Surah Ibrahim • Ayah 32
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Describing Some of Allah's Tremendous FavorsAllah mentions some of the favors He has done for His creatures, such as creating the heavens as a protective ceiling and the earth as a bed. He also sends down rain from the sky and, in its aftermath brings forth a variety of vegetation, fruits and plants of different colors, shapes, tastes, scents and uses. Allah also made the ships sail on the surface of the water by His command and He made the sea able to carry these ships in order that travelers can transfer from one area to another to transport goods. Allah also created the rivers that flow through the earth from one area to another as provision for the servants which they use to drink and irrigate, and for other benefits,وَسَخَّر لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَينَ(And He has made the sun and the moon, both constantly pursuing their courses), rotating by night and by day,لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ(It is not for the sun to overtake the moon, nor does the night outstrip the day. They all float, each in an orbit.)36:40 and,يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ(He brings the night as a cover over the day, seeking it rapidly, and (He created) the sun, the moon, the stars subjected to His command. His is the creation and commandment. Blessed is Allah, the Lord of all that exists!) 7:54 The sun and the moon rotate in succession, and the night and the day are opposites, each taking from the length of the other or giving up some of its length,يُولِجُ الَّيْلَ فِى النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِى الَّيْلِ((Allah ) merges the night into day, and merges the day into night.) 35:13 and,وَسَخَّـرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُـلٌّ يَجْرِى لاًّجَـلٍ مُّسَـمًّى أَلا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ(And He has subjected the sun and the moon. Each running (on a fixed course) for an appointed term. Verily, He is the Almighty, the Oft-Forgiving.) 39:5 Allah said next,وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ(And He gave you of all that you asked for), He has prepared for you all that you need in all conditions, and what you ask Him to provide for you,وَإِن تَعُدُّواْ نِعْمَةَ اللَّهِ لاَ تُحْصُوهَا(and if you try to count the blessings of Allah, never will you be able to count them.) Allah states that the servants are never able to count His blessings, let alone thank Him duly for them. In Sahih Al-Bukhari it is recorded that the Messenger of Allah ﷺ used to supplicate;«اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ غَيْرَ مَكْفِيَ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا»(O Allah ! All praise is due to You, without being able to sufficiently thank You, nor ever wish to be cutoff from You, nor ever feeling rich from relying on You; our Lord!) It was reported that Prophet Dawud, peace be upon him, used to say in his supplication, "O Lord! How can I ever duly thank You, when my thanking You is also a favor from You to me" Allah the Exalted answered him, "Now, you have thanked Me sufficiently, O Dawud," meaning, `when you admitted that you will never be able to duly thank Me.'
سب کچھ تمہارا مطیع ہے ٭٭اللہ کی طرح طرح کی بےشمار نعمتوں کو دیکھو، آسمان کو اس نے ایک محفوظ چھت بنا رکھا ہے زمین کو بہترین فرش بنا رکھا ہے آسمان سے بارش برسا کر زمین سے مزے مزے کے پھل کھیتیاں باغات تیار کر دیتا ہے۔ اسی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی پھرتی ہیں کہ تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائیں تم وہاں کا مال یہاں، یہاں کا وہاں لے جاؤ، لے آؤ، نفع حاصل کرو، تجربہ بڑھاؤ۔ نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، تم ان کا پانی پیو، پلاؤ، اس سے کھیتیاں کرو، نہاؤ دھوؤ اور طرح طرح کے فائدے حاصل کرو۔ «لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] ” ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے کے کاموں میں مشغول ہیں مقرر چال پر مقرر جگہ پر گردش میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ ان میں تکرار ہو نہ آگا پیچھا “۔ «يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» [7-الأعراف:54] ” دن رات انہی کے آنے جانے سے پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں ستارے اسی کے حکم کے ماتحت ہیں اور رب العالمین بابرکت ہے “۔ «يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى وَأَنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ» [31-لقمان:29] ” کبھی دنوں کو بڑے کر دیتا ہے کبھی راتوں کو بڑھا دیتا ہے، ہر چیز اپنے کام میں سر جھکائے مشغول ہے، وہ اللہ عزیز و غفار ہے۔ تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں اس نے تمہارے لیے مہیا کر دی ہیں تم اپنے حال و قال سے جن جن چیزوں کے محتاج تھے، اس نے سب کچھ تمہیں دے دی ہیں، مانگنے پر بھی وہ دیتا ہے اور بغیر مانگے بھی اس کا ہاتھ نہیں رکھتا۔ تم بھلا رب کی تمام نعمتوں کا شکریہ تو ادا کرو گے؟ تم سے تو ان کی پوری گنتی بھی محال ہے “۔صفحہ نمبر4247طلق بن حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کا حق اس سے بہت بھاری ہے کہ بندے اسے ادا کرسکیں اور اللہ کی نعمتیں اس سے بہت زیادہ ہیں کہ بندے ان کی گنتی کرسکیں لوگو صبح شام توبہ استغفار کرتے رہو۔“ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ تیرے ہی لیے سب حمد و ثنا سزاوار ہے، ہماری ثنائیں ناکافی ہیں، پوری اور بے پرواہ کرنے والی نہیں اے اللہ تو معاف فرما ۔ [صحیح بخاری:5459] بزار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن انسان کے تین دیوان نکلیں گے ایک میں نیکیاں لکھی ہوئی ہوں گی اور دوسرے میں گناہ ہوں گے، تیسرے میں اللہ کی نعمتیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں سے سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا کہ ” اٹھ اور اپنا معاوضہ اس کے نیک اعمال سے لے لے “، اس سے اس کے سارے ہی عمل ختم ہو جائیں گے پھر بھی وہ یکسو ہو کر کہے گی کہ باری تعالیٰ میری پوری قیمت وصول نہیں ہوئی خیال کیجئے ابھی گناہوں کا دیوان یونہی الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔ اگر بندے پر اللہ کا ارادہ رحم و کرم کا ہوا تو اب وہ اس کی نیکیاں بڑھا دے گا اور اس کے گناہوں سے تجاوز کر لے گا اور اس سے فرما دے گا کہ میں نے اپنی نعمتیں تجھے بغیر بدلے کے بخش دیں ۔ [مسند بزار، 3444:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔ مروی ہے کہ داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ جل و علا سے دریافت کیا کہ میں تیرا شکر کیسے ادا کروں؟ شکر کرنا خود بھی تو تیری ایک نعمت ہے۔ جواب ملا کہ ” داؤد! اب تو شکر ادا کر چکا جب کہ تونے یہ جان لیا اور اس کا اقرار کر لیا کہ تو میری نعمتوں کی شکر کی ادائیگی سے قاصر ہے “۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ ہی کیلئے تو حمد ہے، جس کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شکر بھی بغیر ایک نئی نعمت کے ہم ادا نہیں کرسکتے کہ اس نئی نعمت پر پھر ایک شکر واجب ہو جاتا ہے پھر اس نعمت کی شکر گزاری کی ادائیگی کی توفیق پر بھی پھر نعمت ملی، جس کا شکریہ واجب ہوا۔“ ایک شاعر نے یہی مضمون اپنے شعروں میں باندھا ہے «لَوْ كُلُّ جَارِحَةٍ مِنِّي لَهَا لُغَةٌ تُثْنِي» «عَلَيكَ بِمَا أَوْلَيتَ مِنْ حَسَنِ» «لَكَانَ مَا زَادَ شُكْرِي إِذْ شَكَرْتُ بِهِ» «إِلَيْكَ أَبْلُغَ فِي الْإِحْسَانِ وَالْمِنَنِ» کہ رونگٹے رونگٹے پر زبان ہو تو بھی تیری ایک نعمت کا شکر بھی پورا ادا نہیں ہو سکتا تیرے احسانات اور انعامات بےشمار ہیں۔صفحہ نمبر4248
آیت 31 قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ یہاں یہ نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے رسول اللہ کو مخاطب کر کے اہل ایمان کو بالواسطہ حکم دیا جا رہا ہے اور یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے اہل ایمان کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ پورے مکی قرآن میں یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے براہ راست مسلمانوں سے خطاب نہیں کیا گیا۔ سورۃ الحج میں ایک مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں مگر اس سورة کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس میں جو حکمت ہے وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جہاں تک مجھے اس کی وجہ سمجھ میں آئی ہے وہ میں آپ کو بتاچکا ہوں کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کا طرز خطاب امت کے لیے ہے اور مکی دور میں مسلمان ابھی ایک امت نہیں بنے تھے۔ مسلمانوں کو امت کا درجہ مدینہ میں آکر تحویل قبلہ کے بعد ملا۔ پچھلے دو ہزار برس سے امت مسلمہ کے منصب پر یہودی فائز تھے۔ انہیں اس منصب سے معزول کر کے محمد رسول اللہ کی امت کو امت مسلمہ کا درجہ دیا گیا اور تحویل قبلہ اس تبدیلی کی ظاہری علامت قرار پایا۔ یعنی یہودیوں کے قبلہ کی حیثیت بطور قبلہ ختم کرنے کا مطلب یہ قرار پایا کہ انہیں امت مسلمہ کے منصب سے معزول کردیا گیا ہے۔ چناچہ قرآن میں یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ کے ذریعے مسلمانوں سے خطاب اس کے بعد شروع ہوا۔وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌیہ آیت سورة البقرۃ کی آیت 254 سے بہت ملتی جلتی ہے۔ وہاں بیع اور دوستی کے علاوہ شفاعت کی بھی نفی کی گئی ہے : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ۔ یعنی اس دن سے پہلے پہلے ہمارے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرلو جس میں نہ کوئی بیع ہوگی نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ ہی کسی کی شفاعت فائدہ مند ہوگی۔
After that it was said that Allah Ta’ ala has subjugated boats and ships to work for you for they move over the waters with His command. The word: سَخِّرَ (sakhkhara) appearing in this verse means that Allah Ta` ala has made the use of these things easy on you. Of course, there is wood and steel and the instrumentation and technology to build boats and ships, but when it comes to having the intelligence and ability to use them correctly and expertly, it must be admitted that they were all given by Him. Therefore, those who feel proud of having invented, manufac-tured or produced things like that should better think twice and feel shy of ascribing all credit of such innovations to themselves. The simple reason is that things used in this process are things none of which was created by them, nor they could. How can someone who works with wood, iron, copper and things like that, utilizes them to serve his end product and then goes about declaring himself as its inventor? Otherwise, if we were to look at hard reality, it will not be difficult to realize that this very existence of ours, our hands and feet, our mind and our in-telligence are not what we have made or invented.
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.