Surah At-Takathur • Ayah 6
BY
Word-by-Word Analysis
Click any word below to tag it with linguistic or thematic terminology.
Verse Tags
Which was revealed in Makkahبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِIn the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.The Result of Loving the World and Heedlessness of the HereafterAllah says that all are preoccupied by love of the world, its delights and its adornments, and this distracts you from seeking the Hereafter and desiring it. This delays you until death comes to you and you visit the graves, thus becoming its inhabitants. In Sahih Al-Bukhari, it is recorded in the Book of Ar-Riqaq (Narrations that soften the Heart) from Anas bin Malik, who reported that Ubayy bin Ka`b said, "We used to think that this was a part of the Qur'an until the Ayah was revealed which says;أَلْهَـكُمُ التَّكَّاثُرُ(The mutual increase diverts you.)" He was referring to the Hadith in which the Prophet said,«لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَب»(If the Son of Adam had a valley of gold, he would desire another like it...) Imam Ahmad recorded from `Abdullah bin Ash-Shikhkhir that he said, "I came to the Messenger of Allah ﷺ while he was saying,أَلْهَـكُمُ التَّكَّاثُرُيَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَـيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ؟»((The mutual increase diverts you.)" He was referring to the Hadith in which the Prophet said,«لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَب»(If the Son of Adam had a valley of gold, he would desire another like it...) Imam Ahmad recorded from `Abdullah bin Ash-Shikhkhir that he said, "I came to the Messenger of Allah ﷺ while he was saying,أَلْهَـكُمُ التَّكَّاثُرُيَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَـيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ؟»((The mutual increase diverts you.)( The Son of Adam says, "My wealth, my wealth." But do you get anything (of benefit) from your wealth except for that which you ate and you finished it, or that which you clothed yourself with and you wore it out, or that which you gave as charity and you have spent it)" Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i also recorded this Hadith. Muslim recorded in his Sahih from Abu Hurayrah that the Messenger of Allah ﷺ said,«يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِي مَالِي، وَإِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ: مَا أَكَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ تَصَدَّقَ فَأَمْضَى، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاس»(The servant says "My wealth, my wealth." Yet he only gets three (benefits) from his wealth: that which he eats and finishes, that which he eats and finishes, that which he wears until it is worn out, or that which he gives in charity and it is spent. Everything else other than that will go away and leave him for the people.) Muslim was alone in recording this Hadith. Al-Bukhari recorded from Anas bin Malik that the Messenger of Allah ﷺ said,«يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى مَعَهُ وَاحِدٌ: يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ، فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ، وَيَبْقَى عَمَلُه»(Three things follow the deceased person, and two of them return while one remains behind with him. The things which follow him are his family, his wealth and his deeds. His family and his wealth return while his deeds remain.) This Hadith has also been recorded by Muslim, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded from Anas that the Prophet said,«يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ وَالْأَمَل»(The Son of Adam becomes old with senility, but yet two things remain with him: greed and hope.) Both of them (Al-Bukhari and Muslim) recorded this Hadith in the Two Sahihs.
مال و دولت اور اعمال ٭٭ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت، اس کے پا لینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کر دیا، تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آ گئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کر لی اور مرتے دم تک غفلت برتی“ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف ولا اصل لہ] حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَم وَادٍ مِنْ ذَهَب» یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو ۔ [صحیح بخاری:6440] اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» [102-التكاثر:1] نازل ہوئی۔10824مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آیا تو آپ اس آیت کو پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا رہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تیرا مال صرف وہ ہے جسے تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پھاڑ دیا یا صدقہ دے کر باقی رکھ لیا“ ۔ [صحیح مسلم:2958] صحیح مسلم میں اتنا اور زیادہ ہے کہ اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو لوگوں کے لیے چھوڑ چھاڑ کر چل دے گا ۔ [صحیح مسلم:2959] صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں جن میں سے دو تو پلٹ آتی ہیں صرف ایک ساتھ رہ جاتی ہے، گھر والے، مال اور اعمال۔ اہل و مال لوٹ آئے عمل ساتھ رہ گئے ۔ [صحیح بخاری:6514] مسند احمد کی حدیث میں ہے ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہیں لالچ اور امنگ ۔ [صحیح بخاری:6421] ضحاک رحمہ اللہ نے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھ کر پوچھا یہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا میرا، فرمایا: تیرا تو اس وقت ہو گا کہ کسی نیک کام میں تو خرچ کر دے یا بطور شکر رب کے خرچ کر۔ احنف رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو بیان کر کے پھر یہ شعر پڑھا: «أَنْتَ لِلْمَالِ إِذَا أَمْسَكْته *** فَإِذَا أَنْفَقْته فَالْمَال لَك» یعنی ”جب کہ تو مال کو لیے بیٹھا ہے، تو تو مال کی ملکیت ہے ہاں جب اسے خرچ کر دے گا اس وقت مال تیری ملکیت میں ہو جائے گا۔“10825ابن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بنو حارثہ اور بنو حارث انصار کے قبائل آپس میں فخر و غرور کرنے لگے ایک کہتا دیکھو ہم میں فلاں شخص ایسا بہادر ایسا جیوٹ یا اتنا بڑا مالدار وغیرہ ہے، دوسرے قبیلے والے اپنے میں سے ایسوں کو پیش کرتے تھے جب زندوں کے ساتھ یہ فخر و مباہات کر چکے تو کہنے لگے آؤ قبرستان میں چلیں وہاں جا کر اپنے اپنے مردوں کی قبروں کی طرف اشارے کر کے کہنے لگے بتلاؤ اس جیسا بھی تم میں کوئی گزرا ہے؟ وہ انہیں اپنے مردوں کے ساتھ الزام دینے لگے اس پر یہ دونوں ابتدائی آیتیں اتریں کہ تم فخر و مباہات کرتے ہوئے قبرستان میں پہنچ گئے اور اپنے مردوں پر بھی فخر و غرور کرنے لگے، چاہیئے تھا کہ یہاں آ کر عبرت حاصل کرتے اپنا مرنا اور سڑنا گلنا یاد کرتے۔10826قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی زیادتی اور اپنی کثرت پر گھمنڈ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک ایک ہو کر قبروں میں پہنچ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ بہتات کی چاہت نے غفلت میں ہی رکھا یہاں تک کہ مر گئے اور قبروں میں دفن ہو گئے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی بیمار پرسی کو گئے اور حسب عادت فرمایا: ”کوئی ڈر خوف نہیں ان شاءاللہ گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہو گی“، تو اس نے کہا: آپ اسے خوب پاک بتلا رہے ہیں یہ تو وہ بخار ہے جو بوڑھے بڑوں پر جوش مارتا ہے اور قبرستان تک پہنچا کر رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا پھر یوں ہی سہی“ ۔ [صحیح بخاری:5656] اس حدیث میں بھی لفظ «تُزِيرهُ الْقُبُور» ہے اور یہاں قرآن میں بھی «زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ» ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مر کر قبر میں دفن ہونا ہی ہے۔ ترمذی میں ہے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب تک یہ آیت نہ اتری ہم عذاب قبر کے بارے میں شک میں ہی رہے ۔ [سنن ترمذي:3355،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر کچھ دیر سوچ کر فرمانے لگے: میمون! قبروں کا دیکھنا تو صرف بطور زیارت ہے اور ہر زیارت کرنے والا اپنی جگہ لوٹ جاتا ہے یعنی خواہ جنت کی طرف خواہ دوزخ کی طرف، ایک اعرابی نے بھی ایک شخص کی زبانی ان دونوں آیتوں کی تلاوت سن کر یہی فرمایا تھا کہ اصل مقام اور ہی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ دھمکاتے ہوئے دو دو مرتبہ فرماتا ہے کہ حقیقت حال کا علم تمہیں ابھی ہو جائے گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے مراد کفار ہیں دوبارہ مومن مراد ہیں پھر فرماتا ہے کہ اگر تم علم یقینی کے ساتھ اسے معلوم کر لیتے یعنی اگر ایسا ہوتا تو تم غفلت میں نہ پڑتے اور مرتے دم تک اپنی آخری منزل آخرت سے غافل نہ رہتے پھر جس چیز سے پہلے دھمکایا تھا اسی کا بیان کر رہا ہے کہ تم جہنم کو ان آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اس کی ایک ہی جنبش کے ساتھ اور تو اور انبیاء علیہم السلام بھی ہیبت و خوف کے مارے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے، اس کی عظمت اور دہشت ہر دل پر چھائی ہوئی ہو گی، جیسے کہ بہت سی احادیث میں بہ تفصیل مروی ہے۔10827پھر فرمایا کہ اس دن تم سے نعمتوں کی باز پرس ہو گی، صحت، امن، رزق وغیرہ تمام نعمتوں کی نسبت سوال ہو گا کہ ان کا شکر کہاں تک ادا کیا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ ٹھیک دوپہر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے چلے دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی مسجد میں آ رہے ہیں پوچھا: کہ ”اس وقت کیسے نکلے ہو؟“ کہا: اے اللہ کے رسول! جس چیز نے آپ کو نکالا ہے اسی نے مجھے بھی نکالا ہے، اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ان سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال کیا اور آپ نے بھی یہی جواب دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے باتیں کرنی شروع کیں، پھر فرمایا: ”اگر ہمت ہو تو اس باغ تک چلے چلو کھانا پینا مل ہی جائے گا اور سائے دار جگہ بھی، ہم نے کہا بہت اچھا“، پس آپ ہمیں لے کر سیدنا ابوالہیشم انصاری رضی اللہ عنہ کے باغ کے دروازہ پر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور اجازت چاہی، سیدہ ام ہیثم انصاریہ رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے ہی کھڑی تھیں سن رہی تھیں لیکن اونچی آواز سے جواب نہیں دیا اور اس لالچ سے کہ اللہ کے رسول اور زیادہ سلامتی کی دعا کریں اور کئی کئی مرتبہ آپ کا سلام سنیں جب تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کر چکے اور کوئی جواب نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے دئیے، اب تو ابوالہیشم کی بیوی صاحبہ دوڑیں اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ کی آواز سن رہی تھی لیکن میرا ارادہ تھا کہ اللہ کرے آپ کئی کئی مرتبہ سلام کریں اس لیے میں نے اپنی آواز آپ کو نہ سنائی، آپ آئیے تشریف لے چلئے، آپ نے ان کے اس فعل کو اچھی نظروں سے دیکھا پھر پوچھا کہ خود ابوالہیشم کہاں ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی! وہ بھی یہیں قریب ہی پانی لینے گئے ہیں، آپ تشریف لائیے، ان شاءاللہ آتے ہی ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں رونق افروز ہوئے، مائی صاحبہ نے ایک سایہ دار درخت تلے کچھ بچھا دیا جس پر آپ بیٹھ گئے، اتنے میں ہی ابوالہیشم رضی اللہ عنہ بھی آ گئے بےحد خوش ہوئے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون نصیب ہوا اور جلدی جلدی ایک کھجور کے درخت پر چڑھ گئے اور اچھے اچھے خوشے اتار اتار کر دینے لگے یہاں تک کہ خود آپ نے روک دیا، صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! گیلی اور تر اور بالکل پکی اور جس طرح کی چاہیں تناول فرمائیں، جب کھجوریں کھا چکے تو میٹھا پانی لائے جسے پیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے ۔ [اسنادہ ضعیف] 10828ابن جریر کی اسی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکر، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا کہ ”یہاں کیسے بیٹھے ہو؟“ دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوک کے مارے گھر سے نکل کھڑے ہوئے ہیں، فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بھی اسی وجہ سے اس وقت نکلا ہوں“ اب آپ انہیں لے کر چلے اور ایک انصاری کے گھر آئے ان کی بیوی صاحبہ مل گئیں پوچھا کہ ”تمہارے میاں کہاں گئے ہیں؟“ کہا: گھر کے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، اتنے میں تو وہ مشک اٹھائے ہوئے آ ہی گئے، خوش ہو گئے اور کہنے لگے مجھ جیسا خوش قسمت آج کوئی بھی نہیں جس کے گھر اللہ کے نبی تشریف لائے ہیں، مشک تو لٹکا دی اور خود جا کر کھجوروں کے تازہ تازہ خوشے لے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چن چن کر الگ کر کے لاتے“ تو جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ اپنی طبیعت کے مطابق اپنی پسند سے چن لیں اور نوش فرمائیں، پھر چھری ہاتھ میں اٹھائی کہ کوئی جانور ذبح کر کے گوشت پکائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ دینے والے جانور ذبح نہ کرنا“ چنانچہ اس نے ذبیحہ کیا آپ نے وہیں کھانا کیا، پھر فرمانے لگے: ”دیکھو! بھوکے گھر سے نکلے اور پیٹ بھرے جا رہے ہیں یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہو گا“ [صحیح مسلم:2038] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد غلام سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی میں نکلا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا پھر کسی انصاری کے باغ میں گئے اور اس سے فرمایا:”لاؤ بھائی کھانے کو دو“، وہ انگور کے خوشے اٹھا لائے اور آپ کے سامنے رکھ دئیے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے کھائے، پھر فرمایا: ”ٹھنڈا پانی پلاؤ“، وہ لائے آپ نے پیا پھر فرمانے لگے: ”قیامت کے دن اس سے باز پرس ہو گی“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خوشہ اٹھا کر زمین پر دے مارا اور کہنے لگے اس کے بارے میں بھی اللہ کے ہاں پرسش ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں صرف تین چیزوں کی پرسش نہیں۔ پردہ پوشی کے لائق کپڑا، بھوک روکنے کے قابل ٹکڑا اور سردی گرمی میں سر چھپانے کے لیے مکان“ ۔ [ مسند احمد:81/5:حسن] 10829مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے ہم سے کس نعمت کا سوال ہو گا؟ کھجوریں کھا رہے ہیں اور پانی پی رہے ہیں، تلواریں گردنوں میں لٹکا رہے ہیں اور دشمن سر پر کھڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھبراؤ نہیں عنقریب نعمتیں آ جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:429/5:حسن] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور نہائے ہوئے معلوم ہوتے تھے ہم نے کہا: یا رسول اللہ! اس وقت تو آپ خوش و خرم نظر آتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر لوگ تونگری کا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو اس کے لیے تونگری کوئی بری چیز نہیں اور یاد رکھو متقی شخص کے لیے صحت تونگری سے بھی اچھی ہے اور خوش نفسی بھی اللہ کی نعمت ہے“ ۔ [مسند احمد::375/5:صحیح] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔10830ترمذی شریف میں ہے نعمتوں کے سوال میں قیامت والے دن سب سے پہلے یہ کہا جائے گا کہ ہم نے تجھے صحت نہیں دی تھی اور ٹھنڈے پانی سے تجھے آسودہ نہیں کیا کرتے تھے؟ [سنن ترمذي:3358،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ اس آیت «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» [102-التكاثر:8] کو سنا کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم تو جو کی روٹی اور وہ بھی آدھا پیٹ کھا رہے ہیں تو اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ کیا تم پیر بچانے کے لیے جوتیاں نہیں پہنتے اور کیا تم ٹھنڈے پانی نہیں پیتے؟ یہی قابل پرسش نعمتیں ہیں ۔ [الدر المنثور السیوطی:661/6:اسنادہ ضعیف] اور روایت میں ہے کہ امن اور صحت کے بارے میں سوال ہو گا [تفسیر ابن جریر الطبری:285/30:اسنادہ ضعیف] پیٹ بھر کھانے ٹھنڈے پانی سائے دار گھروں میٹھی نیند کے بارے میں بھی سوال ہو گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ ضعیف] شہد پینے، لذت حاصل کرنے، صبح و شام کے کھانے، گھی شہد اور میدے کی روٹی وغیرہ، غرض ان تمام نعمتوں کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بدن کی صحت، کانوں اور آنکھوں کی صحت کے بارے میں بھی سوال ہو گا کہ ان طاقتوں سے کیا کیا کام کیے۔10831جیسے قرآن کریم میں ہے «إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا» [17-الاسراء:36] یعنی ” ہر شخص سے اس کے کان، اس کی آنکھ اور اس کے دل کے بارے میں بھی پوچھ ہو گی “۔ صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث میں ہے دو نعمتوں کے بارے میں لوگ بہت ہی غفلت برت رہے ہیں۔ صحت اور فراغت ۔ [صحیح بخاری:6421] یعنی نہ تو ان کا پورا شکر ادا کرتے ہیں اور ان کی عظمت کو جانتے ہیں نہ انہیں اللہ کی مرضی کے مطابق صرف کرتے ہیں۔ مسند بزار میں ہے تہ بند کے سوا، سائے دار دیواروں کے سوا اور روٹی کے ٹکڑے کے سوا ہر چیز کا قیامت کے دن حساب دینا پڑے گا ۔ [مسند بزار:3643:ضعیف] مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن کہے گا، اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑوں پر اور اونٹوں پر سوار کرایا۔ عورتیں تیرے نکاح میں دیں تجھے مہلت دی کہ تو ہنسی خوشی آرام و راحت سے زندگی گزارے اب بتا کہ اس کا شکریہ کہاں ہے ؟ [صحیح مسلم:2968] اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ اتکاثر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» 10832
آیت 5{ کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۔ } ”کوئی بات نہیں ! کاش کہ تم علم یقین کے ساتھ جان جاتے !“ یعنی موت یا قیامت کا علم دراصل یقینی علم ہے ‘ کاش کہ تمہیں اس کا شعور ہوتا۔ حکماء کے ہاں ہمیں یقین کے تین درجوں کا ذکر ملتا ہے : علم الیقین ‘ عین الیقین اور حق الیقین۔ علم الیقین وہ یقین ہے جو انسان کو علم ‘ معلومات یا استدلال کی بنیاد پر حاصل ہو۔ مثلاً آپ نے دور سے دھواں اٹھتا دیکھا تو آپ نے کہا کہ وہاں آگ لگی ہوئی ہے ‘ حالانکہ آگ آپ نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ پھر جب آپ نے وہاں جا کر خود اپنی آنکھوں سے آگ کو دیکھ لیا تو آپ کو عین الیقین حاصل ہوگیا۔ لیکن حق الیقین کا درجہ اس سے بھی آگے ہے۔ یقین کا یہ درجہ باقاعدہ تجربے سے حاصل ہوتا ہے اس لیے کہ آنکھ سے دیکھنے میں بھی دھوکے کا امکان ہے۔ ضروری نہیں کہ کوئی چیز جیسی نظر آرہی ہے حقیقت میں بھی ویسی ہو۔ جیسے آج کل بعض الیکٹرک ہیٹرز میں انگارے دہکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ‘ لیکن جب آپ غور سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو محض دکھاوے کا منظر ہے اور حرارت کا اصل منبع کہیں اور ہے۔ چناچہ آگ کے بارے میں آپ کو ”علم الیقین“ تو محض دھواں دیکھنے سے ہی حاصل ہوگیا۔ پھر جب آپ نے آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو آپ کا یقین ”عین الیقین“ میں بدل گیا۔ اس کے بعد جب آپ نے آگ کو چھو کر یا اس کے قریب ہو کر اس کی حرارت کو عملی طور پر محسوس کیا تو آگ کی موجودگی کے بارے میں آپ کا یقین ”حق الیقین“ کے درجے میں آگیا۔
Verse [ 102:7] ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ (...then you will see it with an eye of certainty.) The phrase 'ain-ul-yagin' (translated above as 'eye of certainty' ) refers to the certainty attained by physical observation, and this is the highest degree of certainty. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ reports that when Holy Prophet Musa (علیہ السلام) was on the mount of Tur, his people started worshipping a calf. Allah informed him about this while he was still on the mountain. This piece of information did not affect Musa (علیہ السلام) so much. However, when he returned and saw the Children of Israel, with his own eyes, worshipping the calf, he became so indignant that the tablets of Torah involuntarily fell from his hands. [ Transmitted by Ahmad and Tabarani with an authentic chain of narrators, as quoted by Mazhari ].
No analysis published under this lens
Submit a research-backed analysis or ask AI to start mapping this perspective.