The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Ar-Ra'd • Ayah 43

Para 13 Surah 13 : 43
وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَسْتَ مُرْسَلًا ۚ قُلْ كَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًۢا بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِندَهُۥ عِلْمُ ٱلْكِتَـٰبِ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

وَيَقُولُ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُوا۟
لَسْتَ
مُرْسَلًا
ۚ
قُلْ
كَفَىٰ
بِٱللَّهِ
شَهِيدًۢا
بَيْنِى
وَبَيْنَكُمْ
وَمَنْ
عِندَهُۥ
عِلْمُ
ٱلْكِتَـٰبِ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Allah and those who have Knowledge of the Scripture are Sufficient as Witness to the Message of the ProphetAllah says, the disbelievers reject you and say,لَسْتَ مُرْسَلاً(You are not a Messenger.) from Allah,قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ(Say: "Sufficient as a witness between me and you is Allah...") meaning, say, `Allah is sufficient for me and He is the witness over me and you. He is witness that I (Muhammad) have conveyed the Message from Him and over you, O rejecters, to the falsehood that you invent.' Allah said,وَمَنْ عِندَهُ عِلْمُ الْكِتَـبِ(and those too who have knowledge of the Scripture.) This refers to `Abdullah bin Salam, according to Mujahid. However, this opinion is not plausible, since this Ayah was revealed in Makkah and `Abdullah bin Salam embraced Islam soon after the Prophet emigrated to Al-Madinah. A more suitable explanation is that narrated by Al-`Awfi from Ibn `Abbas that this Ayah refers to Jews and Christians. Qatadah said that among them are, `Abdullah bin Salam, Salman (Al-Farisi) and Tamim Ad-Dari. The correct view is that this Ayah,وَمَنْ عِندَهُ(and those too who have. ..), refers to the scholars of the People of the Scriptures who find the description of Muhammad in their Books and the good news of his advent that were conveyed to them by their Prophets. Allah said in other Ayat,وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَـوةَ وَالَّذِينَ هُم بِـَايَـتِنَا يُؤْمِنُونَالَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِىَّ الأُمِّىَّ الَّذِى يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى التَّوْرَاةِ وَالإِنجِيلِ(And My mercy embraces all things. That (mercy) I shall ordain for those who have Taqwa, and give Zakah; and those who believe in Our Ayat; Those who follow the Messenger, the Prophet who can neither read nor write whom they find written with them in the Tawrah and the Injil.) 7:156-157 and,أَوَلَمْيَكُن لَّهُمْ ءَايَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِى إِسْرَءِيلَ(It is not a sign to them that the learned scholars of the Children of Israel knew it (as true))26:197 There are similar Ayat that affirm that the scholars of the Children of Israel know this fact from their divinely revealed Books. This is the end of Surat Ar-Ra`d, and all praise is due to Allah and all favors are from Him.

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

رسالت کے منکر ٭٭” کافر تجھے جھٹلا رہے ہیں۔ تیری رسالت کے منکر ہیں۔ تو غم نہ کر کہہ دیا کر کہ اللہ کی شہادت کافی ہے۔ تیری نبوت کا وہ خود گواہ ہے، میری تبلیغ پر، تمہاری تکذیب پر، وہ شاہد ہے۔ میری سچائی، تمہاری تکذیب کو وہ دیکھ رہا ہے “۔ علم کتاب جس کے پاس ہے اس سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں رضی اللہ عنہ۔ یہ قول مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے لیکن بہت غریب قول ہے اس لیے کہ یہ آیت مکہ شریف میں اتری ہے اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تو ہجرت کے بعد مدینے میں مسلمان ہوئے ہیں۔ اس سے زیادہ ظاہر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”یہود و نصاری کے حق گو عالم مراد ہیں ہاں ان میں عبداللہ بن سلام بھی ہیں، سلمان اور تمیم داری وغیرہ رضی اللہ عنہم بھی۔‏“ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک روایت میں مروی ہے کہ اس سے مراد بھی خود اللہ تعالیٰ ہے۔ سعید رحمہ اللہ اس سے انکاری تھے کہ اس سے مراد عبداللہ بن سلام لیے جائیں کیونکہ یہ آیت مکیہ ہے اور آیت کو «مِنْ عِنْدِ اللَّهِ» پڑھتے تھے۔ یہی قرأت مجاہد اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم سے بھی مروی ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی قرأت ہے لیکن وہ حدیث ثابت نہیں۔ [مسند ابویعلیٰ:5574:ضعیف] ‏ صحیح بات یہی ہے کہ یہ اسم جنس ہے ہر وہ عالم جو اگلی کتاب کا علم ہے اس میں داخل ہے ان کی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت موجود تھی۔ ان کے نبیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پیش گوئی کر دی تھی۔ جیسے فرمان رب ذی شان ہے «وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» [7-الأعراف:156-157] ‏ یعنی ” میری رحمت نے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے میں اسے ان لوگوں کے نام لکھ دوں گا جو متقی ہیں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہیں، ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہیں، رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے ہیں، جس کا ذکر اپنی کتاب تورات وانجیل میں موجود پاتے ہیں “۔ اور آیت میں ہے کہ «أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ» [26-الشعراء:197] ‏ ” کیا یہ بات بھی ان کے لیے کافی نہیں کہ اس کے حق ہونے کا علم علماء بنی اسرائیل کو بھی ہے “۔صفحہ نمبر4184ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے علمائے یہود سے کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ اپنے باپ ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کی مسجد میں جا کر عید منائیں، مکے پہنچے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں تھے، یہ لوگ جب حج سے لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ یہ بھی مع اپنے ساتھیوں کے کھڑے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ آپ ہی عبداللہ بن سلام ہیں، کہا ہاں فرمایا: قریب آؤ جب قریب گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میرا ذکر تورات میں نہیں پاتے؟“، انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اوصاف میرے سامنے بیان فرمائیے۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے اور حکم دیا کہ کہو آیت «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» [112-الإخلاص:4-1] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری سورت پڑھ سنائی۔ ابن سلام نے اسی وقت کلمہ پڑھ لیا، مسلمان ہو گئے، مدینے واپس چلے آئے لیکن اپنے اسلام کو چھپائے رہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینے پہنچے اس وقت آپ کھجور کے ایک درخت پر چڑھے ہوئے کھجوریں اتار رہے تھے جو آپ کو خبر پہنچی اسی وقت درخت سے کود پڑے۔ ماں کہنے لگیں کہ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی آ جاتے تو تم درخت سے نہ کودتے۔ کیا بات ہے؟ جواب دیا کہ اماں جی موسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے بھی زیادہ خوشی مجھے ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی یہاں تشریف آوری سے ہوئی ہے ۔ [ابو نعیم فی الدلائل:246:ضعیف و باطل] ‏ اس میں انقطاع ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۂ رعد کی تفسیر ختم ہوئی۔صفحہ نمبر4185

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ اللہ جانتا ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور اس کا جاننا میرے لیے کافی ہے۔وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور پھر ہر اس شخص کی گواہی جو کتاب آسمانی کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تو جانتا ہی ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور میرا معاملہ اسی کے ساتھ ہے۔ اس کے علاوہ یہ اہل کتاب بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اہل کتاب کے اس معاملے کو البقرۃ : 146 اور الانعام : 20 میں اس طرح واضح فرمایا گیا ہے : یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ہُمُ کہ یہ آپ کو بحیثیت رسول ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

In verse وَإِن مَّا نُرِ‌يَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (And if We show you some of what We promise them, or We take you back to Us), it is to comfort and assure the Holy Prophet ﷺ that he has been given the good news that the promises Allah has made to him that Islam will have the final victory and disbelief and disbelievers will be disgraced shall come to pass definitely. But, he is told, 'you should not concern yourself as to when this victory will finally come.' May be, this happens within his life time, and it is also possible that it comes after his departure from this mortal world. ` For your peace of heart, even this much is enough that you are continuously witnessing that We are causing the lands of the dis-believers to keep being sliced off their sides,' that is, these sides pass on under Muslim control whereby the land occupied by them keeps reducing in area. This causes well-being for Muslims and a day will come when the final phase of their victory shall stand completed. The command is in the very hands of Allah Ta` ala. There is no one who can avert this command. And He is the One swift at reckoning.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.