their breasts. (So they will be like) brothers facing each other on thrones.) Al-Qasim narrated that Abu Umamah said: "The people of Paradise will enter Paradise with whatever enmity is left in their hearts from this world. Then, when they come together, Allah will remove whatever hatred the world has left in their hearts." Then he recited:وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ(And We shall remove any deep feeling of bitterness from their breasts.) This is how it was narrated in this report, but Al-Qasim bin `Abdur-Rahman is weak in his reports from Abu Umamah. However, this is in accord with the report in the Sahih where Qatadah says, "Abu Al-Mutawakkil An-Naji told us that Abu Sa`id Al-Khudri told them that the Messenger of Allah ﷺ said:«يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ، فَيُحْبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ. فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا، أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّة»(The believers will be removed from the Fire, and they will be detained on a bridge between Paradise and Hell. Then judgment will be passed between them concerning any wrong they have committed in this world against one another, until they are cleansed and purified. Then permission will be given to them to enter Paradise.)"لاَ يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ(No sense of fatigue shall touch them) meaning no harm or hardship, as was reported in the Sahihs:«أَنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَب»(Allah commanded me to tell Khadijah the good news of a jeweled palace in Paradise in which there will be no toil and no fatigue.)وَمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ(nor shall they (ever) be asked to leave it.) As was reported in the Hadith:«يُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَمْرَضُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَعِيشُوا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا،وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تُقِيمُوا فَلَا تَظْعُنُوا أَبَدًا»(It will be said, O dwellers of Paradise! You will be healthy and never fall sick; you will live and never die; you will be young and never grow old; you will stay here and never leave.) Allah says:خَـلِدِينَ فِيهَا لاَ يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلاً(Wherein they shall dwell (forever). They will have no desire to be removed from it.) (18:108)نَبِّىءْ عِبَادِى أَنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ الْعَذَابُ الاٌّلِيمُ(Declare to My servants, that I am truly the Oft-Forgiving, the Most Merciful. And that My torment is indeed the most painful torment.) meaning, `O Muhammad, tell My servants that I am the source of mercy and I am the source of punishment.' Similar Ayat to this have already been quoted above, which indicate that we must always be in a state between hope (for Allah's mercy) and fear (of His punishment).
بابحضرت ابوامامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بے کینہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لیے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہو جائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:6535] اشتر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ رضی اللہ عنہ نے دیر سے اجازت دی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہوں تو بھی آپ مجھے اسی طرح روک دیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بیشک مجھے تو اللہ سے امید ہے کہ میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کر دی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔“ ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ ”میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا۔“صفحہ نمبر4332ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے غصے سے فرمایا ”اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے؟“ اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور علی رضی اللہ عنہ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ رضی اللہ عنہ نے غصے ہو کر جو چیز آپ رضی اللہ عنہ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا جب دربار علی رضی اللہ عنہ میں آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی، اس نے آ کر زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہ تو ان شاءاللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ”ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔“صفحہ نمبر4333کثیر کہتے ہیں ”میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے بری ہوں۔“ اس وقت ابو جعفر نے فرمایا ”اگر میں ایسا کروں تو یقیناً مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔“ پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی، اور فرمایا کہ ”یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین، یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہو گی ۔ [ضعیف] صفحہ نمبر4334بخاری و مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے ۔ [صحیح بخاری:3820] حدیث میں ہے ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے ۔ [صحیح مسلم:2837] اور آیت میں ہے «خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا» [18-الكهف:108] ” وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی “۔ اور آیت میں ہے کہ «وَقُل رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ» [23-المؤمنون:118] ” اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بندوں سے کہہ دیجئیے کہ میں «أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں “۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ” مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہیئے “۔صفحہ نمبر4335 حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں جنت دوزخ کی یاد کرو ، اس وقت یہ آیتیں اتریں ۔ [مجمع الزوائد:11107:ضعیف] یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آ کر کہتے ہیں میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دیدے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21214:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کر لیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21213:مرسل] صفحہ نمبر4336
آیت 50 وَاَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ یقینا میں غفور اور رحیم ہوں مگر دوسری طرف میرا عذاب بھی بہت سخت ہوتا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص نڈر اور نچنت بھی نہ ہوجائے ‘ بلکہ میرے بندوں کو ہر وقت ”بین الخوف و الرجا“ کی کیفیت میں رہنا چاہیے۔ وہ میری رحمت اور مغفرت کی امید بھی رکھیں اور میرے عذاب سے ڈرتے بھی رہیں۔
From verse 48: لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ (No weariness shall touch them therein nor will they be expelled from there), we learn about two features of Jannah: (1) No one shall ever feel tired or weak. This is contrary to what happens in our mortal world where hard work naturally results in fatigue. In fact, even a state of total rest and fun would sometimes tire a person out, no matter how enjoyable are things one is occupied with. (2) The other feature of Jannah we discover is that the blessings once received there shall be eternal. These blessings shall never diminish nor shall anyone be expelled from there. In Surah Sad, it was said:إِنَّ هَـٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِن نَّفَادٍ (This is sustenance provided by Us which is never to exhaust - 38:54). And in the present verse, it was said: وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ (nor will they be expelled from there) that is, they shall never be deprived of the state of bliss bestowed upon them. This is contrary to the affairs of the mortal world where the recipient of the best of conveniences lives under the apprehension that the Over of the facilities may become displeased with him one of those days and expel him out.As for the third probability, that the blessings of Jannah may remain everlasting, nor one is expelled from there, but one may himself get bored by living there and wish to go out, the Qur’ an has demolished this probability in one sentence of Surah Al-Kahf with the following words: لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا (That is, these people too would never seek to return from there - 18:108).
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.