The Eternal Echo
The Eternal Echo

Surah Ar-Ra'd • Ayah 41

Para 13 Surah 13 : 41
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا نَأْتِى ٱلْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ۚ وَٱللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِۦ ۚ وَهُوَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

BY

Word-by-Word Analysis

Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.

أَوَلَمْ
يَرَوْا۟
أَنَّا
نَأْتِى
ٱلْأَرْضَ
نَنقُصُهَا
مِنْ
أَطْرَافِهَا
ۚ
وَٱللَّهُ
يَحْكُمُ
لَا
مُعَقِّبَ
لِحُكْمِهِۦ
ۚ
وَهُوَ
سَرِيعُ
ٱلْحِسَابِ

Verse Tags

No approved tags for this verse yet.
Classical Tafsir: Ibn Kathir en

Punishment is by Allah, and the Messenger's Job is only to convey the MessageAllah said to His Messenger ,وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ`(Whether We show you) O Muhammad, part of the disgrace and humiliation We have promised your enemies in this life,أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ(or cause you to die) before that,فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ(your duty is only to convey We have only sent you to convey to them Allah's Message, and by doing so, you will have fulfilled the mission that was ordained on you,وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ(and on Us is the reckoning), their reckoning and recompense is on Us.' Allah said in similar Ayat,فَذَكِّرْ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌ - لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُسَيْطِرٍ - إِلاَّ مَن تَوَلَّى وَكَفَرَ - فَيْعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الاٌّكْبَرَ - إِنَّ إِلَيْنَآ إِيَابَهُمْ - ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ(So remind them - you are only one who reminds. You are not a dictator over them - Save the one who turns away and disbelieves. Then Allah will punish him with the greatest punishment. Verily, to Us will be their return, Then verily, for Us will be their reckoning.)88:21-26 Allah said next,أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا نَأْتِى الاٌّرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا(See they not that We gradually reduce the land from its outlying borders.) Ibn `Abbas commented, "See they not that We are granting land after land to Muhammad ﷺ" Al-Hasan and Ad-Dahhak commented that this Ayah refers to Muslims gaining the upper hand over idolators, just as Allah said in another Ayah,وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرَى(And indeed We have destroyed towns round about you.) 46:27

Classical Tafsir: Ibn Kathir Urdu ur

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ٭٭” تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا؟ “ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّـهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم» [88-الغاشية:21-26] ‏ ” تیرا کام تو صرف ہمارے پیغام پہنچا دینا ہے وہ تو کر چکا۔ ان کا حساب ان کا بدلہ ہمارے ہاتھ ہے۔ تو صرف انہیں نصیحت کر دے تو ان پر کوئی داروغہ اور نگہبان نہیں۔ جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا اسے اللہ ہی بڑی سزاؤں میں داخل کر دے گا ان کا لوٹنا تو ہماری طرف ہی ہے اور ان کا حساب بھی ہمارے ذمے ہے “۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان کافروں کو دباتے چلے آ رہے کیا وہ نہیں دیکھتے کہ برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں خرابیاں آتی جا رہی ہیں؟ لوگ مرتے جا رہے ہیں زمین اجڑتی جا رہی ہے؟ خود زمین ہی اگر تنگ ہوتی جاتی تو تو انسان کو چھپڑ ڈالنا بھی محال ہو جاتا مقصد انسان کا اور درختوں کا کم ہوتے رہنا ہے۔ مراد اس سے زمین کی تنگی نہیں بلکہ لوگوں کی موت ہے علماء فقہاء اور بھلے لوگوں کی موت بھی زمین کی بربادی ہے۔ عرب شاعر کہتا ہے «الْأَرْضُ تَحْيَا إِذَا مَا عَاشَ عَالِمُهَا مَتَى يَمُتْ عَالِمٌ مِنْهَا يَمُتْ طَرَف» «كَالْأَرْضِ تَحْيَا إِذَا مَا الْغَيْثُ حَلَّ بِهَا وَإِنْ أَبَى عَادَ فِي أَكْنَافِهَا التَّلَفُ» یعنی جہاں کہیں جو عالم دین ہے وہاں کی زمین کی زندگی اسی سے ہے۔ اس کی موت اس زمین کی ویرانی اور خرابی ہے۔ جیسے کہ بارش جس زمین پر برسے لہلہانے لگتی ہے اور اگر نہ برسے تو سوکھنے اور بنجر ہونے لگتی ہے۔ پس آیت میں مراد اسلام کا شرک پر غالب آنا ہے، ایک کے بعد ایک بستی کو تابع کرنا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ» [46-الأحقاف:27] ‏ الخ، یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا بھی پسندیدہ ہے۔صفحہ نمبر4181

Classical Tafsir: Bayan-ul-Quran ur

وَاللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ ۭ وَهُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ یہ مضمون سورة الانبیاء میں اس طرح بیان ہوا ہے : اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَاط اَفَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ”کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں تو کیا اب یہ غالب آنے والے ہیں ؟“ یہ اس دور کی طرف اشارہ ہے جب مشرکین مکہ نے مکہ کے اندر رسول اللہ اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی کی بھٹی پورے زور شور سے دہکا رکھی تھی اور وہ لوگ اس میں اپنے سارے وسائل اس امید پر جھونکے جا رہے تھے کہ ایک دن محمد اور آپ کی اس تحریک کو نیچا دکھا کر رہیں گے۔ اس صورت حال میں انہیں مکہ کے مضافاتی علاقوں اُمّ القریٰ وَ مَنْ حَوْلَھَا کے معروضی حالات کے حوالے سے مستقبل کی ایک امکانی جھلک دکھائی جا رہی ہے کہ بیشک ابھی تک مکہ کے اندر تمہاری حکمت عملی کسی حد تک کامیاب ہے لیکن کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ مکہ کے آس پاس کے قبائل کے اندر اس دعوت کے اثر و نفوذ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے مقابلے میں تمہارا حلقہ اثر روز بروز سکڑتا چلا جا رہا ہے۔ جیسے قبیلہ بنی غفار کے ایک نوجوان ابوذر یہ دعوت قبول کر کے اپنے قبیلے میں ایک مبلغ کی حیثیت سے واپس گئے ہیں اور آپ کی وساطت سے یہ دعوت اس قبیلے میں بھی پہنچ گئی ہے۔ یہی حال اردگرد کے دوسرے قبائل کا ہے۔ ان حالات میں کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا کہ یہ دعوت رفتہ رفتہ تمہارے چاروں طرف سے تمہارے گرد گھیرا تنگ کرتی چلی جا رہی ہے ؟ اب وہ وقت بہت قریب نظر آ رہا ہے جب تمہارے ارد گرد کا ماحول اسلام قبول کرلے گا اور تم لوگ اس کے دائرہ اثر کے اندر محصور ہو کر رہ جاؤ گے۔اس آیت میں جس صورت حال کا ذکر ہے اس کا عملی مظاہرہ ہجرت کے بعد بہت تیزی کے ساتھ سامنے آیا۔ حضور نے مدینہ تشریف لانے کے بعد ایک طرف قریش مکہ کے لیے ان کی تجارتی شاہراہوں کو مخدوش بنا دیا تو دوسری طرف مدینہ کے آس پاس کے قبائل کے ساتھ سیاسی معاہدات کر کے اس پورے علاقے سے قریش مکہ کے اثر و رسوخ کی بساط لپیٹ دی۔ مدینہ کے مضافات میں آباد بیشتر قبائل قریش مکہ کے حلیف تھے مگر اب ان میں سے اکثر یا تو مسلمانوں کے حلیف بن گئے یا انہوں نے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کردیا۔ قریش مکہ کی معاشی ناکہ بندی economic blockade اور سیاسی انقطاع political isolation کے لیے رسول اللہ کے یہ اقدامات اس قدر مؤثر تھے کہ اس کے بعد انہیں اپنے اردگرد سے سکڑتی ہوئی زمین بہت واضح انداز میں دکھائی دینے لگی۔ دراصل فلسفہ سیرت کے اعتبار سے یہ بہت اہم موضوع ہے مگر بہت کم لوگوں نے اس پر توجہ دی ہے۔ میں نے اپنی کتاب ”منہج انقلاب نبوی“ میں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے۔

Classical Tafsir: Ma'arif al-Qur'an en

In verse وَإِن مَّا نُرِ‌يَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (And if We show you some of what We promise them, or We take you back to Us), it is to comfort and assure the Holy Prophet ﷺ that he has been given the good news that the promises Allah has made to him that Islam will have the final victory and disbelief and disbelievers will be disgraced shall come to pass definitely. But, he is told, 'you should not concern yourself as to when this victory will finally come.' May be, this happens within his life time, and it is also possible that it comes after his departure from this mortal world. ` For your peace of heart, even this much is enough that you are continuously witnessing that We are causing the lands of the dis-believers to keep being sliced off their sides,' that is, these sides pass on under Muslim control whereby the land occupied by them keeps reducing in area. This causes well-being for Muslims and a day will come when the final phase of their victory shall stand completed. The command is in the very hands of Allah Ta` ala. There is no one who can avert this command. And He is the One swift at reckoning.

🔍

No analysis published under this lens

Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.

Please login to participate in mapping this verse.
Tag Individual Word

Tag Verse

Add Verse Tag

Read Quran Seerah History Duas Quiz Challenges
✨

How is your experience?

Your feedback helps us continuously improve The Eternal Echo.

✨

JazakAllahu Khairan!

Thank you for taking the time to share your feedback. May Allah bless you in your quest for sacred knowledge.