Surah Hud • Ayah 81
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Lut's Inability, His Desire for Strength and the Angels' Informing Him of the RealityAllah, the Exalted says that Lut was threatening them with his statement,لَوْ أَنَّ لِى بِكُمْ قُوَّةً(Would that I had strength (men) to overpower you,) meaning, `I would surely have made an example of you and done (harm) to you from myself and my family.' In this regard, there is a Hadith which is reported from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,«رَحْمَةُ اللهِ عَلَى لُوطٍ لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيد»يَعْنِي اللهَ عَزَّ وَجَلَّ«فَمَا بَعَثَ اللهُ بَعْدَهُ مِنْ نَبِيَ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِه»(May Allah's mercy be upon Lut, for verily, he betook himself to a powerful support --meaning Allah, the Mighty and Sublime. Allah did not send any Prophet after him, except amidst an influential family among his people.) With this, the angels informed him that they were the messengers of Allah ﷺ sent to them. They also told him that his people would not be able to reach him (with any harm).قَالُواْ يلُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُواْ إِلَيْكَ(They (messengers said): "O Lut! Verily, we are the messengers from your Lord! They shall not reach you!) They commanded him to travel with his family during the last part of night and that he should follow them from behind. In this way it would be as though he were driving his family (as a cattle herder).وَلاَ يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ(and let not any of you look back;) This means, "If you hear the sound of what (torment) befalls them (the people of the village), do not rush towards that disturbing noise. Rather, continue leaving."إِلاَّ امْرَأَتَكَ(but your wife,) Most of the scholars said that this means that she would not travel at night and she did not go with Lut. Rather, she stayed in her house and was destroyed. Others said that it means that she looked back (during the travel). This later group says that she left with them and when she heard the inevitable destruction, she turned and looked back. When she looked she said, "O my people!" Thus, a stone came down from the sky and killed her. Then they (the angels) brought close to him the destruction of his people as good news for him, because he said to them, "Destroy them in this very hour." They replied,إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ(Indeed, morning is their appointed time. Is not the morning near) They were saying this while Luts people were standing at his door. They tried to rush his door from all sides and Lut was standing at the door repelling them, deterring them and trying to prevent them from what they were doing. Yet, they would not listen to him. Instead, they threatened him and sought to intimidate him. At this point, Jibril came out to them and struck them in their faces with his wing. This blow blinded their eyes and they retreated, unable to see their way. This is as Allah said,وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَآ أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُواْ عَذَابِى وَنُذُرِ(And they indeed sought to shame his guest (asking to commit sodomy with them). So We blinded their eyes (saying), "Then taste you My torment and My warnings.")54:37فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَـلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنْضُودٍ
لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل ہوتا ہے ٭٭لوط علیہ السلام نے جب دیکھا کہ میری نصیحت ان پر اثر نہیں کرتی تو انہیں دھمکایا کہ ”اگر مجھ میں قوت، طاقت ہوتی یا میرا کنبہ، قبیلہ زور دار ہوتا تو میں تمہیں تمہاری اس شرارت کا مزہ چکھا دیتا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ کی رحمت ہو لوط علیہ السلام پر کہ وہ زور آور قوم کی پناہ لینا چاہتے تھے۔ مراد اس سے ذات اللہ تعالیٰ عزوجل ہے۔ آپ علیہ السلام کے بعد پھر جو پیغمبر بھیجا گیا وہ اپنے آبائی وطن میں ہی بھیجا گیا ۔ [صحیح بخاری:3372] ان کی اس افسردگی، کامل ملال اور سخت تنگ دلی کے وقت فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو ظاہر کر دیا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں یہ لوگ ہم تک یا آپ علیہ السلام تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ آپ علیہ السلام رات کے آخری حصے میں اپنے اہل و عیال کو لے کر یہاں سے نکل جائیے خود ان سب کے پیچھے رہیے۔ اور سیدھے اپنی راہ چلے جائیں قوم والوں کی آہ و بکا پر ان کے چیخنے چلانے پر تمہیں مڑ کر بھی نہ دیکھا چاہیئے۔ پھر اس اثبات سے لوط کی بیوی کا استثنا کر لیا کہ وہ اس حکم کی پابندی نہ کر سکے گی۔ وہ عذاب کے وقت قوم کی ہائے وائے سن کر مڑ کر دیکھے گی۔ اس لیے کہ رحمانی قضاء میں اس کا بھی ان کے ساتھ ہلاک ہونا طے ہو چکا ہے۔ ایک قرأت میں «إِلَّا امْرَأَتَكَ» ”ت“ کے پیش سے بھی ہے۔ جن لوگوں کے نزدیک پیش اور زبر دونوں جائز ہیں، ان کا بیان ہے کہ آپ علیہ السلام کی بیوی بھی یہاں سے نکلنے میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھی لیکن عذاب کے نازل ہونے پر قوم کا شور سن کر صبر نہ کر سکی اور مڑ کر ان کی طرف دیکھا اور زبان سے نکل گیا کہ ہائے میری قوم۔ اسی وقت آسمان سے ایک پتھر اس پر بھی آیا اور وہ ڈھیر ہو گئی۔ لوط علیہ السلام کی مزید تشفی کے لیے فرشتوں نے اس خبیث قوم کی ہلاکت کا وقت بھی بیان کر دیا کہ یہ صبح ہوتے ہی تباہ ہو جائے گی۔ اور صبح اب بالکل قریب ہے۔صفحہ نمبر3893یہ کور باطن آپ علیہ السلام کا گھر گھیرے ہوئے تھے اور ہر طرف سے لپکتے ہوئے آ پہنچے تھے۔ آیت میں ہے «وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ» [54-القمر:37-39] یعنی ” اور ان سے ان کے مہمانوں کو لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو، اور ان پر صبح سویرے ہی اٹل عذاب آ نازل ہوا، تو اب میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو “۔ لوط علیہ السلام دروازے پر کھڑے ہوئے ان لوطیوں کو روک رہے تھے، جب کسی طرح وہ نہ مانے اور جب لوط علیہ السلام آزردہ خاطر ہو کر تنگ آ گئے اس وقت جبرائیل علیہ السلام گھر میں سے نکلے اور ان کے منہ پر اپنا پر مارا جس سے ان کی آنکھیں اندھی ہو گئیں۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ خود ابراہیم علیہ السلام بھی ان لوگوں کے پاس آتے، انہیں سمجھاتے کہ دیکھو اللہ کا عذاب نہ خریدو مگر انہوں نے خلیل الرحمن علیہ السلام کی بھی نہ مانی۔ یہاں تک کہ عذاب کے آنے کا قدرتی وقت آ پہنچا۔ فرشتے لوط علیہ السلام کے پاس آئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت اپنے کھیت میں کام کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ آج کی رات ہم آپ علیہ السلام کے مہمان ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام کو فرمان رب ہو چکا تھا کہ جب تک لوط علیہ السلام تین مرتبہ ان کی بدچلنی کی شہادت نہ دے لیں۔ ان پر عذاب نہ کیا جائے۔ آپ علیہ السلام جب انہیں لے کر چلے تو چلنے کی خبر دی کہ یہاں کے لوگ بڑے بد ہیں یہ برائی ان میں گھسی ہوئی ہے۔ کچھ دور اور جانے کے بعد دوبارہ کہا کہ کیا تمہیں اس بستی کے لوگوں کی برائی کی خبر نہیں؟ میرے علم میں تو روئے زمین پر ان سے زیادہ برے لوگ نہیں، آہ میں تمہیں کہاں لے جاؤں؟ میری قوم تو تمام مخلوق سے بدتر ہے۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے فرشتوں سے کہا دیکھو دو مرتبہ یہ کہہ چکے۔ جب انہیں لے کر آپ علیہ السلام اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو رنج افسوس سے رو دئیے اور کہنے لگے میری قوم تمام مخلوق سے بدتر ہے۔صفحہ نمبر3894تمہیں کیا معلوم نہیں کہ یہ کس بدی میں مبتلا ہیں؟ روئے زمین پر کوئی بستی اس بستی سے بری نہیں۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے پھر فرشتوں سے فرمایا دیکھو تین مرتبہ یہ اپنی قوم کی بدچلنی کی شہادت دے چکے ہیں۔ یاد رکھنا اب عذاب ثابت ہو چکا ہے۔ گھر میں گئے اور یہاں سے آپ علیہ السلام کی بڑھیا بیوی اونچی جگہ پر چڑھ کر کپڑا ہلانے لگی جسے دیکھتے ہی بستی کے بدکار دوڑے پڑے۔ پوچھا کیا بات ہے اس نے کہا لوط کے ہاں مہمان آئے ہیں میں نے تو ان سے زیادہ خوبصورت اور ان سے زیادہ خوشبو والے لوگ کبھی دیکھے ہی نہیں۔ اب کیا تھا یہ خوشی خوشی مٹھیاں بند کئے دوڑتے بھاگتے لوط کے گھر گئے۔ چاروں طرف سے آپ کے گھر کو گھیر لیا۔ آپ نے انہیں قسمیں دیں، پند و نصائح کئے، فرمایا کہ ”عورتیں بہت ہیں۔“ لیکن وہ اپنی شرارت اور اپنے بد ارادے سے باز نہ آئے۔ اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے ان کے عذاب کی اجازت چاہی اللہ کی جانب سے اجازت مل گئی۔ آپ اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے۔ آپ کے دو پر ہیں۔ جن پر موتیوں کا جڑاؤ ہے۔ آپ کے دانت صاف چمکتے ہوئے ہیں۔ آپ کی پیشانی اونچی اور بڑی ہے۔ مرجان کی طرح کے دانت ہیں لؤلؤ ہیں اور آپ کے پاؤں سبزی کی طرح ہیں۔ لوط علیہ السلام سے آپ نے فرما دیا کہ ”ہم تو تیرے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں، یہ لوگ تجھ تک پہنچ نہیں سکتے۔ آپ اس دروازے سے نکل جایئے۔“ یہ کہہ کر ان کے منہ پر اپنا پر مارا جس سے وہ اندھے ہو گئے۔ راستوں تک کو نہیں پہچان سکتے تھے۔ لوط علیہ السلام اپنی اہل کے لے کر راتوں رات چل دیئے یہ اللہ کا حکم بھی تھا۔ محمد بن کعب، قتادہ، سدی رحمہ اللہ علیہم وغیر کا یہی بیان ہے۔صفحہ نمبر3895
آیت 81 قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَّصِلُوْٓا اِلَيْكَ فرشتوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے آپ کو تسلی دی کہ آپ اطمینان رکھیں یہ لوگ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکیں گے۔ پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ ہلایا تو وہ سب نابکار اندھے ہوگئے۔فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌیعنی یہاں سے جاتے ہوئے آپ لوگوں کو پیچھے رہ جانے والوں کی طرف کسی قسم کی کوئی توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اِلَّا امْرَاَتَكَ ۭ اِنَّهٗ مُصِيْبُهَا مَآ اَصَابَهُمْ یعنی جب آپ اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکلیں گے تو اپنی بیوی کو ساتھ لے کر نہیں جائیں گے۔ آپ علیہ السلام کی اس بیوی کا ذکر سورة التحریم میں حضرت نوح کی مشرک بیوی کے ساتھ اس طرح ہوا ہے : ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ ۭ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيْــــًٔا وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيْنَ 10 ”اللہ کافروں کے لیے مثال بیان کرتا ہے نوح کی بیوی اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی۔ وہ دونوں عورتیں ہمارے دو برگزیدہ بندوں کے تحت تھیں لیکن انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی چناچہ ان کے شوہر انہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکے۔ اور ان دونوں عورتوں سے کہہ دیا گیا کہ تم بھی جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ۔“اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا کہ اب آپ لوگوں کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ آپ فوری طور پر اپنی بچیوں کو لے کر یہاں سے نکل جائیں صبح ہوتے ہی ان بستیوں پر عذاب آجائے گا۔ اور صبح ہونے میں اب دیر ہی کتنی ہے !
At that time, the angels under Divine command said to Sayyidna Lut (علیہ السلام) : فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ (So, move with your family in a part of night). And asked him to instruct everyone in his family not to turn and look back with the exception of his wife because she was going to be hit by the same punishment that was to fall on his people.This could also mean that he was not to take his wife along with him. And it could also mean that, being his wife, she was to go along as part of his family, but she would not obey the instruction of not looking back he would give to his family. According to some reports, this is what happened. This wife started off with others, but when she heard the big bang of the punishment given to her people, she looked back and felt sorry at their destruction. At that moment there came a splintered rock and finished her off like others. (Qurtubi, Mazhari)The angels had also told Sayyidna Lut (علیہ السلام) that: إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ (The deadline [ of the punishment ] is the morning). He said that he wished the punishment would come sooner. Thereupon, the angels said: أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ (Is it not that the morning is near?)After that, the Qur'an portrays the occurrence of the punishment by saying: So, when Our command came, We turned whatever there was in their habitat upside down raining such stones over it as had the names of everyone there marked on it.Reports say that these habitations were composed of four major towns where those people lived. These very habitations have been named as 'al-mu'tafikat' (the towns overturned) elsewhere in the Holy Qur'an (9:70, 69:9). When the Divine command came, the archangel Jibra'il al-Amin dissected the base of the land mass holding all those towns on top of it with his wing, raised all of it upwards in a way that everything stayed where it was, even water in a water vessel. It was in the backdrop of human, animal and canine voices coming from the sky that he heaved all these habitations straight up towards the sky and, then, threw the whole thing back upside down - as appropriate to and as called for by the evil they indulged in.
Prophet Lut (Lot) was sent to the cities of Sodom and Gomorrah (known as the Cities of the Plain). The people rejected his message and engaged in unprecedented immorality. Angels came to Lut in human form; the angels blinded the townspeople and warned Lut to flee. Allah rained stones of baked clay upon the cities. The geological Dead Sea region bears archaeological significance related to this narrative.
Lut (Lot) was a contemporary of Ibrahim sent to the cities of Sodom and Gomorrah (identified in the Dead Sea region). The people were notorious for robbery, inhospitality, and sexual deviance toward males. When the angelic visitors came to Lut, his people attempted to assault them. The angels revealed their identity and commanded Lut to flee with his family before dawn; his wife was told not to look back. The cities were then overturned and rained upon with baked stones — destroyed from below and above.
וּכְמוֹ֙ הַשַּׁ֣חַר עָלָ֔ה וַיָּאִ֥יצוּ הַמַּלְאָכִ֖ים בְּל֣וֹט לֵאמֹ֑ר קוּם֩ קַ֨ח אֶֽת־אִשְׁתְּךָ֜ וְאֶת־שְׁתֵּ֤י בְנֹתֶ֙יךָ֙ הַנִּמְצָאֹ֔ת פֶּן־תִּסָּפֶ֖ה בַּעֲוֺ֥ן הָעִֽיר׃
"As dawn broke, the angels urged Lot on, saying, “Up, take your wife and your two remaining daughters, lest you be swept away because of the iniquity of the city.”"
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.