Surah Ibrahim • Ayah 9
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Earlier Nations disbelieved in Their ProphetsAllah narrated to this Ummah (followers of Muhammad ) the stories of the people of Prophet Nuh, `Ad and Thamud, and other ancient nations that belied their Messengers. Only Allah knows the count of these nations,جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَـتِ(To them came their Messengers with clear proofs,) they brought them evidences and plain, tremendous proofs and signs. Ibn Ishaq reported that `Amr bin Maymun said that `Abdullah said about Allah's statement,لاَ يَعْلَمُهُمْ إِلاَّ اللَّهُ(None knows them but Allah.) "The genealogists utter lies." This is why `Urwah bin Az-Zubayr said, "We did not find anyone who knows the forefathers of Ma`dd bin `Adnan."Meaning of, "They put Their Hands in Their Mouths Allah said next, فَرَدُّواْ أَيْدِيَهُمْ فِى أَفْوَاهِهِمْ(but they put their hands in their mouths) It is said that they pointed to the Messengers' mouths asking them to stop calling them to Allah, the Exalted and Most Honored. It is also said that it means, they placed their hands on their mouths in denial of the Messengers. It was also said that it means that they did not answer the call of the Messengers, or they were biting their hands in rage. Mujahid, Muhammad bin Ka`b and Qatadah said that they belied the Messengers and refuted their call with their mouths. I (Ibn Kathir) say that Mujahid's Tafsir is supported by the completion of the narrative,وَقَالُواْ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُمْ بِهِ وَإِنَّا لَفِى شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَنَآ إِلَيْهِ مُرِيبٍ(and said: "Verily, we disbelieve in that with which you have been sent, and we are really in grave doubt as to that to which you invite us.") Al-`Awfi reported that Ibn `Abbas said, "When they heard Allah's Word, they were amazed and placed their hands on their mouths,"وَقَالُواْ إِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ أُرْسِلْتُمْ بِهِ(and said: "Verily, we disbelieve in that with which you have been sent.") They said, We do not believe what you brought us, and have strong doubt in its authenticity. '
موسیٰ علیہ السلام کا باقی وعظ ٭٭حضرت موسیٰ علیہ السلام کا باقی وعظ بیان ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی وہ نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ ”دیکھو تم سے پہلے کے لوگوں پر رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے کیسے سخت عذاب آئے؟ اور کس طرح وہ غارت کئے گئے؟“ یہ قول تو ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ کا لیکن ذرا غور طلب ہے۔ بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وعظ تو ختم ہو چکا اب یہ نیا بیان قرآن ہے، کہا گیا ہے کہ ”عادیوں اور ثمودیوں کے واقعات تورات شریف میں تھے اور یہ دونوں واقعات بھی تورات میں تھے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ فی الجملہ ان لوگوں کے اور ان جیسے اور بھی بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سے لوگوں کے واقعات قرآن کریم میں ہمارے سامنے بیان ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر اللہ کی آیتیں اور اللہ کے دیئے ہوئے معجزے لے کر پہنچے ان کی گنتی کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔“ سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں ”نسب کے بیان کرنے والے غلط گو ہیں بہت سی امتیں ایسی بھی گزری ہیں جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔“ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”معد بن عدنان کے بعد کا نسب نامہ صحیح طور پر کوئی نہیں جانتا۔“ وہ اپنے ہاتھ ان کے منہ تک لوٹا لیے گئے کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ رسولوں کے منہ بند کرنے لگے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھنے لگے کہ محض جھوٹ ہے جو رسول کہتے ہیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جواب سے لاچار ہو کر انگلیاں منہ پر رکھ لیں۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اپنے منہ سے انہیں جھٹلانے لگے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں پر «فِي» معنی میں ”بے“ کے ہو جیسے بعض عرب کہتے ہیں «أَدْخَلَكَ اللَّهُ بِالْجَنَّةِ» یعنی «فِي الْجَنَّةِ» شعر میں بھی یہ محاورہ مستعمل ہے، اور بقول مجاہد رحمہ اللہ اس کے بعد کا جملہ اسی کی تفسیر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے مارے غصے کے اپنی انگلیاں اپنے منہ میں ڈال لیں۔ چنانچہ اور آیت میں منافقین کے بارے میں ہے کہ «وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» [3-آل عمران:119] ” یہ لوگ خلوت میں تمہاری جلن سے اپنی انگلیاں چباتے رہتے ہیں “۔ یہ بھی ہے کہ ” کلام اللہ سن کر تعجب سے اپنے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ دیتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ ہم تو تمہاری رسالت کے منکر ہیں ہم تمہیں سچا نہیں جانتے بلکہ سخت شبہ میں ہیں “۔صفحہ نمبر4196
وَقَالُوْٓا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَاِنَّا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ یہاں تمام رسولوں کو ایک جماعت فرض کر کے ان کا ذکر اکٹھے کیا جا رہا ہے کیونکہ سب نے اپنی اپنی قوم کو ایک جیسی دعوت دی اور اس دعوت کے جواب میں سب رسولوں کی قوموں کا رد عمل بھی تقریباً ایک جیسا تھا۔ ان سب اقوام نے اپنے رسولوں کی دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تو ان باتوں کے متعلق بہت سے شکوک و شبہات لاحق ہیں جن کی وجہ سے ہم سخت الجھن میں پڑگئے ہیں۔
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and deserving of praise. If you do not praise Him, the angels do, all of them, and so does every particle of this universe.So, whatever good there is in gratitude, that is for you alone. There-fore, when you are asked to be grateful by Allah Ta’ ala, there is no gain for Him in doing so. In fact, it is His infinite mercy reaching out to you in your interest.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.